;

١ . طٰهٰ

٢ . اے محبوب! ہم نے تم پر یہ قرآن اس لیے نہ اتارا کہ مشقت میں پڑو (ف۲)

٣ . ہاں اس کو نصیحت جو ڈر رکھتا ہو (ف۳)

٤ . اس کا اتارا ہوا جس نے زمین اور اونچے آسمان بنائے،

٥ . وہ بڑی مہر والا، اس نے عرش پر استواء فرمایا جیسا اس کی شان کے لائق ہے،

٦ . اس کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں اور جو کچھ ان کے بیچ میں اور جو کچھ اس گیلی مٹی کے نیچے ہے (ف۴)

٧ . اور اگر تو بات پکار کر کہے تو وہ تو بھید کو جانتا ہے اور اسے جو اس سے بھی زیادہ چھپا ہے (ف۵)

٨ . اللہ کہ اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں، اسی کے ہیں سب اچھے نام (ف۶)

٩ . اور کچھ تمہیں موسیٰ کی خبر آئی (ف۷)

١٠ . جب اس نے ایک آگ دیکھی تو اپنی بی بی سے کہا ٹھہرو مجھے ایک آگ نظر پڑی ہے شاید میں تمہارے لیے اس میں سے کوئی چنگاری لاؤں یا آ گ پر راستہ پاؤں،

١١ . پھر جب آگ کے پاس آیا (ف۸) ندا فرمائی گئی کہ اے موسیٰ،

١٢ . بیشک میں تیرا رب ہوں تو تو اپنے جوتے اتار ڈال (ف۹) بیشک تو پاک جنگل طویٰ میں ہے (ف۱۰)

١٣ . اور میں نے تجھے پسند کیا (ف۱۱) اب کان لگا کر سن جو تجھے وحی ہوتی ہے،

١٤ . بیشک میں ہی ہوں اللہ کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری بندگی کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم رکھ (ف۱۲)

١٥ . بیشک قیامت آنے والی ہے قریب تھا کہ میں اسے سب سے چھپاؤں (ف۱۳) کہ ہر جان اپنی کوشش کا بدلہ پائے (ف۱۴)

١٦ . تو ہرگز تجھے (ف۱۵) اس کے ماننے سے وہ باز نہ رکھے جو اس پر ایمان نہیں لاتا اور اپنی خواہش کےم پیچھے چلا (ف۱۶) پھر تو ہلاک ہوجائے،

١٧ . اور یہ تیرے داہنے ہاتھ میں کیا ہے اے موسیٰ (ف۱۷)

١٨ . عرض کی یہ میرا عصا ہے (ف۱۸) میں اس پر تکیہ لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں پر پتے جھاڑتا ہوں اور میرے اس میں اور کام ہیں (ف۱۹)

١٩ . فرمایا اسے ڈال دے اے موسیٰ،

٢٠ . تو موسیٰ نے ڈال دیا تو جبھی وہ دوڑتا ہوا سانپ ہوگیا (ف۲۰)

٢١ . فرمایا اسے اٹھالے اور ڈر نہیں، اب ہم اسے پھر پہلی طرح کردیں گے (ف۲۱)

٢٢ . اور اپنا ہاتھ اپنے بازو سے ملا (ف۲۲) خوب سپید نکلے گا بے کسی مرض کے (ف۲۳) ایک اور نشانی (ف۲۴)

٢٣ . کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں،

٢٤ . فرعون کے پاس جا (ف۲۵) اس نے سر اٹھایا (ف۲۶)

٢٥ . عرض کی اے میرے رب میرے لیے میرا سینہ کھول دے (ف۲۷)

٢٦ . اور میرے لیے میرا کام آسان کر،

٢٧ . اور میری زبان کی گرہ کھول دے، (ف۲۸)

٢٨ . کہ وہ میری بات سمجھیں،

٢٩ . اور میرے لیے میرے گھر والوں میں سے ایک وزیر کردے، (ف۲۹)

٣٠ . وہ کون میرا بھائی ہارون،

٣١ . اس سے میری کمر مضبوط کر،

٣٢ . اور اسے میرے کام میں شریک کر (ف۳۰)

