;

١ . الم

٢ . کیا لوگ اس گھمنڈ میں ہیں کہ اتنی بات پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ کہیں ہم ایمان لائے، اور ان کی آزمائش نہ ہوگی (ف۲)

٣ . اور بیشک ہم نے ان سے اگلوں کو جانچا (ف۳) تو ضرور اللہ سچوں کو دیکھے گا اور ضرور جھوٹوں کو دیکھے گا (ف۴)

٤ . یا یہ سمجھے ہوئے ہیں وہ جو برے کام کرتے ہیں (ف۵) کہ ہم سے کہیں نکل جائیں گے (ف۶) کیا ہی برا حکم لگاتے ہیں،

٥ . جسے اللہ سے ملنے کی امید ہو (ف۷) تو بیشک اللہ کی میعاد ضرور آنے والی ہے (ف۸) اور وہی سنتا جانتا ہے (ف۹)

٦ . اور جو اللہ کی راہ میں کوشش کرے (ف۱۰) تو اپنے ہی بھلے کو کوشش کرتا ہے (ف۱۱) بیشک اللہ بے پرواہ ہے سارے جہان سے (ف۱۲)

٧ . اور جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ہم ضرور ان کی برائیاں اتار دیں گے (ف۱۳) اور ضرور انہیں اس کام پر بدلہ دیں گے جو ان کے سب کاموں میں اچھا تھا (ف۱۴)

٨ . اور ہم نے آدمی کو تاکید کی اپنے ماں باپ کے ساتھ بھلائی کی (ف۱۵) اور اگر تو وہ تجھ سے کوشش کریں کہ تو میرا شریک ٹھہرائے جس کا تجھے علم نہیں تو تُو ان کا کہا نہ مان (ف۱۶) میری ہی طرف تمہارا پھرنا ہے تو میں بتادوں گا تمہیں جو تم کرتے تھے (ف۱۷)

٩ . اور جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ضرور ہم انہیں نیکوں میں شامل کریں گے (ف۱۸)

١٠ . اور بعض آدمی کہتے ہیں ہم اللہ پر ایمان لائے پھر جب اللہ کی راہ میں انہیں کوئی تکلیف دی جاتی ہے (ف۱۹) تو لوگوں کے فتنہ کو اللہ کے عذاب کے برابر سمجھتے ہیں (ف۲۰) اور اگر تمہارے رب کے پاس سے مدد آئے (ف۲۱) تو ضرور کہیں گے ہم تو تمہارے ہی ساتھ تھے (ف۲۲) کیا اللہ خوب نہیں جانتا جو کچھ جہاں بھر کے دلوں میں ہے (ف۲۳)

١١ . اور ضرور اللہ ظاہر کردے گا ایمان والوں کو (ف۲۴) اور ضرور ظاہر کردے گا منافقوں کو (ف۲۵)

١٢ . اور کافر مسلمانوں سے بولے ہماری راہ پر چلو اور ہم تمہارے گناہ اٹھالیں گے (ف۲۶) حالانکہ وہ ان کے گناہوں میں سے کچھ نہ اٹھائیں گے، بیشک وہ جھوٹے ہیں،

١٣ . اور بیشک ضرور اپنے (ف۲۷) بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور بوجھ (ف۲۸) اور ضرور قیامت کے دن پوچھے جائیں گے جو کچھ بہتان اٹھاتے تھے (ف۲۹)

١٤ . اور بیشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان میں پچاس سال کم ہزار برس رہا (ف۳۰) تو انہیں طوفان نے ا ٓ لیا اور وہ ظالم تھے (ف۳۱)

١٥ . تو ہم نے اسے (ف۳۲) اور کشتی والوں کو (ف۳۳) بچالیا اور اس کشتی کو سارے جہاں کے لیے نشانی کیا (ف۳۴)

١٦ . اور ابراہیم کو (ف۳۵) جب اس نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اللہ کو پوجو اور اس سے ڈرو، اس میں تمہارا بھلا ہے اگر تم جانتے،

