;

١ . طٰسم

٢ . یہ آیتیں ہیں روشن کتا ب کی (ف۲)

٣ . کہیں تم اپنی جان پر کھیل جاؤ گے ان کے غم میں کہ وہ ایمان نہیں لائے (ف۳)

٤ . اگر ہم چاہیں تو آسمان سے ان پر کوئی نشانی اتاریں کہ ان کے اونچے اونچے اس کے حضور جھکے رہ جائیں (ف۴)

٥ . اور نہیں آتی ان کے پاس رحمٰان کی طرف سے کوئی نئی نصیحت مگر اس سے منہ پھیر لیتے ہیں (ف۵)

٦ . تو بیشک انہوں نے جھٹلایا تو اب ان پر آیا چاہتی ہیں خبریں ان کے ٹھٹھے کی (ف۶)

٧ . کیا انہوں نے زمین کو نہ دیکھا ہم نے اس میں کتنے عزت والے جوڑے اگائے (ف۷)

٨ . بیشک اس میں ضرور نشانی ہے (ف۸) اور ان کے اکثر ایمان لانے والے نہیں،

٩ . اور بیشک تمہارا رب ضرور وہی عزت والا مہربان ہے (ف۹)

١٠ . اور یاد کرو جب تمہارے رب نے موسیٰ کو ندا فرمائی کہ ظالم لوگوں کے پاس جا،

١١ . جو فرعون کی قوم ہے (ف۱۰) کیا وہ نہ ڈریں گے (ف۱۱)

١٢ . عرض کی کہ اے میرے رب میں ڈرتا ہوں کہ مجھے جھٹلا ئیں گے،

١٣ . اور میرا سینہ تنگی کرتا ہے (ف۱۲) اور میری زبان نہیں چلتی (ف۱۳) تو توُ ہا رون کو بھی رسول کر، (ف۱۴)

١٤ . اور ان کا مجھ پر ایک الزام ہے (ف۱۵) تو میں ڈرتا ہو ں کہیں مجھے (ف۱۶) کر دیں،

١٥ . فرما یا یوں نہیں (ف ۱۷) تم دو نوں میری آئتیں لے کر جا ؤ ہم تمھا رے ساتھ سنتے ہیں (ف۱۸)

١٦ . تو فرعون کے پاس جاؤ پھر اس سے کہو ہم دونو ں اسکے رسل ہیں جو رب ہے سارے جہا ں کا،

١٧ . کہ تو ہما رے ساتھ بنی اسرائیل کو چھوڑ دے (ف۱۹)

١٨ . بو لا کیا ہم نے تمھیں اپنے یہاں بچپن میں نہ پالا اور تم نے ہما رے یہا ں اپنی عمر کے کئی برس گزارے، ف۲۰)

١٩ . اور تم نے کیا اپنا وہ کام جو تم نے کیا (ف۲۱) اور تم نا شکر تھے (ف۲۲)

٢٠ . موسٰی نے فر ما یا میں نے وہ کام کیا جب کہ مجھے راہ کی خبر نہ تھی (ف۲۳)

٢١ . تو میں تمھا رے یہا ں سے نکل گیا جب کے تم سے ڈرا (ف۲۴) تو میرے رب نے مجھے حکم عطا فرمایا (ف۲۵) اور مجھے پیغمبروں سے کیا،

٢٢ . اور یہ کوئی نعمت ہے جس کا تو مجھ پر احسان جتاتا ہے کہ تو نے غَلام بناکر رکھے بنی اسرائیل (ف۲۶)

٢٣ . فرعون بولا اور سارے جہان کا رب کیا ہے (ف۲۷)

٢٤ . موسیٰ نے فرمایا رب آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے، اگر تمہیں یقین ہو (ف۲۸)

٢٥ . اپنے آس پاس والوں سے بولا کیا تم غور سے سنتے نہیں (ف۲۹)

٢٦ . موسیٰ نے فرمایا رب تمہارا اور تمہارے اگلے باپ داداؤں کا (ف۳۰)

٢٧ . بولا تمہارے یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں ضرور عقل نہیں رکھتے (ف۳۱)

