;

١ . یہ روشن کتاب کی آیتیں ہیں (ف۲)

٢ . بیشک ہم نے اسے عربی قرآن اتارا کہ تم سمجھو،

٣ . ہم تمہیں سب اچھا بیان سناتے ہیں (ف۳) اس لیے کہ ہم نے تمہاری طرف اس قرآن کی وحی بھیجی اگرچہ بیشک اس سے پہلے تمہیں خبر نہ تھی،

٤ . یاد کرو جب یوسف نے اپنے با پ (ف۴) سے کہا اے میرے باپ میں نے گیارہ تارے اور سورج اور چاند دیکھے انہیں اپنے لیے سجدہ کرتے دیکھا (ف۵)

٥ . کہا اے میرے بچے اپنا خواب اپنے بھائیوں سے نہ کہنا (ف۶) وہ تیرے ساتھ کوئی چا ل چلیں گے (ف۷) بیشک شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے (ف۸)

٦ . اور اسی طرح تجھے تیرا رب چن لے گا (ف۹) اور تجھے باتوں کا انجام نکا لنا سکھائے گا (ف۱۰) اور تجھ پر اپنی نعمت پوری کرے گا اور یعقوب کے گھر والوں پر (ف۱۱) جس طرح تیرے پہلے دنوں باپ دادا ابراہیم ؑ اور اسحق ؑ پر پوری کی (ف۱۲) بیشک تیرا رب علم و حکمت والا ہے،

٧ . بیشک یوسف اور اس کے بھائیوں میں (ف۱۳) پوچھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں (ف۱۴)

٨ . جب بولے (ف۱۵) کہ ضرور یوسف اور اس کا بھائی (ف۱۶) ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں اور ہم ایک جماعت ہیں (ف۱۷) بیشک ہمارے باپ صراحةً ان کی محبت میں ڈوبے ہوئے ہیں (ف۱۸)

٩ . یوسف کو مار ڈالو یا کہیں زمین میں پھینک آؤ (ف۱۹) کہ تمہارے باپ کا منہ صرف تمہاری ہی طرف رہے (ف۲۰) اور اس کے بعد پھر نیک ہوجانا (ف۲۱)

١٠ . ان میں ایک کہنے والا (ف۲۲) بولا یوسف کو مارو نہیں (ف۲۳) اور اسے اندھے کنویں میں ڈال دو کہ کوئی چلتا اسے آکر لے جائے (ف۲۴) اگر تمہیں کرنا ہے (ف۲۵)

١١ . بولے اے ہمارے باپ ! آپ کو کیا ہوا کہ یوسف کے معامل ہ میں ہمارا اعتبار نہیں کرتے اور ہم تو اس کے خیر خواہ ہیں،

١٢ . کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجئے کہ میوے کھائے اور کھیلے (ف۲۶) اور بیشک ہم اس کے نگہبان ہیں (ف۲۷)

١٣ . بولا بیشک مجھے رنج دے گا کہ اسے لے جاؤ (ف۲۸) اور ڈرتا ہوں کہ اسے بھیڑیا کھالے (ف۲۹) اور تم اس سے بے خبر رہو (ف۳۰)

١٤ . بولے اگر اسے بھیڑیا کھا جائے اور ہم ایک جماعت ہیں جب تو ہم کسی مصرف کے نہیں (ف۳۱)

١٥ . پھر جب اسے لے گئے (ف۳۲) اور سب کی رائے یہی ٹھہری کہ اسے اندھے کنویں میں ڈال دیں (ف۳۳) اور ہم نے اسے وحی بھیجی (ف۳۴) کہ ضرور تو انہیں ان کا یہ کام جتادے گا (ف۳۵) ایسے وقت کہ وہ نہ جانتے ہوں گے (ف۳۶)

١٦ . اور رات ہوئے اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے آئے (ف۳۷)

١٧ . بولے اے ہمارے باپ ہم دوڑ کرتے نکل گئے (ف۳۸) اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑا تو اسے بھیڑیا کھا گیا اور آپ کسی طرح ہمارا یقین نہ کریں گے اگرچہ ہم سچے ہوں (ف۳۹)

١٨ . اور اس کے کر ُتے پر ایک جھوٹا خون لگا لائے (ف۴۰) کہا بلکہ تمہارے دلوں نے ایک بات تمہارے واسطے بنالی ہے (ف۴۱) تو صبر اچھا، اور اللہ ہی مدد چاہتا ہوں ان باتوں پر جو تم بتارہے ہو (ف۴۲)

