;

١ . یہ حکمت والی کتاب کی آیتیں ہیں،

٢ . کیا لوگوں کو اس کا اچنبا ہوا کہ ہم نے ان میں سے ایک مرد کو وحی بھیجی کہ لوگوں کو ڈر سناؤ (ف۲) اور ایمان والوں کو خوشخبری دو کہ ان کے لیے ان کے رب کے پاس سچ کا مقام ہے، کافر بولے بیشک یہ تو کھلا جادوگر ہے (ف۳)

٣ . بیشک تمہارا رب اللہ ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے پھر عرش پر استوا فرمایا جیسا اس کی شان کے لائق ہے کام کی تدبیر فرما تا ہے (ف۴) کوئی سفارشی نہیں مگر اس کی اجازت کے بعد (ف۵) یہ ہے اللہ تمہارا رب (ف۶) تو اس کی بندگی کرو تو کیا تم دھیان نہیں کرتے،

٤ . اسی کی طرف تم سب کو پھرنا ہے (ف۷) اللہ کا سچا وعدہ بیشک وہ پہلی بار بناتا ہے پھر فنا کے بعد دوبارہ بنائے گا کہ ان کو جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے انصاف کا صلہ دے (ف۸) اور کافروں کے لیے پینے کو کھولتا پانی اور دردناک عذاب بدلہ ان کے کفر کا،

٥ . وہی ہے جس نے سورج کو جگمگاتا بنا یا اور چاند چمکتا اور اس کے لیے منزلیں ٹھہرائیں (ف۹) کہ تم برسوں کی گنتی اور (ف۱۰) حساب جانو، اللہ نے اسے نہ بنایا مگر حق (ف۱۱) نشانیاں مفصل بیان فرماتا ہے علم والوں کے لیے (ف۱۲)

٦ . بیشک رات اور دن کا بدلتا آنا اور جو کچھ اللہ نے آسمانوں اور زمین میں پیدا کیا ان میں نشانیاں ہیں ڈر والوں کے لیے،

٧ . بیشک وہ جو ہمارے ملنے کی امید نہیں رکھتے (ف۱۳) اور دنیا کی زندگی پسند کر بیٹھے اور اس پر مطمئن ہوگئے (ف۱۴) اور وہ جو ہماری آیتوں سے غفلت کرتے ہیں (ف۱۵)

٨ . ان لوگوں کا ٹھکانا دوزخ ہے بدلہ ان کی کمائی کا،

٩ . بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کا رب ان کے ایمان کے سبب انھیں راہ دے گا (ف۱۶) ان کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی نعمت کے باغوں میں،

١٠ . ان کی دعا اس میں یہ ہوگی کہ اللہ تجھے پاکی ہے (ف۱۷) اور ان کے ملتے وقت خوشی کا پہلا بول سلام ہے (ف۱۸) اور ان کی دعا کا خاتمہ یہ ہے کہ سب خوبیوں کو سراہا اللہ جو رب ہے سارے جہان کا (ف۱۹)

١١ . اور اگر اللہ لوگوں پر برائی ایسی جلدبھیجتا جیسی وہ بھلائی کی جلدی کرتے ہیں تو ان کا وعدہ پورا ہوچکا ہوتا (ف۲۰) تو ہم چھوڑتے انہیں جو ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے کہ اپنی سرکشی میں بھٹکا کریں (ف۲۱)

١٢ . اور جب آدمی کو (ف۲۲) تکلیف پہنچتی ہے ہمیں پکارتا ہے لیٹے اور بیٹھے اور کھڑے (ف۲۳) پھر جب ہم اس کی تکلیف دور کردیتے ہیں چل دیتا ہے (ف۲۴) گویا کبھی کسی تکلیف کے پہنچنے پر ہمیں پکارا ہی نہ تھا یونہی بھلے کر دکھائے ہیں حد سے بڑھنے والے کو (ف۲۵) ان کے کام (ف۲۶)

١٣ . اور بیشک ہم نے تم سے پہلی سنگتیں (قومیں) (ف۲۷) ہلاک فرمادیں جب وہ حد سے بڑھے (ف۲۸) اور ان کے رسول ان کے پاس روشن دلیلیں لے کر آئے (ف۲۹) اور وہ ایسے تھے ہی نہیں کہ ایمان لاتے، ہم یونہی بدلہ دیتے ہیں مجرموں کو،

