;

١ . الم،

٢ . اللہ ہے جس کے سوا کسی کی پوجا نہیں (ف۲) آپ زندہ اور ونکا قائم رکھنے والا،

٣ . اس نے تم پر یہ سچی کتاب اتاری اگلی کتابوں کی تصدیق فرماتی اور اس نے اس سے پہلے توریت اور انجیل اتاری،

٤ . لوگوں کو راہ دکھاتی اور فیصلہ اتارا، بیشک وہ جو اللہ کی آیتوں سے منکر ہوئے (ف۳)ان کے لئے سخت عذاب ہے اور اللہ غالب بدلہ لینے والا ہے،

٥ . اللہ پر کچھ چھپا ہوا نہیں زمین میں نہ آسمان میں،

٦ . وہی ہے کہ تمہاری تصویر بناتا ہے ماؤں کے پیٹ میں جیسی چاہے (ف۴) اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں عزت والا حکمت والا (ف۵)

٧ . وہی ہے جس نے تم پر یہ کتاب اتاری اس کی کچھ آیتیں صاف معنی رکھتی ہیں (ف۶) وہ کتاب کی اصل ہیں (ف۷) اور دوسری وہ ہیں جن کے معنی میں اشتباہ ہے (ف۸) وہ جن کے دلوں میں کجی ہے (ف۹) وہ اشتباہ والی کے پیچھے پڑتے ہیں (ف۱۰) گمراہی چاہنے (ف۱۱) اور اس کا پہلو ڈھونڈنے کو (ف۱۲) اور اس کا ٹھیک پہلو اللہ ہی کو معلوم ہے (ف۱۳) اور پختہ علم والے (ف۱۴) کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے (ف۱۵) سب ہمارے رب کے پاس سے ہے (ف۱۶) اور نصیحت نہیں مانتے مگر عقل والے (ف۱۷)

٨ . اے رب ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر بعد اس کے کہ تو نے ہمیں ہدایت دی اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا کر بیشک تو ہے بڑا دینے والا،

٩ . اے رب ہمارے بیشک تو سب لوگوں کو جمع کرنے والا ہے (ف۱۸) اس دن کے لئے جس میں کوئی شبہ نہیں (ف۱۹) بیشک اللہ کا وعدہ نہیں بدلتا (ف۲۰)

١٠ . بیشک وہ جو کافر ہوئے (ف۲۱) ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ سے انہیں کچھ نہ بچاسکیں گے اور وہی دوزخ کے ایندھن ہیں،

١١ . جیسے فرعون والوں اور ان سے اگلوں کا طریقہ، انہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں تو اللہ نے ان کے گناہوں پر ان کو پکڑا اور اللہ کا عذاب سخت،

١٢ . فرمادو، کافروں سے کوئی دم جاتا ہے کہ تم مغلوب ہوگے اور دوزخ کی طرف ہانکے جاؤ گے (ف۲۲) اور وہ بہت ہی برا بچھونا،

١٣ . بیشک تمہارے لئے نشانی تھی (ف۲۳) دو گروہوں میں جو آپس میں بھڑ پڑے (ف۲۴) ایک جتھا اللہ کی راہ میں لڑتا (ف۲۵) اور دوسرا کافر (ف۲۶) کہ انہیں آنکھوں دیکھا اپنے سے دونا سمجھیں، اور اللہ اپنی مدد سے زور دیتا ہے جسے چاہتا ہے (ف۲۷) بیشک اس میں عقلمندوں کے لئے ضرور دیکھ کر سیکھنا ہے،

١٤ . لوگوں کے لئے آراستہ کی گئی ان خواہشوں کی محبت (ف۲۸) عورتوں اور بیٹے اور تلے اوپر سونے چاندے کے ڈھیر اور نشان کئے ہوئے گھوڑے اور چوپائے اور کھیتی یہ جیتی دنیا کی پونجی ہے (ف۲۹) اور اللہ ہے جس کے پاس اچھا ٹھکانا (ف۳۰)

١٥ . تم فرماؤ کیا میں تمہیں اس سے (ف۳۱) بہتر چیز بتادوں پرہیزگاروں کے لئے ان کے رب کے پاس جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں گے اور ستھری بیبیاں (ف۳۲) اور اللہ کی خوشنودی (ف۳۳) اور اللہ بندوں کو دیکھتا ہے (ف۳۴)

١٦ . وہ جو کہتے ہیں ے رب ہمارے! ہم ایمان لائے تو ہمارے گناہ معاف کر اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے،

١٧ . صبر والے (ف۳۵) اور سچے (ف۳۶) اور ادب والے اور راہِ خدا میں خرچنے والے اور پچھلے پہر سے معافی مانگنے والے (ف۳۷)

١٨ . اور اللہ نے گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں (ف۳۸) اور فرشتوں نے اور عالموں نے (ف۳۹) انصاف سے قائم ہوکر اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں عزت والا حکمت والا،

١٩ . بیشک اللہ کے یہاں اسلام ہی دین ہے (ف۴۰) اور پھوٹ میں نہ پڑے کتابی (ف۴۱) مگر اس کے کہ انہیں علم آچکا (ف۴۲) اپنے دلو ں کی جلن سے (ف۴۳) اور جو اللہ کی آیتوں کا منکر ہو تو بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے،

