;

١ . یہ آیتیں ہیں کتاب اور روشن قرآن کی-

٢ . بہت آرزوئیں کریں گے کافر (ف۲) کاش مسلمان ہوتے،

٣ . انہیں چھوڑو (ف۳) کہ کھائیں اور برتیں (ف۴) اور امید (ف۵) انہیں کھیل میں ڈالے تو اب جانا چاہتے ہیں (ف۶)

٤ . اور جو بستی ہم نے ہلاک کی اس کا ایک جانا ہوا نوشتہ تھا (ف۷)

٥ . کو ئی گروہ اپنے وعدہ سے آگے نہ بڑھے نہ پیچھے ہٹے،

٦ . اور بولے (ف۸) کہ اے وہ جن پر قرآن اترا بیشک مجنون ہو (ف۹)

٧ . ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں لاتے (ف۱۰) اگر تم سچے ہو (ف۱۱)

٨ . ہم فرشتے بیکار نہیں اتارتے اور وہ اتریں تو انہیں مہلت نہ ملے (ف۱۲)

٩ . بیشک ہم نے اتارا ہے یہ قرآن اور بیشک ہم خود اس کے نگہبان ہیں (ف۱۳)

١٠ . اور بیشک ہم نے تم سے پہلے اگلی امتوں میں رسول بھیجے،

١١ . اور ان کے پاس کوئی رسول نہیں آتا مگر اس سے ہنسی کرتے ہیں (ف۱۴)

١٢ . ایسے ہی ہم اس ہنسی کو ان مجرموں (ف۱۵) کے دلوں میں راہ دیتے ہیں،

١٣ . وہ اس پر (ف۱۶) ایمان نہیں لاتے اور اگلوں کی راہ پڑچکی ہے (ف۱۷)

١٤ . اور اگر ہم ان کے لیے آسمان میں کوئی دروازہ کھول دیں کہ دن کو اس میں چڑھتے،

١٥ . جب بھی یہی کہتے کہ ہماری نگاہ باندھ دی گئی ہے بلکہ ہم پر جادو ہوا ہے (ف۱۸)

١٦ . اور بیشک ہم نے آسمان میں برج بنائے (ف۱۹) اور اسے دیکھنے والو ں کے لیے آراستہ کیا (ف۲۰)

١٧ . اور اسے ہم نے ہر شیطان مردود سے محفوظ رکھا (ف۲۱)

١٨ . مگر جو چوری چھپے سننے جائے تو اس کے پیچھے پڑتا ہے روشن شعلہ (ف۲۲)

١٩ . اور ہم نے زمین پھیلائی اور اس میں لنگر ڈالے (ف۲۳) اور اس میں ہر چیز اندازے سے اگائی،

٢٠ . اور تمہارے لیے اس میں روزیاں کردیں (ف۲۴) اور وہ کردیے جنہیں تم رزق نہیں دیتے (ف۲۵)

٢١ . اور کوئی چیز نہیں جس کے ہمارے پاس خزانے نہ ہوں (ف۲۶) اور ہم اسے نہیں اتارتے مگر ایک معلوم انداز سے،

٢٢ . اور ہم نے ہوائیں بھیجیں بادلوں کو با رور کرنے والیاں (ف۲۷) تو ہم نے آسمان سے پانی اتارا پھر وہ تمہیں پینے کو دیا اور تم کچھ اس کے خزانچی نہیں (ف۲۸)

٢٣ . اور بیشک ہم ہی جِلائیں اور ہم ہی ماریں اور ہم ہی وارث ہیں (ف۲۹)

٢٤ . اور بیشک ہمیں معلوم ہیں جو تم میں آگے بڑھے اور بیشک ہمیں معلوم ہیں جو تم میں پیچھے رہے، (ف۳۰)

٢٥ . اور بیشک تمہارا رب ہی تمہیں قیامت میں اٹھائے گا (ف۳۱) بیشک وہی علم و حکمت والا ہے،

٢٦ . اور بیشک ہم نے آدمی کو (ف۳۲) بجتی ہوئی مٹی سے بنایا جو اصل میں ایک سیاہ بودار گارا تھی، ف۳۳)

٢٧ . اور جِن کو اس سے پہلے بنایا بے دھوئیں کی آگ سے، (ف۳۴)

٢٨ . اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں آدمی کو بنانے والا ہوں بجتی مٹی سے جو بدبودار سیاہ گارے سے ہے،

٢٩ . تو جب میں اسے ٹھیک کرلوں اور اور میں اپنی طرف کی خاص معز ز ر وح پھونک دوں (ف۳۵) تو اس (ف۳۶) کے لیے سجدے میں گر پڑنا،

٣٠ . تو جتنے فرشتے تھے سب کے سب سجدے میں گرے،

٣١ . سوا ابلیس کے، اس نے سجدہ والوں کا ساتھ نہ مانا (ف۳۷)

