;

١ . لوگوں کا حساب نزدیک اور وہ غفلت میں منہ پھیرے ہیں (ف۲)

٢ . جب ان کے رب کے پاس سے انہیں کوئی نئی نصیحت آتی ہے تو اسے نہیں سنتے مگر کھیلتے ہوئے، (ف۳)

٣ . ان کے دل کھیل میں پڑے ہیں (ف۴) اور ظالموں نے آپس میں خفیہ مشورت کی (ف۵) کہ یہ کون ہیں ایک تم ہی جیسے آدمی تو ہیں (ف۶) کیا جادو کے پاس جاتے ہو دیکھ بھال کر،

٤ . نبی نے فرمایا میرا رب جانتا ہے آسمانوں اور زمین میں ہر بات کو، اور وہی ہے سنتا جانتا (ف۷)

٥ . بلکہ بولے پریشان خوابیں ہیں (ف۸) بلکہ ان کی گڑھت (گھڑی ہوئی چیز) ہے (ف۹) بلکہ یہ شاعر ہیں (ف۱۰) تو ہمارے پاس کوئی نشانی لائیں جیسے اگلے بھیجے گئے تھے (ف۱۱)

٦ . ان سے پہلے کوئی بستی ایمان نہ لائی جسے ہم نے ہلاک کیا، تو کیا یہ ایمان لائیں گے (ف۱۲)

٧ . اور ہم نے تم سے پہلے نہ بھیجے مگر مرد جنہیں ہم وحی کرتے (ف۱۳) تو اے لوگو! علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہ ہو (ف۱۴)

٨ . اور ہم نے انہیں (ف۱۵) خالی بدن نہ بنایا کہ کھانا نہ کھائیں (ف۱۶) اور نہ وہ دنیا میں ہمیشہ رہیں،

٩ . پھر ہم نے اپنا وعدہ انہیں سچا کر دکھایا (ف۱۷) تو انہیں نجات دی اور جن کو چاہی (ف۱۸) اور حد سے بڑھنے والوں کو (ف۱۹) ہلاک کردیا

١٠ . بیشک ہم سے تمہاری طرف (ف۲۰) ایک کتاب اتاری جس میں تمہاری ناموری ہے (ف۲۱) تو کیا تمہیں عقل نہیں (ف۲۲)

١١ . اور کتنی ہی بستیاں ہم نے تباہ کردیں کہ وہ ستمگار تھیں (ف۲۳) اور ان کے بعد اور قوم پیدا کی،

١٢ . تو جب انہوں نے (ف۲۴) ہمارا عذاب پایا جبھی وہ اس سے بھاگنے لگے (ف۲۵)

١٣ . نہ بھاگو اور لوٹ کے جاؤ ان آسائشوں کی طرف جو تم کو دی گئیں تھیں اور اپنے مکانوں کی طرف شاید تم سے پوچھنا ہو (ف۲۶)

١٤ . بولے ہائے خرابی ہماری بیشک ہم ظالم تھے (ف۲۷)

١٥ . تو وہ یہی پکارتے رہے یہاں تک کہ ہم نے انہیں کردیا کاٹے ہوئے (ف۲۸) بجھے ہوئے،

١٦ . اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے عبث نہ بنائے (ف۲۹)

١٧ . اگر ہم کوئی بہلاوا اختیار کرنا چاہتے (ف۳۰) تو اپنے پاس سے اختیار کرتے اگر ہمیں کرنا ہوتا (ف۳۱)

١٨ . بلکہ ہم حق کو باطل پر پھینک مارتے ہیں تو وہ اس کا بھیجہ نکال دیتا ہے تو جبھی وہ مٹ کر رہ جاتا ہے (ف۳۲) اور تمہاری خرابی ہے (ف۳۳) ان باتوں سے جو بناتے ہو (ف۳۴)

١٩ . اور اسی کے ہیں جتنے آسمانوں اور زمین میں ہیں (ف۳۵) اور اس کے پاس والے (ف۳۶) اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور نہ تھکیں،

