;

١ . اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو (ف۲) بیشک قیامت کا زلزلہ (ف۳) بڑی سخت چیز ہے،

٢ . جس دن تم اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی (ف۴) اپنے دودھ پیتے کو بھول جائے گی اور ہر گابھ (ف۵) اپنا گابھ ڈال دے گی (ف۶) اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشہ میں ہیں اور نشہ میں نہ ہوں گے (ف۷) مگر ہے یہ کہ اللہ کی مار کڑی ہے،

٣ . اور کچھ لوگ وہ ہیں کہ اللہ کے معاملہ میں جھگڑتے ہیں بے جانے بوجھے، اور ہر سرکش شیطان کے پیچھے ہو لیتے ہیں (ف۸)

٤ . جس پر لکھ دیا گیا ہے کہ جو اس کی دوستی کرے گا تو یہ ضرور اسے گمراہ کردے گا اور اسے عذاب دوزخ کی راہ بتائے گا (ف۹)

٥ . اے لوگو! اگر تمہیں قیامت کے دن جینے میں کچھ شک ہو تو یہ غور کرو کہ ہم نے تمہیں پیدا کیا مٹی سے (ف۱۰) پھر پانی کی بوند سے (ف۱۱) پھر خون کی پھٹک سے (ف۹۱۲ پھر گوشت کی بوٹی سے نقشہ بنی اور بے بنی (ف۱۳) تاکہ ہم تمہارے لیے اپنی نشانیاں ظاہر فرمائیں (ف۱۴) اور ہم ٹھہرائے رکھتے ہیں ماؤں کے پیٹ میں جسے چاہیں ایک مقرر میعاد تک (ف۱۵) پھر تمہیں نکالتے ہیں بچہ پھر (ف۱۶) اس لیے کہ تم اپنی جوانی کو پہنچو (ف ۱۷) اور تم میں کوئی پہلے ہی مرجاتا ہے اور کوئی سب میں نکمی عمر تک ڈالا جاتا ہے (ف۱۸) کہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے (ف۱۹) اور تو زمین کو دیکھے مرجھائی ہوئی (ف۲۰) پھر جب ہم نے اس پر پانی اتارا تر و تازہ ہوئی اور ابھر آئی اور ہر رونق دار جوڑا (ف۲۱) اُگا لائی (ف۲۲)

٦ . یہ اس لیے ہے کہ اللہ ہی حق ہے (ف۲۳) اور یہ کہ وہ مردے جِلائے گا اور یہ کہ وہ سب کچھ کرسکتا ہے،

٧ . اور اس لیے کہ قیامت آنے والی اس میں کچھ شک نہیں، اور یہ کہ اللہ اٹھائے گا انہیں جو قبروں میں ہیں،

٨ . اور کوئی آدمی وہ ہے کہ اللہ کے بارے میں یوں جھگڑتا ہے کہ نہ تو علم نہ کوئی دلیل اور نہ کوئی روشن نوشتہ (تحریر) (ف۲۴)

٩ . حق سے اپنی گردن موڑے ہوئے تاکہ اللہ کی راہ سے بہکادے (ف۲۵) اس کے لیے دنیا میں رسوائی ہے (ف۲۶) اور قیامت کے دن ہم اسے آگ کا عذاب چکھائیں گے (ف۲۷)

١٠ . یہ اس کا بدلہ ہے جو تیرے ہاتھوں نے آگے بھیجا (ف۲۸) اور اللہ بندوں پر ظلم نہیں کرتا (ف۲۹)

١١ . اور کچھ آدمی اللہ کی بندگی ایک کنارہ پر کرتے ہیں (ف۳۰) پھر اگر انہیں کوئی بھلائی پہنچ گئی جب تو چین سے ہیں اور جب کوئی جانچ آکر پڑی (ف۳۱) منہ کے بل پلٹ گئے، ف۳۲) دنیا اور آخرت دونوں کا گھاٹا (ف۳۳) یہی ہے صر یح نقصان (ف۳۴)

١٢ . اللہ کے سوا ایسے کو پوجتے ہیں جو ان کا برا بھلا کچھ نہ کرے (ف۳۵) یہی ہے دور کی گمراہی،

