;

١ . بیشک مراد کو پہنچے ایمان والے

٢ . جو اپنی نماز میں گڑگڑاتے ہیں (ف۲)

٣ . اور وہ جو کسی بیہودہ بات کی طرف التفات نہیں کرتے (ف۳)

٤ . اور وہ کہ زکوٰة دینے کا کام کرتے ہیں (ف۴)

٥ . اور وہ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں،

٦ . مگر اپنی بیبیوں یا شرعی باندیوں پر جو ان کے ہاتھ کی مِلک ہیں کہ ان پر کوئی ملامت نہیں (ف۵)

٧ . تو جو ان دو کے سوا کچھ اور چاہے وہی حد سے بڑھنے والے ہیں(ف۶)

٨ . اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت کرتے ہیں (ف۷)

٩ . اور وہ جو اپنی نمازوں کی نگہبانی کرتے ہیں (ف۸)

١٠ . یہی لوگ وارث ہیں،

١١ . کہ فردوس کی میراث پائیں گے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے،

١٢ . اور بیشک ہم نے آدمی کو چنی ہوئی (انتخاب کی) مٹی سے بنایا، (ف۹)

١٣ . پھر اسے (ف۱۰) پانی کی بوند کیا ایک مضبوط ٹھہراؤ میں (ف۱۱)

١٤ . پھر ہم نے اس پانی کی بوند کو خون کی پھٹک کیا پھر خون کی پھٹک کو گوشت کی بوٹی پھر گوشت کی بوٹی کو ہڈیاں پھر ان ہڈیوں پر گوشت پہنایا، پھر اسے اور صورت میں اٹھان دی (ف۱۲) تو بڑی برکت والا ہے اللہ سب سے بہتر بتانے والا،

١٥ . پھر اس کے بعد تم ضرور (ف۱۳) مرنے والے ہو،

١٦ . پھر تم سب قیامت کے دن (ف۱۴) اٹھائے جاؤ گے،

١٧ . اور بیشک ہم نے تمہارے اوپر سات راہیں بنائیں (ف۱۵) اور ہم خلق سے بے خبر نہیں (ف۱۶)

١٨ . اور ہم نے آسمان سے پانی اتارا (ف۱۷) ایک اندازہ پر (ف۱۸) پھر اسے زمین میں ٹھہرایا اور بیشک ہم اس کے لے جانے پر قادر ہیں (ف۱۹)

١٩ . تو اس سے ہم نے تمہارے باغ پیدا کیے کھجوروں اور انگوروں کے تمہارے لیے ان میں بہت سے میوے ہیں (ف۲۰) اور ان میں سے کھاتے ہو (ف۲۱)

٢٠ . اور وہ پیڑ پیدا کیا کہ طور سینا سے نکلتا ہے (ف۲۲) لے کر اگتا ہے تیل اور کھانے والوں کے لیے سالن (ف۲۳)

٢١ . اور بیشک تمہارے لیے چوپایوں میں سمجھنے کا مقام ہے، ہم تمہیں پلاتے ہیں اس میں سے جو ان کے پیٹ میں ہے (ف۲۴) اور تمہارے لیے ان میں بہت فائدے ہیں (ف۲۵) اور ان سے تمہاری خوراک ہے (ف۲۶)

٢٢ . اور ان پر (ف۲۷) اور کشتی پر (ف۲۸) سوار کیے جاتے ہو،

٢٣ . اور بیشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو اس نے کہا اے میری قوم اللہ کو پوجو اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں، تو کیا تمہیں ڈر نہیں (ف۲۹)

٢٤ . تو اس کی قوم کے جن سرداروں نے کفر کیا بولے (ف۳۰) یہ تو نہیں مگر تم جیسا آدمی چاہتا ہے کہ تمہارا بڑا بنے (ف۳۱) اور اللہ چاہتا (ف۳۲) تو فرشتے اتارتا ہم نے تو یہ اگلے باپ داداؤں میں نہ سنا (ف۳۳)

٢٥ . وہ تو نہیں مگر ایک دیوانہ مرد تو کچھ زمانہ تک اس کا انتظار کیے رہو (ف۳۴)

٢٦ . نوح نے عرض کی اے میرے رب! میری مدد فرما (ف۳۵) اس پر کہ انہوں نے مجھے جھٹلایا،