١٩ . اور ایک قافلہ آیا (ف۴۳) انہوں نے اپنا پانی لانے والا بھیجا (ف۴۴) تو اس نے اپنا ڈول ڈال (ف۴۵) بولا آہا کیسی خوشی کی بات ہے یہ تو ایک لڑکا ہے اور اسے ایک پونجی بناکر چھپالیا (ف۴۶) اور اللہ جانتا ہے جو وہ کرتے ہیں،

٢٠ . اور بھائیوں نے اسے کھوٹے داموں گنتی کے روپوں پر بیچ ڈالا (ف۴۷) اور انہیں اس میں کچھ رغبت نہ تھی (ف۴۸)

٢١ . اور مصر کے جس شخص نے اسے خریدا وہ اپنی عورت سے بولا (ف۴۹) انہیں عزت سے رکھو (ف۵۰) شاید ان سے ہمیں نفع پہنچے (ف۵۱) یا ان کو ہم بیٹا بنالیں (ف۵۲) اور اسی طرح ہم نے یوسف کو اس زمین میں جماؤ (رہنے کا ٹھکانا) دیا اور اس لیے کہ اسے باتوں کا انجام سکھائیں ۰ف۵۳) اور اللہ اپنے کام پر غالب ہے مگر اکثر آدمی نہیں جانتے،

٢٢ . اور جب اپنی پوری قوت کو پہنچا (ف۵۴) ہم نے اسے حکم اور علم عطا فرمایا (ف۵۵) اور ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو،

٢٣ . اور وہ جس عورت (ف۵۶) کے گھر میں تھا اس نے اسے لبھایا کہ اپنا آپا نہ روکے (ف۵۷) اور دروازے سب بند کردیے (ف۵۸) اور بولی آؤ تمہیں سے کہتی ہوں (ف۵۹) کہا اللہ کی پناہ (ف۶۰) وہ عزیز تو میرا رب یعنی پرورش کرنے والا ہے اس نے مجھے اچھی طرح رکھا (ف۶۱) بیشک ظالموں کا بھلا نہیں ہوتا،

٢٤ . اور بیشک عورت نے اس کا ارادہ کیا اور وہ بھی عورت کا ارادہ کرتا اگر اپنے رب کی دلیل نہ دیکھ لیتا (ف۶۲) ہم نے یوں ہی کیا کہ اس سے برائی اور بے حیائی کو پھیر دیں (ف۶۳) بیشک وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے ہے (ف۶۴)

٢٥ . اور دونوں دروازے کی طرف دوڑے (ف۶۵) اور عورت نے اس کا کر ُتا پیچھے سے چیر لیا اور دونوں کو عورت کا میاں (ف۶۶) دروازے کے پاس ملا (ف۶۷) بولی کیا سزا ہے اس کی جس نے تیری گھر والی سے بدی چاہی (ف۶۸) مگر یہ کہ قید کیا جائے یا دکھ کی مار (ف۶۹)

٢٦ . کہا اس نے مجھ کو لبھایا کہ میں اپنی حفاظت نہ کروں (ف۷۰) اور عورت کے گھر والوں میں سے ایک گواہ نے (ف۷۱) گواہی دی اگر ان کا کر ُتا آگے سے چرا ہے تو عورت سچی ہے اور انہوں نے غلط کہا (ف۷۲)

٢٧ . اور اگر ان کا کر ُتا پیچھے سے چاک ہوا تو عورت جھوٹی ہے اور یہ سچے (ف۷۳)

٢٨ . پھر جب عزیز نے اس کا کر ُتا پیچھے سے چرا دیکھا (ف۷۴) بولا بیشک یہ تم عورتوں کا چرتر (فریب) ہے بیشک تمہارا چرتر (فریب) بڑا ہے (ف۷۵)

٢٩ . اے یوسف! تم اس کا خیال نہ کرو (ف۷۶) اور اے عورت! تو اپنے گناہ کی معافی مانگ (ف۷۷) بیشک تو خطاواروں میں ہے (ف۷۸)