٢٨ . موسیٰ نے فرمایا رب پورب (مشرق) اور پچھم(مغرب) کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے (ف۳۲) اگر تمہیں عقل ہو (ف۳۳)

٢٩ . بولا اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو خدا ٹھہرایا تو میں ضرور تمہیں قید کردوں گا (ف۳۴)

٣٠ . فرمایا کیا اگرچہ میں تیرے پاس کوئی روشن چیز لاؤں (ف۳۵)

٣١ . کہا تو لاؤ اگر سچے ہو،

٣٢ . تو موسیٰ نے اپنا عصا ڈال دیا جبھی وہ صریح اژدہا ہوگیا (ف۳۶)

٣٣ . اور اپنا ہاتھ (ف۳۷) نکالا تو جبھی وہ دیکھنے والوں کی نگاہ میں جگمگانے لگا (ف۳۸)

٣٤ . بولا اپنے گرد کے سرداروں سے کہ بیشک یہ دانا جادوگر ہیں،

٣٥ . چاہتے ہیں، کہ تمہیں تمہارے ملک سے نکال دیں اپنے جادو کے زور سے، تب تمہارا کیا مشورہ ہے (ف۳۹)

٣٦ . وہ بولے انہیں ان کے بھائی کو ٹھہرائے رہو اور شہروں میں جمع کرنے والے بھیجو،

٣٧ . کہ وہ تیرے پاس لے آئیں ہر بڑے جادوگر دانا کو (ف۴۰)

٣٨ . تو جمع کیے گئے جادوگر ایک مقرر دن کے وعدے پر (ف۴۱)

٣٩ . اور لوگوں سے کہا گیا کیا تم جمع ہوگئے (ف۴۲)

٤٠ . شاید ہم ان جادوگروں ہی کی پیروی کریں اگر یہ غالب آئیں (ف۴۳)

٤١ . پھر جب جادوگر آئے فرعون سے بولے کیا ہمیں کچھ مزدوری ملے گی اگر ہم غالب آئے،

٤٢ . بولا ہاں اور اس وقت تم میرے مقرب ہوجاؤ گے (ف۴۴)

٤٣ . موسیٰ نے ان سے فرمایا ڈالو جو تمہیں ڈالنا ہے (ف۴۵)

٤٤ . تو انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں اور بولے فرعون کی عزت کی قسم بیشک ہماری ہی جیت ہے، (ف۴۶)

٤٥ . تو موسیٰ نے اپنا عصا ڈالا جبھی وہ ان کی بناوٹوں کو نگلنے لگا (ف۴۷)

٤٦ . اب سجدہ میں گرے،

٤٧ . جادوگر، بولے ہم ایمان لائے اس پر جو سارے جہان کا رب ہے،

٤٨ . جو موسیٰ اور ہارون کا رب ہے،

٤٩ . فرعون بولا کیا تم اس پر ایمان لائے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں، بیشک وہ تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا (ف۴۸) تو اب جاننا چاہتے ہو (ف۴۹) مجھے قسم ہے! بیشک میں تمہارے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹوں گا اور تم سب کو سولی دوں گا (ف۵۰)

٥٠ . وہ بولے کچھ نقصان نہیں (ف۵۱) ہم اپنے رب کی طرف پلٹنے والے ہیں (ف۵۲)

٥١ . ہمیں طمع ہے کہ ہمارا رب ہماری خطائیں بخش دے اس پر کہ سب سے پہلے ایمان لائے (ف۵۳)

٥٢ . اور ہم نے موسٰی کو وحی بھیجی کہ راتوں را ت میرے بندو ں کو (ف ۵۴) لے نکل بیشک تمھارا پیچھا ہو نا ہے، ف۵۵)

٥٣ . اب فرعون نے شہروں میں جمع کرنے والے بھیجے (ف۵۶)

٥٤ . کہ یہ لوگ ایک تھوڑی جماعت ہیں،

٥٥ . اور بیشک ہم سب کا دل جلاتے ہیں (ف۵۷)

٥٦ . اور بیشک ہم سب چوکنے ہیں (ف۵۸)