٢٠ . رات دن اس کی پاکی بولتے ہیں اور سستی نہیں کرتے،

٢١ . کیا انہوں نے زمین میں سے کچھ ایسے خدا بنالیے ہیں (ف۳۸) کہ وہ کچھ پیدا کرتے ہیں (ف۳۹)

٢٢ . اگر آسمان و زمین میں اللہ کے سوا اور خدا ہوتے تو ضرور وہ (ف۴۰) تباہ ہوجاتے (ف۴۱) تو پاکی ہے اللہ عرش کے مالک کو ان باتوں سے جو یہ بناتے ہیں (ف۴۲)

٢٣ . اس سے نہیں پوچھا جاتا جو وہ کرے (ف۴۳) اور ان سب سے سوال ہوگا (ف۴۴)

٢٤ . کیا اللہ کے سوا اور خدا بنا رکھے ہیں، تم فرماؤ (ف۴۵) اپنی دلیل لاؤ (ف۴۶) یہ قرآن میرے ساتھ والوں کا ذکر ہے (ف۴۷) اور مجھ سے اگلوں کا تذکرہ (ف۴۸) بلکہ ان میں اکثر حق کو نہیں جانتے تو وہ رو گرداں، ہیں (ف۴۹)

٢٥ . اور ہم نے تم سے پہلے کوئی رسول نہ بھیجا مگر یہ کہ ہم اس کی طرف وحی فرماتے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو مجھی کو پوجو،

٢٦ . اور بولے رحمن نے بیٹا اختیار کیا (ف۵۰) پاک ہے وہ (ف۵۱) بلکہ بندے ہیں عزت والے (ف۵۲)

٢٧ . بات میں اس سے سبقت نہیں کرتے اور وہ اسی کے حکم پر کاربند ہوتے ہیں،

٢٨ . وہ جانتا ہے جو ان کے آگے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے (ف۵۳) اور شفاعت نہیں کرتے مگر اس کے لیے جسے وہ پسند فرمائے (ف۵۴) اور وہ اس کے خوف سے ڈر رہے ہیں،

٢٩ . اور ان میں جو کوئی کہے کہ میں اللہ کے سوا معبود ہوں (ف۵۵) تو اسے ہم جہنم کی جزا دیں گے، ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں ستمگاروں کو،

٣٠ . کیا کافروں نے یہ خیال نہ کیا کہ آسمان اور زمین بند تھے تو ہم نے انہیں کھولا (ف۵۶) اور ہم نے ہر جاندار چیز پانی سے بنائی (ف۵۷) تو کیا وہ ایمان لائیں گے،

٣١ . اور زمین میں ہم نے لنگر ڈالے (ف۵۸) کہ انھیں لے کر نہ کانپے اور ہم نے اس میں کشادہ راہیں رکھیں کہ کہیں وہ راہ پائیں (ف۵۹)

٣٢ . اور ہم نے آسمان کو چھت بنایا نگاہ رکھی گئی (ف۶۰) اور وہ (ف۶۱) اس کی نشانیوں سے روگرداں ہیں (ف۶۲)

٣٣ . اور وہی ہے جس نے بنائے رات (ف۶۳) اور دن (ف۶۴) اور سورج اور چاند ہر ایک ایک گھیرے میں پیر رہا ہے (ف۶۵)

٣٤ . اور ہم نے تم سے پہلے کسی آدمی کے لیے دنیا میں ہمیشگی نہ بنائی (ف۶۶) تو کیا اگر تم انتقال فرماؤ تو یہ ہمیشہ رہیں گے (ف۶۷)

٣٥ . ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے، اور ہم تمہاری آزمائش کرتے ہیں برائی اور بھلائی سے (ف۶۸) جانچنے کو (ف۶۹) اور ہماری ہی طرف تمہیں لوٹ کر آنا ہے (ف۷۰)

٣٦ . اور جب کافر تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہیں نہیں ٹھہراتے مگر ٹھٹھا (ف۷۱) کیا یہ ہیں وہ جو تمہارے خداؤں کو برا کہتے ہیں اور وہ (ف۷۲) رحمن ہی کی یاد سے منکر ہیں (ف۷۳)

٣٧ . آدمی جلد باز بنایا گیا، اب میں تمہیں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا مجھ سے جلدی نہ کرو (ف۷۴)