٣٣ . کہ ہم بکثرت تیری پاکی بولیں،

٣٤ . اور بکثرت تیری یاد کریں (ف۳۱)

٣٥ . بیشک تو ہمیں دیکھ رہا ہے (ف۳۲)

٣٦ . فرمایا اے موسیٰ تیری مانگ تجھے عطا ہوئی،

٣٧ . اور بیشک ہم نے (ف۳۳) تجھ پر ایک بار اور احسان فرمایا

٣٨ . جب ہم نے تیری ماں کو الہام کیا جو الہام کرنا تھا (ف۳۴)

٣٩ . کہ اس بچے کو صندوق میں رکھ کر دریا میں (ف۳۵) ڈال دے، و دریا اسے کنارے پر ڈالے کہ اسے وہ اٹھالے جو میرا دشمن اور اس کا دشمن (ف۳۶) اور میں نے تجھ پر اپنی طرف کی محبت ڈالی (ف۳۷) اور اس لیے کہ تو میری نگاہ کے سامنے تیار ہو (ف۳۸)

٤٠ . تیری بہن چلی (ف۳۹) پھر کہا کیا میں تمہیں وہ لوگ بتادوں جو اس بچہ کی پرورش کریں (ف۴۰) تو ہم تجھے تیری ماں کے پاس پھیر لائے کہ اس کی آنکھ (ف۴۱) ٹھنڈی ہو اور غم نہ کرے (ف۴۲) اور تو نے ایک جان کو قتل کیا (ف۴۳) تو ہم نے تجھے غم سے نجات دی اور تجھے خوب جانچ لیا (ف۴۴) تُو تو کئی برس مدین والوں میں رہا (ف۴۵) پھر تو ایک ٹھہرائے وعدہ پر حاضر ہوا اے موسیٰ! (ف۴۶)

٤١ . اور میں نے تجھے خاص اپنے لیے بنایا (ف۴۷)

٤٢ . تو اور تیرا بھائی دونوں میری نشانیاں (ف۴۸) لے کر جاؤ اور میری یاد میں سستی نہ کرنا،

٤٣ . دونوں فرعون کے پاس جاؤ بیشک اس نے سر اٹھایا،

٤٤ . تو اس سے نرم بات کہنا (ف۴۹) اس امید پر کہ وہ دھیان کرے یا کچھ ڈرے (ف۵۰)

٤٥ . دونوں نے عرض کیا، اے ہمارے رب! بیشک ہم ڈرتے ہیں کہ وہ ہم پر زیادتی کرے یا شرارت سے پیش آئے،

٤٦ . فرمایا ڈرو نہیں میں تمہارے ساتھ ہوں (ف۵۱) سنتا اور دیکھتا (ف۵۲)

٤٧ . تو اس کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں تو اولاد یعقوب کو ہمارے ساتھ چھوڑ دے (ف۵۳) اور انہیں تکلیف نہ دے (ف۵۴) بیشک ہم تیرے رب کی طرف سے نشانی لائے ہیں (ف۵۵) اور سلامتی اسے جو ہدایت کی پیروی کرے (ف۵۶)

٤٨ . بیشک ہماری طرف وحی ہوتی ہے کہ عذاب اس پر ہے جو جھٹلائے (ف۵۷) اور منہ پھیرے (ف۵۸)

٤٩ . بولا تو تم دونوں کا خدا کون ہے اے موسیٰ،

٥٠ . کہا ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کے لائق صورت دی (ف۵۹) پھر راہ دکھائی (ف۶۰)

٥١ . بولا (ف۶۱) اگلی سنگتوں (قوموں) کا کیا حال ہے (ف۶۲)

٥٢ . کہا ان کا علم میرے رب کے پاس ایک کتاب میں ہے (ف۶۳) میرا رب نہ بہکے نہ بھولے،

٥٣ . وہ جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا کیا اور تمہارے لیے اس میں چلتی راہیں رکھیں اور آسمان سے پانی اتارا (ف۶۴) تو ہم نے اس سے طرح طرح کے سبزے کے جوڑے نکالے (ف۶۵)