١٤ . پھر ہم نے ان کے بعد تمہیں زمین میں جانشین کیا کہ دیکھیں تم کیسے کام کرتے ہو (ف۳۰)

١٥ . اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں (ف۳۱) پڑھی جاتی ہیں تو وہ کہنے لگتے ہیں جنہیں ہم سے ملنے کی امید نہیں (ف۳۲) کہ اس کے سوا اور قرآن لے آیئے (ف۳۳) یا اسی کو بدل دیجیے (ف۳۴) تم فرماؤ مجھے نہیں پہنچتا کہ میں اسے اپنی طرف سے بدل دوں میں تو اسی کا تابع ہوں جو میری طرف وحی ہوتی ہے (ف۳۵) میں اگر اپنے رب کی نافرمانی کروں (ف۳۶) تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے (ف۳۷)

١٦ . تم فرماؤ اگر اللہ چاہتا تو میں اسے تم پر نہ پڑھتا نہ وہ تم کو اس سے خبردار کرتا (ف۳۸) تو میں اس سے پہلے تم میں اپنی ایک عمر گزار چکا ہوں (ف۳۹) تو کیا تمہیں عقل نہیں (ف۴۰)

١٧ . تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے (ف۴۱) یا اس کی آیتیں جھٹلائے، بیشک مجرموں کا بھلا نہ ہوگا،

١٨ . اور اللہ کے سوا ایسی چیز (ف۴۲) کو پوجتے ہیں جو ان کا کچھ بھلا نہ کرے اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے یہاں ہمارے سفارشی ہیں (ف۴۳) تم فرماؤ کیا اللہ کو وہ بات بتاتے ہو جو اس کے علم میں نہ آسمانوں میں ہے نہ زمین میں (ف۴۴) اسے پاکی اور برتری ہے ان کے شرک سے،

١٩ . اور لوگ ایک ہی امت تھے (ف۴۵) پھر مختلف ہوئے، اور اگر تیرے رب کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ہوچکی ہوتی (ف۴۶) تو یہیں ان کے اختلافوں کا ان پر فیصلہ ہوگیا ہوتا (ف۴۷)

٢٠ . اور کہتے ہیں ان پر ان کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتری (ف۴۸) تم فرماؤ غیب تو اللہ کے لیے ہے اب راستہ دیکھو میں بھی تمہارے ساتھ راہ دیکھ رہا ہوں،

٢١ . اور جب کہ ہمارے آدمیوں کو رحمت کا مزہ دیتے ہیں کسی تکلیف کے بعد جو انہیں پہنچی تھی جبھی وہ ہماری آیتوں کے ساتھ داؤں چلتے ہیں (ف۴۹) تم فرمادو اللہ کی خفیہ تدبیر سب سے جلد ہوجاتی ہے (ف۵۰) بیشک ہمارے فرشتے تمہارے مکر لکھ رہے ہیں (ف۵۱)

٢٢ . وہی ہے کہ تمہیں خشکی اور تری میں چلاتا ہے (ف۵۲) یہاں تک کہ جب تم کشتی میں ہو اور وہ (ف۵۳) اچھی ہوا سے انھیں لے کر چلیں اور اس پر خوش ہوئے (ف۵۴) ان پر آندھی کا جھونکا آیا اور ہر طرف لہروں نے انہیں آلیا اور سمجھ لے کہ ہم گِھر گئے اس وقت اللہ کو پکارتے ہیں نرے اس کے بندے ہوکر، کہ اگر تو اس سے ہمیں بچالے گا تو ہم ضرور شکر گزار ہوں گے (ف۵۵)

٢٣ . پھر اللہ جب انہیں بچا لیتا ہے جبھی وہ زمین میں ناحق زیادتی کرنے لگتے ہیں (ف۵۶) اے لوگو! تمہاری زیادتی تمہارے ہی جانوں کا وبال ہے دنیا کے جیتے جی برت لو (فائد اٹھالو)، پھر تمہیں ہماری طرف پھرنا ہے اس وقت ہم تمہیں جتادیں گے جو تمہارے کوتک تھے (ف۵۷)