٣٨ . اور کہتے ہیں کب ہوگا یہ وعدہ (ف۷۵) اگر تم سچے ہو،

٣٩ . کسی طرح جانتے کافر اس وقت کو جب نہ روک سکیں گے اپنے مونہوں سے آگے (ف۷۶) اور نہ اپنی پیٹھوں سے اور نہ ان کی مدد ہو (ف۷۷)

٤٠ . بلکہ وہ ان پر اچانک آپڑے گی (ف۷۸) تو انہیں بے حواس کردے گی پھر نہ وہ اسے پھیرسکیں گے اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی (ف۷۹)

٤١ . اور بیشک تم سے اگلے رسولوں کے ساتھ ٹھٹھا کیا گیا (ف۸۰) تو مسخرگی کرنے والوں کا ٹھٹھا انہیں کو لے بیٹھا (ف۸۱)

٤٢ . تم فرماؤ شبانہ روز تمہاری کون نگہبانی کرتا ہے رحمان سے (ف۸۲) بلکہ وہ اپنے رب کی یاد سے منہ پھیرے ہیں (ف۸۳)

٤٣ . کیا ان کے کچھ خدا ہیں (ف۸۴) جو ان کو ہم سے بچاتے ہیں (ف۸۵) وہ اپنی ہی جانوں کو نہیں بچاسکتے (ف۸۶) اور نہ ہماری طرف سے ان کی یاری ہو،

٤٤ . بلکہ ہم نے ان کو (ف۸۷) اور ان کے باپ دادا کو برتاوا دیا (ف۸۸) یہاں تک کہ زندگی ان پر دراز ہوئی (ف۸۹) تو کیا نہیں دیکھتے کہ ہم (ف۹۰) زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے آرہے ہیں (ف۹۱) تو کیا یہ غالب ہوں گے (ف۹۲)

٤٥ . تم فرماؤ کہ میں تم کو صرف وحی سے ڈراتا ہوں (ف۹۳) اور بہرے پکارنا نہیں سنتے جب ڈرائے جائیں، (ف۹۴)

٤٦ . اور اگر انہیں تمہارے رب کے عذاب کی ہوا چھو جائے تو ضرور کہیں گے ہائے خرابی ہماری بیشک ہم ظالم تھے (ف۹۵)

٤٧ . اور ہم عدل کی ترازوئیں رکھیں گے قیامت کے دن تو کسی جان پر کچھ ظلم نہ ہوگا، اور اگر کوئی چیز (ف۹۶) رائی کے دانہ کے برابر ہو تو ہم اسے لے آئیں گے، اور ہم کافی ہیں حساب کو،

٤٨ . اور بیشک ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فیصلہ دیا (ف۹۷) اور اجالا (ف۹۸) اور پرہیزگاروں کو نصیحت (ف۹۹)

٤٩ . وہ جو بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور انہیں قیامت کا اندیشہ لگا ہوا ہے،

٥٠ . اور یہ ہے برکت والا ذکر کہ ہم نے اتارا (ف۱۰۰) تو کیا تم اس کے منکر ہو،

٥١ . اور بیشک ہم نے ابراہیم کو (ف۱۰۱) پہلے ہی سے اس کی نیک راہ عطا کردی اور ہم اس سے خبردار تھے، (ف۱۰۲)

٥٢ . جب اس نے اپنے باپ اور قوم سے کہا یہ مورتیں کیا ہیں (ف۱۰۳) جن کے آگے تم آسن مارے (پوجا کے لیے بیٹھے) ہو (ف۱۰۴)

٥٣ . بولے ہم نے اپنے دادا کو ان کی پوجا کرتے پایا (ف۱۰۴)

٥٤ . کہا بے شک تم اور تمہارے باپ دادا سب کھلی گمراہی میں ہو،

٥٥ . بولے کیا تم ہمارے پاس حق لائے ہو یا یونہی کھیلتے ہو (ف۱۰۶)

٥٦ . کہا بلکہ تمہارا رب وہ ہے جو رب ہے آسمان اور زمین کا جس نے انہیں پیدا کیا، اور میں اس پر گواہوں میں سے ہوں،