٢٠ . پھر اے محبوب! اگر وہ تم سے حجت کریں تو فرمادو میں اپنا منہ اللہ کے حضور جھکائے ہوں اور جومیرے پیرو ہوئے (ف۴۴) اور کتابیوں اور اَن پڑھوں سے فرماؤ (ف۴۵) کیا تم نے گردن رکھی (ف۴۶) پس اگر وہ گردن رکھیں جب تو راہ پاگئے اور اگر منہ پھیریں تو تم پر تو یہی حکم پہنچادینا ہے (ف۴۷) اور اللہ بندوں کو کو دیکھ رہا ہے،

٢١ . وہ جو اللہ کی آیتوں سے منکر ہوتے اور پیغمبروں کو ناحق شہید کرتے (ف۴۸) اور انصاف کا حکم کرنے والوں کو قتل کرتے ہیں انہیں خوشخبری دو درناک عذاب کی،

٢٢ . یہ ہیں وہ جنکے اعمال اکارت گئے دنیا و آخرت میں (ف۴۹) اور ان کا کوئی مددگار نہیں (ف۵۰)

٢٣ . کیا تم نے انہیں دیکھا جنہیں کتاب کا ایک حصہ ملا (ف۵۱) کتاب اللہ کی طرف بلائے جاتے ہیں کہ وہ ان کا فیصلہ کرے پھر ان میں کا ایک گروہ اس سے روگرداں ہوکر پھر جاتا ہے (ف۵۲)

٢٤ . یہ جرأت (ف۵۳) انہیں اس لئے ہوئی کہ وہ کہتے ہیں ہرگز ہمیں آگ نہ چھوئے گی مگر گنتی کے دنوں (ف۵۴) اور ان کے دین میں انہیں فریب دیا اس جھوٹ نے جو باندھتے تھے (ف۵۵)

٢٥ . تو کیسی ہوگی جب ہم انہیں اکٹھا کریں گے اس دن کے لئے جس میں شک نہیں (ف۵۶) اور ہر جان کو اس کی کمائی پوری بھر (بالکل پوری) دی جائے گی اور ان پر ظلم نہ ہوگا،

٢٦ . یوں عرض کر، اے اللہ! ملک کے مالک تو جسے چاہے سلطنت دے اور جس سے چاہے چھین لے، اور جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے، ساری بھلائی تیرے ہی ہاتھ ہے، بیشک تو سب کچھ کرسکتا ہے (ف۵۷)

٢٧ . تو دن کا حصّہ رات میں ڈالے اور رات کا حصہ دن میں ڈالے (ف۵۸) اور مردہ سے زندہ نکالے اور زندہ سے مردہ نکالے (ف۵۹) اور جسے چاہے بے گنتی دے،

٢٨ . مسلمان کافروں کو اپنا دوست نہ بنالیں مسلمانوں کے سوا (ف۶۰) اور جو ایسا کرے گا اسے اللہ سے کچھ علاقہ نہ رہا مگر یہ کہ تم ان سے کچھ ڈرو (ف۶۱) اور اللہ تمہیں اپنے غضب سے ڈراتا ہے اور اللہ ہی کی طرف پھرنا ہے،

٢٩ . تم فرمادو کہ اگر تم اپنے جی کی بات چھپاؤ یا ظاہر کرو اللہ کو سب معلوم ہے، اور جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور ہر چیز پر اللہ کا قابو ہے،

٣٠ . جس دن ہر جان نے جو بھلا کیا حاضر پائے گی (ف۶۲) اور جو برا کام کیا، امید کرے گی کاش مجھ میں اور اس میں دور کا فاصلہ ہوتا (ف۶۳) اور اللہ تمہیں اپنے عذاب سے ڈراتا ہے، اور اللہ بندوں پر مہربان ہے،

٣١ . اے محبوب! تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا (ف۶۴) اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،

٣٢ . تم فرمادو کہ حکم مانو اللہ اور رسول کا (ف۶۵) پھر اگر وہ منہ پھیریں تو اللہ کو خوش نہیں آتے کافر،

٣٣ . بیشک اللہ نے چن لیا آدم اور نوح اور ابراہیم کی آ ل اولاد اور عمران کی آ ل کو سارے جہاں سے (ف۶۶)

٣٤ . یہ ایک نسل ہے ایک دوسرے سے (ف۶۷) اور اللہ سنتا جانتا ہے،

٣٥ . جب عمران کی بی بی نے عرض کی (ف۶۸) اے رب میرے! میں تیرے لئے منت مانتی ہو جو میرے پیٹ میں ہے کہ خالص تیری ہی خدمت میں رہے (ف۶۹) تو تو مجھ سے قبول کرلے بیشک تو ہی سنتا جانتا،

٣٦ . پھر جب اسے جنا بولی، اے رب میرے! یہ تو میں نے لڑکی جنی (ف۷۰) اور اللہ جو خوب معلوم ہے جو کچھ وہ جنی، اور وہ لڑکا جو اس نے مانگا اس لڑکی سا نہیں (ف۷۱) اور میں نے اس کا نام مریم رکھا (ف۷۲) اور میں اسے اور اس کی اولاد کو تیری پناہ میں دیتی ہوں راندے ہوئے شیطان سے،

٣٧ . تو اسے اس کے رب نے اچھی طرح قبول کیا (ف۷۳) اور اسے اچھا پروان چڑھایا (ف۷۴) اور اسے زکریا کی نگہبانی میں دیا، جب زکریا اس کے پاس اس کی نماز پڑھنے کی جگہ جاتے اس کے پاس نیا رزق پاتے (ف۷۵) کہا اے مریم! یہ تیرے پاس کہاں سے آیا، بولیں وہ اللہ کے پاس سے ہے، بیشک اللہ جسے چاہے بے گنتی دے (ف۷۶)