٢٤ . دنیا کی زندگی کی کہا وت تو ایسی ہی ہے جیسے وہ پانی کہ ہم نے آسمان سے اتارا تو اس کے سبب زمین سے اگنے والی چیزیں سب گھنی ہوکر نکلیں جو کچھ آدمی اور چوپائے کھاتے ہیں (ف۵۸) یہاں تک کہ جب زمین میں اپنا سنگھار لے لیا (ف۵۹) اور خوب آراستہ ہوگئی اور اس کے مالک سمجھے کہ یہ ہمارے بس میں آگئی (ف۶۰) ہمارا حکم اس پر آیا رات میں یا دن میں (ف۶۱) تو ہم نے اسے کردیا کاٹی ہوئی گویا کل تھی ہی نہیں (ف۶۲) ہم یونہی آیتیں مفصل بیان کرتے ہیں غور کرنے والوں کے لیے (ف۶۳)

٢٥ . اور اللہ سلامتی کے گھر کی طرف پکارتا ہے (ف۶۴) اور جسے چاہے سیدھی راہ چلاتا ہے (ف۶۵)

٢٦ . بھلائی والوں کے لیے بھلائی ہے اور اس سے بھی زائد (ف۶۶) اور ان کے منہ پر نہ چڑھے گی سیاہی اور نہ خواری (ف۶۷) وہی جنت والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے،

٢٧ . اور جنہوں نے برائیاں کمائیں (ف۶۸) تو برائی کا بدلہ اسی جیسا (ف۶۹) اور ان پر ذلت چڑھے گی، انہیں اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا، گویا ان کے چہروں پر اندھیری رات کے ٹکڑے چڑھا دیئے ہیں (ف۷۰) وہی دوزخ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے،

٢٨ . اور جس دن ہم ان سب کو اٹھائیں گے (ف۷۱) پھر مشرکوں سے فرمائیں گے اپنی جگہ رہو تم اور تمہارے شریک (ف۷۲) تو ہم انہیں مسلمانوں سے جدا کردیں گے اور ان کے شریک ان سے کہیں گے تم ہمیں کب پوجتے تھے (ف۷۳)

٢٩ . تو اللہ گواہ کافی ہے ہم میں اور تم میں کہ ہمیں تمہارے پوجنے کی خبر بھی نہ تھی،

٣٠ . یہاں ہر جان جا نچ لے گی جو آگے بھیجا (ف۷۴) اور اللہ کی طرف پھیرے جائیں گے جو ان کا سچا مولیٰ ہے اور ان کی ساری بناوٹیں (ف۷۵) ان سے گم ہوجائیں گی (ف۷۶)

٣١ . تم فرماؤ تمہیں کون روزی دیتا ہے آسمان اور زمین سے (ف۷۷) یا کون مالک ہے کان اور آنکھوں کا (ف۷۸) اور کون نکالتا ہے زندہ کو مردے سے اور نکالتا ہے مردہ کو زندہ سے (ف۷۹) اور کون تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے تو اب کہیں گے کہ اللہ (ف۸۰) تو تم فرماؤ تو کیوں نہیں ڈرتے (ف۸۱)

٣٢ . تو یہ اللہ ہے تمہارا سچا رب (ف۸۲) پھر حق کے بعد کیا ہے مگر گمراہی (ف۸۳) پھر کہاں پھرے جاتے ہو،

٣٣ . یونہی ثابت ہوچکی ہے تیرے رب کی بات فاسقوں پر (ف۸۴) تو وہ ایمان نہیں لائیں گے،

٣٤ . تم فرماؤ تمہارے شریکوں میں (ف۸۵) کوئی ایسا ہے کہ اول بنائے پھر فنا کے بعد دوبارہ بنائے (ف۸۶) تم فرماؤ اللہ اوّل بناتا ہے پھر فنا کے بعد دوبارہ بنائے گا تو کہاں اوندھے جاتے ہو (ف۸۷)

