;

١ . اب آتا ہے اللہ کا حکم تو اس کی جلدی نہ کرو (ف۲) پاکی اور برتری ہے اسے ان شریکوں سے، (ف۳)

٢ . ملائکہ کو ایمان کی جان یعنی وحی لے کر اپنے جن بندوں پر چاہے اتارتا ہے (ف ۴) کہ ڈر سناؤ کہ میرے سوا کسی کی بندگی نہیں تو مجھ سے ڈرو (ف۵)

٣ . اس نے آسمان اور زمین بجا بنائے (ف۶) وہ ان کے شرک سے برتر ہے،

٤ . (اس نے) آدمی کو ایک نِتھری بوند سے بنایا (ف۷) تو جبھی کھلا جھگڑالو ہے،

٥ . اور چوپائے پیدا کیے ان میں تمہارے لیے گرم لباس اور منفعتیں ہیں (ف۸) اور ان میں سے کھاتے ہو،

٦ . اور تمہارا ان میں تجمل ہے جب انہیں شام کو واپس لاتے ہو اور جب چرنے کو چھوڑتے ہو،

٧ . اور وہ تمہارے بوجھ اٹھا کر لے جاتے ہیں ایسے شہر کی طرف کہ اس تک نہ پہنچتے مگر ادھ مرے ہوکر، بیشک تمہارا رب نہایت مہربان رحم والا ہے (ف۹)

٨ . اور گھوڑے اور خچر اور گدھے کہ ان پر سوار ہو اور زینت کے لیے، اور وہ پیدا کرے گا (ف۱۰) جس کی تمہیں خبر نہیں، (ف۱۱)

٩ . اور بیچ کی راہ (ف۱۲) ٹھیک اللہ تک ہے اور کوئی راہ ٹیڑھی ہے (ف۱۳) اور چاہتا تو تم سب کو راہ پر لاتا، (ف۱۴)

١٠ . وہی ہے جس نے آسمان سے پانی اتارا اس سے تمہارا پینا ہے اور اس سے درخت ہیں جن سے چَراتے ہو (ف۱۵)

١١ . اس پانی سے تمہارے لیے کھیتی اگاتا ہے اور زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل (ف۱۶) بیشک اس میں نشانی ہے (ف۱۷) دھیان کرنے والوں کو،

١٢ . اور اس نے تمہارے لیے مسخر کیے رات اور دن اور سورج اور چاند، اور ستارے اس کے حکم کے باندھے ہیں بیشک اس آیت میں نشانیاں ہیں عقل مندوں کو (ف۱۸)

١٣ . اور وہ جو تمہارے لیے زمین میں پیدا کیا رنگ برنگ (ف۱۹) بیشک اس میں نشانی ہے یاد کرنے والوں کو

١٤ . اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے دریا مسخر کیا (ف۲۰) کہ اس میں سے تازہ گوشت کھاتے ہو (ف۲۱) اور اس میں سے گہنا (زیور) نکالتے ہو جسے پہنتے ہو (ف۲۲) اور تو اس میں کشتیاں دیکھے کہ پانی چیر کر چلتی ہیں اور اس لیے کہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور کہیں احسان مانو،

١٥ . اور اس نے زمین میں لنگر ڈالے (ف۲۳) کہ کہیں تمہیں لے کر نہ کانپے اور ندیاں اور رستے کہ تم راہ پاؤ (ف۲۴)

١٦ . اور علامتیں (ف۲۵) اور ستارے سے وہ راہ پاتے ہیں (ف۲۶)

١٧ . تو کیا جو بنائے (ف۲۷) وہ ایسا ہوجائے گا جو نہ بنائے (ف۲۸) تو کیا تم نصیحت نہیں مانتے،

١٨ . اور اگر اللہ کی نعمتیں گنو تو انہیں شمار نہ کرسکو گے (ف۲۹) بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے (ف۳۰)

١٩ . اور اللہ جانتا ہے (ف۳۱) جو چھپاتے اور ظاہر کرتے ہو،

٢٠ . اور اللہ کے سوا جن کو پوجتے ہو ہیں (۳۲) وہ کچھ بھی نہیں بناتے اور (ف۳۳) وہ خود بنائے ہوئے ہیں (ف۳۴)

٢١ . مُردے ہیں (ف۳۵) زندہ نہیں اور انہیں خبر نہیں لوگ کب اٹھائے جایں گے (ف۳۶)