٣٨ . یہاں (ف۷۷) پکارا زکریا اپنے رب کو بولا اے رب! میرے مجھے اپنے پاس سے دے ستھری اولاد، بیشک تو ہی ہے دعا سننے والا،

٣٩ . تو فرشتوں نے اسے آواز دی اور وہ اپنی نماز کی جگہ کھڑا نماز پڑھ رہا تھا (ف۷۸) بیشک اللہ آپ کو مژدہ دیتا ہے یحییٰ کا جو اللہ کی طرف کے ایک کلمہ کی (ف۷۹) تصدیق کرے گا اور سردار (ف۸۰) اور ہمیشہ کے لیے عورتوں سے بچنے والا اور نبی ہمارے خاصوں میں سے (ف۸۱)

٤٠ . بولا اے میرے رب میرے لڑکا کہاں سے ہوگا مجھے تو پہنچ گیا بڑھا پا (ف۸۲) اور میری عورت بانجھ (ف۸۳) فرمایا اللہ یوں ہی کرتا ہے جو چاہے (ف۸۴)

٤١ . عرض کی اے میرے رب میرے لئے کوئی نشانی کردے (ف۸۵) فرمایا تیری نشانی یہ ہے کہ تین دن تو لوگوں سے بات نہ کرے مگر اشارہ سے اور اپنے رب کی بہت یاد کر (ف۸۶) اور کچھ دن رہے اور تڑکے اس کی پاکی بول،

٤٢ . اور جب فرشتوں نے کہا، اے مریم، بیشک اللہ نے تجھے چن لیا (ف۸۷) اور خوب ستھرا کیا (ف۸۸) اور آج سارے جہاں کی عورتوں سے تجھے پسند کیا (ف۸۹)

٤٣ . اے مریم اپنے رب کے حضور ادب سے کھڑی ہو (ف۹۰) اور اس کے لئے سجدہ کر اور رکوع والوں کے ساتھ رکوع کر،

٤٤ . یہ غیب کی خبریں ہیں کہ ہم خفیہ طور پر تمہیں بتاتے ہیں (ف۹۱) اور تم ان کے پاس نہ تھے جب وہ اپنی قلموں سے قرعہ ڈالتے تھے کہ مریم کس کی پرورش میں رہیں اور تم ان کے پاس نہ تھے جب وہ جھگڑ رہے تھے(ف۹۲)

٤٥ . اور یاد کرو جب فرشتو ں نے مریم سے کہا، اے مریم! اللہ تجھے بشارت دیتا ہے اپنے پاس سے ایک کلمہ کی (ف۹۳) جس کا نام ہے مسیح عیسیٰ مریم کا بیٹا رُو دار (باعزت) ہوگا (ف۹۴) دنیا اور آخرت میں اور قرب والا (ف۹۵)

٤٦ . اور لوگوں سے بات کرے گا پالنے میں (ف۹۶) اور پکی عمر میں (ف۹۷) اور خاصوں میں ہوگا، بولی اے میرے رب! میرے بچہ کہاں سے ہوگا مجھے تو کسی شخص نے ہاتھ نہ لگایا (ف۹۸)

٤٧ . فرمایا اللہ یوں ہی پیدا کرتا ہے جو چاہے جب، کسی کام کا حکم فرمائے تو اس سے یہی کہتا ہے کہ ہوجا وہ فوراً ہوجاتا ہے،

٤٨ . اور اللہ سکھائے گا کتاب اور حکمت اور توریت اور انجیل،

٤٩ . اور رسول ہوگا بنی اسرائیل کی طرف، یہ فرماتا ہو کہ میں تمہارے پاس ایک نشانی لایا ہوں (ف۹۹) تمہارے رب کی طرف سے کہ میں تمہارے لئے مٹی سے پرند کی سی مور ت بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ فوراً پرند ہوجاتی ہے اللہ کے حکم سے (ف۱۰۰) اور میں شفا دیتا ہوں مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو (ف۱۰۱) اور میں مُردے جلاتا ہوں اللہ کے حکم سے (ف۱۰۲) اور تمہیں بتاتا ہوں جو تم کھاتے اور جو اپنے گھروں میں جمع کر رکھتے ہو، (ف۱۰۳) بیشک ان باتوں میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو،

٥٠ . اور تصدیق کرتا آیا ہوں اپنے سے پہلے کتاب توریت کی اور اس لئے کہ حلال کروں تمہارے لئے کچھ وہ چیزیں جو تم پر حرام تھیں (ف۱۰۴) اور میں تمہارے پاس پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لایا ہوں، تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو،

٥١ . بیشک میرا تمہارا سب کا رب اللہ ہے تو اسی کو پوجو (ف۱۰۵) یہ ہے سیدھا راستہ،

٥٢ . پھر جب عیسیٰ نے ان سے کفر پایا (ف۱۰۶) بولا کون میرے مددگار ہوتے ہیں اللہ کی طرف، حواریوں نے کہا (ف۱۰۷) ہم دینِ خدا کے مددگار ہیں ہم اللہ پر ایمان لائے، اور آپ گواہ ہوجائیں کہ ہم مسلمان ہیں (ف۱۰۸)

٥٣ . اے رب ہمارے! ہم اس پر ایمان لائے جو تو نے اتارا اور رسول کے تابع ہوئے تو ہمیں حق پر گواہی دینے والوں میں لکھ لے،