٣٢ . فرمایا اے ابلیس تجھے کیا ہوا کہ سجدہ کرنے والوں سے الگ رہا،

٣٣ . بولا مجھے زیبا نہیں کہ بشر کو سجدہ کروں جسے تو نے بجتی مٹی سے بنایا جو سیاہ بودار گارے سے تھی،

٣٤ . فرمایا تو جنت سے نکل جا کہ تو مردود ہے،

٣٥ . اور بیشک قیامت تک تجھ پر لعنت ہے (ف۳۸)

٣٦ . بولا اے میرے رب تو مجھے مہلت دے اس دن تک کہ وہ اٹھائے جائیں (ف۳۹)

٣٧ . فرمایا تو ان میں سے ہے جن کو اس معلوم،

٣٨ . وقت کے دن تک مہلت ہے، (ف۴۰)

٣٩ . بولا اے رب میرے! قسم اس کی کہ تو نے مجھے گمراہ کیا میں انہیں زمین میں بھلاوے دوں گا (ف۴۱) اور ضرور میں ان سب کو (ف۴۲) بے راہ کروں گا

٤٠ . مگر جو ان میں تیرے چنے ہوئے بندے ہیں، (ف۴۳)

٤١ . فرمایا یہ راستہ سیدھا میری طرف آتا ہے،

٤٢ . بیشک میرے (ف۴۴) بندوں پر تیرا کچھ قابو نہیں سوا ان گمراہوں کے جو تیرا ساتھ دیں، (ف۴۵)

٤٣ . اور بیشک جہنم ان سب کا وعدہ ہے، (ف۴۶)

٤٤ . اس کے سات دروازے ہیں، (ف۴۷) ہر دروازے کے لیے ان میں سے ایک حصہ بٹا ہوا ہے، (ف۴۸)

٤٥ . بیشک ڈر والے باغوں اور چشموں میں ہیں (ف۴۹)

٤٦ . ان میں داخل ہو سلامتی کے ساتھ امان میں، (ف۵۰)

٤٧ . اور ہم نے ان کے سینوں میں جو کچھ (ف۵۱) کینے تھے سب کھینچ لیے (ف۵۲) آپس میں بھائی ہیں (ف۵۳) تختوں پر روبرو بیٹھے،

٤٨ . نہ انہیں اس میں کچھ تکلیف پہنچے نہ وہ اس میں سے نکالے جائیں،

٤٩ . خبردو (۵۴) میرے بندوں کو کہ بیشک میں ہی ہوں بخشے والا مہربان،

٥٠ . اور میرا ہی عذاب دردناک عذاب ہے،

٥١ . اور انہیں احوال سناؤ ابراہیم کے مہمانوں کا، (ف۵۵)

٥٢ . جب وہ اس کے پاس آئے تو بولے سلام (ف۵۶) کہا ہمیں تم سے ڈر معلوم ہوتا ہے، (ف۵۷)

٥٣ . انہوں نے کہا ڈریے نہیں ہم آپ کو ایک علم والے لڑکے کی بشارت دیتے ہیں، (ف۵۸)

٥٤ . کہا کیا اس پر مجھے بشارت دیتے ہو کہ مجھے بڑھاپا پہنچ گیا اب کاہے پر بشارت دیتے ہو، (ف۵۹)

٥٥ . کہا ہم نے آپ کو سچی بشارت دی ہے (ف۶۰) آپ ناامید نہ ہوں،

٥٦ . کہا اپنے رب کی رحمت سے کون ناامید ہو مگر وہی جو گمراہ ہوئے، ف۶۱)

٥٧ . کہا پھر تمہارا کیا کام ہے اے فرشتو! (ف۶۲)

٥٨ . بولے ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں، (ف۶۳)

٥٩ . مگر لوط کے گھر والے، ان سب کو ہم بچالیں گے، (ف۶۴)

٦٠ . مگر اس کی عورت ہم ٹھہراچکے ہیں کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں ہے، ف۶۵)

٦١ . تو جب لوط کے گھر فرشتے آئے، ۶۶)

٦٢ . کہا تم تو کچھ بیگانہ لوگ ہو، ف۶۷)

٦٣ . کہا بلکہ ہم تو آپ کے پاس وہ (ف۶۸) لائے ہیں جس میں یہ لوگ شک کرتے تھے، (ف۶۹)

٦٤ . اور ہم آپ کے پاس سچا حکم لائے ہیں اور ہم بیشک سچے ہیں،

٦٥ . تو اپنے گھر والوں کو کچھ رات رہے لے کر باہر جایے اور آپ ان کے پیچھے چلئے اور تم میں کوئی پیچھے پھر کر نہ دیکھے (ف۷۰) اور جہاں کو حکم ہے سیدھے چلے جایئے، (ف۷۱)