٥٧ . تو ہم نے انہیں (ف۵۹) باہر نکالا باغوں اور چشموں،

٥٨ . اور خزانوں اور عمدہ مکانوں سے،

٥٩ . ہم نے ایسا ہی کیا اور ان کا وارث کردیا بنی اسرائیل کو (ف۶۰)

٦٠ . تو فرعونیوں نے ان کا تعاقب کیا دن نکلے،

٦١ . پھر جب آمنا سامنا ہوا دونوں گروہوں کا (ف۶۱) موسیٰ والوں نے کہا ہم کو انہوں نے آلیا (ف۶۲)

٦٢ . موسیٰ نے فرمایا یوں نہیں (ف۶۳) بیشک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ مجھے اب راہ دیتا ہے،

٦٣ . تو ہم نے موسیٰ کو وحی فرمائی کہ دریا پر اپنا عصا مار (ف۶۴) تو جبھی دریا پھٹ گیا (ف۶۵) تو ہر حصہ ہوگیا جیسے بڑا پہاڑ (ف۶۶)

٦٤ . اور وہاں قریب لائے ہم دوسروں کو (ف۶۷)

٦٥ . اور ہم نے بچالیا موسیٰ اور اس کے سب ساتھ والوں کو (ف۶۸)

٦٦ . پھر دوسروں کو ڈبو دیا (ف۶۹)

٦٧ . بیشک اس میں ضرور نشانی ہے (ف۷۰) اور ان میں اکثر مسلمان نہ تھے (ف۷۱)

٦٨ . اور بیشک تمہارا رب وہی عزت والا (ف۷۲) مہربان ہے (ف۷۳)

٦٩ . اور ان پر پڑھو خبر ابراہیم کی (ف۷۴)

٧٠ . جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے فرمایا تم کیا پوجتے ہو (ف۷۵)

٧١ . بولے ہم بتوں کو پوجتے ہیں پھر ان کے سامنے آسن مارے رہتے ہیں،

٧٢ . فرمایا کیا وہ تمہاری سنتے ہیں جب تم پکارو،

٧٣ . یا تمہارا کچھ بھلا برا کرتے ہیں (ف۷۶)

٧٤ . بولے بلکہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایسا ہی کرتے پایا،

٧٥ . فرمایا تو کیا تم دیکھتے ہو یہ جنہیں پوج رہے ہو،

٧٦ . تم اور تمہارے اگلے باپ دادا (ف۷۷)

٧٧ . بیشک وہ سب میرے دشمن ہیں (ف۷۸) مگر پروردگار عالم (ف۷۹)

٧٨ . وہ جس نے مجھے پیدا کیا (ف۸۰) تو وہ مجھے راہ دے گا (ف۸۱)

٧٩ . اور وہ جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے (ف۸۲)

٨٠ . اور جب میں بیمار ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے (ف۸۳)

٨١ . اور وہ مجھے وفات دے گا پھر مجھے زندہ کرے گا (ف۸۴)

٨٢ . اور وہ جس کی مجھے آس لگی ہے کہ میری خطائیں قیامت کے دن بخشے گا (ف۸۵)

٨٣ . اے میرے رب مجھے حکم عطا کر (ف۸۶) اور مجھے ان سے ملادے جو تیرے قرب خاص کے سزاوار ہیں (ف۸۷)

٨٤ . اور میری سچی ناموری رکھ پچھلوں میں (ف۸۸)

٨٥ . اور مجھے ان میں کر جو چین کے باغوں کے وارث ہیں (ف۸۹)

٨٦ . اور میرے باپ کو بخش دے (ف۹۰) بیشک وہ گمراہ،

٨٧ . اور مجھے رسوا نہ کرنا جس دن سب اٹھائے جائیں گے (ف۹۱)

٨٨ . جس دن نہ مال کام آئے گا نہ بیٹے،

٨٩ . مگر وہ جو اللہ کے حضور حاضر ہوا سلامت دل لے کر (ف۹۲)

٩٠ . اور قریب لائی جائے گی جنت پرہیزگاروں کے لیے (ف۹۳)