٥٤ . تم کھاؤ اور اپنے مویشیوں کو چَراؤ (ف۶۶) بیشک اس میں نشانیاں ہیں عقل والوں کو،

٥٥ . ہم نے زمین ہی سے تمہیں بنایا (ف۲۷) اور اسی میں تمہیں پھر لے جائیں گے (ف۶۸) اور اسی سے تمہیں دوبارہ نکالیں گے (ف۶۹)

٥٦ . اور بیشک ہم نے اسے (ف۷۰) اپنی سب نشانیاں (ف۷۱) دکھائیں تو اس نے جھٹلایا اور نہ مانا (ف۷۲)

٥٧ . بولا کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہمیں اپنے جادو کے سبب ہماری زمین سے نکال دو اے موسیٰ (ف۷۳)

٥٨ . تو ضرور ہم بھی تمہارے آگے ویسا ہی جادو لائیں گے (ف۷۴) تو ہم میں اور اپنے میں ایک وعدہ ٹھہرادو جس سے نہ ہم بدلہ لیں نہ تم ہموار جگہ ہو،

٥٩ . موسیٰ نے کہا تمہارا وعدہ میلے کا دن ہے (ف۷۵) اور یہ کہ لوگ دن چڑھے جمع کیے جائیں (ف۷۶)

٦٠ . تو فرعون پھرا اور اپنے داؤں (فریب) اکٹھے کیے (ف۷۷) پھر آیا (ف۷۸)

٦١ . ان سے موسیٰ نے کہا تمہیں خرابی ہو اللہ پر جھوٹ نہ باندھو (ف۷۹) کہ وہ تمہیں عذاب سے ہلاک کردے اور بیشک نامراد رہا جس نے جھوٹ باندھا (ف۸۰)

٦٢ . تو اپنے معاملہ میں باہم مختلف ہوگئے (ف۸۱) اور چھپ کر مشاورت کی،

٦٣ . بولے بیشک یہ دونوں (ف۸۲) ضرور جادوگر ہیں چاہتے ہیں کہ تمہیں تمہاری زمین زمین سے اپنے جادو کے زور سے نکال دیں اور تمہارا اچھا دین لے جائیں،

٦٤ . تو اپنا داؤ (فریب) پکا کرلو پھر پرا باندھ (صف باندھ) کر آ ؤ آج مراد کو پہنچا جو غالب رہا،

٦٥ . بولے (ف۸۳) اے موسیٰ یا تو تم ڈالو (ف۸۴) یا ہم پہلے ڈالیں (ف۸۵)

٦٦ . موسیٰ نے کہا بلکہ تمہیں ڈالو (ف۸۶) جبھی ان کی رسیاں اور لاٹھیاں ان کے جادو کے زور سے ان کے خیال میں دوڑتی معلوم ہوئیں (ف۸۷)

٦٧ . تو اپنے جی میں موسیٰ نے خوف پایا،

٦٨ . ہم نے فرمایا ڈر نہیں بیشک تو ہی غالب ہے،

٦٩ . اور ڈال تو دے جو تیرے داہنے ہاتھ میں ہے (ف۸۸) اور ان کی بناوٹوں کو نگل جائے گا، وہ جو بناکر لائے ہیں وہ تو جادوگر کا فریب ہے، اور جادوگر کا بھلا نہیں ہوتا کہیں آوے (ف۸۹)

٧٠ . تو سب جادوگر سجدے میں گرالیے گئے بولے ہم اس پر ایمان لائے جو ہارون اور موسیٰ کا رب ہے (ف۹۰)

٧١ . فرعون بولا کیا تم اس پر ایمان لائے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں، بیشک وہ تمہارا بڑا ہے جس نے تم سب کو جادو سکھایا (ف۹۱) تو مجھے قسم ہے ضرور میں تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹوں گا (ف۹۲) اور تمہیں کھجور کے ڈھنڈ (تنے) پر سُولی چڑھاؤں گا، اور ضرور تم جان جاؤ گے کہ ہم میں کس کا عذاب سخت اور دیرپا ہے (ف۹۳)