١٧ . تم تو اللہ کے سوا بتوں کو پوجتے ہو اور نرا جھوٹ گڑ ھتے ہو (ف۳۶) بے شک وه جنھیں تم اللہ کے سوا پو جتے ہو تمہاری روزی کے کچھ مالک نہیں تو اللہ کے پاس رزق ڈھونڈو (ف۳۷) اور اس کی بندگی کرو اور اس کا احسان مانو، تمہیں اسی کی طرف پھرنا ہے (ف۲۸)

١٨ . اور اگر تم جھٹلاؤ (ف۳۹) تو تم سے پہلے کتنے ہی گروہ جھٹلا چکے ہیں (ف۴۰) اور رسول کے ذمہ نہیں مگر صاف پہنچا دینا،

١٩ . اور کیا انہوں نے نہ دیکھا اللہ کیونکر خلق کی ابتداء فرماتا ہے (ف۴۱) پھر اسے دوبارہ بنائے گا (ف۴۲) بیشک یہ اللہ کو آسان ہے (ف۴۳)

٢٠ . تم فرماؤ زمین میں سفر کرکے دیکھو (ف۴۴) اللہ کیونکر پہلے بناتا ہے (ف۴۵) پھر اللہ دوسری اٹھان اٹھاتا ہے (ف۴۶) بیشک اللہ سب کچھ کرسکتا ہے،

٢١ . عذاب دیتا ہے جسے چاہے (ف۴۷) اور رحم فرماتا ہے جس پر چاہے (ف۴۸) اور تمہیں اسی کی طرف پھرنا ہے،

٢٢ . اور نہ تم زمین میں (ف۴۹) قابو سے نکل سکو اور نہ آسمان میں(ف۵۰) اور تمہارے لیے اللہ کے سوا نہ کوئی کام بنانے والا اور نہ مددگار،

٢٣ . اور وہ جنہوں نے میری آیتوں اور میرے ملنے کو نہ مانا (ف۵۱) وہ ہیں جنہیں میری رحمت کی آس نہیں اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے (ف۵۲)

٢٤ . تو اس کی قوم کو کچھ جواب بن نہ آیا مگر یہ بولے انہیں قتل کردو یا جلادو (ف۵۳) تو اللہ نے اسے (ف۵۴) آگ سے بچالیا (ف۵۵) بیشک اس میں ضرور نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لیے (ف۵۶)

٢٥ . اور ابراہیم نے (ف۵۷) فرمایا تم نے تو اللہ کے سوا یہ بت بنالیے ہیں جن سے تمہاری دوستی یہی دنیا کی زندگی تک ہے (ف۵۸) پھر قیامت کے دن تم میں ایک دوسرے کے ساتھ کفر کرے گا اور ایک دوسرے پر لعنت ڈالے گا (ف۵۹) اور تم سب کا ٹھکانا جہنم ہے (ف۶۰) اور تمہارا کوئی مددگار نہیں (ف۶۱)

٢٦ . تو لوط اس پر ایمان لایا (ف۶۲) اور ابراہیم نے کہا میں (ف۶۳) اپنے رب کی طرف ہجرت کرتا ہوں (ف۶۴) بیشک وہی عزت و حکمت والا ہے،

٢٧ . اور ہم نے اسے (ف۶۵) اسحاق اور یعقوب عطا فرمائے اور ہم نے اس کی اولاد میں نبوت (ف۶۶) اور کتاب رکھی (ف۶۷) اور ہم نے دنیا میں اس کا ثواب اسے عطا فرمایا (ف۶۸) اور بیشک آخرت میں وہ ہمارے قرب خاص کے سزاواروں میں ہے (ف۶۹)

٢٨ . اور لوط کو نجات دی جب اس نے اپنی قوم سے فرمایا تم بیشک بے حیائی کا کام کرتے ہو، کہ تم سے پہلے دنیا بھر میں کسی نے نہ کیا (ف۷۰)