٢٧ . تو ہم نے اسے وحی بھیجی کہ ہماری نگاہ کے سامنے (ف۳۶) اور ہمارے حکم سے کشتی بنا پھر جب ہمارا حکم آئے (ف۳۷) اور تنور ابلے (ف۳۸) تو اس میں بٹھالے (ف۳۹) ہر جوڑے میں سے دو (ف۴۰) اور اپنے گھر والے (ف۴۱) مگر ان میں سے وہ جن پر بات پہلے پڑچکی (ف۴۲) اور ان ظالموں کے معاملہ میں مجھ سے بات نہ کرنا (ف۴۳) یہ ضرور ڈبوئے جائیں گے،

٢٨ . پھر جب ٹھیک بیٹھ لے کشتی پر تُو اور تیرے ساتھ والے تو کہہ سب خوبیاں اللہ کو جس نے ہمیں ان ظالموں سے نجات دی،

٢٩ . اور عرض کر (ف۴۴) کہ اے میرے رب مجھے برکت والی جگہ اتار اور تو سب سے بہتر اتارنے والا ہے،

٣٠ . بیشک اس میں (ف۴۵) ضرو ر نشانیاں (ف۴۶) اور بیشک ضرور ہم جانچنے والے تھے (ف۴۷)

٣١ . پھر ان کے (ف۴۸) بعد ہم نے اور سنگت (قوم) پیدا کی (ف۴۹)

٣٢ . تو ان میں ایک رسول انہیں میں سے بھیجا (ف۵۰) کہ اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں، تو کیا تمہیں ڈر نہیں (ف۵۱)

٣٣ . اور بولے اس قوم کے سردار جنہوں نے کفر کیا اور آخرت کی حاضری (ف۵۲) کو جھٹلایا اور ہم نے انہیں دنیا کی زندگی میں چین دیا (ف۵۳) کہ یہ تو نہیں مگر جیسا آدمی جو تم کھاتے ہو اسی میں سے کھاتا ہے اور جو تم پیتے ہو اسی میں سے پیتا ہے (ف۵۴)

٣٤ . اور اگر تم کسی اپنے جیسے آدمی کی اطاعت کرو جب تو تم ضرور گھاٹے میں ہو،

٣٥ . کیا تمہیں یہ وعدہ دیتا ہے کہ تم جب مرجاؤ گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجاؤ گے اس کے بعد پھر (ف۵۵) نکالے جاؤ گے،

٣٦ . کتنی دور ہے کتنی دور ہے جو تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے (ف۵۶)

٣٧ . وہ تو نہیں مگر ہماری دنیا کی زندگی (ف۵۷) کہ ہم مرتے جیتے ہیں (ف۵۸) اور ہمیں اٹھنا نہیں (ف۵۹)

٣٨ . وہ تو نہیں مگر ایک مرد جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا (ف۶۰) اور ہم اسے ماننے کے نہیں (ف۶۱)

٣٩ . عرض کی کہ اے میرے رب میری مدد فرما اس پر کہ انہوں نے مجھے جھٹلایا،

٤٠ . اللہ نے فرمایا کچھ دیر جاتی ہے کہ یہ صبح کریں گے پچھتاتے ہوئے (ف۶۲)

٤١ . تو انہیں آلیا سچی چنگھاڑ نے (ف۶۳) تو ہم نے انہیں گھاس کوڑا کردیا (ف۶۴) تو دور ہوں (ف۶۵) ظالم لوگ،

٤٢ . پھر ان کے بعد ہم نے اور سنگتیں (قومیں) پیدا کیں (ف۶۶)

٤٣ . کوئی امت اپنی میعاد سے نہ پہلے جائے نہ پیچھے رہے (ف۶۷)

٤٤ . پھر ہم نے اپنے رسول بھیجے ایک پیچے دوسرا جب کسی امت کے پاس اس کا رسول آیا انہوں نے اسے جھٹلایا (ف۶۸) تو ہم نے اگلوں سے پچھلے ملادیے (ف۶۹) اور انہیں کہانیاں کر ڈالا (ف۷۰) تو دور ہوں وہ لوگ کہ ایمان نہیں لاتے،

٤٥ . پھر ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون کو اپنی آیتوں اور روشن سند (ف۷۱) کے ساتھ بھیجا،

٤٦ . فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف تو انہوں نے غرور کیا (ف۷۲) اور وہ لوگ غلبہ پائے ہوئے تھے، (ف۷۳)

٤٧ . تو بولے کیا ہم ایمان لے آئیں اپنے جیسے دو آدمیوں پر (ف۷۴) اور ان کی قوم ہماری بندگی کررہی ہے، (ف۷۵)