٧٢ . بولے ہم ہرگز تجھے ترجیح نہ دیں گے ان روشن دلیلوں پر جو ہمارے پاس آئیں (ف۹۴) ہمیں اپنے پیدا کرنے والے والے کی قسم تو تُو کر چُک جو تجھے کرنا ہے (ف۹۵) تو اس دنیا ہی کی زندگی میں تو کرے گا (ف۹۶)

٧٣ . بیشک ہم اپنے رب پر ایمان لائے کہ وہ ہماری خطائیں بخش دے اور وہ جو تو نے ہمیں مجبور کیا جادو پر (ف۹۷) اور ا لله بہتر ہے (ف۹۸) اور سب سے زیادہ باقی رہنے والا (ف۹۹)

٧٤ . بیشک جو اپنے رب کے حضور مجرم (ف۱۰۰) ہوکر آئے تو ضرور اس کے لیے جہنم ہے جس میں نہ مرے (ف۱۰۱) نہ جئے (ف۱۰۲)

٧٥ . اور جو اس کے حضور ایمان کے ساتھ آئے کہ اچھے کام کیے ہوں (ف۱۰۳) تو انہیں کے درجے اونچے،

٧٦ . بسنے کے باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ان میں رہیں، اور یہ صلہ ہے اس کا جو پاک ہوا (ف۱۰۴)

٧٧ . اور بیشک ہم نے موسیٰ کو وحی کی (ف۱۰۵) کہ راتوں رات میرے بندوں کو لے چل (ف۱۰۶) اور ان کے لیے دریا میں سوکھا راستہ نکال دے (ف۱۰۷) تجھے ڈر نہ ہوگا کہ فرعون آلے اور نہ خطرہ (ف۱۰۸)

٧٨ . تو ان کے پیچھے فرعون پڑا اپنے لشکر لے کر (ف۱۰۹) تو انہیں دریا نے ڈھانپ لیا جیسا ڈھانپ لیا، (ف۱۱۰)

٧٩ . اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا اور راہ نہ دکھائی (ف۱۱۱)

٨٠ . اے بنی اسرائیل بیشک ہم نے تم کو تمہارے دشمن (ف۱۱۲) سے نجات دی اور تمہیں طور کی داہنی طرف کا وعدہ دیا (ف۱۱۳) اور تم پر من اور سلوی ٰ اتارا (ف۱۱۴)

٨١ . کھاؤ جو پاک چیزیں ہم نے تمہیں روزی دیں اور اس میں زیادتی نہ کرو (ف۱۱۵) کہ تم پر میرا غضب اترے اور جس پر میرا غضب اترا بیشک وہ گرا (ف۱۱۶)

٨٢ . اور بیشک میں بہت بخشنے والا ہوں اسے جس نے توبہ کی (ف۱۱۷) اور ایمان لایا اور اچھا کام کیا پھر ہدایت پر رہا (ف۱۱۸)

٨٣ . اور تو نے اپنی قوم سے کیوں جلدی کی اے موسیٰ (ف۱۱۹)

٨٤ . عرض کی کہ وہ یہ ہیں میرے پیچھے اور اے میرے رب تیری طرف میں جلدی کرکے حاضر ہوا کہ تو راضی ہو، (ف۱۲۰)

٨٥ . فرمایا، تو ہم نے تیرے آنے کے بعد تیری قوم (ف۱۲۱) بلا میں ڈالا اور انہیں سامری نے گمراہ کردیا، (ف۱۲۲)

٨٦ . تو موسیٰ اپنی قوم کی طرف پلٹا (ف۱۲۳) غصہ میں بھرا افسوس کرتا (ف۱۲۴) کہا اے میری قوم کیا تم سے تمہارے رب نے اچھا وعدہ نہ تھا (ف۱۲۵) کیا تم پر مدت لمبی گزری یا تم نے چاہا کہ تم پر تمہارے رب کا غضب اترے تو تم نے میرا وعدہ خلاف کیا (ف۱۲۶)

٨٧ . بولے ہم نے آپ کا وعدہ اپنے اختیار سے خلاف نہ کیا لیکن ہم سے کچھ بوجھ اٹھوائے گئے اس قوم کے گہنے کے (ف۱۲۷) تو ہم نے انہیں (ف۱۲۸) ڈال دیا پھر اسی طرح سامری نے ڈالا (ف۱۲۹)