٢٢ . تمہارا معبوثد ایک معبود ہے (ف۳۷) تو وہ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ان کے دل منکر ہیں (ف۳۸) اور وہ مغرور ہیں (ف۳۹)

٢٣ . فی الحقیقت اللہ جانتا ہے جو چھپاتے اور جو ظاہر کرتے ہیں، بیشک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا،

٢٤ . اور جب ان سے کہا جائے (ف۴۰) تمہارے رب نے کیا اتارا (ف۴۱) کہیں اگلوں کی کہانیاں ہیں (ف۴۲)

٢٥ . کہ قیامت کے دن اپنے (ف۴۳) بوجھ پورے اٹھائیں اور کچھ بوجھ ان کے جنہیں اپنی جہالت سے گمراہ کرتے ہیں، سن لو کیا ہی برا بوجھ اٹھاتے ہیں،

٢٦ . بیشک ان سے اگلوں نے (ف۴۴) فریب کیا تھا تو اللہ نے ان کی چنائی کو نیو سے (تعمیر کو بنیاد) سے لیا تو اوپر سے ان پر چھت گر پڑی اور عذاب ان پر وہاں سے آیا جہاں کی انہیں خبر نہ تھی (ف۴۵)

٢٧ . پھر قیامت کے دن انہیں رسوا کرے گا اور فرمائے گا کہاں ہیں میرے وہ شریک (ف۴۶) جن میں تم جھگڑتے تھے (ف۴۷) علم والے (ف۴۸) کہیں گے آج ساری رسوائی اور برائی (ف۴۹) کافروں پر ہے

٢٨ . وہ کہ فرشتے ان کی جان نکالتے ہیں اس حال پر کیا وہ اپنا برا کررہے تھے (ف۵۰) اب صلح ڈالیں گے (ف۵۱) کہ ہم تو کچھ برائی نہ کرتے تھے (ف۵۲) ہاں کیوں نہیں، بیشک اللہ خوب جانتا ہے جو تمہارے کوتک (برے اعمال) تھے (ف۵۳)

٢٩ . اب جہنم کے دروازوں میں جاؤ کہ ہمیشہ اس میں رہو، تو کیا ہی برا ٹھکانا مغروروں کا،

٣٠ . اور ڈر والوں (ف۵۴) سے کہا گیا تمہارے رب رب نے کیا اتارا، بولے خوبی (ف۵۵) جنہوں نے اس دنیا میں بھلائی کی (ف۵۶) ان کے لیے بھلائی ہے (ف۵۷) اور بیشک پچھلا گھر سب سے بہتر، اور ضرور (ف۵۸) کیا ہی اچھا گھر پرہیزگاروں کا

٣١ . بسنے کے باغ جن میں جائیں گے ان کے نیچے نہریں رواں انہیں وہاں ملے گا جو چاہیں (ف۵۹) اللہ ایسا ہی صلہ دیتا ہے پرہیزگاروں کو

٣٢ . وہ جن کی جان نکالتے ہیں فرشتے ستھرے پن میں (ف۶۰) یہ کہتے ہوئے کہ سلامتی ہو تم پر (ف۶۱) جنت میں جاؤ بدلہ اپنے کیے کا،

٣٣ . کاہے کے انتظار میں ہیں (ف۶۲) مگر اس کے کہ فرشتے ان پر آئیں (ف۶۳) یا تمہارے رب کا عذاب آئے (ف۶۴) ان سے اگلوں نے ایسا ہی کیا (ف۶۵) اور اللہ نے ان پر کچھ ظلم نہ کیا، ہاں وہ خود ہی (ف۶۶) اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے،

٣٤ . تو ان کی بری کمائیاں ان پر پڑیں (ف۶۷) اور انہیں گھیرلیا اس (ف۶۸) نے جس پر ہنستے تھے،

٣٥ . اور مشرک بولے اللہ چاہتا تو اس کے سوا کچھ نہ پوجنے نہ ہم اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ اس سے جدا ہو کر ہم کوئی چیز حرام ٹھہراتے (ف۶۹) جیسا ہی ان سے اگلوں نے کیا (ف۷۰) تو رسولوں پر کیا ہے مگر صاف پہنچا دینا، (ف۷۱)

٣٦ . اور بیشک ہر امت میں ہم نے ایک رسول بھیجا (ف۷۲) کہ اللہ کو پوجو اور شیطان سے بچو تو ان (ف۷۳) میں کسی کو اللہ نے راہ دکھائی (ف۷۴) اور کسی پر گمراہی ٹھیک اتری (ف۷۵) تو زمین میں چل پھر کر دیکھو کیسا انجام ہوا جھٹلانے والوں کا (ف۷۶)