٣٠ . اور شہر میں کچھ عورتیں بولیں (ف۷۹) کہ عزیز کی بی بی اپنے نوجوان کا دل لبھاتی ہ ے بیشک ان کی محبت اس کے دل میں پَیر گئی (سماگئی) ہے ہم تو اسے صر یح خود رفتہ پاتے ہیں (ف۸۰)

٣١ . تو جب زلیخا نے ان کا چرچا سنا تو ان عورتوں کو بلا بھیجا (ف۸۱) اور ان کے لیے مسندیں تیار کیں (ف۸۲) اور ان میں ہر ایک کو ایک چھری دی (ف۸۳) اور یوسف (ف۸۴) سے کہا ان پر نکل آؤ (ف۸۵) جب عورتوں نے یوسف کو دیکھا اس کی بڑائی بولنے لگیں (ف۸۶) اور اپنے ہاتھ کاٹ لیے (ف۸۷) اور بولیں اللہ کو پاکی ہے یہ تو جنس بشر سے نہیں (ف۸۸) یہ تو نہیں مگر کوئی معزز فرشتہ،

٣٢ . زلیخا نے کہا تو يہ ہیں وہ جن پر مجھے طعنہ دیتی تھیں (ف۸۹) اور بیشک میں نے ان کا جِی لبھانا چاہا تو انہوں نے اپنے آپ کو بچا یا (ف۹۰) اور بیشک اگر وہ یہ کام نہ کریں گے جو میں ان سے کہتی ہوں تو ضرور قید میں پڑیں گے اور وہ ضرور ذلت اٹھائیں گے (ف۹۱)

٣٣ . یوسف نے عرض کی اے میرے رب! مجھے قید خانہ زیادہ پسند ہے اس کام سے جس کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اور اگر تو مجھ سے ان کا مکر نہ پھیرے گا (ف۹۲) تو میں ان کی طرف مائل ہوں گا اور نادان بنوں گا،

٣٤ . تو اس کے رب نے اس کی سن لی اور اس سے عورتوں کا مکر پھیردیا، بیشک وہی سنتا جانتا ہے (ف۹۳)

٣٥ . پھر سب کچھ نشانیاں دیکھ دکھا کر پچھلی مت انہیں یہی آئی کہ ضرور ایک مدت تک اسے قیدخانہ میں ڈالیں (ف۹۴)

٣٦ . اور اس کے ساتھ قیدخانہ میں دو جوان داخل ہوئے (ف۹۵) ان میں ایک (ف۹۶) بولا میں نے خواب میں دیکھا کہ (ف۹۷) شراب نچوڑتا ہوں اور دوسرا بولا (ف۹۸) میں نے خواب دیکھا کہ میرے سر پر کچھ روٹیاں ہیں جن میں سے پرند کھاتے ہیں، ہمیں اس کی تعبیر بتایے، بیشک ہم آپ کو نیکو کار دیکھتے ہیں (ف۹۹)

٣٧ . یوسف نے کہا جو کھانا تمہیں ملا کرتا ہے وہ تمہارے پاس نہ آنے پائے گا کہ میں اس کی تعبیر اس کے آنے سے پہلے تمہیں بتادوں گا (ف۱۰۰) یہ ان علموں میں سے ہے جو مجھے میرے رب نے سکھایا ہے، بیشک میں نے ان لوگوں کا دین نہ مانا جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور وہ آخرت سے منکر ہیں،

٣٨ . اور میں نے اپنے باپ دادا ابراہیم ؑ اور اسحق ؑ اور یعقوب کا دین اختیار کیا (ف۱۰۱) ہمیں نہیں پہنچتا کہ کسی چیز کو اللہ کا شریک ٹھہرائیں، یہ (ف۱۰۲) اللہ کا ایک فضل ہے ہم پر اور لوگوں پر مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے (ف۱۰۳)

٣٩ . اے میرے قیدخانہ کے دونوں ساتھیو! کیا جدا جدا رب (ف۱۰۴) اچھے یا ایک اللہ جو سب پر غالب، (ف۱۰۵)

٤٠ . تم اس کے سوا نہیں پوجتے مگر نرے نام (فرضی نام) جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے تراش لیے ہیں (ف۱۰۶) اللہ نے ان کی کوئی سند نہ اتاری، حکم نہیں مگر اللہ کا اس نے فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو (ف۱۰۷) یہ سیدھا دین ہے (ف۱۰۸) لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (ف۱۰۹)