٨٨ . تو اس نے ان کے لیے ایک بچھڑا نکالا بے جان کا دھڑ گائے کی طرح بولتا (ف۱۳۰) یہ ہے تمہارا معبود اور موسیٰ کا معبود تو بھول گئے (ف۱۳۲)

٨٩ . تو کیا نہیں دیکھتے کہ وہ (ف۱۳۳) انہیں کسی بات کا جواب نہیں دیتا اور ان کے سوا کسی برے بھلے کا اختیار نہیں رکھتا (ف۱۳۴)

٩٠ . اور بیشک ان سے ہارون نے اس سے پہلے کہا تھا کہ اے میری قوم یونہی ہے کہ تم اس کے سبب فتنے میں پڑے (ف۱۳۵) اور بیشک تمہارا رب رحمن ہے تو میری پیروی کرو اور میرا حکم مانو،

٩١ . بولے ہم تو اس پر آسن مارے جمے (پوجا کے لیے بیٹھے) رہیں گے (ف۱۳۶) جب تک ہمارے پاس موسیٰ لوٹ کے آئیں (ف۱۳۷)

٩٢ . موسیٰ نے کہا، اے ہارون! تمہیں کس بات نے روکا تھا جب تم نے انہیں گمراہ ہوتے دیکھا تھا کہ میرے پیچھے آتے (ف۱۳۸)

٩٣ . تو کیا تم نے میرا حکم نہ مانا،

٩٤ . کہا اے میرے ماں جائے! نہ میری ڈاڑھی پکڑو اور نہ میرے سر کے بال مجھے یہ ڈر ہوا کہ تم کہو گے تم نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور تم نے میری بات کا انتظار نہ کیا (ف۱۳۹)

٩٥ . موسیٰ نے کہا اب تیرا کیا حال ہے اے سامری! (ف۱۴۰)

٩٦ . بولا میں نے وہ دیکھا جو لوگوں نے نہ دیکھا (ف۱۴۱) تو ایک مٹھی بھر لی فرشتے کے نشان سے پھر اسے ڈال دیا (ف۱۴۲) اور میرے جی کو یہی بھلا لگا (ف۱۴۳)

٩٧ . کہا تو چلتا بن (ف۱۴۴) کہ دنیا کی زندگی میں تیری سزا یہ ہے کہ (ف۱۴۵) تو کہے چھو نہ جا (ف۱۴۶) اور بیشک تیرے لیے ایک وعدہ کا وقت ہے (ف۱۴۷) جو تجھ سے خلاف نہ ہوگا اور اپنے اس معبود کو دیکھ جس کے سامنے تو دن بھر آسن مارے (پوجا کے لیے بیٹھا) رہا (ف۱۴۸) قسم ہے ہم ضرور اسے جلائیں گے پھر ریزہ ریزہ کرکے دریا میں بہائیں گے (ف۱۴۹)

٩٨ . تمہارا معبود تو وہی اللہ ہے جس کے سوا کسی کی بندگی نہیں ہر چیز کو اس کا علم محیط ہے،

٩٩ . ہم ایسا ہی تمہارے سامنے اگلی خبریں بیان فرماتے ہیں اور ہم نے تم کو اپنے پاس سے ایک ذکر عطا فرمایا (ف۱۵۰)

١٠٠ . جو اس سے منہ پھیرے (ف۱۵۱) تو بیشک وہ قیامت کے دن ایک بوجھ اٹھائے گا (ف۱۵۲)

١٠١ . وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے (ف۱۵۳) اور وہ قیامت کے دن ان کے حق میں کیا ہی بڑا بوجھ ہوگا،

١٠٢ . جس دن صُور پھونکا جائے گا (ف۱۵۴) اور ہم اس دن مجرموں کو (ف۱۵۵) اٹھائیں گے نیلی آنکھیں (ف۱۵۶)

١٠٣ . آپس میں چپکے چپکے کہتے ہوں گے کہ تم دنیا میں نہ رہے مگر دس رات (ف۱۵۷)