٣٧ . اگر تم ان کی ہدایت کی حرص کرو (ف ۷۷) تو بیشک اللہ ہدایت نہیں دیتا جسے گمراہ کرے اور ان کا کوئی مددگار نہیں،

٣٨ . اور انہوں نے اللہ کی قسم کھائی اپنے حلف میں حد کی کوشش سے کہ اللہ مُردے نہ اٹھائے گا (ف۷۸) ہاں کیوں نہیں (۷۹) سچا وعدہ اس کے ذمہ پر لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (ف۸۰)

٣٩ . اس لیے کہ انہیں صاف بتادے جس بات میں جھگڑتے تھے (ف۸۱) اور اس لیے کہ کافر جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے (ف۸۲)

٤٠ . جو چیز ہم چاہیں اس سے ہمارا فرمانا یہی ہوتا ہے کہ ہم کہیں ہوجا وہ فوراً ہوجاتی ہے، (ف۸۳)

٤١ . اور جنہوں نے اللہ کی راہ مں ی (ف۸۴) اپنے گھر بار چھوڑے مظلوم ہوکر ضرور ہم انہیں دنیا میں اچھی جگہ دیں گے (ف۸۵) اور بیشک آخرت کا ثواب بہت بڑا ہے کسی طرح لوگ جانتے، ف۸۶)

٤٢ . وہ جنہوں نے صبر کیا (ف۸۷) اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کرتے ہیں (ف۸۸)

٤٣ . اور ہم نے تم سے پہلے نہ بھیجے مگر مرد (ف۸۹) جن کی طرف ہم وحی کرتے، تو اے لوگو! علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہیں، ف۹۰)

٤٤ . روشن دلیلیں اور کتابیں لے کر (ف۹۱) اور اے محبوب ہم نے تمہاری ہی طرف یہ یاد گار اتاری (ف۹۲) کہ تم لوگوں سے بیان کردو جو (ف۹۳) ان کی طرف اترا اور کہیں وہ دھیان کریں،

٤٥ . تو کیا جو لوگ بڑے مکر کرتے ہیں (ف۹۴) اس سے نہیں ڈرتے کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسادے (ف۹۵) یا انہیں وہاں سے عذاب آئے جہاں سے انہیں خبر نہ ہو، (ف۹۶)

٤٦ . یا انہیں چلتے پھرتے (ف۹۷) پکڑ لے کہ وہ تھکا نہیں سکتے، ف۹۸)

٤٧ . یا انہیں نقصان دیتے دیتے گرفتار کرلے کہ بیشک تمہارا رب نہایت مہربان رحم والا ہے، (ف۹۹)

٤٨ . اور کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ جو (ف۱۰۰) چیز اللہ نے بنائی ہے اس کی پرچھائیاں دائیں اور بائیں جھکتی ہیں (ف۱۰۱) اللہ کو سجدہ کرتی اور وہ اس کے حضور ذلیل ہیں (ف۱۰۲)

٤٩ . اور اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں جو کچھ آسمانوں میں ہیں اور جو کچھ زمین میں چلنے والا ہے (ف۱۰۳) اور فرشتے اور وہ غرور نہیں کرتے،

٥٠ . اپنے اوپر اپنے رب کا خوف کرتے ہیں اور وہی کرتے ہیں جو انہیں حکم ہو، (ف۱۰۴)

٥١ . اور اللہ نے فرمادیا دو خدا نہ ٹھہراؤ (ف۱۰۵) وہ تو ایک ہی معبود ہے تو مجھ ہی سے ڈرو، ف۱۰۶)

٥٢ . اور اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور اسی کی فرمانبرداری لازم ہے، تو اللہ کے سوا کسی دوسرے سے ڈرو گے، (ف۱۰۷)

٥٣ . اور تمہارے پاس جو نعمت ہے سب اللہ کی طرف سے ہے پھر جب تمہیں تکلیف پہنچتی ہے (ف۱۰۸) تو اسی کی طرف پناہ لے جاتے ہو، ف۱۰۹)

٥٤ . پھر جب وہ تم سے برائی ٹال دیتا ہے تو تم میں ایک گروہ اپنے رب کا شریک ٹھہرانے لگتا ہے، ف۱۱۰)

٥٥ . کہ ہماری دی ہوئی نعمتوں کی ناشکری کریں، تو کچھ برت لو (۱۱۱) کہ عنقریب جان جاؤ گے، (ف۱۱۲)