٥٤ . اور کافروں نے مکر کیا (ف۱۰۹) اور اللہ نے ان کے ہلاک کی خفیہ تدبیر فرمائی اور اللہ سب سے بہتر چھپی تدبیر والا ہے (ف۱۱۰)

٥٥ . یاد کرو جب اللہ نے فرمایا اے عیسیٰ میں تجھے پوری عمر تک پہنچاؤں گا (ف۱۱۱) اور تجھے اپنی طرف اٹھالوں گا (ف۱۱۲) اور تجھے کافروں سے پاک کردوں گا اور تیرے پیروؤں کو (ف۱۱۳) قیامت تک تیرے منکروں پر (ف۱۱۴) غلبہ دوں گا پھر تم سب میری طرف پلٹ کر آؤ گے تو میں تم میں فیصلہ فرمادوں گا جس بات میں جھگڑتے ہو،

٥٦ . تو وہ جو کافر ہوئے میں انہیں دنیاو آخرت میں سخت عذاب کروں گا، اور انکا کوئی مددگار نہ ہوگا،

٥٧ . اور وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اللہ ان کا نیگ (انعام) انہیں بھرپور دے گا اور ظالم اللہ کو نہیں بھاتے،

٥٨ . یہ ہم تم پر پڑھتے ہیں کچھ آیتیں اور حکمت والی نصیحت،

٥٩ . عیسیٰ کی کہاوت اللہ کے نزدیک آدم کی طرح ہے (ف۱۱۵) اسے مٹی سے بنایا پھر فرمایا ہوجا وہ فوراً ہوجاتا ہے،

٦٠ . اے سننے والے! یہ تیرے رب کی طرف سے حق ہے تو شک والوں میں نہ ہونا،

٦١ . پھر اے محبوب! جو تم سے عیسیٰ کے بارے میں حجت کریں بعد اس کے کہ تمہیں علم آچکا تو ان سے فرما دو آ ؤ ہم بلائیں اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے اور اپنی عورتیں اور تمہاری عورتیں اور اپنی جانیں اور تمہاری جانیں، پھر مباہلہ کریں تو جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ڈالیں (ف۱۱۶)

٦٢ . یہی بیشک سچا بیان ہے (ف۱۱۷) اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں (ف۱۱۸) اور بیشک اللہ ہی غالب ہے حکمت والا،

٦٣ . پھر اگر وہ منہ پھیریں تو اللہ فسادیوں کو جانتا ہے،

٦٤ . تم فرماؤ، اے کتابیو! ایسے کلمہ کی طرف آؤ جو ہم میں تم میں یکساں ہے (ف۱۱۹) یہ کہ عبادت نہ کریں مگر خدا کی اور اس کا شریک کسی کو نہ کریں (ف۱۲۰) اور ہم میں کوئی ایک دوسرے کو رب نہ بنالے اللہ کے سوا (ف۱۲۱) پھر اگر وہ نہ مانیں تو کہہ دو تم گواہ رہو کہ ہم مسلمان ہیں،

٦٥ . اے کتاب والو! ابراہیم کے باب میں کیوں جھگڑتے ہو توریت و انجیل تو نہ اتری مگر ان کے بعد تو کیا تمہیں عقل نہیں (ف۱۲۲)

٦٦ . سنتے ہو یہ جو تم ہو (ف۱۲۳) اس میں جھگڑے جس کا تمہیں علم تھا (ف۱۲۴) تو اس میں (ف۱۲۵) کیوں جھگڑتے ہو جس کا تمہیں علم ہی نہیں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے (ف۱۲۶)

٦٧ . ابراہیم نہ یہودی تھے نہ نصرانی بلکہ ہر باطل سے جدا مسلمان تھے، اور مشرکوں سے نہ تھے (ف۱۲۷)

٦٨ . بیشک سب لوگوں سے ابراہیم کے زیادہ حق دار وہ تھے جو ان کے پیرو ہوئے (ف۱۲۸) اور یہ نبی (ف۱۲۹) اور ایمان والے (ف۱۳۰) اور ایمان والوں کا ولی اللہ ہے،

٦٩ . کتابیوں کا ایک گروہ دل سے چاہتا ہے کہ کسی طرح تمہیں گمراہ کردیں، اور وہ اپنے ہی آپ کو گمراہ کرتے ہیں اور انہیں شعور نہیں (ف۱۳۱)

٧٠ . اے کتابیو! اللہ کی آیتوں سے کیوں کفر کرتے ہو حالانکہ تم خود گواہی ہو (ف۱۳۲)

٧١ . اے کتابیو! حق میں باطل کیوں ملاتے ہو (ف۱۳۳) اور حق کیوں چھپاتے ہو حالانکہ تمہیں خبر ہے،

٧٢ . اور کتابیوں کا ایک گروہ بولا (ف۱۳۴) وہ جو ایمان والوں پر اترا (ف۱۳۵) صبح کو اس پر ایمان لاؤ اور شام کو منکر ہوجاؤ شاید وہ پھر جائیں (ف۱۳۶)

٧٣ . اور یقین نہ لاؤ مگر اس کا جو تمہارے دین کا پیرو ہو تم فرمادو کہ اللہ ہی کی ہدایت ہدایت ہے (ف۱۳۷) (یقین کا ہے کا نہ لاؤ) اس کا کہ کسی کو ملے (ف۱۳۸) جیسا تمہیں ملا یا کوئی تم پر حجت لاسکے تمہارے رب کے پاس (ف۱۳۹) تم فرمادو کہ فضل تو اللہ ہی کے ہاتھ ہے جسے چاہے دے، اور اللہ وسعت والا علم والا ہے،