١٠٤ . ہم خوب جانتے ہیں جو وہ (ف۱۵۸) کہیں گے جبکہ ان میں سب سے بہتر رائے والا کہے گا کہ تم صرف ایک ہی دن رہے تھے (ف۱۵۹)

١٠٥ . اور تم سے پہاڑوں کو پوچھتے ہیں (ف۱۶۰) تم فرماؤ انہیں میرا رب ریزہ ریزہ کرکے اڑا دے گا،

١٠٦ . تو زمین کو پٹ پر (چٹیل میدان) ہموار کر چھوڑے گا

١٠٧ . کہ تو اس میں نیچا اونچا کچھ نہ دیکھے،

١٠٨ . اس دن پکارنے والے کے پیچھے دوڑیں گے (ف۱۶۱) اس میں کجی نہ ہوگی (ف۱۶۲) اور سب آوازیں رحمن کے حضو ر (ف۱۶۳) پست ہوکر رہ جائیں گی تو تُو نہ سنے گا مگر بہت آہستہ آواز (ف۱۶۴)

١٠٩ . اس دن کسی کی شفاعت کام نہ دے گی، مگر اس کی جسے رحمن نے (ف۱۶۵) اذن دے دیا ہے اور اس کی بات پسند فرمائی،

١١٠ . وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے (ف۱۶۶) اور ان کا علم اسے نہیں گھیر سکتا (ف۱۶۷)

١١١ . اور سب منہ جھک جائیں گے اس زندہ قائم رکھنے والے کے حضور (ف۱۶۸) اور بیشک نامراد رہا جس نے ظلم کا بوجھ لیا (ف۱۶۹)

١١٢ . اور جو کچھ نیک کام کرے اور ہو مسلمان تو اسے نہ زیادتی کا خوف ہوگا اور نہ نقصان کا (ف۱۷۰)

١١٣ . اور یونہی ہم نے اسے عربی قرآن اتارا اور اس میں طرح طرح سے عذاب کے وعدے دیے (ف۱۷۱) کہ کہیں انہیں ڈر ہو یا ان کے دل میں کچھ سوچ پیدا کرے (ف۱۷۲)

١١٤ . تو سب سے بلند ہے ا لله سچا بادشاہ (ف۱۷۳) اور قرآن میں جلدی نہ کرو جب تک اس کی وحی تمہیں پوری نہ ہولے (ف۱۷۴) اور عرض کرو کہ اے میرے رب! مجھے علم زیادہ دے،

١١٥ . اور بیشک ہم نے آدم کو اس سے پہلے ایک تاکیدی حکم دیا تھا (ف۱۷۵) تو وہ بھول گیا اور ہم نے اس کا قصد نہ پایا،

١١٦ . اور جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب سجدہ میں گرے مگر ابلیس، اس نے نہ مانا،

١١٧ . تو ہم نے فرمایا، اے آدم! بیشک یہ تیرا اور تیری بی بی کا دشمن ہے (ف۱۷۶) تو ایسا نہ ہو کہ وہ تم دونوں کو جنت سے نکال دے پھر تو مشقت میں پڑے (ف۱۷۷)

١١٨ . بیشک تیرے لیے جنت میں یہ ہے کہ نہ تو بھوکا ہو اور نہ ننگا ہو،

١١٩ . اور یہ کہ تجھے نہ اس میں پیاس لگے نہ دھوپ (ف۱۷۸)

١٢٠ . تو شیطان نے اسے وسوسہ دیا بولا، اے آدم! کیا میں تمہیں بتادوں ہمیشہ جینے کا پیڑ (ف۱۷۹) اور وہ بادشاہی کہ پرانی نہ پڑے (ف۱۸۰)

١٢١ . تو ان دونوں نے اس میں سے کھالیا اب ان پر ان کی شرم کی چیزیں ظاہر ہوئیں (ف۱۸۱) اور جنت کے پتے اپنے اوپر چپکانے لگے (ف۱۸۲) اور آدم سے اپنے رب کے حکم میں لغزش واقع ہوئی تو جو مطلب چاہا تھا اس کی راہ نہ پائی (ف۱۸۶)