١٣ . ایسے کو پوجتے نہیں جس کے نفع سے (ف۳۶) نقصان کی توقع زیادہ ہے (ف۳۷) بیشک (ف۳۸) کیا ہی برا مولیٰ اور بیشک کیا ہی برا رفیق،

١٤ . بیشک اللہ داخل کرے گا انہیں جو ایمان لائے اور بھلے کام کیے باغوں میں جن کے نیچے نہریں رواں، بیشک اللہ کرتا ہے جو چاہے (ف۳۹)

١٥ . جو یہ خیال کرتا ہو کہ اللہ اپنے نبی (ف۴۰) کی مدد نہ فرمائے گا دنیا (ف۴۱) اور آخرت میں (ف۴۲) تو اسے چاہیے کہ اوپر کو ایک رسی تانے پھر اپنے آپ کو پھانسی دے لے پھر دیکھے کہ اس کا یہ داؤں کچھ لے گیا اس بات کو جس کی اسے جلن ہے (ف۴۳)

١٦ . اور بات یہی ہے کہ ہم نے یہ قرآن اتارا روشن آیتیں اور یہ کہ اللہ راہ دیتا ہے جسے چاہے،

١٧ . بیشک مسلمان اور یہودی اور ستارہ پرست اور نصرانی اور آتش پرست اور مشرک، بیشک اللہ ان سب میں قیامت کے دن فیصلہ کردے گا (ف۴۴) بیشک ہر چیز اللہ کے سامنے ہے،

١٨ . کیا تم نے نہ دیکھا (ف۴۵) کہ اللہ کے لیے سجدہ کرتے ہیں وہ جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور سورج اور چاند اور تارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپائے (ف۴۶) اور بہت آدمی (ف۴۷) اور بہت وہ ہیں جن پر عذاب مقرر ہوچکا (ف۴۸) اور جسے اللہ ذلیل کرے (ف۴۹) اسے کوئی عزت دینے والا نہیں، بیشک اللہ جو چاہے کرے، (السجدة)۶

١٩ . یہ دو فریق ہیں (ف۵۰) کہ اپنے رب میں جھگڑے (ف۵۱) تو جو کافر ہوئے ان کے لیے آگ کے کپڑے بیونتے (کاٹے) گئے ہیں (ف۵۲) اور ان کے سروں پر کھولتا پانی ڈالا جائے گا (ف۵۳)

٢٠ . جس سے گل جائے گا جو کچھ ان کے پیٹوں میں ہے اور ان کی کھالیں (ف۵۴)

٢١ . اور ان کے لیے لوہے کے گرز ہیں (ف۵۵)

٢٢ . جب گھٹن کے سبب اس میں سے نکلنا چاہیں گے (ف۵۶) اور پھر اسی میں لوٹا دیے جائیں گے، اور حکم ہوگا کہ چکھو آگ کا عذاب،

٢٣ . بیشک اللہ داخل کرے گا انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے بہشتوں میں جن کے نیچے نہریں بہیں اس میں پہنائے جائیں گے سونے کے کنگن اور موتی (ف۵۷) اور وہاں ان کی پوشاک ریشم ہے (ف۵۸)

٢٤ . اور انہیں پاکیزہ بات کی ہدایت کی گئی (ف۵۹) اور سب خوبیوں سراہے کی راہ بتائی گئی (ف۶۰)

٢٥ . بیشک وہ جنہوں نے کفر کیا اور روکتے ہیں اللہ کی راہ (ف۶۱) اور اس ادب والی مسجد سے (ف۶۲) جسے ہم نے سب لوگوں کے لیے مقرر کیا کہ اس میں ایک سا حق ہے وہاں کے رہنے والے اور پردیسی کا، اور جو اس میں کسی زیادتی کا ناحق ارادہ کرے ہم اسے دردناک عذاب چکھائیں گے (ف۶۳)

٢٦ . اور جب کہ ہم نے ابراہیم کو اس گھر کا ٹھکانا ٹھیک بتادیا (ف۶۴) اور حکم دیا کہ میرا کوئی شریک نہ کر اور میرا گھر ستھرا رکھ (ف۶۵) طواف والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع سجدے والوں کے لیے (ف۶۶)