٧٤ . اپنی رحمت سے (ف۱۴۰) خاص کرتا ہے جسے چاہے (ف۱۴۱) اور اللہ بڑے فضل والا ہے،

٧٥ . اور کتابیوں میں کوئی وہ ہے کہ اگر تو اس کے پاس ایک ڈھیر امانت رکھے تو وہ تجھے ادا کردے گا (ف۱۴۲) اور ان میں کوئی وہ ہے کہ اگر ایک اشرفی اس کے پاس امانت رکھے تو وہ تجھے پھیر کر نہ دے گا مگر جب تک تو اس کے سر پر کھڑا رہے (ف۱۴۳) یہ اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ اَن پڑھوں (ف۱۴۴) کے معاملہ میں ہم پر کوئی مؤاخذہ نہیں اور اللہ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھتے ہیں(ف۱۴۵)

٧٦ . ہاں کیوں نہیں جس نے اپنا عہد پورا کیا اور پرہیزگاری کی اور بیشک پرہیزگار اللہ کو خوش آتے ہیں،

٧٧ . جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے ذلیل دام لیتے ہیں (ف۱۴۶) آخرت میں ان کا کچھ حصہ نہیں اور اللہ نہ ان سے بات کرے نہ ان کی طرف نظر فرمائے قیامت کے دن اور نہ انہیں پاک کرے، اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے (ف۱۴۷)

٧٨ . اور ان میں کچھ وہ ہیں جو زبان پھیر کر کتاب میں میل (ملاوٹ) کرتے ہیں کہ تم سمجھو یہ بھی کتاب میں ہے اور وہ کتاب میں نہیں، اور وہ کہتے ہیں یہ اللہ کے پاس سے ہے اور وہ اللہ کے پاس سے نہیں، اور اللہ پر دیدہ و دانستہ جھوٹ باندھتے ہیں (ف۱۴۸)

٧٩ . کسی آدمی کا یہ حق نہیں کہ اللہ اسے کتاب اور حکم و پیغمبری دے (ف۱۴۹) پھر وہ لوگوں سے کہے کہ اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے ہوجاؤ (ف۱۵۰) ہاں یہ کہے گا کہ اللہ والے (ف۱۵۱) ہوجاؤ اس سبب سے کہ تم کتاب سکھاتے ہو اور اس سے کہ تم درس کرتے ہو(ف۱۵۲)

٨٠ . اور نہ تمہیں یہ حکم دے گا (ف۱۵۳) کہ فرشتوں اور پیغمبروں کو خدا ٹھیرالو، کیا تمہیں کفر کا حکم دے گا بعد اس کے کہ تم مسلمان ہولیے (ف۱۵۴)

٨١ . اور یاد کرو جب اللہ نے پیغمبروں سے ان کا عہد لیا (ف۱۵۵) جو میں تم کو کتاب اور حکمت دوں پھر تشریف لائے تمہارے پاس وہ رسول (ف۱۵۶) کہ تمہاری کتابوں کی تصدیق فرمائے (ف۱۵۷) تو تم ضرور ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور ضرور اس کی مدد کرنا، فرمایا کیوں تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا بھاری ذمہ لیا ؟ سب نے عرض کی، ہم نے اقرار کیا، فرمایا تو ایک دوسرے پر گواہ ہوجاؤ اور میں آپ تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں،

٨٢ . تو جو کوئی اس (ف۱۵۸) کے بعد پھرے (ف۱۵۹) تو وہی لوگ فاسق ہیں (ف۱۶۰)

٨٣ . تو کیا اللہ کے دین کے سوا اور دین چاہتے ہیں (ف۱۶۱) اور اسی کے حضور گردن رکھے ہیں جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں (ف۱۶۲) خوشی سے (ف۱۶۳) سے مجبوری سے (ف۱۶۴)

٨٤ . اور اُسی کی طرف پھیریں گے، یوں کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہماری طرف اترا اور جو اترا ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں پر اور جو کچھ ملا موسیٰ اور عیسیٰ اور انبیاء کو ان کے رب سے، ہم ان میں کسی پر ایمان میں فرق نہیں کرتے (ف۱۶۵) اور ہم اسی کے حضور گردن جھکائے ہیں

٨٥ . اور جو اسلام کے سوا کوئی دین چاہے گا وہ ہرگز اس سے قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں زیاں کاروں سے ہے،

٨٦ . کیونکر اللہ ایسی قوم کی ہدایت چاہے جو ایمان لاکر کافر ہوگئے (ف۱۶۶) اور گواہی دے چکے تھے کہ رسول (ف۱۶۷) سچا ہے اور انہیں کھلی نشانیاں آچکی تھیں (ف۱۶۸) اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں کرتا

٨٧ . ان کا بدلہ یہ ہے کہ ان پر لعنت ہے اللہ اور فرشتوں اور آدمیوں کی سب کی،

٨٨ . ہمیشہ اس میں رہیں، نہ ان پر سے عذاب ہلکا ہو اور نہ انہیں مہلت دی جائے،

٨٩ . مگر جنہوں نے اس کے بعد توبہ کی (ف۱۶۹) اور آپا سنبھالا تو ضرور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،

٩٠ . بیشک وہ جو ایمان لاکر کافر ہوئے پھر اور کفر میں بڑھے (ف۱۷۰) ان کی توبہ ہرگز قبول نہ ہوگی (ف۱۷۱) اور وہی ہیں بہکے ہوئے،