٤١ . اے قید خانہ کے دونوں ساتھیو! تم میں ایک تو اپنے رب (بادشاہ) کو شراب پلائے گا (ف۱۱۰) رہا دوسرا (ف۱۱۱) وہ سو ُلی دیا جائے گا تو پرندے اس کا سر کھائیں گے (ف۱۱۲) حکم ہوچکا اس بات کا جس کا تم سوال کرتے تھے (ف۱۱۳)

٤٢ . اور یوسف نے ان دونوں میں سے جسے بچتا سمجھا (ف۱۱۴) اس سے کہا اپنے رب (بادشاہ) کے پاس میرا ذکر کرنا (ف۱۱۵) تو شیطان نے اسے بھلا دیا کہ اپنے رب (بادشاہ) کے سامنے یوسف کا ذکر کرے تو یوسف کئی برس اور جیل خانہ میں رہا (ف۱۱۶)

٤٣ . اور بادشاہ نے کہا میں نے خواب میں دیکھیں سات گائیں فربہ کہ انہیں سات دُبلی گائیں کھارہی ہیں اور سات بالیں ہری اور دوسری سات سوکھی (ف۱۱۷) اے درباریو! میرے خواب کا جواب دو اگر تمہیں خواب کی تعبیر آتی ہو،

٤٤ . بولے پریشان خوابیں ہیں اور ہم خواب کی تعبیر نہیں جانتے،

٤٥ . اور بولا وہ جو ان دونوں میں سے بچا تھا (ف۱۱۸) اور ایک مدت بعد اسے یاد آیا (ف۱۱۹) میں تمہیں اس کی تعبیر بتاؤں گا مجھے بھیجو (ف۱۲۰)

٤٦ . اے یوسف! اے صدیق! ہمیں تعبیر دیجئے سات فربہ گایوں کی جنہیں سات دُبلی کھاتی ہیں اور سات ہری بالیں اور دوسری سات سوکھی (ف۱۲۱) شاید میں لوگوں کی طرف لوٹ کر جاؤں شاید وہ آگاہ ہوں (ف۱۲۲)

٤٧ . کہا تم کھیتی کرو گے سات برس لگارتار (ف۱۲۳) تو جو کاٹو اسے اس کی بال میں رہنے دو (ف۱۲۴) مگر تھوڑا جتنا کھالو (ف۱۲۵)

٤٨ . پھر اس کے بعد سات برس کرّے (سخت تنگی والے) آئیں گے (ف۱۲۶) کہ کھا جائیں گے جو تم نے ان کے لیے پہلے جمع کر رکھا تھا (ف۱۲۷) مگر تھوڑا جو بچالو (ف۱۲۸)

٤٩ . پھر ان کے بعد ایک برس آئے گا جس میں لوگوں کو مینھ دیا جائے گا اور اس میں رس نچوڑیں گے (ف۱۲۹)

٥٠ . اور بادشاہ بولا کہ انہیں میرے پاس لے آؤ تو جب اس کے پاس ایلچی آیا (ف۱۳۰) کہا اپنے رب (بادشاہ) کے پاس پلٹ جا پھر اس سے پوچھ (ف۱۳۱) کیا حال ہے اور عورتوں کا جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹے تھے، بیشک میرا رب ان کا فریب جانتا ہے (ف۱۳۲)

٥١ . بادشاہ نے کہا اے عورتو! تمہارا کیا کام تھا جب تم نے یوسف کا دل لبھانا چاہا، بولیں اللہ کو پاکی ہے ہم نے ان میں کوئی بدی نہیں پائی عزیز کی عورت (ف۱۳۳) بولی اب اصلی بات کھل گئی، میں نے ان کا جی لبھانا چاہا تھا اور وہ بیشک سچے ہیں (ف۱۳۴)

٥٢ . یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا،

٥٣ . اور میں اپنے نفس کو بے قصور نہیں بتاتا (ف۱۳۵) بیشک نفس تو برائی کا بڑا حکم دینے والا ہے مگر جس پر میرا رب رحم کرے (ف۱۳۶) بیشک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے (ف۱۳۷)

٥٤ . اور بادشاہ بولا انہيں میرے پاس لے آؤ کہ میں انہیں اپنے لیے چن لوں (ف۱۳۸) پھر جب اس سے بات کی کہا بیشک آج آپ ہمارے یہاں معزز معتمد ہیں (ف۱۳۹)