٩١ . اور ظاہر کی جائے گی دوزخ گمراہوں کے لیے،

٩٢ . اور ان سے کہا جائے گا (ف۹۴) کہاں ہیں وہ جن کو تم پوجتے تھے،

٩٣ . اللہ کے سوا، کیا وہ تمہاری مدد کریں گے (ف۹۵) یا بدلہ لیں گے،

٩٤ . تو اوندھا دیے گئے جہنم میں وہ اور سب گمراہ (ف۹۶)

٩٥ . اور ابلیس کے لشکر سارے (ف۹۷)

٩٦ . کہیں گے اور وہ اس میں باہم جھگڑے ہوں گے،

٩٧ . خدا کی قسم بیشک ہم کھلی گمراہی میں تھے،

٩٨ . جبکہ انہیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے،

٩٩ . اور ہمیں نہ بہکایا مگر مجرموں نے (ف۹۸)

١٠٠ . تو اب ہمارا کوئی سفارشی نہیں (ف۹۹)

١٠١ . اور نہ کوئی غم خوار دوست (ف۱۰۰)

١٠٢ . تو کسی طرح ہمیں پھر جانا ہوتا (ف۱۰۱) کہ ہم مسلمان ہوجاتے،

١٠٣ . بیشک اس میں ضرور نشانی ہے، اور ان میں بہت ایمان والے نہ تھے،

١٠٤ . اور بیشک تمہارا رب وہی عزت والا مہربان ہے،

١٠٥ . نوح کی قوم نے پیغمبروں کو جھٹلایا (ف۱۰۲)

١٠٦ . جبکہ ان سے ان کے ہم قوم نوح نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں (ف۱۰۳)

١٠٧ . بیشک میں تمہارے لیے اللہ کا بھیجا ہوا امین ہوں (ف۱۰۴)

١٠٨ . تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو (ف۱۰۵)

١٠٩ . اور میں اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا میرا اجر تو اسی پر ہے جو سارے جہان کا رب ہے،

١١٠ . تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو،

١١١ . بولے کیا ہم تم پر ایمان لے آئیں اور تمہارے ساتھ کمینے ہو ےٴ ہیں (ف۱۰۶)

١١٢ . فرمایا مجھے کیا خبر ان کے کام کیا ہیں (ف۱۰۷)

١١٣ . ان کا حساب تو میرے رب ہی پر ہے (ف۱۰۸) اگر تمہیں حِس ہو (ف۱۰۹)

١١٤ . اور میں مسلمانوں کو دور کرنے والا نہیں (ف۱۱۰)

١١٥ . میں تو نہیں مگر صاف ڈر سنانے والا (ف۱۱۱)

١١٦ . بولے اے نوح! اگر تم باز نہ آئے (ف۱۱۲) تو ضرور سنگسار کیے جاؤ گے (ف۱۱۳)

١١٧ . عرض کی اے میرے رب میری قوم نے مجھے جھٹلایا (ف۱۱۴)

١١٨ . تو مجھ میں اور ان میں پورا فیصلہ کردے اور مجھے اور میرے ساتھ والے مسلمانوں کو نجات دے (ف۱۱۵)

١١٩ . تو ہم نے بچالیا اسے اور اس کے ساتھ والوں کو بھری ہوئی کشتی میں (ف۱۱۶)

١٢٠ . پھر اس کے بعد (ف۱۱۷) ہم نے باقیوں کو ڈبو دیا،

١٢١ . بیشک اس میں ضرور نشانی ہے، اور ان میں اکثر مسلمان نہ تھے،

١٢٢ . اور بیشک تمہارا رب ہی عزت والا مہربان ہے،

١٢٣ . عاد نے رسولوں کو جھٹلایا (ف۱۱۸)

١٢٤ . جبکہ ان سے ان کے ہم قوم ہود نے فرمایا کیا تم ڈرتے نہیں،

١٢٥ . بیشک میں تمہارے لیے امانتدار رسول ہوں،

١٢٦ . تو اللہ سے ڈرو (ف۱۱۹) اور میرا حکم مانو،

١٢٧ . اور میں تم سے اس پر کچھ اجرت نہیں مانگتا، میرا اجر تو اسی پر ہے جو سارے جہان کا رب،