٢٩ . کیا تم مردوں سے بدفعلی کرتے ہو اور راہ مارتے ہو (ف۷۱) اور اپنی مجلس میں بری بات کرتے ہو (ف۷۲) تو اس کی قوم کا کچھ جواب نہ ہوا مگر یہ کہ بولے ہم پر اللہ کا عذاب لاؤ اگر تم سچے ہو (ف۷۳)

٣٠ . عرض کی، اے میرے رب! میری مدد کر (ف۷۴) ان فسادی لوگوں پر (ف۷۵)

٣١ . اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس مژدہ لے کر آئے (ف۷۶) بولے ہم ضرور اس شہر والوں کو ہلاک کریں گے (ف۷۷) بیشک اس کے بسنے والے ستمگاروں ہیں،

٣٢ . کہا (ف۷۸) اس میں تو لوط ہے (ف۷۹) فرشتے بولے ہمیں خوب معلوم ہے جو کوئی اس میں ہے، ضرور ہم اسے (ف۸۰) اور اس کے گھر والوں کو نجات دیں گے مگر اس کی عورت کو، وہ رہ جانے والوں میں ہے (ف۸۱)

٣٣ . اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس (ف۸۲) آئے ان کا آنا اسے ناگوار ہوا اور ان کے سبب دل تنگ ہوا (ف۸۳) اور انہوں نے کہا نہ ڈریے (ف۸۴) اور نہ غم کیجئے (ف۸۵) بیشک ہم آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو نجات دیں گے مگر آپ کی عورت وہ رہ جانے والوں میں ہے،

٣٤ . بیشک ہم اس شہر والوں پر آسمان سے عذاب اتارنے والے ہیں بدلہ ان کی نافرمانیوں کا،

٣٥ . اور بیشک ہم نے اس سے روشن نشانی باقی رکھی عقل والوں کے لیے (ف۸۶)

٣٦ . مدین کی طرف ان کے ہم قوم شعیب کو بھیجا تو اس نے فرمایا، اے میری قوم! اللہ کی بندگی کرو اور پچھلے دن کی امید رکھو (ف۸۷) اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو،

٣٧ . تو انہوں نے اسے جھٹلایا تو انہیں زلزلے نے آلیا تو صبح اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے (ف۸۸)

٣٨ . اور عاد اور ثمود کو ہلاک فرمایا اور تمہیں (ف۸۹) ان کی بستیاں معلوم ہوچکی ہیں (ف۹۰) اور شیطان نے ان کے کوتک (ف۹۱) ان کی نگاہ میں بھلے کر دکھائے اور انہیں راہ سے روکا اور انہیں سوجھتا تھا (ف۹۲)

٣٩ . اور قارون اور فرعون اور ہامان کو (ف۹۳) اور بیشک ان کے پاس موسیٰ روشن نشانیاں لے کر آیا تو انہوں نے زمین میں تکبر کیا اور وہ ہم سے نکل کر جانے والے نہ تھے (ف۹۴)

٤٠ . تو ان میں ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ پر پکڑا تو ان میں کسی پر ہم نے پتھراؤ بھیجا (ف۹۵) اور ان میں کسی کو چنگھاڑ نے آلیا (ف۹۶) اور ان میں کسی کو زمین میں دھنسادیا (ف۹۷) اور ان میں کسی کو ڈبو دیا (ف۹۸) اور اللہ کی شان نہ تھی کہ ان پر ظلم کرے (ف۹۹) ہاں وہ خود ہی (ف۱۰۰) اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے،

٤١ . ان کی مثال جنہوں نے اللہ کے سوا اور مالک بنالیے ہیں (ف۱۰۱) مکڑی کی طرح ہے، اس نے جالے کا گھر بنایا (ف۱۰۲) اور بیشک سب گھروں میں کمزور گھر مکڑی کا گھر (ف۱۰۳) کیا اچھا ہوتا اگر جانتے (ف۱۰۴)