٥٥ . یوسف نے کہا مجھے زمین کے خزانوں پر کردے بیشک میں حفاظت والا علم والا ہوں (ف۱۴۰)

٥٦ . اور یوں ہی ہم نے یوسف کو اس ملک پر قدرت بخشی اس میں جہاں چاہے رہے (ف۱۴۱) ہم اپنی رحمت (ف۱۴۲) جسے چاہیں پہنچائیں اور ہم نیکوں کا نیگ (اَجر) ضائع نہیں کرتے،

٥٧ . اور بیشک آخرت کا ثواب ان کے لیے بہتر جو ایمان لائے اور پرہیزگار رہے (ف۱۴۳)

٥٨ . اور یوسف کے بھائی آئے تو اس کے پاس حاضر ہوئے تو یوسف نے انہیں (ف۱۴۴) پہچان لیا اور وہ اس سے انجان رہے (ف۱۴۵)

٥٩ . اور جب ان کا سامان مہیا کردیا (ف۱۴۶) کہ اپنا سوتیلا بھائی (ف۱۴۷) میرے پاس لے آؤ کیا نہیں دیکھتے کہ میں پورا ناپتا ہوں (ف۱۴۸) اور میں سب سے بہتر مہمان نواز ہوں،

٦٠ . پھر اگر اسے لیکر میرے پاس نہ آؤ تو تمہارے لیے میرے یہاں ماپ نہیں اور میرے پاس نہ پھٹکنا،

٦١ . بولے ہم اس کی خواہش کریں گے اس کے باپ سے اور ہمیں یہ ضرور کرنا،

٦٢ . اور یوسف نے اپنے غلاموں سے کہا ان کی پونجی ان کی خورجیوں میں رکھ دو (ف۱۴۹) شاید وہ اسے پہچانیں جب اپنے گھر کی طرف لوٹ کر جائیں (ف۱۵۰) شاید وہ واپس آئیں،

٦٣ . پھر جب وہ اپنے باپ کی طرف لوٹ کر گئے (ف۱۵۱) بولے اے ہمارے باپ ہم سے غلہ روک دیا گیا ہے (ف۱۵۲) تو ہمارے بھائی کو ہمارے پاس بھیج دیجئے کہ غلہ لائیں اور ہم ضرور اس کی حفاظت کریں گے،

٦٤ . کہا کیا اس کے بارے میں تم پر ویسا ہی اعتبار کرلوں جیسا پہلے اس کے بھائی کے بارے میں کیا تھا (ف۱۵۳) تو اللہ سب سے بہتر نگہبان اور وہ ہر مہربان سے بڑھ کر مہربان،

٦٥ . اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا اپنی پونجی پائی کہ ان کو پھیر دی گئی ہے، بولے اے ہمارے باپ اب اور کیا چاہیں، یہ ہے ہماری پونجی ہمیں واپس کردی گئی اور ہم اپنے گھر کے لیے غلہ لائیں اور اپنے بھائی کی حفاظت کریں اور ایک اونٹ کا بوجھ اور زیادہ پائیں، یہ دنیا بادشاہ کے سامنے کچھ نہیں (ف۱۵۴)

٦٦ . کہا میں ہرگز اسے تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک تم مجھے کا اللہ کا یہ عہد نہ دے دو (ف۱۵۵) کہ ضرور اسے لے کر آ ؤ گے مگر یہ کہ تم گھِر جاؤ (ف۱۵۶) پھر انہوں نے یعقوب کو عہد دے دیا کہا (ف۱۵۷) اللہ کا ذمہ ہے ان باتوں پر جو کہہ رہے ہیں،

٦٧ . اور کہا اے میرے بیٹوں! (ف۱۵۸) ایک دروازے سے نہ داخل ہونا اور جدا جدا دروا زوں سے جانا (ف۱۵۹) میں تمہیں اللہ سے بچا نہیں سکتا (ف۱۶۰) حکم تو سب اللہ ہی کا ہے، میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور بھروسہ کرنے والوں کو اسی پر بھروسہ چاہیے،

٦٨ . اور جب وہ داخل ہوئے جہاں سے ان کے باپ نے حکم دیا تھا (ف۱۶۱) وہ کچھ انہیں کچھ انہیں اللہ سے بچا نہ سکتا ہاں یعقوب کے جی کی ایک خواہش تھی جو اس نے پوری کرلی، اور بیشک وہ صاحب علم ہے ہمارے سکھائے سے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے (ف۱۶۲)