٥٧ . اور مجھے اللہ کی قسم ہے میں تمہارے بتوں کا برا چاہوں گا بعد اس کے کہ تم پھر جاؤ پیٹھ دے کر (ف۱۰۷)

٥٨ . تو ان سب کو (ف۱۰۸) چورا کردیا مگر ایک کو جو ان کا سب سے بڑا تھا (ف۱۰۹) کہ شاید وہ اس سے کچھ پوچھیں (ف۱۱۰)

٥٩ . بولے کس نے ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ کام کیا بیشک وہ ظالم ہے،

٦٠ . ان میں کے کچھ بولے ہم نے ایک جوان کو انہیں برا کہتے سنا جسے ابراہیم کہتے ہیں (ف۱۱۱)

٦١ . بولے تو اسے لوگوں کے سامنے لاؤ شاید وہ گواہی دیں (ف۱۱۲)

٦٢ . بولے کیا تم نے ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ کام کیا اے ابراہیم (ف۱۱۳)

٦٣ . فرمایا بلکہ ان کے اس بڑے نے کیا ہوگا (ف۱۱۴) تو ان سے پوچھو اگر بولتے ہوں (ف۱۱۵)

٦٤ . تو اپنے جی کی طرف پلٹے (ف۱۱۶) اور بولے بیشک تمہیں ستمگار ہو (ف۱۱۷)

٦٥ . پھر اپنے سروں کے بل اوندھائے گئے (ف۱۱۸) کہ تمہیں خوب معلوم ہے یہ بولتے نہیں (ف۱۱۹)

٦٦ . کہا تو کیا اللہ کے سوا ایسے کو پوجتے ہو جو نہ تمہیں نفع دے (ف۱۲۰) اور نہ نقصان پہنچائے (ف۱۲۱)

٦٧ . تف ہے تم پر اور ان بتوں پر جن کو اللہ کے سوا پوجتے ہو، تو کیا تمہیں عقل نہیں (ف۱۲۲)

٦٨ . بولے ان کو جلادو اور اپنے خداؤں کی مدد کروں اگر تمہیں کرنا ہے (ف۱۲۳)

٦٩ . ہم نے فرمایا اے آگ ہو جا ٹھنڈی اور سلامتی ابراہیم پر (ف۱۲۴)

٧٠ . اور انہوں نے اس کا برا چاہا تو ہم نے انہیں سب سے بڑھ کر زیاں کار کردیا (ف۱۲۵)

٧١ . اور ہم اسے اور لوط کو (ف۱۲۶) نجات بخشی (ف۱۲۷) اس زمین کی طرف (ف۱۲۸) جس میں ہم نے جہاں والوں کے لیے برکت رکھی (ف۱۲۹)

٧٢ . اور ہم نے اسے اسحاق عطا فرمایا (ف۱۳۰) اور یعقوب پوتا، اور ہم نے ان سب کو اپنے قرب خاص کا سزاوار کیا،

٧٣ . اور ہم نے انہیں امام کیا کہ (ف۱۳۱) ہمارے حکم سے بلاتے ہیں اور ہم نے انہیں وحی بھیجی اچھے کام کرنے اور نماز برپا رکھنے اور زکوٰة دینے کی اور وہ ہماری بندگی کرتے تھے،

٧٤ . اور لوط کو ہم نے حکومت اور علم دیا اور اسے اس بستی سے نجات بخشی جو گندے کام کرتی تھی (ف۱۳۲) بیشک وہ برُے لوگ بے حکم تھے،

٧٥ . اور ہم نے اسے (ف۱۳۳) اپنی رحمت میں داخل کیا، بیشک وہ ہمارے قرب خاص سزاواروں میں ہے،

٧٦ . اور نوح کو جب اس سے پہلے اس نے ہمیں پکارا تو ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے اور اس کے گھر والوں کو بڑی سختی سے نجات دی (ف۱۳۴)

٧٧ . اور ہم نے ان لوگوں پر اس کو مدد دی جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں، بیشک وہ برے لوگ تھے تو ہم نے ان سب کو ڈبو دیا،