١٢٨ . کیا ہر بلندی پر ایک نشان بناتے ہو راہ گیروں سے ہنسنے کو (ف۱۲۰)

١٢٩ . اور مضبوط محل چنتے ہو اس امید پر کہ تم ہمیشہ رہوگے (ف۱۲۱)

١٣٠ . اور جب کسی پر گرفت کرتے ہو تو بڑی بیدردی سے گرفت کرتے ہو (ف۱۲۲)

١٣١ . تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو،

١٣٢ . اور اس سے ڈرو جس نے تمہاری مدد کی ان چیزوں سے کہ تمہیں معلوم ہیں (ف۱۲۳)

١٣٣ . تمہاری مدد کی چوپایوں اور بیٹوں،

١٣٤ . اور باغوں اور چشموں سے،

١٣٥ . بیشک مجھے تم پر ڈر ہے ایک بڑے دن کے عذاب کا (ف۱۲۴)

١٣٦ . بولے ہمیں برابر ہے چاہے تم نصیحت کرو یا ناصحوں میں نہ ہو (ف۱۲۵)

١٣٧ . یہ تو نہیں مگر وہی اگلوں کی ریت (ف۱۲۶)

١٣٨ . اور ہمیں عذاب ہونا نہیں (ف۱۲۷)

١٣٩ . تو انہوں نے اسے جھٹلایا (ف۱۲۸) تو ہم نے انہیں بلاک کیا (ف۱۲۹) بیشک اس میں ضرور نشانی ہے، اور ان میں بہت مسلمان نہ تھے،

١٤٠ . اور بیشک تمہارا رب ہی عزت والا مہربان ہے،

١٤١ . ثمود نے رسولوں کو جھٹلایا،

١٤٢ . جبکہ ان سے ان کے ہم قوم صا لح نے فرمایا کیا ڈرتے نہیں،

١٤٣ . بیشک میں تمہارے لیے اللہ کا امانتدار رسول ہوں،

١٤٤ . تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو،

١٤٥ . اور میں تم سے کچھ اس پر اجرت نہیں مانگتا، میرا اجر تو اسی پر ہے جو سارے جہان کا رب ہے،

١٤٦ . کیا تم یہاں کی (ف۱۳۰) نعمتوں میں چین سے چھوڑ دیے جاؤ گے (ف۱۳۱)

١٤٧ . باغوں اور چشموں،

١٤٨ . اور کھیتوں اور کھجوروں میں جن کا شگوفہ نرم نازک،

١٤٩ . اور پہاڑوں میں سے گھر تراشتے ہو استادی سے (ف۱۳۲)

١٥٠ . تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو،

١٥١ . اور حد سے بڑھنے والوں کے کہنے پر نہ چلو (ف۱۳۳)

١٥٢ . وہ جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں (ف۱۳۴) اور بناؤ نہیں کرتے (ف۱۳۵)

١٥٣ . بولے تم پر تو جادو ہوا ہے (ف۱۳۶)

١٥٤ . تم تو ہمیں جیسے آدمی ہو، تو کوئی نشانی لاؤ (ف۱۳۷) اگر سچے ہو (ف۱۳۸)

١٥٥ . فرمایا یہ ناقہ ہے ایک دن اس کے پینے کی باری (ف۱۳۹) اور ایک معین دن تمہاری باری،

١٥٦ . اور اسے برائی کے ساتھ نہ چھوؤ (ف۱۴۰) کہ تمہیں بڑے دن کا عذاب آلے گا (ف۱۴۱)

١٥٧ . اس پر انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں (ف۱۴۲) پھر صبح کو پچھتاتے رہ گئے (ف۱۴۳)

١٥٨ . تو انہیں عذاب نے آلیا (ف۱۴۴) بیشک اس میں ضرور نشانی ہے، اور ان میں بہت مسلمان نہ تھے،