٦٩ . اور جب وہ یوسف کے پاس گئے (ف۱۶۳) اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی (ف۱۶۴) کہا یقین جان میں ہی تیرا بھائی (ف۱۶۵) ہوں تو یہ جو کچھ کرتے ہیں اس کا غم نہ کھا (ف۱۶۶)

٧٠ . پھر جب ان کا سامان مہیا کردیا (ف۱۶۷) پیالہ اپنے بھائی کے کجاوے میں رکھ دیا (ف۱۶۸) پھر ایک منادی نے ندا کی اے قافلہ والو! بیشک تم چور ہو،

٧١ . بولے اور ان کی طرف متوجہ ہوئے تم کیا نہیں پاتے،

٧٢ . بولے، بادشاہ کا پیمانہ نہیں ملتا اور جو اسے لائے گا اس کے لیے ایک اونٹ کا بوجھ ہے اور میں اس کا ضامن ہوں،

٧٣ . بولے خدا کی قسم! تمہیں خوب معلوم ہے کہ ہم زمین میں فساد کرنے نہ آئے اور نہ ہم چور ہیں،

٧٤ . بولے پھر کیا سزا ہے اس کی اگر تم جھوٹے ہو (ف۱۶۹)

٧٥ . بولے اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے اسباب میں ملے وہی اس کے بدلے میں غلام بنے (ف۱۷۰) ہمارے یہاں ظالموں کی یہی سزا ہے (ف۱۷۱)

٧٦ . تو اول ان کی خرُجیوں سے تلاشی شروع کی اپنے بھائی (ف۱۷۲) کی خرُجی سے پہلے پھر اسے اپنے بھائی کی خرُجی سے نکال لیا (ف۱۷۳) ہم نے یوسف کو یہی تدبیر بتائی (ف۱۷۴) بادشاہی قانون میں اسے نہیں پہنچتا تھا کہ اپنے بھائی کو لے لے (ف۱۷۵) مگر یہ کہ خدا چاہے (ف۱۷۶) ہم جسے چاہیں درجوں بلند کریں (ف۱۷۷) اور ہر علم والے اوپر ایک علم والا ہے (ف۱۷۸)

٧٧ . بھائی بولے اگر یہ چوری کرے (ف۱۷۹) تو بیشک اس سے پہلے اس کا بھائی چوری کرچکا ہے (ف۱۸۰) تو یوسف نے یہ بات اپنے دل میں رکھی اور ان پر ظاہر نہ کی، جی میں کہا تم بدتر جگہ ہو (ف۱۸۱) اور اللہ خوب جانتا ہے جو باتیں بناتے ہو،

٧٨ . بولے اے عزیز! اس کے ایک باپ ہیں بوڑھے بڑے (ف۱۸۲) تو ہم میں اس کی جگہ کسی کو لے لو، بیشک ہم تمہارے احسان دیکھ رہے ہیں،

٧٩ . کہا (ف۱۸۳) خدا کی پناہ کہ ہم میں مگر اسی کو جس کے پاس ہمارا مال ملا (ف۱۸۴) جب تو ہم ظالم ہوں گے،

٨٠ . پھر جب اس سے نا امید ہوئے الگ جاکر سرگوشی کرنے لگے، ان کا بڑا بھائی بولا کیا تمہیں خبر نہیں کہ تمہارے باپ نے تم سے اللہ کا عہد لے لیا تھا اور اس سے پہلے یوسف کے حق میں تم نے کیسی تقصیر کی تو میں یہاں سے نہ ٹلوں گا یہاں تک کہ میرے باپ (ف۱۸۵) اجازت دیں یا اللہ مجھے حکم فرمائے (ف۱۸۶) اور اس کا حکم سب سے بہتر،

٨١ . اپنے باپ کے پاس لوٹ کر جاؤ پھر عرض کرو اے ہمارے باپ بیشک آپ کے بیٹے نے چوری کی (ف۱۸۷) اور ہم تو اتنی ہی بات کے گواہ ہوئے تھے جتنی ہمارے علم میں تھی (ف۱۸۸) اور ہم غیب کے نگہبان نہ تھے (ف۱۸۹)