٥٦ . اور انجانی چیزوں کے لیے (ف۱۱۳) ہماری دی ہوئی روزی میں سے (ف۱۱۴) حصہ مقرر کرتے ہیں خدا کی قسم تم سے ضرور سوال ہونا ہے جو کچھ جھوٹ باندھتے تھے (ف۱۱۵)

٥٧ . اور اللہ کے لیے بیٹیاں ٹھہراتے ہیں (ف۱۱۶) پاکی ہے اس کو (ف۱۱۷) اور اپنے لیے جو اپنا جی چاہتا ہے، (ف۱۱۸)

٥٨ . اور جب ان میں کسی کو بیٹی ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو دن بھر اس کا منہ (ف۱۱۹) کالا رہتا ہے اور وہ غصہ کھا تا ہے،

٥٩ . لوگوں سے (ف۱۲۰) چھپا پھرتا ہے اس بشارت کی برائی کے سبب، کیا اسے ذلت کے ساتھ رکھے گا یا اسے مٹی میں دبادے گا (ف۱۲۱) ارے بہت ہی برا حکم لگاتے ہیں، (ف۱۲۲)

٦٠ . جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے انہیں کا بر ا حال ہے، اور اللہ کی شان سب سے بلند، (ف۱۲۳) اور وہی عزت و حکمت والا ہے،

٦١ . اور اگر اللہ لوگوں کو ان کے ظلم پر گرفت کرتا (ف۱۲۴) تو زمین پر کوئی چلنے والا نہیں چھوڑتا (ف۱۲۵) لیکن انہیں ایک ٹھہرائے وعدے تک مہلت دیتا ہے (ف۱۲۶) پھر جب ان کا وعدہ آئے گا نہ ایک گھڑی پیچھے ہٹیں نہ آگے بڑھیں،

٦٢ . اور اللہ کے لیے وہ ٹھہراتے ہیں جو اپنے لیے ناگوار ہے (ف۱۲۷) اور ان کی زبانیں جھوٹ کہتی ہیں کہ ان کے لیے بھلائی ہے (ف۱۲۸) تو آپ ہی ہوا کہ ان کے لیے آگ ہے اور وہ حد سے گزارے ہوئے ہیں، (ف۱۲۹)

٦٣ . خدا کی قسم ہم نے تم سے پہلے کتنی امتوں کی طرف رسول بھیجے تو شیطان نے ان کے کوتک (برُے اعمال) ان کی آنکھوں میں بھلے کر دکھائے (ف۱۳۰) تو آج وہی ان کا رفیق ہے (ف۱۳۱) اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے، (ف۱۳۲)

٦٤ . اور ہم نے تم پر یہ کتاب نہ اتاری (ف۱۳۳) مگر اس لیے کہ تم لوگوں پر روشن کردو جس بات میں اختلاف کریں (ف۱۳۴) اور ہدایت اور رحمت ایمان والوں کے لیے،

٦٥ . اور اللہ نے آسمان سے پانی اتارا تو اس سے زمین کو (ف۱۳۵) زندہ کردیا اس کے مرے پیچھے (ف۱۳۶) بیشک اس میں نشانی ہے ان کو جو کان رکھتے ہیں، (ف۱۳۷)

٦٦ . اور بیشک تمہارے لیے چوپایوں میں نگاہ حاصل ہونے کی جگہ ہے (ف۱۳۸) ہم تمہیں پلاتے ہیں اس چیز میں سے جو ان کے پیٹ میں ہے، گوبر اور خون کے بیچ میں سے خالص دودھ گلے سے سہل اترتا پینے والوں کے لیے، (ف۱۳۹)

٦٧ . اور کھجور اور انگور کے پھلوں میں سے (ف۱۴۰) کہ اس سے نبیذ بناتے ہو اور اچھا رزق (ف۱۴۱) بیشک اس میں نشانی ہے عقل والوں کو،

٦٨ . اور تمہارے رب نے شہد کی مکھی کو الہام کیا کہ پہاڑوں میں گھر بنا اور درختوں میں اور چھتوں میں،

٦٩ . پھر ہر قسم کے پھل میں سے کھا اور (ف۱۴۲) اپنے رب کی راہیں چل کر تیرے لیے نرم و آسان ہیں، (ف۱۴۳) اس کے پیٹ سے ایک پینے کی چیز رنگ برنگ نکلتی ہے، جس میں لوگوں کی تندرستی ہے، بیشک اس میں نشانی ہے (ف۱۴۷) دھیان کرنے والوں کو، (ف۱۴۸)

