;

١ . ایک کتاب ہے (ف۲) کہ ہم نے تمہاری طرف اتاری کہ تم لوگوں کو (ف۳) اندھیریوں سے (ف۴) اجالے میں لا ؤ (ف۵) ان کے رب کے حکم سے اس کی راہ (ف۶) کی طرف جو عزت والا سب خوبیوں والا ہے

٢ . اللہ کہ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں (ف۷) اور کافروں کی خرابی ہے ایک سخت عذاب سے

٣ . جنہیں آخرت سے دنیا کی زندگی پیاری ہے اور اللہ کی راہ سے روکتے (ف۸) اور اس میں کجی چاہتے ہیں، وہ دور کی گمراہی میں ہیں (ف۹)

٤ . اور ہم نے ہر رسول اس کی قوم ہی کی زبان میں بھیجا (ف۱۰) کہ وہ انہیں صاف بتائے (ف۱۱) پھراللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہے اور وہ راہ دکھاتا ہے جسے چاہے، اور وہی عزت و حکمت والا ہے،

٥ . اور بیشک ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں (ف۱۲) دے کر بھیجا کہ اپنی قوم کو اندھیریوں سے (ف۱۳) اجالے میں لا، اور انہیں اللہ کے دن یا د دِلا (ف۱۴) بیشک اس میں نشانیاں ہیں ہر بڑے صبرے والے شکر گزار کرو،

٦ . اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا (ف۱۵) یاد کرو اپنے اوپر اللہ کا احسان جب اس نے تمہیں فرعون والوں سے نجات دی جو تم کو بری مار دیتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے اور تمہاری بیٹیاں زندہ رکھتے، اور اس میں (ف۱۶) تمہارے رب کا بڑا فضل ہوا،

٧ . اور یاد کرو جب تمہارے رب نے سنادیا کہ اگر احسان مانو گے تو میں تمہیں اور دونگا (ف۱۷) اور اگر ناشکری کرو تو میرا عذاب سخت ہے،

٨ . اور موسیٰ نے کہا اگر تم اور زمین میں جتنے ہیں سب کا فر ہوجاؤ (ف۱۸) تو بیشک اللہ بے پروہ سب خوبیوں والا ہے،

٩ . کیا تمہیں ان کی خبریں نہ آئیں جو تم سے پہلے تھی نوح کی قوم اور عاد اور ثمود اور جو ان کے بعد ہوئے، انہیں اللہ ہی جانے (ف۱۹) ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں لے کر آئے (ف۲۰) تو وہ اپنے ہاتھ (ف۲۱) اپنے منہ کی طرف لے گئے (ف۲۲) اور بولے ہم منکر ہیں اس کے جو تمہارے ہاتھ بھیجا گیا اور جس راہ (ف۲۳) کی طرف ہمیں بلاتے ہو اس میں ہمیں وہ شک ہے کہ بات کھلنے نہیں دیتا،

١٠ . ان کے رسولوں نے کہا کیا اللہ میں شک ہے (ف۲۴) آسمان اور زمین کا بنانے والا، تمہیں بلاتا ہے (ف۲۵) کہ تمہارے کچھ گناہ بخشے (ف۲۶) اور موت کے مقرر وقت تک تمہاری زندگی بے عذاب کاٹ دے، بولے تم تو ہمیں جیسے آدمی ہو (ف۲۷) تم چاہتے ہو کہ ہمیں اس سے باز رکھو جو ہمارے باپ دادا پوجتے تھے (ف۲۸) اب کوئی روشن سند ہمارے پاس لے آؤ (ف۲۹)

١١ . ان کے رسولوں نے ان سے کہا (ف۳۰) ہم ہیں تو تمہاری طرح انسان مگر اللہ اپنے بندوں میں جس پر چاہے احسان فرماتا ہے (ف۳۱) اور ہمارا کام نہیں کہ ہم تمہارے پاس کچھ سند لے آئیں مگر اللہ کے حکم سے، اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہیے (ف۳۲)