٩١ . وہ جو کافر ہوئے اور کافر ہی مرے ان میں کسی سے زمین بھر سونا ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اگرچہ اپنی خلاصی کو دے، ان کے لئے دردناک عذاب ہے اور ان کا کوئی یار نہیں۔

٩٢ . تم ہرگز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو (ف۱۷۲) اور تم جو کچھ خرچ کرو اللہ کو معلوم ہے،

٩٣ . سب کھانے بنی اسرائیل کو حلال تھے مگر وہ جو یعقوبؑ نے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا توریت اترنے سے پہلے تم فرماؤ توریت لاکر پڑھو اگر سچے ہو(ف۱۷۳)

٩٤ . تو اس کے بعد جو اللہ پر جھوٹ باندھے (ف۱۷۴) تو وہی ظالم ہیں،

٩٥ . تم فرماؤ اللہ سچا ہے، تو ابراہیم کے دین پر چلو (ف۱۷۵) جو ہر باطل سے جدا تھے اور شرک والوں میں نہ تھے،

٩٦ . بیشک سب میں پہلا گھر جو لوگوں کی عبادت کو مقرر ہوا وہ ہے جو مکہ میں ہے برکت والا اور سارے جہان کا راہنما (ف۱۷۶)

٩٧ . اس میں کھلی نشانیاں ہیں (ف۱۷۷) ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ (ف۱۷۸) اور جو اس میں آئے امان میں ہو (ف۱۷۹) اور اللہ کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے (ف۱۸۰) اور جو منکر ہو تو اللہ سارے جہان سے بے پرواہ ہے (ف۱۸۱)

٩٨ . تم فرماؤ اے کتابیو! اللہ کی آیتیں کیوں نہیں مانتے (ف۱۸۲) اور تمہارے کام اللہ سامنے ہیں،

٩٩ . تم فرماؤ اے کتابیو! کیوں اللہ کی راہ سے روکتے ہو (ف۱۸۳) اسے جو ایمان لائے اسے ٹیڑھا کیا چاہتے ہو اور تم خود اس پر گواہ ہو (ف۱۸۴) اور اللہ تمہارے کوتکوں (برے اعمال، کرتوت) سے بے خبر نہیں،

١٠٠ . اے ایمان والو! اگر تم کچھ کتابیوں کے کہے پر چلے تو وہ تمہارے ایمان کے بعد کافر کر چھوڑیں گے(ف۱۸۵)

١٠١ . اور تم کیوں کر کفر کروگے تم پر اللہ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں اور تم میں اس کا رسول تشریف لایا اور جس نے اللہ کا سہارا لیا تو ضرور وہ سیدھی راہ دکھایا گیا،

١٠٢ . اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور ہرگز نہ مرنا مگر مسلمان،

١٠٣ . اور اللہ کی رسی مضبوط تھام لو (ف۱۸۶) سب مل کر اور آپس میں پھٹ نہ جانا (فرقوں میں نہ بٹ جانا) (ف۱۸۷) اور اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب تم میں بیر تھا اس نے تمہارے دلوں میں ملاپ کردیا تو اس کے فضل سے تم آپس میں بھائی ہوگئے (ف۱۸۸) اور تم ایک غار دوزخ کے کنارے پر تھے (ف۱۸۹) تو اس نے تمہیں اس سے بچادیا (ف۱۹۰) اللہ تم سے یوں ہی اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں تم ہدایت پاؤ،

١٠٤ . اور تم میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہئے کہ بھلائی کی طرف بلائیں اور اچھی بات کا حکم دیں اور بری سے منع کریں (ف۱۹۱) اور یہی لوگ مراد کو پہنچے (ف۱۹۲)

١٠٥ . اور ان جیسے نہ ہونا جو آپس میں پھٹ گئے اور ان میں پھوٹ پڑگئی (ف۱۹۳) بعد اس کے کہ روشن نشانیاں انہیں آچکی تھیں (ف۱۹۴) اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے،

١٠٦ . جس دن کچھ منہ اونجالے ہوں گے اور کچھ منہ کالے تو وہ جن کے منہ کالے ہوئے (ف۱۹۵) کیا تم ایمان لاکر کافر ہوئے (ف۱۹۶) تو اب عذاب چکھو اپنے کفر کا بدلہ،

١٠٧ . اور وہ جن کے منہ اونجالے ہوئے (ف۱۹۷) وہ اللہ کی رحمت میں ہیں وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے،

١٠٨ . یہ اللہ کی آیتیں ہیں کہ ہم ٹھیک ٹھیک تم پر پڑھتے ہیں، اور اللہ جہاں والوں پر ظلم نہیں چاہتا(ف۱۹۸)

١٠٩ . اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور اللہ ہی کی طرف سب کاموں کی رجوع ہے،

١١٠ . تم بہتر ہو (ف۱۹۹) ان امتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو، اور اگر کتابی ایمان لاتے (ف۲۰۰) تو ان کا بھلا تھا، ان میں کچھ مسلمان ہیں (ف۲۰۱) اور زیادہ کافر،

١١١ . وہ تمہارے کچھ نہ بگاڑیں گے مگر یہی ستانا (ف۲۰۲) اور اگر تم سے لڑیں تو تمہارے سامنے سے پیٹھ پھیر جائیں گے (ف۲۰۳) پھر ان کی مدد نہ ہوگی،