٢٧ . اور لوگوں میں حج کی عام ندا کردے (ف۶۷) وہ تیرے پاس حاضر ہوں گے پیادہ اور ہر دبلی اونٹنی پر کہ ہر دور کی راہ سے آتی ہیں (ف۶۸)

٢٨ . تاکہ وہ اپنا فائدہ پائیں (ف۶۹) اور اللہ کا نام لیں (ف۷۰) جانے ہوئے دنوں میں (ف۷۱) اس پر کہ انہیں روزی دی بے زبان چوپائے (ف۷۲) تو ان میں سے خود کھاؤ اور مصیبت زدہ محتاج کو کھلاؤ (ف۷۳)

٢٩ . پھر اپنا میل کچیل اتاریں (ف۷۴) اور اپنی منتیں پوری کریں (ف۷۵) اور اس آزاد گھر کا طواف کریں (ف۷۶)

٣٠ . بات یہ ہے اور جو اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کرے (ف۷۷) تو وہ اس کے لیے اس کے رب کے یہاں بھلا ہے، اور تمہارے لیے حلال کیے گئے بے زبان چوپائے (ف۷۸) سوا ان کے جن کی ممانعت تم پر پڑھی جاتی ہے (ف۷۹) تو دور ہو بتوں کی گندگی سے (ف۸۰) اور بچو جھوٹی بات سے،

٣١ . ایک اللہ کے ہوکر کہ اس کا ساجھی کسی کو نہ کرو، اور جو اللہ کا شریک کرے وہ گویا گرا آسمان سے کہ پرندے اسے اچک لے جاتے ہیں (ف۸۱) یا ہوا اسے کسی دور جگہ پھینکتی ہے (ف۸۲)

٣٢ . بات یہ ہے، اور جو اللہ کے نشانوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہے (ف۸۳)

٣٣ . تمہارے لیے چوپایوں میں فائدے ہیں (ف۸۴) ایک مقررہ میعاد تک (ف۸۵) پھر ان کا پہنچنا ہے اس آزاد گھر تک (ف۸۶)

٣٤ . اور ہر امت کے لیے (ف۸۷) ہم نے ایک قربانی مقرر فرمائی کہ اللہ کا نام لیں اس کے دیے ہوئے بے زبان چوپایوں پر (ف۸۸) تو تمہارا معبود ایک معبود ہے (ف۸۹) تو اسی کے حضور گردن رکھو (ف۹۰) اور اے محبوب خوشی سنادو ان تواضع والوں کو،

٣٥ . کہ جب اللہ کا ذکر ہوتا ہے ان کے دل ڈرنے لگتے ہیں (ف۹۱) اور جو افتاد پڑے اس کے سنے والے اور نماز برپا رکھنے والے اور ہمارے دیے سے خرچ کرتے ہیں (ف۹۲)

٣٦ . اور قربانی کے ڈیل دار جانور اور اونٹ اور گائے ہم نے تمہارے لیے اللہ کی نشانیوں سے کیے (ف۹۳) تمہارے لیے ان میں بھلائی ہے (ف۹۴) تو ان پر اللہ کا نام لو (ف۹۵) ایک پاؤں بندھے تین پاؤں سے کھڑے (ف۹۶) پھر جب ان کی کروٹیں گرجائیں (ف۹۷) تو ان میں سے خود کھاؤ (ف۹۸) اور صبر سے بیٹھنے والے اور بھیک مانگنے والے کو کھلاؤ، ہم نے یونہی ان کو تمہارے بس میں دے دیا کہ تم احسان مانو،

٣٧ . اللہ کو ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں نہ ان کے خون ہاں تمہاری پرہیزگاری اس تک باریاب ہوتی ہے (ف۹۹) یونہی ان کو تمہارے پس میں کردیا کہ تم اللہ کی بڑائی بولو اس پر کہ تم کو ہدایت فرمائی، اور اے محبوب! خوشخبری سناؤ نیکی والوں کو (ف۱۰۰)

٣٨ . بیشک اللہ بلائیں ٹالتا ہے، مسلمانوں کی (ف۱۰۱) بیشک اللہ دوست نہیں رکھتا ہر بڑے دغا باز ناشکرے کو (ف۱۰۲)