٤٢ . اللہ جانتا ہے جس چیز کی اس کے سوا پوجا کرتے ہیں (ف۱۰۵) اور وہی عزت و حکمت والا ہے (ف۱۰۶)

٤٣ . اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان فرماتے ہیں، اور انہیں نہیں سمجھتے مگر علم والے (ف۱۰۷)

٤٤ . اللہ نے آسمان اور زمین حق بنائے، بیشک اس میں نشانی ہے (ف۱۰۸) مسلمانوں کے لیے،

٤٥ . اے محبوب! پڑھو جو کتاب تمہاری طرف وحی کی گئی (ف۱۰۹) اور نماز قائم فرماؤ، بیشک نماز منع کرتی ہے بے حیائی اور بری بات سے (ف۱۱۰) اور بیشک اللہ کا ذکر سب سے بڑا (ف۱۱۱) اور اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو،

٤٦ . اور اے مسلمانو! کتابیوں سے نہ جھگڑو مگر بہتر طریقہ پر (ف۱۱۲) مگر وہ جنہوں نے ان میں سے ظلم کیا (ف۱۱۳) اور کہو (ف۱۱۴) ہم ایمان لائے اس پر جو ہماری طرف اترا اور جو تمہاری طرف اترا اور ہمارا تمہارا ایک معبود ہے اور ہم اس کے حضور گردن رکھتے ہیں (ف۱۱۵)

٤٧ . اور اے محبوب! یونہی تمہاری طرف کتاب اتاری (ف۱۱۶) تو وہ جنہیں ہم نے کتا ب عطا فرمائی (ف۱۱۷) اس پر ایمان لاتے ہیں، اور کچھ ان میں سے ہیں (ف۱۱۸) جو اس پر ایمان لاتے ہیں، اور ہماری آیتوں سے منکر نہیں ہوتے مگر (ف۱۱۹)

٤٨ . اور اس (ف۱۲۰) سے پہلے تم کوئی کتاب نہ پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے کچھ لکھتے تھے یوں ہوتا (ف۱۲۱) تو باطل ضرور شک لاتے (ف۱۲۲)

٤٩ . بلکہ وہ روشن آیتیں ہیں ان کے سینوں میں جن کو علم دیا گیا (ف۱۲۳) اور ہماری آیتوں کا انکار نہیں کرتے مگر ظالم (ف۱۲۴)

٥٠ . اور بولے (ف۱۲۵) کیوں نہ اتریں کچھ نشانیاں ان پر ان کے رب کی طرف سے (ف۱۲۶) تم فرماؤ نشانیاں تو اللہ ہی کے پاس ہیں (ف۱۲۷) اور میں تو یہی صاف ڈر سنانے والا ہوں (ف۱۲۸)

٥١ . اور کیا یہ انہیں بس نہیں کہ ہم نے تم پر کتاب اتاری جو ان پر پڑھی جاتی ہے (ف۱۲۹) بیشک اس میں رحمت اور نصیحت ہے ایمان والوں کے لیے،

٥٢ . تم فرماؤ اللہ بس ہے میرے اور تمہارے درمیان گواہ (ف۱۳۰) جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، اور وہ جو باطل پر یقین لائے اور اللہ کے منکر ہوئے وہی گھاٹے میں ہیں،

٥٣ . اور تم سے عذاب کی جلدی کرتے ہیں (ف۱۳۱) اور اگر ایک ٹھہرائی مدت نہ ہوتی (ف۱۳۲) تو ضرور ان پر عذاب آجاتا (ف۱۳۳) اور ضرور ان پر اچانک آئے گا جب وہ بے خبر ہوں گے،

٥٤ . تم سے عذاب کی جلدی مچاتے ہیں، اور بیشک جہنم گھیرے ہوئے ہے کافروں کو (ف۱۳۴)

