;

١ . کھیٰعص

٢ . یہ مذکور ہے تیرے رب کی اس رحمت کا جو اس نے اپنے بندہ زکریا پر کی،

٣ . جب اس نے اپنے رب کو آہستہ پکارا (ف۲)

٤ . عرض کی اے میرے رب میری ہڈی کمزور ہوگئی (ف۳) اور سرے سے بڑھاپے کا بھبھوکا پھوٹا (شعلہ چمکا) (ف۴) اور اے میرے رب میں تجھے پکار کر کبھی نامراد نہ رہا (ف۵)

٥ . اور مجھے اپنے بعد اپنے قرابت والوں کا ڈر ہے (ف۶) اور میری عورت بانجھ ہے تو مجھے اپنے پاس سے کوئی ایسا دے ڈال جو میرا کام اٹھائے (ف۷)

٦ . وہ میرا جانشین ہو اور اولاد یعقوب کا وارث ہو، اور اے میرے رب! اسے پسندیدہ کر (ف۸)

٧ . اے زکریا ہم تجھے خوشی سناتے ہیں ایک لڑکے کی جن کا نام یحییٰ ہے اس کے پہلے ہم نے اس نام کا کوئی نہ کیا،

٨ . عرض کی اے میرے رب! میرے لڑکا کہاں سے ہوگا میری عورت تو بانجھ ہے اور میں بڑھاپے سے سوکھ جانے کی حالت کو پہنچ گیا (ف۹)

٩ . فرمایا ایسا ہی ہے (ف۱۰) تیرے رب نے فرمایا وہ مجھے آسان ہے اور میں نے تو اس سے پہلے تجھے اس وقت بنایا جب تک کچھ بھی نہ تھا (ف۱۱)

١٠ . عرض کی اے میرے رب! مجھے کوئی نشانی دے دے (ف۱۲) فرمایا تیری نشانی یہ ہے کہ تو تین رات دن لوگوں سے کلام نہ کرے بھلا چنگا ہوکر (ف۱۳)

١١ . تو اپنی قوم پر مسجد سے باہر آیا (ف۱۴) تو انہیں اشارہ سے کہا کہ صبح و شام تسبیح کرتے رہو،

١٢ . اے یحییٰ کتاب (ف۱۶) مضبوط تھام، اور ہم نے اسے بچپن ہی میں نبوت دی (ف۱۷)

١٣ . اور اپنی طرف سے مہربانی (ف۱۸) اور ستھرائی (ف۱۹) اور کمال ڈر والا تھا (ف۲۰)

١٤ . اور اپنے ماں باپ سے اچھا سلوک کرنے والا تھا زبردست و نافرمان نہ تھا (ف۲۱)

١٥ . اور سلامتی ہے اس پر جس دن پیدا ہوا اور جس دن مرے گا اورجس دن مردہ اٹھایا جائے گا (ف۲۲)

١٦ . اور کتاب میں مریم کو یاد کرو (ف۲۳) جب اپنے گھر والوں سے پورب کی طرف ایک جگہ الگ گئی (ف۲۴)

١٧ . تو ان سے ادھر (ف۲۵) ایک پردہ کرلیا، تو اس کی طرف ہم نے اپنا روحانی (روح الامین) بھیجا (ف۲۶) وہ اس کے سامنے ایک تندرست آدمی کے روپ میں ظاہر ہوا،

١٨ . بولی میں تجھ سے رحمان کی پناہ مانگتی ہوں اگر تجھے خدا کا ڈر ہے،

١٩ . بولا میں تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں، کہ میں تجھے ایک ستھرا بیٹا دوں،

٢٠ . بولی میرے لڑکا کہاں سے ہوگا مجھے تو کسی آدمی نے ہاتھ نہ لگایا نہ میں بدکار ہوں،

٢١ . کہا یونہی ہے (ف۲۷) تیرے رب نے فرمایا ہے کہ یہ (ف۲۸) مجھے آسان ہے، اور اس لیے کہ ہم اسے لوگوں کے واسطے نشانی (ف۲۹) کریں اور اپنی طرف سے ایک رحمت (ف۳۰) اور یہ کام ٹھہرچکا ہے (ف۳۱)