٣٥ . تم فرماؤ تمہارے شریکوں میں کوئی ایسا ہے کہ حق کی راہ دکھائے (ف۸۸) تم فرماؤ کہ اللہ حق کی راہ دکھاتا ہے، تو کیا جو حق کی راہ دکھائے اس کے حکم پر چلنا چاہیے یا اس کے جو خود ہی راہ نہ پائے جب تک راہ نہ دکھایا جائے (ف۸۹) تو تمہیں کیا ہوا کیسا حکم لگاتے ہو،

٣٦ . اور ان (ف۹۰) میں اکثر تو نہیں چلتے مگر گمان پر (ف۹۱) بیشک گمان حق کا کچھ کام نہیں دیتا، بیشک اللہ ان کاموں کو جانتا ہے،

٣٧ . اور اس قرآن کی یہ شان نہیں کہ کوئی اپنی طرف سے بنالے بے اللہ کے اتارے (ف۹۲) ہاں وہ اگلی کتابوں کی تصدیق ہے (ف۹۳) اور لوح میں جو کچھ لکھا ہے سب کی تفصیل ہے اس میں کچھ شک نہیں ہے پروردگار عالم کی طرف سے ہے،

٣٨ . کیا یہ کہتے ہیں (ف۹۴) کہ انہوں نے اسے بنالیا ہے تم فرماؤ (ف۹۵) تو اس جیسی کوئی ایک سورة لے آؤ اور اللہ کو چھوڑ کر جو مل سکیں سب کو بلا لاؤ (ف۹۶) اگر تم سچے ہو،

٣٩ . بلکہ اسے جھٹلایا جس کے علم پر قابو نہ پایا (ف۹۷) اور ابھی انہوں نے اس کا انجام نہیں دیکھا (ف۹۸) ایسے ہی ان سے اگلوں نے جھٹلایا تھا (ف۹۹) تو دیکھو ظالموں کیسا انجام ہوا (ف۱۰۰)

٤٠ . اور ان (ف۱۰۱) میں کوئی اس (ف۱۰۲) پر ایمان لاتا ہے اور ان میں کوئی اس پر ایمان نہیں لاتا ہے، اور تمہارا رب مفسدوں کو خوب جانتا ہے (ف۱۰۳)

٤١ . اور اگر وہ تمہیں جھٹلائیں (ف۱۰۴) تو فرمادو کہ میرے لیے میری کرنی اور تمہارے لیے تمہاری کرنی (اعمال) (ف۱۰۵) تمہیں میرے کام سے علاقہ نہیں اور مجھے تمہارے کام سے لاتعلق نہیں (ف۱۰۶)

٤٢ . اور ان میں کوئی وہ ہیں جو تمہاری طرف کان لگاتے ہیں (ف۱۰۷) تو کیا تم بہروں کو سنا دو گے اگرچہ انہیں عقل نہ ہو (ف۱۰۸)

٤٣ . اور ان میں کوئی تمہاری طرف تکتا ہے (ف۱۰۹) کیا تم اندھوں کو راہ دکھا دو گے اگرچہ وہ نہ سوجھیں،

٤٤ . بیشک اللہ لوگوں پر کچھ ظلم نہیں کرتا (ف۱۰۰) ہاں لوگ ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں (ف۱۱۱)

٤٥ . اور جس دن انہیں اٹھائے گا (ف۱۱۲) گویا دنیا میں نہ رہے تھے مگر اس دن کی ایک گھڑی (ف۱۱۳) آپس میں پہچان کریں گے (ف۱۱۴) کہ پورے گھاٹے میں رہے وہ جنہوں نے اللہ سے ملنے کو جھٹلایا اور ہدایت پر نہ تھے (ف۱۱۵)

٤٦ . اور اگر ہم تمہیں دکھا دیں کچھ (ف۱۱۶) اس میں سے جو انہیں وعدہ دے رہے ہیں (ف۱۱۷) یا تمہیں پہلے ہی اپنے پاس بلالیں (ف۱۱۸) بہرحال انہیں ہماری طرف پلٹ کر آنا ہے پھر اللہ گواہ ہے (ف۱۱۹) ان کے کاموں پر،

٤٧ . اور ہر امت میں ایک رسول ہوا (ف۱۲۰) جب ان کا رسول ان کے پاس آتا (ف۱۲۱) ان پر انصاف کا فیصلہ کردیا جاتا (ف۱۲۲) اور ان پر ظلم نہیں ہوتا،