٨٢ . اور اس بستی سے پوچھ دیکھئے جس میں ہم تھے اور اس قافلہ سے جس میں ہم آئے، اور ہم بیشک سچے ہیں (ف۱۹۰)

٨٣ . کہا (ف۱۹۱) تمہارے نفس نے تمہیں کچھ حیلہ بنادیا، تو اچھا صبر ہے، قریب ہے کہ اللہ ان سب کو مجھ سے لا، ملائے (ف۱۹۲) بیشک وہی علم و حکمت والا ہے،

٨٤ . اور ان سے منہ پھیرا (ف۱۹۳) اور کہا ہائے افسوس! یوسف کی جدائی پر اور اس کی آنکھیں غم سے سفید ہوگئیں (ف۱۹۴) وہ غصہ کھا تا رہا،

٨٥ . بولے (ف۱۹۵) خدا کی قسم! آپ ہمیشہ یوسف کی یاد کرتے رہیں گے یہاں تک کہ گور کنارے جا لگیں یا جان سے گزر جائیں،

٨٦ . کہا میں تو اپنی پریشانی اور غم کی فریاد اللہ ہی سے کرتا ہوں (ف۱۹۶) اور مجھے اللہ کی وہ شانیں معلوم ہیں جو تم نہیں جانتے (ف۱۹۷)

٨٧ . اے بیٹو! جا ؤ یوسف اور اس کے بھائی کا سراغ لگاؤ اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بیشک اللہ کی رحمت سے نا امید نہیں ہوتے مگر کافر لوگ (ف۱۹۸)

٨٨ . پھر جب وہ یوسف کے پاس پہنچے بولے اے عزیز ہمیں اور ہمارے گھر والوں کو مصیبت پہنچی (ف۱۹۹) اور ہم بے قدر پونجی لے کر آئے ہیں (ف۲۰۰) تو آپ ہمیں پورا ناپ دیجئے (ف۲۰۱) اور ہم پر خیرات کیجئے (ف۲۰۲) بیشک اللہ خیرات والوں کو صلہ دیتا ہے (ف۲۰۳)

٨٩ . بولے کچھ خبر ہے تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کِیا تھا جب تم نادان تھے (ف۲۰۴)

٩٠ . بولے کیا سچ مچ آپ ہی یوسف ہیں، کہا میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی، بیشک اللہ نے ہم پر احسان کیا (ف۲۰۵) بیشک جو پرہیزگاری اور صبر کرے تو اللہ نیکوں کا نیگ (اجر) ضائع نہیں کرتا (ف۲۰۶)

٩١ . بولے خدا کی قسم! بیشک اللہ نے آپ کو ہم پر فضیلت دی اور بیشک ہم خطاوار تھے (ف۲۰۷)

٩٢ . کہا آج (ف۲۰۸) تم پر کچھ ملامت نہیں، اللہ تمہیں معاف کرے، اور وہ سب مہربانوں سے بڑھ کر مہربان ہے (ف۲۰۹)

٩٣ . میرا یہ کرتا لے جاؤ (ف۲۱۰) اسے میرے باپ کے منہ پر ڈالو ان کی آنکھیں کھل جائیں گی اور اپنے سب گھر بھر کو میرے پاس لے آ ؤ،

٩٤ . جب قافلہ مصر سے جدا ہوا (ف۲۱۱) یہاں ان کے باپ نے (ف۲۱۲) کہا بیشک میں یوسف کی خوشبو پا تا ہوں اگر مجھے یہ نہ کہو کہ سٹھ (بہک) گیا ہے،

٩٥ . بیٹے بولے خدا کی قسم! آپ اپنی اسی پرانی خود رفتگی میں ہیں (ف۲۱۳)

٩٦ . پھر جب خوشی سنانے والا آیا (ف۲۱۴) اس نے وہ کرتا یعقوب کے منہ پر ڈالا اسی وقت اس کی آنکھیں پھر آئیں (دیکھنے لگیں) کہ میں نہ کہتا تھا کہ مجھے اللہ کی وہ شانیں معلوم ہیں جو تم نہیں جانتے (ف۲۱۵)

٩٧ . بولے اے ہمارے باپ! ہمارے گناہوں کی معافی مانگئے بیشک ہم خطاوار ہیں،

٩٨ . کہا جلد میں تمہاری بخشش اپنے رب سے چاہو ں گا، بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے (ف۲۱۶)