٢٢ . اب مریم نے اسے پیٹ میں لیا پھر اسے لیے ہوئے ایک دور جگہ چلی گئی (ف۳۲)

٢٣ . پھر اسے جننے کا درد ایک کھجور کی جڑ میں لے آیا (ف۳۳) بولی ہائے کسی طرح میں اس سے پہلے مرگئی ہوتی اور بھولی بسری ہوجاتی،

٢٤ . تو اسے (ف۳۴) اس کے تلے سے پکارا کہ غم نہ کھا (ف۳۵) بیشک تیرے رب نے نیچے ایک نہر بہادی ہے (ف۳۶)

٢٥ . اور کھجور کی جڑ پکڑ کر اپنی طرف ہلا تجھ پر تازی پکی کھجوریں گریں گی (ف۳۷)

٢٦ . تو کھا اور پی اور آنکھ ٹھنڈی رکھ (ف۳۸) پھر اگر تو کسی آدمی کو دیکھے (ف۳۹) تو کہہ دینا میں نے آج رحمان کا روزہ مانا ہے تو آج ہرگز کسی آدمی سے بات نہ کرو ں گی (ف۴۰)

٢٧ . تو اسے گود میں لے اپنی قوم کے پاس آئی (ف۴۱) بولے اے مریم! بیشک تو نے بہت بری بات کی،

٢٨ . اے ہارون کی بہن (ف۴۲) تیرا باپ (ف۴۳) برا آدمی نہ تھا اور نہ تیری ماں (ف۴۴) بدکار،

٢٩ . اس پر مریم نے بچے کی طرف اشارہ کیا (ف۴۵) وہ بولے ہم کیسے بات کریں اس سے جو پالنے میں بچہ ہے (ف۴۶)

٣٠ . بچہ نے فرمایا میں اللہ کا بندہ (ف۴۷) اس نے مجھے کتاب دی اور مجھے غیب کی خبریں بتانے والا (نبی) کیا (ف۴۸)

٣١ . اور اس نے مجھے مبارک کیا (ف۴۹) میں کہیں ہوں اور مجھے نماز و زکوٰة کی تاکید فرمائی جب تک جیوں،

٣٢ . اور اپنی ماں سے اچھا سلوک کرنے والا (ف۵۰) اور مجھے زبردست بدبخت نہ کیا،

٣٣ . اور وہی سلامتی مجھ پر (ف۵۱) جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں اور جس دن زندہ اٹھایا جاؤں (ف۵۲)

٣٤ . یہ ہے عیسیٰ مریم کا بیٹا سچی بات جس میں شک کرتے ہیں (ف۵۳)

٣٥ . اللہ کو لائق نہیں کہ کسی کو اپنا بچہ ٹھہرائے پاکی ہے اس کو (ف۵۴) جب کسی کام کا حکم فرماتا ہے تو یونہی کہ اس سے فرماتا ہے ہوجاؤ وہ فوراًٰ ہوجاتا ہے،

٣٦ . اور عیسیٰ نے کہا بیشک اللہ رب ہے میرا اور تمہارا (ف۵۵) تو اس کی بندگی کرو، یہ راہ سیدھی ہے،

٣٧ . پھر جماعتیں آپس میں مختلف ہوگئیں (ف۵۶) تو خرابی ہے، کافروں کے لیے ایک بڑے دن کی حاضری سے (ف۵۷)

٣٨ . کتنا سنیں گے اور کتنا دیکھیں گے جس دن ہمارے پاس حاضر ہونگے (ف۵۸) مگر آج ظالم کھلی گمراہی میں ہیں (ف۵۹)

٣٩ . اور انہیں ڈر سناؤ پچھتاوے کے دن کا (ف۶۰) جب کام ہوچکے گا (ف۶۱) اور وہ غفلت میں ہیں (ف۶۲) اور نہیں مانتے،

٤٠ . بیشک زمین اور جو کچھ اس پر ہے سب کے وارث ہم ہوں گے (ف۶۳) اور وہ ہماری ہی طرف پھریں گے (ف۶۴)