٧٠ . اور اللہ نے تمہیں پیدا کیا (ف۱۴۹) پھر تمہاری جان قبض کرے گا (ف۱۵۰) اور تم میں کوئی سب سے ناقض عمر کی طرف پھیرا جاتا ہے (ف۱۵۱) کہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے (ف۱۵۲) بیشک اللہ کچھ جانتا ہے سب کچھ کرسکتا ہے،

٧١ . اور اللہ نے تم میں ایک دوسرے پر رزق میں بڑائی دی (ف۱۵۳) تو جنہیں بڑائی دی ہے وہ اپنا رزق اپنے باندی غلاموں کو نہ پھیر دیں گے کہ وہ سب اس میں برابر ہوجائیں (ف۱۵۴) تو کیا اللہ کی نعمت سے مکرتے ہیں، (ف۱۵۵)

٧٢ . اور اللہ نے تمہارے لیے تمہاری جنس سے عورتیں بنائیں اور تمہارے لیے تمہاری عورتوں سے بیٹے اور پوتے نواسے پیدا کیے اور تمہیں ستھری چیزوں سے روز ی دی (ف۱۵۶) تو کیا جھوٹی بات (ف۱۵۷) پر یقین لاتے ہیں اور اللہ کے فضل (ف۱۵۸) سے منکر ہوتے ہیں،

٧٣ . اور اللہ کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں (ف۱۵۹) جو انہیں آسمان اور زمین سے کچھ بھی روزی دینے کا اختیار نہیں رکھتے نہ کچھ کرسکتے ہیں،

٧٤ . تو اللہ کے لیے مانند نہ ٹھہراؤ (ف۱۶۰) بیشک اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے،

٧٥ . اللہ نے ایک کہاوت بیان فرمائی (ف۱۶۱) ایک بندہ ہے دوسرے کی ملک آپ کچھ مقدور نہیں رکھتا اور ایک جسے ہم نے اپنی طرف سے اچھی روزی عطا فرمائی تو وہ اس میں سے خرچ کرتا ہے چھپے اور ظاہر (ف۱۶۲) کیا وہ برابر ہوجائیں گے (ف۱۶۳) سب خوبیاں اللہ کو ہیں بلکہ ان میں اکثر کو خبر نہیں (ف۱۶۴)

٧٦ . اور اللہ نے کہاوت بیان فرمائی دو مرد ایک گونگا جو کچھ کام نہیں کرسکتا (ف۱۶۵) اور وہ اپنے آقا پر بوجھ ہے جدھر بھیجے کچھ بھلائی نہ لائے (ف۱۶۶) کیا برابر ہوجائے گا ہ اور وہ جو انصاف کا حکم کرتا ہے اور وہ سیدھی راہ پر ہے، ف۱۶۷)

٧٧ . اور اللہ ہی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کی چھپی چیزیں (ف۱۶۸) اور قیامت کا معاملہ نہیں مگر جیسے ایک پلک کا مارنا بلکہ اس سے بھی قریب (ف۱۶۹) بیشک اللہ سب کچھ کرسکتا ہے،

٧٨ . اور اللہ نے تمہیں تمہاری ماؤوں کے پیٹ سے پیدا کیا کہ کچھ نہ جانتے تھے (ف۱۷۰) اور تمہیں کان اور آنکھ اور دل دیئے (ف۱۷۱) کہ تم احسان مانو، ف۱۷۲)

٧٩ . کیا انہوں نے پرندے نے پرندے نہ دیکھے حکم کے باندھے آسمان کی فضا میں، انہیں کوئی نہیں روکتا (ف۱۷۳) سوا اللہ کے بیشک اس میں نشانیاں ہیں ایمان والوں کو، ف۱۷۴)

٨٠ . اور اللہ نے تمہیں گھر دیئے بسنے کو (ف۱۷۵) اور تمہارے لیے چوپایوں کی کھالوں سے کچھ گھر بناےٴ جو تمھیں ہلکے پڑتے ہیں تمھارے سفر کے دن اور منزلوں پرٹھہر نے کے دن، اور ان کی اون اور ببری (رونگٹوں) اور بالوں سے کچھ گرہستی (خانگی ضروریات) کا سامان (ف۱۷۷) اور برتنے کی چیزیں ایک وقت تک،