١٢ . اور ہمیں کیا ہوا کہ اللہ پر بھروسہ نہ کریں (ف۳۳) اس نے تو ہماری راہیں ہمیں دکھادیں (ف۳۴) اور تم جو ہمیں ستا رہے ہو ہم ضرور اس پر صبر کریں گے، اور بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہیے،

١٣ . اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا ہم ضرور تمہیں اپنی زمین (ف۳۵) سے نکال دیں گے یا تم ہمارے دین پر کچھ ہوجاؤ، تو انہیں ان کے رب نے وحی بھیجی کہ ہم ضرور ظالموں کو ہلاک کریں گے

١٤ . اور ضرور ہم تم کو ان کے بعد زمین میں بسائیں گے (ف۳۶) یہ اس لیے ہے جو (ف۳۷) میرے حضو ر کھڑے ہونے سے ڈرے اور میں نے جو عذاب کا حکم سنایا ہے، اس سے خوف کرے،

١٥ . اور انہوں نے (ف۳۸) فیصلہ مانگا اور ہر سرکش ہٹ دھرم نا مُراد ہوا (ف۳۹)

١٦ . جہنم اس کے پیچھے لگی اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا،

١٧ . بہ مشکل اس کا تھوڑا تھوڑا گھونٹ لے گا اور گلے سے نیچے اتارنے کی امید نہ ہوگی (ف۴۰) اور اسے ہر طرف سے موت آئے گی اور مرے گا نہیں، اور اس کے پیچھے ایک گاڑھا عذاب (ف۴۱)

١٨ . اپنے رب سے منکروں کا حال ایسا ہے کہ ان کے کام ہیں (ف ۴۲) جیسے راکھ کہ اس پر ہوا کا سخت جھونکا آیا آندھی کے دن میں (ف۴۳) ساری کمائی میں سے کچھ ہاتھ نہ لگا، یہی ہے دور کی گمراہی،

١٩ . کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے آسمان اور زمین حق کے ساتھ بنائے (ف۴۴) اگر چاہے تو تمہیں لے جائے (ف۴۵) اور ایک نئی مخلوق لے آئے (ف۴۶)

٢٠ . اور یہ (ف۴۷) اللہ پر کچھ دشوار نہیں،

٢١ . اور سب اللہ کے حضور (ف۴۸) اعلانیہ حاضر ہوں گے تو جو کمزور تھے (ف۴۹) بڑائی والوں سے کہیں گے (ف۵۰) ہم تمہارے تابع تھے کیا تم سے ہوسکتا ہے کہ اللہ کے عذاب میں سے کچھ ہم پر سے ٹال دو (ف۵۱) کہیں گے اللہ ہمیں ہدایت کرتا تو ہم تمہیں کرتے (ف۴۲) ہم پر ایک سا ہے چاہے بے قراری کریں یا صبر سے رہیں ہمیں کہیں پناہ نہیں،

٢٢ . اور شیطان کہے گا جب فیصلہ ہوچکے گا (ف۵۳) بیشک اللہ نے تم کو سچا وعدہ دیا تھا (ف۵۴) اور میں نے جو تم کو وعدہ دیا تھا (ف۵۵) وہ میں نے تم سے جھوٹا کیا اور میرا تم پر کچھ قابو نہ تھا (ف۵۶) مگر یہی کہ میں نے تم کو (ف۵۷) بلایا تم نے میری مان لی (ف۵۸) تو اب مجھ پر الزام نہ رکھو (ف۵۹) خود اپنے اوپر الزام رکھو نہ میں تمہاری فریاد کو پہنچ سکوں نہ تم میری فریاد کو پہنچ سکو، وہ جو پہلے تم نے مجھے شریک ٹھہرایا تھا (ف۶۰) میں اس سے سخت بیزار ہوں، بیشک ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے،

٢٣ . اور وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے وہ باغوں میں داخل کیے جائیں گے جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں اپنے رب کے حکم سے، اس میں ان کے ملتے وقت کا اکرام سلام ہے (ف۶۱)