٦٦ . اور ہم نے اسے اس حکم کا فیصلہ سنادیا کہ صبح ہوتے ان کافروں کی جڑ کٹ جائے گی،

٦٧ . اور شہر والے (ف۷۳) خوشیاں مناتے آئے،

٦٨ . لوط نے کہا یہ میرے مہمان ہیں (ف۷۴) مجھے فضیحت (رُسوا) نہ کرو، ف۷۵)

٦٩ . اور اللہ سے ڈرو اور مجھے رسوا نہ کرو، (ف۷۶)

٧٠ . بولے کیا ہم نے تمہیں منع نہ کیا تھا کہ اوروں کے معاملہ میں دخل نہ دو،

٧١ . کہا یہ قوم کی عورتیں میری بیٹیاں ہیں اگر تمہیں کرنا ہے، (ف۷۷)

٧٢ . اے محبوب تمہاری جان کی قسم (ف۷۸) بیشک وہ اپنے نشہ میں بھٹک رہے ہیں،

٧٣ . تو دن نکلتے انہیں چنگھاڑ نے آلیا (ف۷۹)

٧٤ . تو ہم نے اس بستی کا اوپر کا حصہ اس نے نیچے کا حصہ کردیا (ف۸۰) اور ان پر کنکر کے پتھر برسائے،

٧٥ . بیشک اس میں نشانیاں ہیں فراست والوں کے لیے،

٧٦ . اور بیشک وہ بستی اس راہ پر ہے جو اب تک چلتی ہے، (ف۸۱)

٧٧ . بیشک اس میں نشانیاں ہیں ایمان والوں کو،

٧٨ . اور بیشک جھاڑی والے ضرور ظالم تھے، ف۸۲)

٧٩ . تو ہم نے ان سے بدلہ لیا (ف۸۳) اور بیشک دونوں بستیاں (ف۸۴) کھلے راستہ پر پڑتی ہیں، (ف۸۵)

٨٠ . اور بیشک حجر والو ں نے رسولوں کو جھٹلایا (ف۸۶)

٨١ . اور ہم نے ان کو اپنی نشانیاں دیں (ف۸۷) تو وہ ان سے منہ پھیرے رہے، (ف۸۸)

٨٢ . اور وہ پہاڑوں میں گھر تراشتے تھے بے خوف (ف۸۹)

٨٣ . تو انہیں صبح ہوتے چنگھاڑ نے آلیا (ف۹۰)

٨٤ . تو ان کی کمائی کچھ ان کے کام نہ آئی (ف۹۱)

٨٥ . اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے عبث نہ بنایا، اور بیشک قیامت آنے والی ہے (ف۹۲) تو تم اچھی طرح درگزر کرو، ف۹۳)

٨٦ . بیشک تمہارا رب ہی بہت پیدا کرنے والا جاننے والا ہے (ف۹۴)

٨٧ . اور بیشک ہم نے تم کو سات آیتیں دیں جو دہرائی جاتی ہیں (ف۹۵) اور عظمت والا قرآن،

٨٨ . اپنی آنکھ اٹھاکر اس چیز کو نہ دیکھو جو ہم نے ان کے جوڑوں کو برتنے کو دی (ف۹۶) اور ان کا کچھ غم نہ کھاؤ (ف۹۷) اور مسلمانوں کو اپنی رحمت کے پروں میں لے لو، (ف۹۸)

٨٩ . اور فرماؤ کہ میں ہی ہوں صاف ڈر سنانے والا (اس عذاب سے)،

٩٠ . جیسا ہم نے بانٹنے والوں پر اتارا،

٩١ . جنہوں نے کلامِ الٰہی کو تکے بوٹی کرلیا، ف۹۹)

٩٢ . تو تمہارے رب کی قسم ہم ضرور ان سب سے پوچھیں گے، (ف۱۰۰)

٩٣ . جو کچھ وہ کرتے تھے، (ف۱۰۱)

٩٤ . تو اعلانیہ کہہ دو جس بات کا تمہیں حکم ہے (ف۱۰۲) اور مشرکوں سے منہ پھیر لو، ف۱۰۳)

٩٥ . بیشک ان ہنسنے والوں پر ہم تمہیں کفا یت کرتے ہیں (ف۱۰۴)

٩٦ . جو ا لله کے ساتھ دوسرا معبود ٹھہراتے ہیں تو اب جان جائیں گے، (ف۱۰۵)

٩٧ . اور بیشک ہمیں معلوم ہے کہ ان کی باتوں سے تم دل تنگ ہوتے ہو، (ف۱۰۶)

٩٨ . تو اپنے رب کو سراہتے ہوئے اس کی پاکی بولو اور سجدہ والوں میں ہو، (ف۱۰۷)

٩٩ . اور مرتے دم تک اپنے رب کی عبادت میں رہو،