٤٨ . تو انہوں نے ان دونوں کو جھٹلایا تو ہلاک کیے ہوؤں میں ہوگئے (ف۷۶)

٤٩ . اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی (ف۷۷) کہ ان کو (ف۷۸) ہدایت ہو،

٥٠ . اور ہم نے مریم اور اس کے بیٹے کو (ف۷۹) نشانی کیا اور انہیں ٹھکانا دیا ایک بلند زمین (ف۸۰) جہاں بسنے کا مقام (ف۸۱) اور نگاہ کے سامنے بہتا پانی،

٥١ . اے پیغمبرو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ (ف۸۲) اور اچھا کام کرو، میں تمہارے کاموں کو جانتا ہوں (ف۸۳)

٥٢ . اور بیشک یہ تمہارا دین ایک ہی دین ہے (ف۸۴) اور میں تمہارا رب ہوں تو مجھ سے ڈرو،

٥٣ . تو ان کی امتوں نے اپنا کام آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرلیا (ف۸۵) ہر گروہ جو اس کے پاس ہے اس پر خوش ہے، (ف۸۶)

٥٤ . تو تم ان کو چھوڑ دو ان کے نشہ میں (ف۸۷) ایک وقت تک (ف۸۸)

٥٥ . کیا یہ خیال کررہے ہیں کہ وہ جو ہم ان کی مدد کررہے ہیں مال اور بیٹوں سے (ف۸۹)

٥٦ . یہ جلد جلد ان کو بھلائیاں دیتے ہیں (ف۹۰) بلکہ انہیں خبر نہیں (ف۹۱)

٥٧ . بیشک وہ جو اپنے رب کے ڈر سے سہمے ہوئے ہیں (ف۹۲)

٥٨ . اور وہ جو اپنے رب کی آیتوں پر ایمان لاتے ہیں (ف۹۳)

٥٩ . اور وہ جو اپنے رب کا کوئی شریک نہیں کرتے،

٦٠ . اور وہ جو دیتے ہیں جو کچھ دیں (ف۹۴) اور ان کے دل ڈر رہے ہیں یوں کہ ان کو اپنے رب کی طرف پھرنا ہے، (ف۹۵)

٦١ . یہ لوگ بھلائیوں میں جلدی کرتے ہیں اور یہی سب سے پہلے انہیں پہنچے (ف۹۶)

٦٢ . اور ہم کسی جان پر بوجھ نہیں رکھتے مگر اس کی طاقت بھر اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے کہ حق بولتی ہے (ف۹۷) اور ان پر ظلم نہ ہوگا، ف۹۸)

٦٣ . بلکہ ان کے دل اس سے (ف۹۹) غفلت میں ہیں اور ان کے کام ان کاموں سے جدا ہیں (ف۱۰۰) جنہیں وہ کررہے ہیں،

٦٤ . یہاں تک کہ جب ہم نے ان کے امیروں کو عذاب میں پکڑا (ف۱۰۱) تو جبھی وہ فریاد کرنے لگے، (ف۱۰۲)

٦٥ . آج فریاد نہ کرو، ہماری طرف سے تمہاری مدد نہ ہوگی،

٦٦ . بیشک میری آیتیں (ف۱۰۳) تم پر پڑھی جاتی تھیں تو تم اپنی ایڑیوں کے بل الٹے پلٹتے تھے (ف۱۰۴)

٦٧ . خدمت حرم پر بڑائی مارتے ہو (ف۱۰۵) رات کو وہاں بیہودہ کہانیاں بکتے (ف۱۰۶)

٦٨ . حق کو چھوڑے ہوئے (ف۱۰۷) کیا انہوں نے بات کو سوچا نہیں (ف۱۰۸) یا ان کے پاس وہ آیا جو ان کے باپ دادا کے پاس نہ آیا تھا (ف۱۰۹)

٦٩ . یا انہوں نے اپنے رسول کو نہ پہچانا (ف۱۱۰) تو وہ اسے بیگانہ سمجھ رہے ہیں (ف۱۱۱)

٧٠ . یا کہتے ہیں اسے سودا ہے (ف۱۱۲) بلکہ وہ تو ان کے پاس حق لائے (ف۱۱۳) اور ان میں اکثر حق برا لگتا ہے (ف۱۱۴)

٧١ . اور اگر حق (ف۱۱۵) ان کی خواہشوں کی پیروی کرتا (ف۱۱۶) تو ضرور آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہیں سب تباہ ہوجاتے (ف۱۱۷) بلکہ ہم تو ان کے پاس وہ چیز لائے (ف۱۱۸) جس میں ان کی ناموری تھی تو وہ اپنی عزت سے ہی منہ پھیرے ہوئے ہیں،