٤٨ . اور کہتے ہیں یہ وعدہ کب آئے گا اگر تم سچے ہو (ف۱۲۳)

٤٩ . تم فرماؤ میں اپنی جان کے برے بھلے کا (ذاتی) اختیار نہیں رکھتا مگر جو اللہ چاہے (ف۱۲۴) ہر گروہ کا ایک وعدہ ہے (ف۱۲۵) جب ان کا وعدہ آئے گا تو ایک گھڑی نہ پیچھے ہٹیں نہ آگے بڑھیں،

٥٠ . تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو اگر اس کا عذاب (ف۱۲۶) تم پر رات کو آئے (ف۱۲۷) یا دن کو (ف۱۲۸) تو اس میں وہ کونسی چیز ہے کہ مجرموں کو جس کی جلدی ہے،

٥١ . تو کیا جب (ف۱۲۹) ہو پڑے گا اس وقت اس کا یقین کرو گے (ف۱۳۰) کیا اب مانتے ہو پہلے تو (ف۱۳۱) اس کی جلدی مچارہے تھے،

٥٢ . پھر ظالموں سے کہا جائے گا ہمیشہ کا عذاب چکھو تمہیں کچھ اور بدلہ نہ ملے گا مگر وہی جو کماتے تھے (ف۱۳۲)

٥٣ . اور تم سے پوچھتے ہیں کیا وہ (ف۱۳۳) حق ہے، تم فرماؤ، ہاں! میرے رب کی قسم بیشک وہ ضرور حق ہے، اور تم کچھ تھکا نہ سکو گے (ف۱۳۴)

٥٤ . اور اگر ہر ظالم جان، زمین میں جو کچھ ہے (ف۱۳۵) سب کی مالک ہوتی، ضرور اپنی جان چھڑانے میں دیتی (ف۱۳۶) اور دل میں چپکے چپکے پشیمان ہوئے جب عذاب دیکھا اور ان میں انصاف سے فیصلہ کردیا گیا اور ان پر ظلم نہ ہوگا،

٥٥ . سن لو بیشک اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں (ف۱۳۷) سن لو بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے مگر ان میں اکثر کو خبر نہیں،

٥٦ . وہ جِلاتا اور مارتا ہے اور اسی کی طرف پھرو گے،

٥٧ . اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آئی (ف۱۳۸) اور دلوں کی صحت اور ہدایت اور رحمت ایمان والوں کے لیے،

٥٨ . تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہیے کہ خوشی کریں (ف۱۳۹) وہ ان کے سب دھن دولت سے بہتر ہے،

٥٩ . تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو وہ جو اللہ نے تمہارے لیے رزق اتارا اس میں تم نے اپنی طرف سے حرام و حلال ٹھہرالیا (ف۱۴۰) تم فرماؤ کیا اللہ نے اس کی تمہیں اجازت دی یا اللہ پر جھوٹ باندھتے ہو (ف۱۴۱)

٦٠ . اور کیا گمان ہے ان کا، جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں کہ قیامت میں ان کا کیا حال ہوگا، بیشک اللہ لوگوں پر فضل کرتا ہے (ف۱۴۲) مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے،

٦١ . اور تم کسی کام میں ہو (ف۱۴۳) اور اس کی طرف سے کچھ قرآن پڑھو اور تم لوگ (ف۱۴۴) کوئی کام کرو ہم تم پر گواہ ہوتے ہیں جب تم اس کو شروع کرتے ہو، اور تمہارے رب سے ذرہ بھر کوئی چیز غائب نہیں زمین میں نہ آسمان میں اور نہ اس سے چھوٹی اور نہ اس سے بڑی کوئی چیز نہیں جو ایک روشن کتاب میں نہ ہو (ف۱۴۵)

٦٢ . سن لو بیشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خو ف ہے نہ کچھ غم (ف۱۴۶)

٦٣ . وہ جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے ہیں،

٦٤ . انہیں خوشخبری ہے دنیا کی زندگی میں (ف۱۴۷) اور آخرت میں، اللہ کی باتیں بدل نہیں سکتیں (ف۱۴۸) یہی بڑی کامیابی ہے،