١١٢ . ان پر جمادی گئی خواری جہاں ہوں امان نہ پائیں (ف۲۰۴) مگر اللہ کی ڈور (ف۲۰۵) اور آدمیوں کی ڈور سے (ف۲۰۶) اور غضب الٰہی کے سزاوار ہوئے اور ان پر جمادی گئی محتاجی (ف۲۰۷) یہ اس لئے کہ وہ اللہ کی آیتوں سے کفر کرتے اور پیغمبروں کو ناحق شہید کرتے، یہ اس لئے کہ نا فرمانبردار اور سرکش تھے،

١١٣ . سب ایک سے نہیں کتابیوں میں کچھ وہ ہیں کہ حق پر قائم ہیں (ف۲۰۸) اللہ کی آیتیں پڑھتے ہیں رات کی گھڑیوں میں اور سجدہ کرتے ہیں (ف۲۰۹)

١١٤ . اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لاتے ہیں اور بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے ہیں (ف۲۱۰) اور نیک کاموں پر دوڑتے ہیں، اور یہ لوگ لائق ہیں،

١١٥ . اور وہ جو بھلائی کریں ان کا حق نہ مارا جائے گا اور اللہ کو معلوم ہیں ڈر والے (ف۲۱۱)

١١٦ . وہ جو کافر ہوئے ان کے مال اور اولاد (ف۲۱۲) ان کو اللہ سے کچھ نہ بچالیں گے اور وہ جہنمی ہیں ان کو ہمیشہ اس میں رہنا (ف۲۱۳)

١١٧ . کہاوت اس کی جو اس دنیا میں زندگی میں (ف۲۱۴) خرچ کرتے ہیں اس ہوا کی سی ہے جس میں پالا ہو وہ ایک ایسی قوم کی کھیتی پر پڑی جو اپنا ہی برا کرتے تھے تو اسے بالکل مارگئی (ف۲۱۵) اور اللہ نے ان پر ظلم نہ کیا ہاں وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں،

١١٨ . اے ایمان والو! غیروں کو اپنا راز دار نہ بناؤ (ف۲۱۶) وہ تمہاری برائی میں کمی نہیں کرتے ان کی آرزو ہے، جتنی ایذا پہنچے بیَر ان کی باتوں سے جھلک اٹھا اور وہ (ف۲۱۷) جو سینے میں چھپائے ہیں اور بڑا ہے، ہم نے نشانیاں تمہیں کھول کر سنادیں اگر تمہیں عقل ہو (ف۲۱۸)

١١٩ . سنتے ہو یہ جو تم ہو تم تو انہیں چاہتے ہو (ف۲۱۹) اور وہ تمہیں نہیں چاہتے (ف۲۲۰) اور حال یہ کہ تم سب کتابوں پر ایمان لاتے ہو (ف۲۲۱) اور وہ جب تم سے ملتے ہیں کہتے ہیں ہم ایمان لائے (ف۲۲۲) اور اکیلے ہوں تو تم پر انگلیاں چبائیں غصہ سے تم فرمادو کہ مرجاؤ اپنی گھٹن (قلبی جلن) میں (ف۲۲۳) اللہ خوب جانتا ہے دلوں کی بات،

١٢٠ . تمہیں کوئی بھلائی پہنچے تو انہیں برا لگے (ف۲۲۴) اور تم کہ برائی پہنچے تو اس پر خوش ہوں، اور اگر تم صبر اور پرہیزگاری کیے رہو (ف۲۲۵) تو ان کا داؤ تمہارا کچھ نہ بگاڑے گا، بیشک ان کے سب کام خدا کے گھیرے میں ہیں،

١٢١ . اور یاد کرو اے محبوب! جب تم صبح کو (ف۲۲۶) اپنے دولت خانہ سے برآمد ہوئے مسلمانوں کو لڑائی کے مور چوں پر قائم کرتے (ف۲۲۷) اور اللہ سنتا جانتا ہے،

١٢٢ . جب تم میں کے دو گروہوں کا ارادہ ہوا کہ نامردی کرجائیں (ف۲۲۸) اور اللہ ان کا سنبھالنے والا ہے اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہئے،

١٢٣ . اور بیشک اللہ نے بدر میں تمہاری مدد کی جب تم بالکل بے سر و سامان تھے (ف۲۲۹) تو اللہ سے ڈرو کہیں تم شکر گزار ہو،

١٢٤ . جب اے محبوب تم مسلمانوں سے فرماتے تھے کیا تمہیں یہ کافی نہیں کہ تمہارا رب تمہاری مدد کرے تین ہزار فرشتہ اتار کر،

١٢٥ . ہا ں کیوں نہیں اگر تم صبرو تقویٰ کرو اور کافر اسی دم تم پر آپڑیں تو تمہارا رب تمہاری مدد کو پانچ ہزار فرشتے نشان والے بھیجے گا (ف۲۳۰)

١٢٦ . اور یہ فتح اللہ نے نہ کی مگر تمہاری خوشی کے لئے اور اسی لئے کہ اس سے تمہارے دلوں کو چین ملے (ف۲۳۱) اور مدد نہیں مگر اللہ غالب حکمت والے کے پاس سے (ف۲۳۲)

١٢٧ . اس لئے کہ کافروں کا ایک حصہ کاٹ دے (ف۲۳۳) یا انہیں ذلیل کرے کہ نامراد پھر جائیں،

١٢٨ . یہ بات تمہارے ہاتھ نہیں یا انہیں توبہ کی توفیق دے یا ان پر عذاب کرے کہ وہ ظالم ہیں،

١٢٩ . اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے عذاب کرے، اور اللہ بخشنے والا مہربان،