١٥٩ . اور بیشک تمہارا رب ہی عزت والا مہربان ہے،

١٦٠ . لوط کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا،

١٦١ . جب کہ ان سے ان کے ہم قوم لوط نے فرمایا کیا تم نہیں ڈرتے،

١٦٢ . بیشک میں تمہارے لیے اللہ کا امانتدار رسول ہوں،

١٦٣ . تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو،

١٦٤ . اور میں اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا میرا اجر تو اسی پر ہے جو سارے جان کا رب ہے،

١٦٥ . کیا مخلوق میں مردوں سے بدفعلی کرتے ہو (ف۱۴۵)

١٦٦ . اور چھوڑتے ہو وہ جو تمہارے لیے تمہارے رب نے جوروئیں بنائیں، بلکہ تم لوگ حد سے بڑھنے والے ہو (ف۱۴۶)

١٦٧ . بولے اے لوط! اگر تم باز نہ آئے (ف۱۴۷) تو ضرور نکال دیے جاؤ گے (ف۱۴۸)

١٦٨ . فرمایا میں تمہارے کام سے بیزار ہوں (ف۱۴۹)

١٦٩ . اے میرے رب! مجھے اور میرے گھر والوں کو ان کے کام سے بچا (ف۱۵۰)

١٧٠ . تو ہم نے اسے اور اس کے سب گھر والوں کو نجات بخشی (ف۱۵۱)

١٧١ . مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی (ف۱۵۲)

١٧٢ . پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کردیا،

١٧٣ . اور ہم نے ان پر ایک برساؤ برسایا (ف۱۵۳) تو کیا ہی برا برساؤ تھا ڈرائے گئیوں کا،

١٧٤ . بیشک اس میں ضرور نشانی ہے، اور ان میں بہت مسلمان نہ تھے،

١٧٥ . اور بیشک تمہارا رب ہی عزت والا مہربان ہے،

١٧٦ . بن والوں نے رسولوں کو جھٹلایا (ف۱۵۴)

١٧٧ . جب ان سے شعیب نے فرمایا کیا ڈرتے نہیں،

١٧٨ . بیشک میں تمہارے لیے اللہ کا امانتدار رسول ہوں،

١٧٩ . تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو،

١٨٠ . اور میں اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا میرا اجر تو اسی پر ہے جو سارے جہان کا رب ہے (ف۱۵۵)

١٨١ . ناپ پورا کرو اور گھٹانے والوں میں نہ ہو (ف۱۵۶)

١٨٢ . اور سیدھی ترازو سے تولو،

١٨٣ . اور لوگوں کی چیزیں کم کرکے نہ دو اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو (ف۱۵۷)

١٨٤ . اور اس سے ڈرو جس نے تم کو پیدا کیا اور اگلی مخلوق کو،

١٨٥ . بولے تم پر جادو ہوا ہے،

١٨٦ . تم تو نہیں مگر ہم جیسے آدمی (ف۱۵۸) اور بیشک ہم تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں،

١٨٧ . تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دو اگر تم سچے ہو (ف۱۵۹)

١٨٨ . فرمایا میرا رب خوب جانتا ہے جو تمہارے کوتک (کرتوت) ہیں (ف۱۶۰)

١٨٩ . تو انہوں نے اسے جھٹلایا تو انہیں شامیانے والے دن کے عذاب نے آلیا، بیشک وہ بڑے دن کا عذاب تھا (ف۱۶۱)

١٩٠ . بیشک اس میں ضرور نشانی ہے، اور ان میں بہت مسلمان نہ تھے،

١٩١ . اور بیشک تمہارار ب ہی عزت والا مہربان ہے،

١٩٢ . اور بیشک یہ قرآن رب العالمین کا اتارا ہوا ہے،

١٩٣ . اسے روح الا مین لے کر اترا (ف۱۶۲)

١٩٤ . تمہارے دل پر (ف۱۶۳) کہ تم ڈر سناؤ،

١٩٥ . روشن عربی زبان میں،

١٩٦ . اور بیشک اس کا چرچا اگلی کتابوں میں ہے (ف۱۶۴)

١٩٧ . اور کیا یہ ان کے لیے نشانی نہ تھی (ف۱۶۵) کہ اس نبی کو جانتے ہیں بنی اسرائیل کے عالم (ف۱۶۶)