٨١ . اور اللہ نے تمہیں اپنی بنائی ہوئی چیزوں (ف۱۷۸) سے سائے دیئے (ف۱۷۹) اور تمہارے لیے پہاڑوں میں چھپنے کی جگہ بنائی (ف۱۸۰) اور تمہارے لیے کچھ پہنادے بنائے کہ تمہیں گرمی سے بچائیں اور کچھ پہناوے (ف۱۸۱) کہ لڑائیں میں تمہاری حفاظت کریں (ف۱۸۲) یونہی اپنی نعمت تم پر پوری کرتا ہے (ف۱۸۳) کہ تم فرمان مانو (ف۱۸۴)

٨٢ . پھر اگر وہ منہ پھیریں (ف۱۸۵) تو اے محبوب! تم پر نہیں مگر صاف پہنچا دینا، (ف۱۸۶)

٨٣ . اللہ کی نعمت پہنچانتے ہیں (ف۱۸۷) پھر اس سے منکر ہوتے ہیں (ف۱۸۸) اور ان میں اکثر کافر ہیں، (ف۱۸۹)

٨٤ . اور جس دن (ف۱۹۰) ہم اٹھائیں گے ہر امت میں سے ایک گواہ (ف۱۹۱) پھر کافروں کو نہ اجازت ہو (ف۱۹۲) نہ وہ منائے جائیں، ف۱۹۳)

٨٥ . اور ظلم کرنے والے (ف۱۹۴) جب عذاب دیکھیں گے اسی وقت سے نہ وہ ان پر سے ہلکا ہو نہ انہیں مہلت ملے،

٨٦ . اور شرک کرنے والے جب اپنے شریکوں کو دیکھیں گے (ف۱۹۵) کہیں گے اے ہمارے رب! یہ ہیں ہمارے شریک کہ ہم تیرے سوا پوجتے تھے، تو وہ ان پر بات پھینکیں گے کہ تم بیشک جھوٹے ہو، (ف۱۹۶)

٨٧ . اور اس دن (ف۱۹۷) اللہ کی طرف عاجزی سے گریں گے (ف۱۹۸) اور ان سے گم ہوجائیں گی جو بناوٹیں کرتے تھے، ف۱۹۹)

٨٨ . جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا ہم نے عذاب پر عذاب بڑھایا (ف۲۰۰) بدلہ ان کے فساد کا،

٨٩ . اور جس دن ہم ہر گروہ میں ایک گواہ انہیں میں سے اٹھائیں گے کہ ان پر گواہی دے (ف۲۰۱) اور اے محبوب! تمہیں ان سب پر (ف۲۰۲) شاہد بناکر لائیں گے، اور ہم نے تم پر یہ قرآن اتارا کہ ہر چیز کا روشن بیان ہے (ف۲۰۳) اور ہدایت اور رحمت اور بشارت مسلمانوں کو،

٩٠ . بیشک اللہ حکم فرماتا ہے انصاف اور نیکی (ف۲۰۴) اور رشتہ داروں کے دینے کا (ف۲۰۵) اور منع فرماتا بے حیائی (ف۲۰۶) اور برُی بات (ف۲۰۷) اور سرکشی سے (ف۲۰۸) تمہیں نصیحت فرماتا ہے کہ تم دھیان کرو،

٩١ . اور اللہ کا عہد پورا کرو (ف۲۰۹) جب قول باندھو اور قسمیں مضبوط کرکے نہ توڑو اور تم اللہ کو (ف۲۱۰) اپنے اوپر ضامن کرچکے ہو، بیشک تمہارے کام جانتا ہے،

٩٢ . اور (ف۲۱۱) اس عورت کی طرح نہ ہو جس نے اپنا سُوت مضبوطی کے بعد ریزہ ریزہ کرکے توڑ دیا (ف۲۱۲) اپنی قسمیں آپس میں ایک بے اصل بہانہ بناتے ہو کہ کہیں ایک گروہ دوسرے گروہ سے زیادہ نہ ہو (ف۲۱۳) اللہ تو اس سے تمہیں آزماتا ہے (ف۲۱۴) اور ضرور تم پر صاف ظاہر کردے گا قیامت کے دن (ف۲۱۹) جس بات میں جھگڑتے تھے، (ف۲۱۶)

٩٣ . اور اللہ چاہتا تو تم کو ایک ہی امت کرتا (ف۲۱۷) لیکن اللہ گمراہ کرتا ہے (ف۲۱۸) جسے چاہے، اور راہ دیتا ہے (ف۲۱۹) جسے چاہے، اور ضرور تم سے (ف۲۲۰) تمہارے کام پوچھے جائیں گے، (ف۲۲۱)