٥٥ . جس دن انہیں ڈھانپے گا عذاب ان کے اوپر اور ان کے پاؤں کے نیچے سے اور فرمائے گا چکھو اپنے کیے کا مزہ (ف۱۳۵)

٥٦ . اے میرے بندو! جو ایمان لائے بیشک میری زمین وسیع ہے تو میری ہی بندگی کرو (ف۱۳۶)

٥٧ . ہر جان کو موت کا مز ہ چکھنا ہے (ف۱۳۷) پھر ہماری ہی طرف پھروگے (ف۱۳۸)

٥٨ . اور بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ضرور ہم انہیں جنت کے بالا خانوں پر جگہ دیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ہمیشہ ان میں رہیں گے، کیا ہی اچھا اجر کام والوں کا (ف۱۳۹)

٥٩ . وہ جنہوں نے صبر کیا (ف۱۴۰) اور اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں (ف۱۴۱)

٦٠ . اور زمین پر کتنے ہی چلنے والے ہیں کہ اپنی روزی ساتھ نہیں رکھتے (ف۱۴۲) اللہ روزی دیتا ہے انہیں اور تمہیں (ف۱۴۳) اور وہی سنتا جانتا ہے (ف۱۴۴)

٦١ . اور اگر تم ان سے پوچھو (ف۱۴۵) کس نے بنائے آسمان اور زمین اور کام میں لگائے سورج اور چاند تو ضرور کہیں گے اللہ نے، تو کہاں اوندھے جاتے ہیں (ف۱۴۶)

٦٢ . اللہ کشادہ کرتا ہے رزق اپنے بندوں میں جس کے لیے چاہے اور تنگی فرماتا ہے جس کے لیے چاہے، بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے،

٦٣ . اور جو تم ان سے پوچھو کس نے اتارا آسمان سے پانی تو اس کے سبب زمین زندہ کردی مَرے پیچھے ضرور کہیں گے اللہ نے (ف۱۴۷) تم فرماؤ سب خوبیاں اللہ کو، بلکہ ان میں اکثر بے عقل ہیں (ف۱۴۸)

٦٤ . اور یہ دنیا کی زندگی تو نہیں مگر کھیل کود (ف۱۴۹) اور بیشک آخرت کا گھر ضرور وہی سچی زندگی ہے (ف۱۵۰) کیا اچھا تھا اگر جانتے (ف۱۵۱)

٦٥ . پھر جب کشتی میں سوار ہوتے ہیں (ف۱۵۲) اللہ کو پکارتے ہیں ایک اسی عقیدہ لاکر (ف۱۵۳) پھر جب وہ انہیں خشکی کی طرف بچا لاتا ہے (ف۱۵۴) جبھی شرک کرنے لگتے ہیں (ف۱۵۵)

٦٦ . کہ ناشکری کریں ہماری دی ہوئی نعمت کی (ف۱۵۶) اور برتیں۔ (ف۱۵۷) تو اب جانا چاہتے ہیں، (ف۱۵۸)

٦٧ . اور کیا انہوں نے (ف۱۵۹) یہ نہ دیکھا کہ ہم نے (ف۱۶۰) حرمت والی زمین پناہ بنائی (ف۱۶۱) اور ان کے آس پاس والے لوگ اچک لیے جاتے ہیں (ف۱۶۲) تو کیا باطل پر یقین لاتے ہیں (ف۱۶۳) اور اللہ کی دی ہوئی نعمت سے (ف۱۶۴) ناشکری کرتے ہیں،

٦٨ . اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے (ف۱۶۵) یا حق کو جھٹلائے (ف۱۶۶) جب وہ اس کے پاس آئے، کیا جہنم میں کافروں کا ٹھکانا نہیں (ف۱۶۷)

٦٩ . اور جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انہیں اپنے راستے دکھادیں گے (ف۱۶۸) اور بیشک اللہ نیکوں کے ساتھ ہے (ف۱۶۹)