٣٩ . پروانگی (اجازت) عطا ہوئی انہیں جن سے کافر لڑتے ہیں (ف۱۰۳) اس بناء پر کہ ان پر ظلم ہوا (ف۱۰۴) اور بیشک اللہ ان کی مدد کرنے پر ضرور قادر ہے،

٤٠ . وہ جو اپنے گھروں سے ناحق نکالے گئے (ف۱۰۵) صرف اتنی بات پر کہ انہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے (ف۱۰۶) اور اللہ اگر آدمیوں میں ایک کو دوسرے سے دفع نہ فرماتا (ف۱۰۷) تو ضرور ڈھادی جاتیں خانقاہیں (ف۱۰۸) اور گرجا (ف۱۰۹) اور کلیسے (ف۱۱۰) اور مسجدیں (ف۱۱۱) جن میں اللہ کا بکثرت نام لیا جاتا ہے، اور بیشک اللہ ضرور مدد فرمائے گا اس کی جو اس کے دین کی مدد کرے گا بیشک ضرور اللہ قدرت والا غالب ہے (ف۱۰۹)،

٤١ . وہ لوگ کہ اگر ہم انہیں زمین میں قابو دیں (ف۱۱۲) تو نماز برپا رکھیں اور زکوٰة اور بھلائی کا حکم کریں اور برائی سے روکیں (ف۱۱۳) اور اللہ ہی کے لیے سب کاموں کا انجام،

٤٢ . اور اگر یہ تمہاری تکذیب کرتے ہیں (ف۱۱۴) تو بیشک ان سے پہلے جھٹلا چکی ہے نوح کی قوم اور عاد (ف۱۱۵) اور ثمود (ف۱۱۶)

٤٣ . اور ابراہیم کی قوم اور لوط کی قوم،

٤٤ . اور مدین والے (ف۱۱۷) اور موسیٰ کی تکذیب ہوئی (ف۱۱۸) تو میں نے کافرو ں کو ڈھیل دی (ف۱۱۹) پھر انہیں پکڑا (ف۱۲۰) تو کیسا ہوا میرا عذاب (ف۱۲۱)

٤٥ . اور کتنی ہی بستیاں ہم نے کھپادیں (ہلاک کردیں) (ف۱۲۲) کہ وہ ستمگار تھیں (ف۱۲۳) تو اب وہ اپنی چھتوں پر ڈہی (گری) پڑی ہیں اور کتنے کنویں بیکار پڑے (ف۱۲۴) اور کتنے محل گچ کیے ہوئے (ف۱۲۵)

٤٦ . تو کیا زمین میں نہ چلے (ف۱۲۶) کہ ان کے دل ہوں جن سے سمجھیں (ف۱۲۷) یا کان ہوں جن سے سنیں (ف۱۲۸) تو یہ کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں (ف۱۲۹) بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینو ں میں ہیں، (ف۱۳۰)

٤٧ . اور یہ تم سے عذاب مانگنے میں جلدی کرتے ہیں (ف۱۳۱) اور اللہ ہرگز اپنا وعدہ جھوٹا نہ کرے گا (ف۱۳۲) اور بیشک تمہارے رب کے یہاں (ف۱۳۳) ایک دن ایسا ہے جیسے تم لوگوں کی گنتی میں ہزار برس (ف۱۳۴)

٤٨ . اور کتنی بستیاں کہ ہم نے ان کو ڈھیل دی اس حال پر کہ وہ ستمگار تھیں پھر میں نے انہیں پکڑا (ف۱۳۵) اور میری ہی طرف پلٹ کر آتا ہے (ف۱۳۶)

٤٩ . تم فرمادو کہ اے لوگو! میں تو یہی تمہارے لیے صریح ڈر سنانے والا ہوں،

٥٠ . تو جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش ہے اور عزت کی روزی (ف۱۳۷)

٥١ . اور وہ جو کوشش کرتے ہیں ہماری آیتوں میں ہار جیت کے ارادہ سے (ف۱۳۸) وہ جہنمی ہیں،

٥٢ . اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول یا نبی بھیجے (ف۱۳۹) سب پر کبھی یہ واقعہ گزرا ہے کہ جب انہوں نے پڑھا تو شیطان نے ان کے پڑھنے میں لوگوں پر کچھ اپنی طرف سے ملادیا تو مٹا دیتا ہے اللہ اس شیطان کے ڈالے ہوئے کو پھر اللہ اپنی آیتیں پکی کردیتا ہے (ف۱۴۰) اور اللہ علم و حکمت والا ہے،