٧٢ . کیا تم ان سے کچھ اجرت مانگتے ہو (ف۱۱۹) تو تمہارے رب کا اجر سب سے بھلا اور وہ سب سے بہتر روزی دینے والا (ف۱۲۰)

٧٣ . اور بیشک تم انہیں سیدھی راہ کی طرف بلاتے ہو (ف۱۲۱)

٧٤ . اور بیشک جو آخرت پر ایما ن نہیں لاتے ضرور سیدھی راہ سے (ف۱۲۲) کترائے ہوئے ہیں،

٧٥ . اور اگر ہم ان پر رحم کریں اور جو مصیبت (ف۱۲۳) ان پر پڑی ہے ٹال دیں تو ضرور بھٹ پنا (احسان فراموشی) کریں گے اپنی سرکشی میں بہکتے ہوئے (ف۱۲۴)

٧٦ . اور بیشک ہم نے انہیں عذاب میں پکڑا (ف۱۲۵) تو نہ وہ اپنے رب کے حضور میں جھکے اور نہ گڑگڑاتے ہیں (ف۱۲۶)

٧٧ . یہاں تک کہ جب ہم نے ان پر کھولا کسی سخت عذاب کا دروازہ (ف۱۲۷) تو وہ اب اس میں ناامید پڑے ہیں،

٧٨ . اور وہی ہے جس نے بنائے تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور دل (ف۱۲۸) تم بہت ہی کم حق مانتے ہو (ف۱۲۹)

٧٩ . اور وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلایا اور اسی کی طرف اٹھنا ہے (ف۱۳۰)

٨٠ . اور وہی جٕلائے اور مارے اور اسی کے لیے ہیں رات اور دن کی تبدیلیاں (ف۱۳۱) تو کیا تمہیں سمجھ نہیں (ف۱۳۲)

٨١ . بلکہ انہوں نے وہی کہی جو اگلے (ف۱۳۳) کہتے تھے،

٨٢ . بولے کیا جب ہم مرجائیں اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں کیا پھر نکالے جائیں گے،

٨٣ . بیشک یہ وعدہ ہم کو اور ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا کو دیا گیا یہ تو نہیں مگر وہی اگلی داستانیں (ف۱۳۴)

٨٤ . تم فرماؤ کس کا مال ہے زمین اور جو کچھ اس میں ہے اگر تم جانتے ہو (ف۱۳۵)

٨٥ . اب کہیں گے کہ اللہ کا (ف۱۳۶) تم فرماؤ پھر کیوں نہیں سوچتے (ف۱۳۷)

٨٦ . تم فرماؤ کون ہے مالک سوتوں آسمانوں کا اور مالک بڑے عرش کا،

٨٧ . اب کہیں گے یہ اللہ ہی کی شان ہے، تم فرماؤ پھر کیوں نہیں ڈرتے (ف۱۳۸)

٨٨ . تم فرماؤ کس کے ہاتھ ہے ہر چیز کا قابو (ف۱۳۹) اور وہ پناہ دیتا ہے اور اس کے خلاف کوئی پناہ نہیں دے سکتا اگر تمہیں علم ہو (ف۱۴۰)

٨٩ . اب کہیں گے یہ اللہ ہی کی شان ہے، تم فرماؤ پھر کس جادو کے فریب میں پڑے ہو (ف۱۴۱)

٩٠ . بلکہ ہم ان کے پاس حق لائے (ف۱۴۲) اور وہ بیشک جھوٹے ہیں (ف۱۴۳)

٩١ . اللہ نے کوئی بچہ اختیار نہ کیا (ف۱۴۴) اور نہ اس کے ساتھ کوئی دوسرا خدا (ف۱۴۵) یوں ہوتا تو ہر خدا اپنی مخلوق لے جاتا (ف۱۴۶) اور ضرور ایک دوسرے پر اپنی تعلی چاہتا (ف۱۴۷) پاکی ہے اللہ کو ان باتوں سے جو یہ بناتے ہیں (ف۱۴۸)

٩٢ . جاننے والا ہر نہاں و عیاں کا تو اسے بلندی ہے ان کے شرک سے،

٩٣ . تم عرض کرو کہ اے میرے رب! اگر تو مجھے دکھائے (ف۱۴۹) جو انہیں وعدہ دیا جاتا ہے،