١٩٨ . اور اگر ہم اسے کسی غیر عربی شخص پر اتارتے،

١٩٩ . کہ وہ انہیں پڑھ کر سناتا جب بھی اس پر ایمان نہ لاتے (ف۱۶۷)

٢٠٠ . ہم نے یونہی جھٹلانا پیرا دیا ہے مجرموں کے دلوں میں (ف۱۶۸)

٢٠١ . وہ اس پر ایمان نہ لائیں گے یہاں تک کہ دیکھیں دردناک عذاب،

٢٠٢ . تو وہ اچانک ان پر آجائے گا اور انہیں خبر نہ ہوگی،

٢٠٣ . تو کہیں گے کیا ہمیں کچھ مہلت ملے گی (ف۱۶۹)

٢٠٤ . تو کیا ہمارے عذاب کی جلدی کرتے ہیں،

٢٠٥ . بھلا دیکھو تو اگر کچھ برس ہم انہیں برتنے دیں (ف۱۷۰)

٢٠٦ . پھر آئے ان پر جس کا وہ وعدہ دیے جاتے ہیں (ف۱۷۱)

٢٠٧ . تو کیا کام آئے گا ان کے وہ جو برتتے تھے (ف۱۷۲)

٢٠٨ . اور ہم نے کوئی بستی ہلاک نہ کی جسے ڈر سنانے والے نہ ہوں،

٢٠٩ . نصیحت کے لیے، اور ہم ظلم نہیں کرتے (ف۱۷۳)

٢١٠ . او راس قرآن کو لے کر شیطان نہ اترے (ف۱۷۴)

٢١١ . اور وہ اس قابل نہیں (ف۱۷۵) اور نہ وہ ایسا کرسکتے ہیں (ف۱۷۶)

٢١٢ . وہ تو سننے کی جگہ سے دور کردیے گئے ہیں (ف۱۷۷)

٢١٣ . تو اللہ کے سوا دوسرا خدا نہ پوج کہ تجھ پر عذاب ہوگا،

٢١٤ . اور اے محبوب! اپنے قریب تر رشتہ داروں کو ڈراؤ (ف۱۷۸)

٢١٥ . اور اپنی رحمت کا بازو بچھاؤ (ف۱۷۹) اپنے پیرو مسلمانوں کے لیے (ف۱۸۰)

٢١٦ . تو اگر وہ تمہارا حکم نہ مانیں تو فرمادو میں تمہارے کاموں سے بے علاقہ ہوں،

٢١٧ . اور اس پر بھروسہ کرو جو عزت والا مہر والا ہے (ف۱۸۱)

٢١٨ . جو تمہیں دیکھتا ہے جب تم کھڑے ہوتے ہو (ف۱۸۲)

٢١٩ . اور نمازیوں میں تمہارے دورے کو (ف۱۸۳)

٢٢٠ . بیشک وہی سنتا جانتا ہے (ف۱۸۴)

٢٢١ . کیا میں تمہیں بتادوں کہ کس پر اترتے ہیں شیطان،

٢٢٢ . اترتے ہیں بڑے بہتان والے گناہگار پر (ف۱۸۵)

٢٢٣ . شیطان اپنی سنی ہوئی (ف۱۸۶) ان پر ڈالتے ہیں اور ان میں اکثر جھوٹے ہیں (ف۱۸۷)

٢٢٤ . اور شاعروں کی پیرو ی گمراہ کرتے ہیں (ف۱۸۸)

٢٢٥ . کیا تم نے نہ دیکھا کہ وہ ہر نالے میں سرگرداں پھرتے ہیں (ف۱۸۹)

٢٢٦ . اور وہ کہتے ہیں جو نہیں کرتے (ف۱۹۰)

٢٢٧ . مگر وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے (ف۱۹۱) اور بکثرت اللہ کی یاد کی (ف۱۹۲) اور بدلہ لیا (ف۱۹۳) بعد اس کے کہ ان پر ظلم ہوا (ف۱۹۴) اور اب جاننا چاہتے ہیں ظالم (ف۱۹۵) کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے (ف۱۹۶)