٧٨ . اور داؤد اور سلیمان کو یاد کرو جب کھیتی کا ایک جھگڑا چکاتے تھے، جب رات کو اس میں کچھ لوگوں کی بکریاں چھوٹیں (ف۱۳۵) اور ہم ان کے حکم کے وقت حاضر تھے،

٧٩ . ہم نے وہ معاملہ سلیمان کو سمجھادیا (ف۱۳۶) اور دونوں کو حکومت اور علم عطا کیا (ف۱۳۷) اور داؤد کے ساتھ پہاڑ مسخر فرمادیے کہ تسبیح کرتے اور پرندے (ف۱۳۸) اور یہ ہمارے کام تھے،

٨٠ . اور ہم نے اسے تمہارا ایک پہناوا بنانا سکھایا کہ تمہیں تمہاری آنچ سے (زخمی ہونے سے) بچائے (ف۱۳۹) تو کیا تم شکر کروگے،

٨١ . اور سلیمان کے لیے تیز ہوا مسخر کردی کہ اس کے حکم سے چلتی اس زمین کی طرف جس میں ہم نے برکت رکھی (ف۱۴۰) اور ہم کو ہر چیز معلوم ہے،

٨٢ . اور شیطانوں میں سے جو اس کے لیے غوطہ لگاتے (ف۱۴۱) اور اس کے سوا اور کام کرتے (ف۱۴۲) اور ہم انہیں روکے ہوئے تھے (ف۱۴۳)

٨٣ . اور ایوب کو (یاد کرو) جب اس نے اپنے رب کو پکارا (ف۱۴۴) کہ مجھے تکلیف پہنچی اور تو سب مہر والوں سے بڑھ کر مہر والا ہے،

٨٤ . تو ہم نے اس کی دعا سن لی تو ہم نے دور کردی جو تکلیف اسے تھی (ف۱۴۵) اور ہم نے اسے اس کے گھر والے اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور عطا کیے (ف۱۴۶) اپنے پاس سے رحمت فرما کر اور بندی والوں کے لیے نصیحت (ف۱۴۷)

٨٥ . اور اسماعیل اور ادریس اور ذوالکفل کو (یاد کرو)، وہ سب صبر والے تھے (ف۱۴۸)

٨٦ . اور انہیں ہم نے اپنی رحمت میں داخل کیا، بیشک وہ ہمارے قربِ خاص کے سزاواروں میں ہیں،

٨٧ . اور ذوالنون، کو (یاد کرو) (ف۱۴۹) جب چلا غصہ میں بھرا (ف۱۵۰) تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے (ف۱۵۱) تو اندھیریوں میں پکارا (ف۱۵۲) کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو، بیشک مجھ سے بے جا ہوا (ف۱۵۳)

٨٨ . تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور سے غم سے نجات بخشی (ف۱۵۴) اور ایسی ہی نجات دیں گے مسلمانوں کو (ف۱۵۵)

٨٩ . اور زکریا کو جب اس نے اپنے رب کو پکارا، اے میرے رب مجھے اکیلا نہ چھوڑ (ف۱۵۶) اور تو سب سے بہتر اور وارث (ف۱۵۷)

٩٠ . تو ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے (ف۱۵۸) یحییٰ عطا فرمایا اور اس کے لیے اس کی بی بی سنواری (ف۱۵۹) بیشک وہ (ف۱۶۰) بھلے کاموں میں جلدی کرتے تھے اور ہمیں پکارتے تھے امید اور خوف سے، اور ہمارے حضور گڑگڑاتے ہیں،

٩١ . اور اس عورت کو اس نے اپنی پارسائی نگاہ رکھی (ف۱۶۱) تو ہم نے اس میں اپنی روح پھونکی (ف۱۶۲) اور اسے اور اس کے بیٹے کو سارے جہاں کے لیے نشانی بنایا (ف۱۶۳)

٩٢ . بیشک تمہارا یہ دین ایک ہی دین ہے (ف۱۶۴) اور میں تمہارا رب ہوں (ف۱۶۵) تو میری عبادت کرو،

٩٣ . اور اَوروں نے اپنے کام آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرلیے (ف۱۶۶) سب کو ہماری طرف پھرنا ہے، (ف۱۶۷)