٦٥ . اور تم ان کی باتو ں کا غم نہ کرو (ف۱۴۹) بیشک عزت ساری اللہ کے لیے ہے (ف۱۵۰) وہی سنتا جانتا ہے،

٦٦ . سن لو بیشک اللہ ہی کے مِلک ہیں جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمینوں میں (ف۱۵۱) اور کاہے کے پیچھے جارہے ہیں (ف۱۵۲) وہ جو اللہ کے سوا شریک پکار رہے ہیں، وہ تو پیچھے نہیں جاتے مگر گمان کے اور وہ تو نہیں مگر اٹکلیں دوڑاتے (ف۱۵۳)

٦٧ . وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی کہ اس میں چین پاؤ (ف۱۵۴) اور دن بنایا تمہاری آنکھوں کھولتا (ف۱۵۵) بیشک اس میں نشانیاں ہیں سننے والوں کے لیے (ف۱۵۶)

٦٨ . بولے اللہ نے اپنے لیے اولاد بنائی (ف۱۵۷) پاکی اس کو، وہی بے نیاز ہے، اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں (ف۱۵۸) تمہارے پاس اس کی کوئی بھی سند نہیں، کیا اللہ پر وہ بات بتاتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں،

٦٩ . تم فرماؤ وہ جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہ ہوگا،

٧٠ . دنیا میں کچھ برت لینا (فائدہ اٹھانا) ہے پھر انہیں ہماری طرف واپس آنا پھر ہم انہیں سخت عذاب چکھائیں گے بدلہ ان کے کفر کا،

٧١ . اور انہیں نوح کی خبر پڑھ کر سناؤ جب اس نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم اگر تم پر شاق گزرا ہے میرا کھڑا ہونا (ف۱۵۹) اور اللہ کی نشانیاں یاد دلانا (ف۱۶۰) تو میں نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا (ف۱۶۱) تو مِل کر کام کرو اور اپنے جھوٹے معبودوں سمیت اپنا کام پکا کرلو تمہارے کام میں تم پر کچھ گنجلک (الجھن) نہ رہے پھر جو ہو سکے میرا کرلو اور مجھے مہلت نہ دو (ف۱۶۲)

٧٢ . پھر اگر تم منہ پھیرو (ف۱۶۳) تو میں تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا (ف۱۶۴) میرا اجر تو نہیں مگر اللہ پر (ف۱۶۵) اور مجھے حکم ہے کہ میں مسلمانوں سے ہوں،

٧٣ . تو انہوں نے اسے (ف۱۶۶) جھٹلایا تو ہم نے اسے اور جو اس کے ساتھ کشتی میں تھے ان کو نجات دی اور انہیں ہم نے نائب کیا (ف۱۶۷) اور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں ان کو ہم نے ڈبو دیا تو دیکھو ڈرائے ہوؤں کا انجام کیسا ہوا،

٧٤ . پھر اس کے بعد اور رسول (ف۱۶۸) ہم نے ان کی قوموں کی طرف بھیجے تو وہ ان کے پاس روشن دلیلیں لائے تو وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لاتے اس پر جسے پہلے جھٹلا چکے تھے، ہم یونہی مہر لگادیتے ہیں سرکشوں کے دلوں پر،

٧٥ . پھر ان کے بعد ہم نے موسٰی اور ہارون کو فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف اپنی نشانیاں دے کر بھیجا تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم لوگ تھے،

٧٦ . تو جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا (ف۱۶۹) بولے یہ تو ضرور کھلا جادو ہے،

٧٧ . موسیٰ نے کہا کیا حق کی نسبت ایسا کہتے ہو جب وہ تمہارے پاس آیا کیا یہ جادو ہے (ف۱۷۰) اور جادوگر مراد کو نہیں پہنچتے،

٧٨ . بولے (ف۱۷۱) کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہمیں اس (ف۱۷۲) سے پھیردو جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا اور زمین میں تمہیں دونوں کی بڑائی رہے، اور ہم تم پر ایمان لانے کے نہیں،