٢٤ . کیا تم نے نہ دیکھا اللہ نے کیسی مثال بیان فرمائی پاکیزہ بات کی (ف۶۲) جیسے پاکیزہ درخت جس کی جڑ قائم اور شاخیں آسمان میں،

٢٥ . ہر وقت پھل دیتا ہے اپنے رب کے حکم سے (ف۶۳) اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں وہ سمجھیں (ف۶۴)

٢٦ . اور گندی بات (ف۶۵) کی مثال جیسے ایک گندہ پیڑ (ف۶۶) کہ زمین کے اوپر سے کاٹ دیا گیا اب اسے کوئی قیام نہیں (ف۶۷)

٢٧ . اللہ ثابت رکھتا ہے ایمان والوں کو حق بات (ف۶۸) پر دنیا کی زندگی میں (ف۶۹) اور آخرت میں (ف۷۰) اور اللہ ظالموں کو گمراہ کرتا ہے (ف۷۱) اور اللہ جو چاہے کرے،

٢٨ . کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت ناشکری سے بدل دی (ف۷۲) اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر لا اتار،

٢٩ . وہ جو دوزخ ہے اس کے اندر جائیں گے، اور کیا ہی بری ٹھہرنے کی جگہ،

٣٠ . اور اللہ کے لیے برابر والے ٹھہراے (ف۷۳) کہ اس کی راہ سے بہکاویں تم فرماؤ (ف۷۴) کچھ برت لو کہ تمہارا انجام آگ ہے (ف۷۵)

٣١ . میرے ان بندوں سے فرماؤ جو ایمان لائے کہ نماز قائم رکھیں اور ہمارے دیے میں سے کچھ ہماری راہ میں چھپے اور ظاہر خرچ کریں اس دن کے آنے سے پہلے جس میں نہ سوداگری ہوگی (ف۷۶) نہ یارانہ (ف۷۷)

٣٢ . اللہ ہے جس نے آسمان اور زمین بنائے اور آسمان سے پانی اتارا تو اس سے کچھ پھل تمہارے کھانے کو پیدا کیے اور تمہارے لیے کشتی کو مسخر کیا کہ اس کے حکم سے دریا میں چلے (ف۷۸) اور تمہارے لیے ندیاں مسخر کیں، (ف۷۹)

٣٣ . اور تمہارے لیے سورج اور چاند مسخر کیے جو برابر چل رہے ہیں (ف۸۰) اور تمہارے لیے رات اور دن مسخر کیے (ف۸۱)

٣٤ . اور تمہیں بہت کچھ منہ مانگا دیا، اور اگر اللہ کی نعمتیں گنو تو شمار نہ کرسکو گے، بیشک آدمی بڑا ظالم ناشکرا ہے (ف۸۲)

٣٥ . اور یاد کرو جب ابراہیم نے عرض کی اے میرے رب اس شہر (ف۸۳) کو امان والا کردے (ف۸۴) اور مجھے اور میرے بیٹوں کو بتوں کے پوجنے سے بچا (ف۸۵)

٣٦ . اے میرے رب بیشک بتوں نے بہت لوگ بہکائے دیے (ف۸۶) تو جس نے میرا ساتھ دیا (ف۸۷) وہ تو میرا ہے اور جس نے میرا کہا نہ مانا تو بیشک تو بخشنے والا مہربان ہے (ف۸۸)

٣٧ . اے میرے رب میں نے اپنی کچھ اولاد ایک نالے میں بسائی جس میں کھیتی نہیں ہوتی تیرے حرمت والے گھر کے پاس (ف۸۹) اے میرے رب اس لیے کہ وہ (ف۹۰) نماز قائم رکھیں تو تو لوگوں کے کچھ دل ان کی طرف مائل کردے (ف۹۱) اور انہیں کچھ پھل کھانے کو دے (ف۹۲) شاید وہ احسان مانیں،