٩٤ . تو اے میرے رب! مجھے ان ظالموں کے ساتھ نہ کرنا (ف۱۵۰)

٩٥ . اور بیشک ہم قادر ہیں کہ تمہیں دکھادیں جو انہیں وعدہ دے رہے ہیں (ف۱۵۱)

٩٦ . سب سے اچھی بھلائی سے برائی کو دفع کرو (ف۱۵۲) ہم خوب جانتے ہیں جو باتیں یہ بناتے ہیں (ف۱۵۳)

٩٧ . اور تم عرض کرو کہ اے میرے رب تیری پناہ شیاطین کے وسوسو ں سے (ف۱۵۴)

٩٨ . اور اے میرے رب تیری پناہ کہ وہ میرے پاس آئیں،

٩٩ . یہاں تک کہ جب ان میں کسی کو موت آئے (ف۱۵۵) تو کہتا ہے کہ اے میرے رب مجھے واپس پھر دیجئے، (ف۱۵۶)

١٠٠ . شاید اب میں کچھ بھلائی کماؤں اس میں جو چھوڑ آیا ہوں (ف۱۵۷) ہشت یہ تو ایک بات ہے جو وہ اپنے منہ سے کہتا ہے (ف۱۵۸) اور ان کے آگے ایک آڑ ہے (ف۱۵۹) اس دن تک جس دن اٹھائے جائیں گے،

١٠١ . تو جب صُور پھونکا جائے گا (ف۱۶۰) تو نہ ان میں رشتے رہیں گے (ف۱۶۱) اور نہ ایک دوسرے کی بات پوچھے (ف۱۶۲)

١٠٢ . تو جن کی تولیں (ف۱۶۳) بھاری ہولیں وہی مراد کچھ پہنچے،

١٠٣ . اور جن کی تولیں ہلکی پڑیں (ف۱۶۴) وہی ہیں جنہوں نے اپنی جانیں گھاٹے میں ڈالیں ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے،

١٠٤ . ان کے منہ پر آگ لپیٹ مارے گی اور وہ اس میں منہ چڑائے ہوں گے (ف۱۶۵)

١٠٥ . کیا تم پر میری آیتیں نہ پڑھی جاتی تھیں (ف۱۶۶) تو تم انہیں جھٹلاتے تھے،

١٠٦ . کہیں گے اے ہمارے رب ہم پر ہماری بدبختی غالب آئی اور ہم گمراہ لوگ تھے،

١٠٧ . اے رب ہمارے ہم کو دوزخ سے نکال دے پھر اگر ہم ویسے ہی کریں تو ہم ظالم ہیں (ف۱۶۷)

١٠٨ . رب فرمائے گا دھتکارے (خائب و خاسر) پڑے رہو اس میں اور مجھ سے بات نہ کرو (ف۱۶۸)

١٠٩ . بیشک میرے بندوں کا ایک گروہ کہتا تھا اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے،

١١٠ . تو تم نے انہیں ٹھٹھا بنالیا (ف۱۶۹) یہاں تک کہ انہیں بنانے کے شغل میں (ف۱۷۰) میری یاد بھول گئے اور تم ان سے ہنسا کرتے،

١١١ . بیشک آج میں نے ان کے صبر کا انہیں یہ بدلہ دیا کہ وہی کامیاب ہیں،

١١٢ . فرمایا (ف۱۷۱) تم زمین میں کتنا ٹھہرے (ف۱۷۲) برسوں کی گنتی سے

١١٣ . ، بولے ہم ایک دن رہے یا دن کا حصہ (ف۱۷۳) تو گننے والوں سے دریافت فرما (ف۱۷۴)

١١٤ . فرمایا تم نہ ٹھہرے مگر تھوڑا (ف۱۷۵) اگر تمہیں علم ہوتا،

١١٥ . تو کیا یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بیکار بنایا اور تمہیں ہماری طرف پھرنا نہیں (ف۱۷۶)

١١٦ . تو بہت بلندی والا ہے اللہ سچا بادشاہ کوئی معبود نہیں سوا اس کے عزت والے عرش کا مالک،

١١٧ . اور جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے خدا کو پوجے جس کی اس کے پاس کوئی سند نہیں (ف۱۷۷) تو اس کا حساب اس کے رب کے یہاں ہے، بیشک کافروں کا چھٹکارا نہیں،

١١٨ . اور تم عرض کرو، اے میرے رب بخش دے (ف۱۷۸) اور رحم فرما اور تو سب سے برتر رحم کرنے والا،