٥٣ . تاکہ شیطان کے ڈالے ہوئے کو فتنہ کردے (ف۱۴۱) ان کے لیے جن کے دلوں میں بیماری ہے (ف۱۴۲) اور جن کے دل سخت ہیں (ف۱۴۳) اور بیشک ستمگار (ف۱۴۴) دُھرکے (پرلے درجے کے) جھگڑالو ہیں،

٥٤ . اور اس لیے کہ جان لیں وہ جن کو علم ملا ہے (ف۱۴۵) کہ وہ (ف۱۴۶) تمہارے رب کے پاس سے حق ہے تو اس پر ایمان لائیں تو جھک جائیں اس کے لیے ان کے دل، اور بیشک اللہ ایمان والوں کو سیدھی راہ چلانے والا ہے،

٥٥ . اور کافر اس سے (ف۱۴۷) ہمیشہ شک میں رہیں گے یہاں تک کہ ان پر قیامت آجائے اچانک (ف۱۴۸) یا ان پر ایسے دن کا عذاب آئے جس کا پھل ان کے لیے کچھ اچھا نہ ہو (ف۱۴۹)

٥٦ . بادشاہی اس دن (ف۱۵۰) اللہ ہی کی ہے، وہ ان میں فیصلہ کردے گا، تو جو ایمان لائے اور (ف۱۵۱) اچھے کام کیے وہ چین کے باغوں میں ہیں،

٥٧ . اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتیں جھٹلائیں ان کے لیے ذلت کا عذاب ہے،

٥٨ . اور وہ جنہوں نے اللہ کی راہ میں اپنے گھر بار چھوڑے (ف۱۵۲) پھر مارے گئے یا مرگئے تواللہ ضرور انہیں اچھی روزی دے گا (ف۱۵۳) اور بیشک اللہ کی روزی سب سے بہتر ہے،

٥٩ . ضرور انہیں ایسی جگہ لے جائے گا جسے وہ پسند کریں گے (ف۱۵۴) اور بیشک اللہ علم اور حلم والا ہے،

٦٠ . بات یہ ہے اور جو بدلہ لے (ف۱۵۵) جیسی تکلیف پہنچائی گئی تھی پھر اس پر زیادتی کی جائے (ف۱۵۶) تو بیشک اللہ اس کی مدد فرمائے گا (ف۱۵۷) بیشک اللہ معاف کرنے والا بخشنے والا ہے،

٦١ . یہ (ف۱۵۸) اس لیے کہ اللہ تعالیٰ رات کو ڈالتا ہے دن کے حصہ میں اور دن کو لاتا ہے رات کے حصہ میں (ف۱۵۹) اور اس لیے کہ اللہ سنتا دیکھتا ہے،

٦٢ . یہ اس لیے (ف۱۶۰) کہ اللہ ہی حق ہے اور اس کے سوا جسے پوجتے ہیں (ف۱۶۱) وہی باطل ہے اور اس لیے کہ اللہ ہی بلندی بڑائی والا ہے،

٦٣ . کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا تو صبح کو زمین (ف۱۶۲) ہریالی ہوگئی، بیشک اللہ پاک خبردار ہے،

٦٤ . اسی کا مال ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور بیشک اللہ ہی بے نیاز سب خوبیوں سراہا ہے،

٦٥ . کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے تمہارے بس میں کردیا جو کچھ زمین میں ہے (ف۱۶۳) اور کشتی کہ دریا میں اس کے حکم سے چلتی ہے (ف۱۶۴) اور وہ روکے ہوئے ہے آسمان کو کہ زمین پر نہ گر پڑے مگر اس کے حکم سے، بیشک اللہ آدمیوں پر بڑی مہر والا مہربان ہے (ف۱۶۵)

٦٦ . اور وہی ہے جس نے تمہیں زندہ کیا (ف۱۶۶) اور پھر تمہیں مارے گا (ف۱۶۷) پھر تمہیں جِلائے گا (ف۱۶۸) بیشک آدمی بڑا ناشکرا ہے (ف۱۶۹)