٣٨ . اے ہمارے رب تو جانتا ہے جو ہم چھپاتے ہیں اور ظاہر کرتے اور اللہ پر کچھ چھپا نہیں زمین میں اور نہ آسمان میں (ف۹۳)

٣٩ . سب خوبیاں اللہ کو جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل و اسحاق دیئے بیشک میرا رب دعا سننے والا ہے،

٤٠ . اے میرے رب! مجھے نماز قائم کرنے والا رکھ اور کچھ میری اولاد کو (ف۹۴) اے ہمارے رب اور ہماری دعا سن لے،

٤١ . اے ہمارے رب مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو (ف۹۵) اور سب مسلمانوں کو جس دن حساب قائم ہوگا،

٤٢ . اور ہرگز اللہ کو بےخبر نہ جاننا ظالموں کے کام سے (ف۹۶) انہیں ڈھیل نہیں دے رہا ہے مگر ایسے دن کے لیے جس میں (ف۹۷)

٤٣ . آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی بے تحاشا دوڑے نکلیں گے (ف۹۸) اپنے سر اٹھائے ہوئے کہ ان کی پلک ان کی طرف لوٹتی نہیں (ف۹۹) اور ان کے دلوں میں کچھ سکت نہ ہوگی (ف۱۰۰)

٤٤ . اور لوگوں کو اس دن سے ڈراؤ (ف۱۰۱) جب ان پر عذاب آئے گا تو ظالم (ف۱۰۲) کہیں گے اے ہمارے رب! تھوڑی دیر ہمیں (ف۱۰۳) مہلت دے کہ ہم تیرا بلانا مانیں (ف۱۰۴) اور رسولوں کی غلامی کریں (ف۱۰۵) تو کیا تم پہلے (ف۱۰۶) قسم نہ کھاچکے تھے کہ ہمیں دنیا سے کہیں ہٹ کر جانا نہیں (ف۱۰۷)

٤٥ . اور تم ان کے گھروں میں بسے جنہوں نے اپنا برا کیا تھا (ف۱۰۸) اور تم پر خوب کھل گیا ہم نے ان کے ساتھ کیسا کیا (ف۱۰۹) اور ہم نے تمہیں مثالیں دے کر بتادیا (ف۱۱۰)

٤٦ . اور بیشک وہ (ف۱۱۱) اپنا سا داؤں (فریب) چلے (ف۱۱۲) اور ان کا داؤں اللہ کے قابو میں ہے، اور ان کا داؤں کچھ ایسانہ تھا جس سے یہ پہاڑ ٹل جائیں (ف۱۱۳)

٤٧ . تو ہر گز خیال نہ کرنا کہ اللہ اپنے رسولوں سے وعدہ خلاف کرے گا (ف۱۱۴) بیشک اللہ غالب ہے بدلہ لینے والا،

٤٨ . جس دن (ف۱۱۵) بدل دی جائے گی زمین اس زمین کے سوا اور آسمان (ف۱۱۶) اور لوگ سب نکل کھڑے ہوں گے (ف۱۱۷) ایک اللہکے سامنے جو سب پر غالب ہے

٤٩ . اور اس دن تم مجرموں (ف۱۱۸) کو دیکھو گے کہ بیڑیوں میں ایک دوسرے سے جڑے ہوں گے (ف۱۱۹)

٥٠ . ان کے کرُتے رال ہوں گے (ف۱۲۰) اور ان کے چہرے آ گ ڈھانپ لے گی

٥١ . اس لیے کہ اللہ ہر جان کو اس کی کمائی کا بدلہ دے، بیشک اللہ کو حساب کرتے کچھ دیر نہیں لگتی،

٥٢ . یہ (ف۱۲۱) لوگوں کو حکم پہنچانا ہے اور اس لیے کہ وہ اس سے ڈرائے جائیں اور اس لیے کہ وہ جان لیں کہ وہ ایک ہی معبود ہے (ف۱۲۲) اور اس لیے کہ عقل والے نصیحت مانیں،