٩٤ . اور اپنی قسمیں آپس میں بے اصل بہانہ نہ بنالو کہ کہیں کوئی پاؤں (ف۲۲۲) جمنے کے بعد لغزش نہ کرے اور تمہیں برائی چکھنی ہو (ف۲۲۳) بدلہ اس کا کہ اللہ کی راہ سے روکتے تھے اور تمہیں بڑا عذاب ہو (ف۲۲۴)

٩٥ . اور اللہ کے عہد پر تھوڑے دام مول نہ لو (ف۲۲۵) بیشک وہ (ف۲۲۶) جو اللہ کے پاس ہے تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو،

٩٦ . جو تمہارے پاس ہے (ف۲۲۷) ہوچکے گا اور جو اللہ کے پاس ہے (ف۲۲۸) ہمیشہ رہنے والا، اور ضرور ہم صبر کرنے والوں کو ان کا وہ صلہ دیں گے جو ان کے سب سے اچھے کام کے قابل ہو، (ف۲۲۹)

٩٧ . جو اچھا کام کرے مرد ہو یا عورت اور ہو مسلمان (ف۲۳۰) تو ضرور ہم اسے اچھی زندگی جِلائیں گے (ف۲۳۱) اور ضرور انہیں ان کا نیگ (اجر) دیں گے جو ان کے سب سے بہتر کام کے لائق ہوں،

٩٨ . تو جب تم قرآن پڑھو تو اللہ کی پناہ مانگو شیطان مردود سے، (ف۲۳۲)،

٩٩ . بیشک اس کا کوئی قابو ان پر نہیں جو ایمان لائے اور اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں (ف۲۳۳)

١٠٠ . اس کا قابو تو انہیں پر ہے جو اس سے دوستی کرتے ہیں اور اسے شریک ٹھہراتے ہیں،

١٠١ . اور جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت بدلیں (ف۲۳۴) اور اللہ خوب جانتا ہے جو اتارتا ہے (ف۲۳۵) کافر کہیں تم تو دل سے بنا لاتے ہو (ف۲۳۶) بلکہ ان میں اکثر کو علم نہیں، (ف۲۳۷)

١٠٢ . تم فرماؤ اسے پاکیزگی کی روح (ف۲۳۸) نے اتارا تمہارے رب کی طرف سے ٹھیک ٹھیک کہ اس سے ایمان والوں کو ثابت قدم کرے اور ہدایت اور بشارت مسلمانوں کو،

١٠٣ . اور بیشک ہم جانتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں، یہ تو کوئی آدمی سکھاتا ہے، جس کی طرف ڈھالتے ہیں اس کی زبان عجمی ہے اور یہ روشن عربی زبان (ف۲۳۹)

١٠٤ . بیشک وہ جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے اللہ انھیں راہ نهیں دیتا اور ان کے لے درد ناک عذاب ہے، (ف۲۴۸)

١٠٥ . جھوٹ بہتان دہی باندھتے ہین جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے اور دہی جھوٹے ہیں،

١٠٦ . جو ایمان لا کر اللہ کا منکر ہو سوا اس کے مجبور کیا جا ےٴ اور اس کا دل ایمان پر جما ہوا ہو، ہاں وہ جو دل کھول کر کافر ہو ان پر اللہ کا غضب ہے اور ان کو بڑاعذاب ہے،

١٠٧ . یہ اس لےٴ کہ انھوں نے دنیا کی زندگی آخرت سے پیاری جانی، اور اس لےٴ کہ اللہ (ایسے) کافروں کو راہ نہیں دیتا،

١٠٨ . یہ ہیں وه جن کے دل اور کان اور آنکھو ں پر اللہ نے مہر کر دی ہے اور وہی غفلت مین پڑے ہیں،

١٠٩ . آپ ہی ہوا کہ آخرت میں وہی خراب (ف۲۴۹)

١١٠ . پھر بیشک تمہارا رب ان کے لیے جنہوں نے اپنے گھر چھوڑے (ف۲۵۰) بعد اس کے کہ ستائے گئے (ف۲۵۱) پھر انہوں نے (ف۲۵۲) جہاد کیا اور صابر رہے بیشک تمہارا رب اس (ف۲۵۳) کے بعد ضرور بخشنے والا ہے مہربان،

١١١ . جس دن ہر جان اپنی ہی طرف جھگڑتی آئے گی (ف۲۵۴) اور ہر جان کو اس کا کیا پورا بھردیا جائے گا اور ان پر ظلم نہ ہوگا (ف۲۵۵)