٧٩ . اور فرعون (ف۱۷۳) بولا ہر جادوگر علم والے کو میرے پاس لے آؤ،

٨٠ . پھر جب جادوگر آئے ان سے موسیٰ نے کہا ڈالو جو تمہیں ڈالنا ہے (ف۱۷۴)

٨١ . پھر جب انہوں نے ڈالا موسیٰ نے کہا یہ جو تم لائے یہ جادو ہے (ف۱۷۵) اب اللہ اسے باطل کردے گا، اللہ مفسدوں کا کام نہیں بناتا،

٨٢ . اور اللہ اپنی باتوں سے (ف۱۷۶) حق کو حق کر دکھاتا ہے پڑے برا مانیں مجرم،

٨٣ . تو موسیٰ پر ایمان نہ لائے مگر اس کی قوم کی اولاد سے کچھ لوگ (ف۱۷۷) فرعون اور اس کے درباریوں سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں انہیں (ف۱۷۸) ہٹنے پر مجبور نہ کردیں اور بیشک فرعون زمین پر سر اٹھانے والا تھا، اور بیشک وہ حد سے گزر گیا (ف۱۷۹)

٨٤ . اور موسیٰ نے کہا اے میری قوم اگر تم اللہ پر ایمان لائے تو اسی پر بھروسہ کرو (ف۱۸۰) اگر تم اسلام رکھتے ہو،

٨٥ . بولے ہم نے اللہ پر بھروسہ کیا الہٰی ہم کو ظالم لوگوں کے لیے آزمائش نہ بنا (ف۱۸۱)

٨٦ . اور اپنی رحمت فرماکر ہمیں کافروں سے نجات دے (ف۱۸۲)

٨٧ . اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کو وحی بھیجی کہ مصر میں اپنی قوم کے لیے مکانات بناؤ اور اپنے گھروں کو نماز کی جگہ کرو (ف۱۸۳) اور نماز قائم رکھو، اور مسلمانوں کو خوشخبری سناؤ (ف۱۸۴)

٨٨ . اور موسیٰ نے عرض کی اے رب ہمارے تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو آرائش (ف۱۸۵) اور مال دنیا کی زندگی میں دیے، اے رب ہمارے! اس لیے کہ تیری راہ سے بہکادیں، اے رب ہمارے! ان کے مال برباد کردے (ف۱۸۶) اور ان کے دل سخت کردے کہ ایمان نہ لائیں جب تک دردناک عذاب نہ دیکھ لیں (ف۱۸۷)

٨٩ . فرمایا تم دونوں کی دعا قبول ہوئی (ف۱۸۸) تو ثابت قدم رہو اور (ف۱۸۹) نادانوں کی راہ نہ چلو (ف۱۹۰)

٩٠ . اور ہم بنی اسرائیل کو دریا پار لے گئے تو فرعون اور اس کے لشکروں نے ان کا پیچھا کیا سرکشی اور ظلم سے یہاں تک کہ جب اسے ڈوبنے نے ا ٓ لیا (ف۱۹۱) بولا میں ایمان لایا کہ کوئی سچا معبود نہیں سوا اس کے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں مسلمان ہوں (ف۱۹۲)

٩١ . کیا اب (ف۱۹۳) اور پہلے سے نافرمان رہا اور تو فسادی تھا (ف۱۹۴)

٩٢ . آج ہم تیری لاش کو اوترا دیں (باقی رکھیں) گے تو اپنے پچھلوں کے لیے نشانی ہو (ف۱۹۵) اور بیشک لوگ ہما ری آ یتو ں سے غافل ہیں،

٩٣ . اور بیشک ہم نے بنی اسرائیل کو عزت کی جگہ دی (ف۱۹۶) اور انہیں ستھری روزی عطا کی تو اختلاف میں نہ پڑے (ف۱۹۷) مگر علم آنے کے بعد (ف۱۹۸) بیشک تمہارا رب قیامت کے دن ان میں فیصلہ کردے گا جس بات میں جھگڑتے تھے (ف۱۹۹)