٤١ . اور کتاب میں (ف۶۵) ابراہیم کو یاد کرو بیشک وہ صدیق (ف۶۶) تھا (نبی) غیب کی خبریں بتاتا،

٤٢ . جب اپنے باپ سے بولا (ف۶۷) اے میرے باپ کیوں ایسے کو پوجتا ہے جو نہ سنے نہ دیکھے اور نہ کچھ تیرے کام آئے (ف۶۸)

٤٣ . اے میرے باپ بیشک میرے پاس (ف۶۹) وہ علم آیا جو تجھے نہ آیا تو تُو میرے پیچھے چلا آ (ف۷۰) میں تجھے سیدھی راہ دکھاؤں (ف۷۱)

٤٤ . اے میرے باپ شیطان کا بندہ نہ بن (ف۷۲) بیشک شیطان رحمان کا نافرمان ہے،

٤٥ . اے میرے باپ میں ڈرتا ہوں کہ تجھے رحمن کا کوئی عذاب پہنچے تو تُو شیطان کا رفیق ہوجائے (ف۷۳)

٤٦ . بولا کیا تو میرے خداؤں سے منہ پھیرتا ہے، اے ابراہیم بیشک اگر تو (ف۷۴) باز نہ آیا تو میں تجھے پتھراؤ کروں گا اور مجھ سے زمانہ دراز تک بے علاقہ ہوجا (ف۷۵)

٤٧ . کہا بس تجھے سلام ہے (ف۷۶) قریب ہے کہ میں تیرے لیے اپنے رب سے معافی مانگوں گا (ف۷۷) بیشک وہ مجھ مہربان ہے،

٤٨ . اور میں ایک کنارے ہوجاؤں گا (ف۷۸) تم سے اور ان سب سے جن کو اللہ کے سوا پوجتے ہو اور اپنے رب کو پوجوں گا (ف۷۹) قریب ہے کہ میں اپنے رب کی بندگی سے بدبخت نہ ہوں (ف۸۰)

٤٩ . پھر جب ان سے اور اللہ کے سوا ان کے معبودوں سے کنارہ کر گیا (ف۸۱) ہم نے اسے اسحاق (ف۸۲) اور یعقوب (ف۸۳) عطا کیے، اور ہر ایک کو غیب کی خبریں بتانے والا کیا،

٥٠ . اور ہم نے انہیں اپنی رحمت عطا کی (ف۸۴) اور ان کے لیے سچی بلند ناموری رکھی (ف۸۵)

٥١ . اور کتاب میں موسیٰ کو یاد کرو، بیشک وہ چنا ہوا تھا اور رسول تھا غیب کی خبریں بتانے والا،

٥٢ . اور اسے ہم نے طور کی داہنی جانب سے ندا فرمائی (ف۸۶) اور اسے اپنا راز کہنے کو قریب کیا (ف۸۷)

٥٣ . اور اپنی رحمت سے اس کا بھائی ہارون عطا کیا (غیب کی خبریں بتانے والا نبی) (ف۸۸)

٥٤ . اور کتاب میں اسماعیل کو یاد کرو (ف۸۹) بیشک وہ وعدے کا سچا تھا (ف۹۰) اور رسول تھا غیب کی خبریں بتاتا،

٥٥ . اور اپنے گھر والوں کو (ف۹۱) نماز اور زکوٰة کا حکم دیتا اور اپنے رب کو پسند تھا (ف۹۲)

٥٦ . اور کتاب میں ادریس کو یاد کرو (ف۹۳) بیشک وہ صدیق تھا غیب کی خبریں دیتا،

٥٧ . اور ہم نے اسے بلند مکان پر اٹھالیا (ف۹۴)

٥٨ . یہ ہیں جن پر ا لله نے احسان کیا غیب کی خبریں بتانے میں سے آدم کی اولاد سے (ف۹۵) اور ان میں جن کو ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا تھا (ف۹۶) اور ابراہیم (ف۹۷) اور یعقوب کی اولاد سے (ف۹۸) اور ان میں سے جنہیں ہم نے راہ دکھائی اور چن لیا (ف۹۹) جب ان پر رحمن کی آیتیں پڑھی جاتیں گر پڑتے سجدہ کرتے اور روتے (ف۱۰۰) (السجدة) ۵