١١٢ . اور اللہ نے کہاوت بیان فرمائی (ف۲۵۶) ایک بستی (ف۲۵۷) کہ امان و اطمینان سے تھی (ف۲۵۸) ہر طرف سے اس کی روزی کثرت سے آتی تو وہ اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرنے لگی (ف۲۵۹) تو اللہ نے اسے یہ سزا چکھائی کہ اسے بھوک اور ڈر کا پہناوا پہنایا (ف۲۶۰) بدلہ ان کے کیے کا،

١١٣ . اور بیشک ن کے پاس انہیں میں سے ایک رسول تشریف لایا (ف۲۶۱) تو انہوں نے اسے جھٹلایا تو انہیں عذاب نے پکڑا (ف۲۶۲) اور وہ بے انصاف تھے،

١١٤ . تو اللہ کی دی ہوئی روزی (ف۲۶۳) حلال پاکیزہ کھاؤ (ف۲۶۴) اور اللہ کی نعمت کا شکر کرو اگر تم اسے پوجتے ہو،

١١٥ . تم پر تو یہی حرام کیا ہے مُردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جس کے ذبح کرتے وقت غیر خدا کا نام پکارا گیا (ف۲۶۵) پھر جو لاچار ہو (ف۲۶۶) نہ خواہش کرتا اور نہ حد سے بڑھتا (ف۲۶۷) تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،

١١٦ . اور نہ کہو اسے جو تمہاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھو (ف۲۶۸) بیشک جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہ ہوگا،

١١٧ . تھوڑا برتنا ہے (ف۲۶۹) اور ان کے لیے دردناک عذاب (ف۲۷۰)

١١٨ . اور خاص یہودیوں پر ہم نے حرام فرمائیں وہ چیزیں جو پہلے تمہیں ہم نے سنائیں (ف۲۷۱) اور ہم نے ان پر ظلم نہ کیا ہاں وہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے، (ف۲۷۲)

١١٩ . پھر بیشک تمہارا رب ان کے لیے جو نادانی سے (ف۲۷۳) برائی کر بیٹھیں پھر اس کے بعد توبہ کریں اور سنور جائیں بیشک تمہارا رب اس کے بعد (ف۲۷۴) ضرور بخشنے والا مہربان ہے،

١٢٠ . بیشک ابراہیم ایک امام تھا (ف۳۷۵) اللہ کا فرمانبردار اور سب سے جدا (ف۲۷۶) اور مشرک نہ تھا، (ف۲۷۷)

١٢١ . اس کے احسانوں پر شکر کرنے والا، اللہ نے اسے چن لیا (ف۲۷۸) اور اسے سیدھی راہ دکھائی،

١٢٢ . اور ہم نے اسے دنیا میں بھلائی دی (ف۲۷۹) اور بیشک وہ آخرت میں شایان قرب ہے،

١٢٣ . پھر ہم نے تمہیں وحی بھیجی کہ دین ابراہیم کی پیروی کرو جو ہر باطل سے الگ تھا اور مشرک نہ تھا، (ف۲۸۰)

١٢٤ . ہفتہ تو انہیں پر رکھا گیا تھا جو اس میں مختلف ہوگئے (ف۲۸۱) اور بیشک تمہارا رب قیا مت کے دن ان میں فیصلہ کردے گا جس بات میں اختلاف کرتے تھے، (ف۲۸۲)

١٢٥ . اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ (ف۲۸۳) پکی تدبیر اور اچھی نصیحت سے (ف۲۸۴) اور ان سے اس طریقہ پر بحث کرو جو سب سے بہتر ہو (ف۲۸۵) بیشک تمہارا رب خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکا اور وہ خوب جانتا ہے راہ والوں کو،

١٢٦ . اور اگر تم سزا دو تو ایسی ہی سزا دو جیسی تمہیں تکلیف پہونچائی تھی (ف۲۸۶) اور اگر تم صبر کرو (ف۲۸۷) تو بیشک صبر والوں کو صبر سب سے اچھا،

١٢٧ . اور اے محبوب! تم صبر کرو اور تمہارا صبر اللہ ہی کی توفیق سے ہے اور ان کا غم نہ کھاؤ (ف۲۸۸) اور ان کے فریبوں سے دل تنگ نہ ہو، ف۲۸۹)

١٢٨ . بیشک اللہ ان کے ساتھ ہے جو ڈرتے ہیں اور جو نیکیاں کرتے ہیں،