٩٩ . پھر جب وہ سب یوسف کے پاس پہنچے اس نے اپنے ماں (ف۲۱۷) باپ کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا مصر میں (ف۲۱۸) داخل ہو اللہ چاہے تو امان کے ساتھ (ف۲۱۹)

١٠٠ . اور اپنے ماں باپ کو تخت پر بٹھایا اور سب (ف۲۲۰) اس کے لیے سجدے میں گرے (ف۲۲۱) اور یوسف نے کہا اے میرے باپ یہ میرے پہلے خواب کی تعبیر ہے (ف۲۲۲) بیشک اسے میرے رب نے سچا کیا، اور بیشک اس نے مجھ پر احسان کیا کہ مجھے قید سے نکالا (ف۲۲۳) اور آپ سب کو گاؤں سے لے آیا بعد اس کے کہ شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں ناچاقی کرادی تھی، بیشک میرا رب جس بات کو چاہے آسان کردے بیشک وہی علم و حکمت والا ہے (ف۲۲۴)

١٠١ . اے میرے رب بیشک تو نے مجھے ایک سلطنت دی اور مجھے کچھ باتوں کا انجام نکالنا سکھایا، اے آسمانوں اور زمین کے بنانے والے تو میرا کام بنانے والا ہے دنیا اور آخرت میں، مجھے مسلمان اٹھا اور ان سے مِلا جو تیرے قرب خاص کے لائق ہیں (ف۲۲۵)

١٠٢ . یہ کچھ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کرتے ہیں اور تم ان کے پاس نہ تھے (ف۲۲۶) جب انہوں نے اپنا کام پکا کیا تھا اور وہ داؤں چل رہے تھے (ف۲۲۷)

١٠٣ . اور اکثر آدمی تم کتنا ہی چاہو ایمان نہ لائیں گے،

١٠٤ . اور تم اس پر ان سے کچھ اجرت نہ مانگتے یہ (ف۲۲۸) تو نہیں مگر سارے جہان کو نصیحت،

١٠٥ . اور کتنی نشانیاں ہیں (ف۲۲۹) آسمانوں اور زمین میں کہ اکثر لوگ ان پر گزرتے ہیں (ف۲۳۰) اور ان سے بے خبر رہتے ہیں،

١٠٦ . اور ان میں اکثر وہ ہیں کہ اللہ پر یقین نہیں لاتے مگر شرک کرتے ہوئے (ف۲۳۱)

١٠٧ . کیا اس سے نڈر ہو بیٹھے کہ اللہ کا عذاب انہیں آکر گھیر لے یا قیامت ان پر اچانک آجائے اور انہیں خبر نہ ہو،

١٠٨ . تم فرماؤ (ف۲۳۲) یہ میری راہ ہے میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں میں اور جو میرے قدموں پرچلیں دل کی آنکھیں رکھتے ہیں ۰ف۲۳۳) اور اللہ کو پاکی ہے (ف۲۳۴) اور میں شریک کرنے والا نہیں،

١٠٩ . اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب مرد ہی تھے (ف۲۳۵) جنہیں ہم وحی کرتے اور سب شہر کے ساکن تھے (ف۲۳۶) تو یہ لوگ زمین پرچلے نہیں تو دیکھتے ان سے پہلوں کا کیا انجام ہوا (ف۲۳۷) اور بیشک آخرت کا گھر پرہیزگاروں کے لیے بہتر تو کیا تمہیں عقل نہیں،

١١٠ . یہاں تک جب رسولوں کو ظاہری اسباب کی امید نہ رہی (ف۲۳۸) اور لوگ سمجھے کہ رسولوں نے غلط کہا تھا (ف۲۳۹) اس وقت ہماری مدد آئی تو جسے ہم نے چاہا بچالیا گیا (ف۲۴۰) اور ہمارا عذاب مجرموں سے پھیرا نہیں جاتا،

١١١ . بیشک ان کی خبروں سے (ف۲۴۱) عقل مندوں کی آنکھیں کھلتی ہیں (ف۲۴۲) یہ کوئی بناوٹ کی بات نہیں (ف۲۴۳) لیکن اپنوں سے اگلے کاموں کی (ف۲۴۴) تصدیق ہے اور ہر چیز کا مفصل بیان اور مسلمانوں کے لیے ہدایت اور رحمت،