٥٩ . تو ان کے بعد ان کی جگہ وہ ناخلف آئے (ف۱۰۱) جنہوں نے نمازیں گنوائیں اور اپنی خواہشوں کے پیچھے ہوئے (ف۱۰۲) تو عنقریب وہ دوزخ میں غی کا جنگل پائیں گے (ف۱۰۳)

٦٠ . مگر جو تائب ہوئے اور ایمان لائے اور اچھے کام کیے تو یہ لوگ جنت میں جائیں گے اور انہیں کچھ نقصان نہ دیا جائے گا (ف۱۰۴)

٦١ . بسنے کے باغ جن کا وعدہ رحمن نے اپنے (ف۱۰۵) بندوں سے غیب میں کیا (ف۱۰۶) بیشک اس کا وعدہ آنے والا ہے،

٦٢ . وہ اس میں کوئی بیکار بات نہ سنیں گے مگر سلام (ف۱۰۷) اور انہیں اس میں ان کا رزق ہے صبح و شام (ف۱۰۸)

٦٣ . یہ وہ باغ ہے جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اسے کریں گے جو پرہیزگار ہے،

٦٤ . (اور جبریل نے محبوب سے عرض کی (ٖف ۱۰۹) ہم فرشتے نہیں اترتے مگر حضور کے رب کے حکم سے اسی کا ہے جو ہمارے آگے ہے اور جو ہمارے پیچھے اور جو اس کے درمیان ہے (ف۱۱۰) اور حضور کا رب بھولنے والا نہیں (ف۱۱۱)

٦٥ . آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے سب کا مالک تو اے پوجو اور اس کی بندگی پر ثابت رہو، کیا اس کے نام کا دوسرا جانتے ہو (ف۱۱۲)

٦٦ . اور آدمی کہتا ہے کیا جب میں مرجاؤں گا تو ضرور عنقریب جِلا کر نکالا جاؤں گا (ف۱۱۳)

٦٧ . اور کیا آدمی کو یاد نہیں کہ ہم نے اس سے پہلے اسے بنایا اور وہ کچھ نہ تھا (ف۱۱۴)

٦٨ . تو تمہارے رب کی قسم ہم انہیں (ف۱۱۵) اور شیطانوں سب کو گھیر لائیں گے (ف۱۱۶) اور انہیں دوزخ کے آس پاس حاضر کریں گے گھٹنوں کے بل گرے،

٦٩ . پھر ہم (ف۱۱۷) ہر گروہ سے نکالیں گے جو ان میں رحمن پر سب سے زیادہ بے باک ہوگا (ف۱۱۸)

٧٠ . پھر ہم خوب جانتے ہیں جو اس آگ میں بھوننے کے زیادہ لائق ہیں،

٧١ . اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو (ف۱۱۹) تمہارے رب کے ذمہ پر یہ ضرور ٹھہری ہوئی بات ہے (ف۱۲۰)

٧٢ . پھر ہم ڈر والوں کو بچالیں گے (ف۱۲۱) اور ظالموں کو اس میں چھوڑ دیں گے گھٹنوں کے بل گرے،

٧٣ . اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں پڑھی جاتی ہیں (ف۱۲۲) کافر مسلمانوں سے کہتے ہیں کون سے گروہ کا مکان اچھا اورمجلس بہتر ہے (ف۱۲۳)

٧٤ . اور ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں کھپادیں (قومیں ہلاک کردیں) (ف۱۲۴) کہ وہ ان سے بھی سامان اور نمود میں بہتر تھے،

٧٥ . تم فرماؤ جو گمراہی میں ہو تو اسے رحمن خوب ڈھیل دے (ف۱۲۵) یہاں تک کہ جب وہ دیکھیں وہ چیز جس کا انہیں وعدہ دیا جاتا ہے یا تو عذاب (ف۱۲۶) یا قیامت (ف۱۲۷) تو اب جان لیں گے کہ کس کا برا درجہ ہے اور کس کی فوج کمزور (ف۱۲۸)