٩٤ . تو جو کچھ بھلے کام کرے اور ہو ایمان والا تو اس کی کوشش کی بے قدری نہیں، اور ہم اسے لکھ رہے ہیں،

٩٥ . اور حرام ہے اس بستی پر جسے ہم نے ہلاک کردیا کہ پھر لوٹ کر آئیں (ف۱۶۸)

٩٦ . یہاں تک کہ جب کھولے جائیں گے یاجوج و ماجوج (ف۱۶۹) اور وہ ہر بلندی سے ڈھلکتے ہوں گے،

٩٧ . اور قریب آیا سچا وعدہ (ف۱۷۰) تو جبھی آنکھیں پھٹ کر رہ جائیں گی کافروں کی (ف۱۷۱) کہ ہائے ہماری خرابی بیشک ہم (ف۱۷۲) اس سے غفلت میں تھے بلکہ ہم ظالم تھے (ف۱۷۳)

٩٨ . بیشک تم (ف۱۷۴) اور جو کچھ اللہ کے سوا تم پوجتے ہو (ف۱۷۵) سب جہنم کے ایندھن ہو، تمہیں اس میں جانا،

٩٩ . اگر یہ (ف۱۷۶) خدا ہوتے جہنم میں نہ جاتے، اور ان سب کو ہمیشہ اس میں رہنا (ف۱۷۷)

١٠٠ . وہ اس میں رینکیں گے (ف۱۷۸) اور وہ اس میں کچھ نہ سنیں گے (ف۱۷۹)

١٠١ . بیشک وہ جن کے لیے ہمارا وعدہ بھلائی کا ہوچکا وہ جنہم سے دور رکھے گئے ہیں (ف۱۸۰)

١٠٢ . وہ اس کی بھنک (ہلکی سی آواز بھی) نہ سنیں گے (ف۱۸۱) اور وہ اپنی من مانتی خواہشوں میں (ف۱۸۲) ہمیشہ رہیں گے،

١٠٣ . انہیں غم میں نہ ڈالے گی وہ سب سے بڑی گھبراہٹ (ف۱۸۳) اور فرشتے ان کی پیشوائی کو آئیں گے (ف۱۸۴) کہ یہ ہے تمہارا وہ دن جس کا تم سے وعدہ تھا،

١٠٤ . جس دن ہم آسمان کو لپیٹیں گے جیسے سجل فرشتہ (ف۱۸۵) نامہٴ اعمال کو لپیٹتا ہے، جیسے پہلے اسے بنایا تھا ویسے ہی پھر کردیں گے (ف۱۸۶) یہ وعدہ ہے ہمارے ذمہ، ہم کو اس کا ضرور کرنا،

١٠٥ . اور بیشک ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد لکھ دیا کہ اس زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے (ف۱۸۷)

١٠٦ . بیشک یہ قرآن کافی ہے عبادت والوں کو (ف۱۸۸)

١٠٧ . اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لیے (ف۱۸۹)

١٠٨ . تم فرماؤ مجھے تو یہی وحی ہوتی ہے کہ تمہارا خدا نہیں مگر ایک اللہ تو کیا تم مسلمان ہوتے ہو،

١٠٩ . پھر اگر وہ منہ پھیریں (ف۱۹۰) تو فرمادو میں نے تمہیں لڑائی کا اعلان کردیا، برابری پر اور میں کیا جانوں (ف۱۹۱) کہ پاس ہے یا دور ہے وہ جو تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے (ف۱۹۲)

١١٠ . بیشک اللہ جانتا ہے آواز کی بات (ف۱۹۳) اور جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو (ف۱۹۴)

١١١ . اور میں کیا جانوں شاید وہ (ف۱۹۵) تمہاری جانچ ہو (ف۱۹۶) اور ایک وقت تک برتوانا (ف۱۹۷)

١١٢ . نبی نے عرض کی کہ اے میرے رب حق فیصلہ فرمادے (ف۱۹۸) اور ہمارے رب رحمنٰ ہی کی مدد درکار ہے ان باتوں پر جو تم بتاتے ہو، (ف۱۹۹)