١٢٢ . پھر اس کے رب نے چن لیا تو اس پر اپنی رحمت سے رجوع فرمائی اور اپنے قرب خاص کی راہ دکھائی،

١٢٣ . فرمایا تم دونوں مل کر جنت سے اترو تم میں ایک دوسرے کا دشمن ہے، پھر اگر تم سب کو میری طرف سے ہدایت آئے، (ف۱۸۴) تو جو میری ہدایت کا پیرو ہو ا وہ نہ بہکے (ف۱۸۵) نہ بدبخت ہو (ف۱۸۶)

١٢٤ . اور جس نے میری یاد سے منہ پھیرا (ف۱۸۷) تو بیشک اس کے لیے تنگ زندگانی ہے (ف۱۸۸) اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا اٹھائیں گے،

١٢٥ . کہے گا اے رب میرے! مجھے تو نے کیوں اندھا اٹھایا میں تو انکھیارا (بینا) تھا (ف۱۸۹)

١٢٦ . فرمائے گا یونہی تیرے پاس ہماری آیتیں آئیں تھیں (ف۱۹۰) تو نے انہیں بھلادیا اور ایسے ہی آج تیری کوئی نہ لے گا (ف۱۹۱)

١٢٧ . اور ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں جو حد سے بڑھے اور اپنے رب کی آیتوں پر ایمان نہ لائے، اور بیشک آخرت کا عذاب سب سے سخت تر اور سب سے دیرپا ہے،

١٢٨ . تو کیا انہیں اس سے راہ نہ ملی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں (قومیں) ہلاک کردیں (ف۱۹۲) کہ یہ ان کے بسنے کی جگہ چلتے پھرتے ہیں (ف۱۹۳) بیشک اس میں نشانیاں ہیں عقل والوں کو (ف۱۹۴)

١٢٩ . اور اگر تمہارے رب کی ایک بات نہ گزر چکی ہوتی (ف۱۹۵) تو ضرور عذاب انھیں (ف۱۹۶) لپٹ جاتا اور اگر نہ ہوتا ایک وعدہ ٹھہرایا ہوا (ف۱۹۷)

١٣٠ . تو ان کی باتوں پر صبر کرو اور اپنے رب کو سراہتے ہوئے اس کی پاکی بولو سورج چمکنے سے پہلے (ف۱۹۸) اور اس کے ڈوبنے سے پہلے (ف۱۹۹) اور رات کی گھڑیوں میں اس کی پاکی بولو (ف۲۰۰) اور دن کے کناروں پر (ف۲۰۱) اس امید پر کہ تم راضی ہو (ف۲۰۲)

١٣١ . اور اے سننے والے اپنی آنکھیں نہ پھیلا اس کی طرف جو ہم نے کافروں کے جوڑوں کو برتنے کے لیے دی ہے جتنی دنیا کی تازگی (ف۲۰۳) کہ ہم انہیں اس کے سبب فتنہ میں ڈالیں (ف۲۰۴) اور تیرے رب کا رزق (ف۲۰۵) سب سے اچھا اور سب سے دیرپا ہے،

١٣٢ . اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دے اور خود اس پر ثابت رہ، کچھ ہم تجھ سے روزی نہیں مانگتے (ف۲۰۶) ہم تجھے روزی دیں گے (ف۲۰۷) اور انجام کا بھلا پرہیزگاری کے لیے،

١٣٣ . اور کافر بولے یہ (ف۲۰۸) اپنے رب کے پاس سے کوئی نشانی کیوں نہیں لاتے (ف۲۰۹) اور کیا انہیں اس کا بیان نہ آیا جو اگلے صحیفوں میں ہے (ف۲۱۰)

١٣٤ . اور اگر ہم انہیں کسی عذاب سے ہلاک کردیتے رسول کے آنے سے پہلے تو (ف۲۱۱) ضرور کہتے اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں پر چلتے قبل اس کے کہ ذلیل و رسوا ہوتے،

١٣٥ . تم فرماؤ سب راہ دیکھ رہے ہیں (ف۲۱۲) تو تم بھی راہ دیکھو تو اب جان جاؤ گے (ف۲۱۳) کہ کون ہیں سیدھی راہ والے اور کس نے ہدایت پائی،