٩٤ . اور اے سننے والے! اگر تجھے کچھ شبہ ہو اس میں جو ہم نے تیری طرف اتارا (ف۲۰۰) تو ان سے پوچھ دیکھ جو تجھ سے پہلے کتاب پڑھنے والے ہیں (ف۲۰۱) بیشک تیرے پاس تیرے رب کی طرف سے حق آیا (ف۲۰۲) تو تُو ہر گز شک والوں میں نہ ہو،

٩٥ . اور ہرگز ان میں نہ ہونا جنہوں نے اللہ کی آیتیں جھٹلائیں کہ تو خسارے والوں میں ہوجائے گا،

٩٦ . بیشک وہ جن پر تیرے رب کی بات ٹھیک پڑچکی ہے (ف۲۰۳) ایمان نہ لائیں گے،

٩٧ . اگرچہ سب نشانیاں ان کے پاس آئیں جب تک دردناک عذاب نہ دیکھ لیں (ف۲۰۴)

٩٨ . تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی (ف۲۰۵) کہ ایمان لاتی (ف۲۰۶) تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم، جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا (ف۲۰۷)

٩٩ . اور اگر تمہارا رب چاہتا زمین میں جتنے ہیں سب کے سب ایمان لے آتے (ف۲۰۸) تو کیا تم لوگوں کو زبردستی کرو گے یہاں تک کہ مسلمان ہوجائیں (ف۲۰۹)

١٠٠ . اور کسی جان کی قدرت نہیں کہ ایمان لے آئے مگر اللہ کے حکم سے (ف۲۱۰) اور عذاب ان پر ڈالنا ہے جنہیں عقل نہیں،

١٠١ . تم فرماؤ دیکھو (ف۲۱۱) آسمانوں اور زمین میں کیا ہے (ف۲۱۲) اور آیتیں اور رسول انہیں کچھ نہیں دیتے جن کے نصیب میں ایمان نہیں،

١٠٢ . تو انہیں کاہے کا انتظار ہے مگر انہیں لوگوں کے سے دنوں کا جو ان سے پہلے ہو گزرے (ف۲۱۳) تم فرماؤ تو انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار میں ہوں (ف۲۱۴)

١٠٣ . پھر ہم اپنے رسولوں اور ایمان والوں کو نجات دیں گے بات یہی ہے ہمارے ذمہ کرم پر حق ہے مسلمانوں کو نجات دینا،

١٠٤ . تم فرماؤ، اے لوگو! اگر تم میرے دین کی طرف سے کسی شبہ میں ہو تو میں تو اسے نہ پوجوں کا جسے تم اللہ کے سوا پوجتے ہو (ف۲۱۵) ہاں اس اللہ کو پوجتا ہوں جو تمہاری جان نکالے گا (ف۲۱۶) اور مجھے حکم ہے کہ ایمان والوں میں ہوں،

١٠٥ . اور یہ کہ اپنا منہ دین کے لیے سیدھا رکھ سب سے الگ ہوکر (ف۲۱۷) اور ہرگز شرک والوں میں نہ ہونا،

١٠٦ . اور اللہ کے سوا اس کی بندگی نہ کر جو نہ تیرا بھلا کرسکے نہ برا، پھر اگر ایسا کرے تو اس وقت تو ظالموں سے ہوگا،

١٠٧ . اور اگر تجھے اللہ کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کا کوئی ٹالنے والا نہیں اس کے سوا، اور اگر تیرا بھلا چاہے تو اس کے فضل کے رد کرنے والا کوئی نہیں (ف۲۱۸) اسے پہنچا تا ہے اپنے بندوں میں جسے چاہے، اور وہی بخشنے والا مہربان ہے،

١٠٨ . تم فرماؤ اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق آیا (ف۲۱۹) تو جو راہ پر آیا وہ اپنے بھلے کو راہ پر آیا (ف۲۲۰) اور جو بہکا وہ اپنے برے کو بہکا (ف۲۲۱) اور کچھ میں کڑوڑا (حاکمِ اعلیٰ) نہیں (ف۲۲۲)

١٠٩ . اور اس پر چلو جو تم پر وحی ہوتی ہے اور صبر کرو (ف۲۲۳) یہاں تک کہ اللہ حکم فرمائے (ف۲۲۴) اور وہ سب سے بہتر حکم فرمانے والا ہے (ف۲۲۵)