٦٧ . ہر امت کے لیے (ف۱۷۰) ہم نے عبادت کے قاعدے بنادیے کہ وہ ان پر چلے (ف۱۷۱) تو ہرگز وہ تم سے اس معاملہ میں جھگڑا نہ کریں (ف۱۷۲) اور اپنے رب کی طرف بلاؤ (ف۱۷۳) بیشک تم سیدھی راہ پر ہو،

٦٨ . اور اگر وہ (ف۱۷۴) تم سے جھگڑیں تو فرمادو کہ اللہ خوب جانتا ہے تمہارے کوتک (تمہاری کرتوت)

٦٩ . اللہ تم پر فیصلہ کردے گا قیامت کے دن جس بات میں اختلاف کرتے ہو (ف۱۷۵)

٧٠ . کیا تو نے نہ جانا کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، بیشک یہ سب ایک کتاب میں ہے (ف۱۷۶) بیشک یہ (ف۱۷۷) اللہ پر آسان ہے (ف۱۷۸)

٧١ . اور اللہ کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں (ف۱۷۹) جن کی کوئی سند اس نے نہ اتاری اور ایسوں کو جن کا خود انہیں کچھ علم نہیں (ف۱۸۰) اور ستمگاروں کا (ف۱۸۱) کوئی مددگار نہیں (ف۱۸۲)

٧٢ . اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں پڑھی جائیں (ف۱۸۳) تو تم ان کے چہروں پر بگڑنے کے آثار دیکھو گے جنہوں نے کفر کیا، قریب ہے کہ لپٹ پڑیں ان کو جو ہماری آیتیں ان پر پڑھتے ہیں، تم فرمادو کیا میں تمہیں بتادوں جو تمہارے اس حال سے بھی (ف۱۸۴) بدتر ہے وہ آگ ہے، اللہ نے اس کا وعدہ دیا ہے کافروں کو، اور کیا ہی بری پلٹنے کی جگہ،

٧٣ . اے لوگو! ایک کہاوت فرمائی جاتی ہے اسے کان لگا کر سنو (ف۱۸۵) وہ جنہیں اللہ کے سوا تم پوجتے ہو (ف۱۸۶) ایک مکھی نہ بناسکیں گے اگرچہ سب اس پر اکٹھے ہوجائیں (ف۱۸۷) اور اگر مکھی ان سے کچھ چھین کرلے جائے (ف۱۸۸) تو اس سے چھڑا نہ سکیں (ف۱۸۹) کتنا کمزور چاہنے والا اور وہ جس کو چاہا (ف۱۹۰)

٧٤ . اللہ کی قدر نہ جانی جیسی چاہیے تھی (ف۱۹۱) بیشک اللہ قوت والا غالب ہے،

٧٥ . اللہ چن لیتا ہے فرشتوں میں سے رسول (ف۱۹۲) اور آدمیوں میں سے (ف۱۹۳) بیشک اللہ سنتا دیکھتا ہے،

٧٦ . جانتا ہے جو ان کے آگے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے (ف۱۹۴) اور سب کاموں کی رجوع اللہ کی طرف ہے،

٧٧ . اے ایمان والو! رکوع اور سجدہ کرو (ف۱۹۵) اور اپنے رب کی بندگی کرو (ف۱۹۶) اور بھلے کام کرو (ف۱۹۷) اس امید پر کہ تمہیں چھٹکارا ہو، (السجدة) عندالشافعیؒ،

٧٨ . اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا حق ہے جہاد کرنے کا (ف۱۹۸) اس نے تمہیں پسند کیا (ف۱۹۹) اور تم پر دین میں کچھ تنگی نہ رکھی (ف۲۰۰) تمہارے باپ ابراہیم کا دین (ف۲۰۱) اللہ نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے اگلی کتابوں میں اور اس قرآن میں تاکہ رسول تمہارا نگہبان و گواہ ہو (ف۲۰۲) اور تم اور لوگوں پر گواہی دو (ف۲۰۳) تو نماز برپا رکھو (ف۲۰۴) اور زکوٰة دو اور اللہ کی رسی مضبوط تھام لو (ف۲۰۵) وہ تمہارا مولیٰ ہے تو کیا ہی اچھا مولیٰ اور کیا ہی اچھا مددگار،