٧٦ . او رجنہوں نے ہدایت پائی (ف۱۲۹) اللہ انھیں اور ہدایت بڑھائے گا (ف۱۳۰) اور باقی رہنے والی نیک باتوں کا (ف۱۳۱) تیرے رب کے یہاں سب سے بہتر ثواب اور سب سے بھلا انجام (ف۱۳۲)

٧٧ . تو کیا تم نے اسے دیکھا جو ہماری آیتوں سے منکر ہوا اور کہتا ہے مجھے ضرو ر مال و اولاد ملیں گے (ف۱۳۳)

٧٨ . کیا غیب کو جھانک آیا ہے (ف۱۳۴) یا رحمن کے پاس کوئی قرار رکھا ہے،

٧٩ . ہرگز نہیں (ف۱۳۵) اب ہم لکھ رکھیں گے جو وہ کہتا ہے اور اسے خوب لمبا عذاب دیں گے،

٨٠ . اور جو چیزیں کہہ رہا ہے (ف۱۳۶) ان کے ہمیں وارث ہوں گے اور ہمارے پاس اکیلا آئے گا (ف۱۳۷)

٨١ . اور اللہ کے سوا اور خدا بنالیے (ف۱۳۸) کہ وہ انہیں زور دیں (ف۱۳۹)

٨٢ . ہرگز نہیں (ف۱۴۰) کوئی دم جاتا ہے کہ وہ (ف۱۴۱) ان کی بندگی سے منکر ہوں گے اور ان کے مخالفت ہوجائیں گے (ف۱۴۲)

٨٣ . کیا تم نے نہ دیکھا کہ ہم نے کافروں پر شیطان بھیجے (ف۱۴۳) کہ وہ انہیں خوب اچھالتے ہیں (ف۱۴۴)

٨٤ . تو تم ان پر جلدی نہ کرو، ہم تو ان کی گنتی پوری کرتے ہیں (ف۱۴۵)

٨٥ . جس دن ہم پرہیزگاروں کو رحمن کی طرف لے جائیں گے مہمان بناکر (ف۱۴۶)

٨٦ . اور مجرموں کو جہنم کی طرف ہانکیں گے پیاسے (ف۱۴۷)

٨٧ . لوگ شفاعت کے مالک نہیں مگر وہی جنہوں نے رحمن کے پاس قرار رکھا ہے (ف۱۴۸)

٨٨ . اور کافر بولے (ف۱۴۹) رحمن نے اولاد اختیار کی،

٨٩ . بیشک تم حد کی بھاری بات لائے (ف۱۵۰)

٩٠ . قریب ہے کہ آسمان اس سے پھٹ پڑیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ گر جائیں ڈھ کر (مسمار ہوکر) (ف۱۵۱)

٩١ . اس پر کہ انہوں نے رحمن کے لیے اولاد بتائی،

٩٢ . اور رحمن کے لائق نہیں کہ اولاد اختیار کرے (ف۱۵۲)

٩٣ . آسمانوں اور زمین میں جتنے ہیں سب اس کے حضور بندے ہو کر حاضر ہوں گے، (ف۱۵۳)

٩٤ . بیشک وہ ان کا شمار جانتا ہے اور ان کو ایک ایک کرکے گن رکھا ہے (ف۱۵۴)

٩٥ . اور ان میں ہر ایک روز قیامت اس کے حضور اکیلا حاضر ہوگا (ف۱۵۵)

٩٦ . بیشک وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے عنقریب ان کے لیے رحمن محبت کردے گا (ف۱۵۶)

٩٧ . تو ہم نے یہ قرآن تمہاری زبان میں یونہی آسان فرمایا کہ تم اس سے ڈر والوں کو خوشخبری دو اور جھگڑالو لوگوں کو اس سے ڈر سناؤ،

٩٨ . اور ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں کھپائیں (قومیں ہلاک کیں) (ف۱۵۷) کیا تم ان میں کسی کو دیکھتے ہو یا ان کی بھنک (ذرا بھی آواز) سنتے ہو (ف۱۵۸)