١٣٠ . اے ایمان والوں سود دونا دون نہ کھاؤ (ف۲۳۴) اللہ سے ڈرو اس امید پر کہ تمہیں فلاح ملے،

١٣١ . اور اس آگ سے بچو جو کافروں کے لئے تیار رکھی ہے (ف۲۳۵)

١٣٢ . اور اللہ و رسول کے فرمانبردار رہو (ف۲۳۶) اس امید پر کہ تم رحم کیے جاؤ،

١٣٣ . اور دوڑو (ف۲۳۷) اپنے رب کی بخشش اور ایسی جنت کی طرف جس کی چوڑان میں سب آسمان و زمین پرہیزگاروں کے لئے تیار کر رکھی ہے

١٣٤ . (ف۲۳۹) وہ جو اللہ کے راہ میں خرچ کرتے ہیں خوشی میں اور رنج میں (ف۲۴۰) اور غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے، اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں،

١٣٥ . اور وہ کہ جب کوئی بے حیائی یا اپنی جانوں پر ظلم کریں (ف۲۴۱) اللہ کو یاد کرکے اپنے گناہوں کی معافی چاہیں (ف۲۴۲) اور گناہ کون بخشے سوا اللہ کے، اور اپنے کیے پر جان بوجھ کر اڑ نہ جائیں،

١٣٦ . ایسوں کو بدلہ ان کے رب کی بخشش اور جنتیں ہیں (ف۲۴۳) جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں اور کامیوں (نیک لوگوں) کا اچھا نیگ (انعام، حصہ) ہے (ف۲۴۴)

١٣٧ . تم سے پہلے کچھ طریقے برتاؤ میں آچکے ہیں (ف۲۴۵) تو زمین میں چل کر دیکھو کیسا انجام ہوا جھٹلانے والوں کا (ف۲۴۶)

١٣٨ . یہ لوگوں کو بتانا اور راہ دکھانا اور پرہیزگاروں کو نصیحت ہے،

١٣٩ . اور نہ سستی کرو اور نہ غم کھاؤ (ف۲۴۷) تم ہی غالب آؤ گے اگر ایمان رکھتے ہو،

١٤٠ . اگر تمہیں (ف۲۴۸) کوئی تکلیف پہنچی تو وہ لوگ بھی ویسی ہی تکلیف پاچکے ہیں (ف۲۴۹) اور یہ دن ہیں جن میں ہم نے لوگوں کے لیے باریاں رکھی ہیں (ف۲۵۰) اور اس لئے کہ اللہ پہچان کرادے ایمان والوں کی (ف۲۵۱) اور تم میں سے کچھ لوگوں کو شہادت کا مرتبہ دے اور اللہ دوست نہیں رکھتا ظالموں کو،

١٤١ . اور اس لئے کہ اللہ مسلمانوں کا نکھار کردے (ف۲۵۲) اور کافروں کو مٹادے (ف۲۵۳)

١٤٢ . کیا اس گمان میں ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے اور ابھی اللہ نے تمہارے غازیوں کا امتحان نہ لیا اور نہ صبر والوں آزمائش کی(ف۲۵۴)

١٤٣ . اور تم تو موت کی تمنا کیا کرتے تھے اس کے ملنے سے پہلے (ف۲۵۵) تو اب وہ تمہیں نظر آئی آنکھوں کے سامنے،

١٤٤ . اور محمد تو ایک رسول (ف۲۵۶) ان سے پہلے اور رسول ہوچکے (ف۲۵۷) تو کیا اگر وہ انتقال فرمائیں یا شہید ہوں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤں گے اور جو الٹے پاؤں پھرے گا اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا، اور عنقریب اللہ شکر والوں کو صلہ دے گا،

١٤٥ . اور کوئی جان بے حکم خدا مر نہیں سکتی (ف۲۵۹) سب کا وقت لکھا رکھا ہے (ف۲۶۰) اور دنیا کا انعام چاہے ۰ف۲۶۱) ہم اس میں سے اسے دیں اور جو آخرت کا انعام چاہے ہم اس میں سے اسے دیں (ف۲۶۲) اور قریب ہے کہ ہم شکر والوں کو صلہ عطا کریں،

١٤٦ . اور کتنے ہی انبیاء نے جہاد کیا ان کے ساتھ بہت خدا والے تھے، تو نہ سست پڑے ان مصیبتوں سے جو اللہ کی راہ میں انہیں پہنچیں اور نہ کمزور ہوئے اور نہ دبے (ف۲۶۳) اور صبر والے اللہ کو محبوب ہیں،

١٤٧ . اور وہ کچھ بھی نہ کہتے تھے سوا اس دعا کے (ف۲۶۴) کہ اے ہمارے رب بخش دے ہمارے گناہ اور جو زیادتیاں ہم نے اپنے کام کیں (ف۲۶۵) اور ہمارے قدم جما دے اور ہمیں ان کافر لوگوں پر مدد دے(ف۲۶۶)

١٤٨ . تو اللہ نے انہیں دنیا کا انعام دیا (ف۲۶۷) اور آخرت کے ثواب کی خوبی (ف۲۶۸) اور نیکی والے اللہ کو پیارے ہیں،

١٤٩ . اے ایمان والو! اگر تم کافروں کے کہے پر چلے (ف۲۶۹) تو وہ تمہیں الٹے پاؤں لوٹادیں گے (ف۲۷۰) پھر ٹوٹا کھا کے پلٹ جاؤ گے (ف۲۷۱)

١٥٠ . بلکہ اللہ تمہارا مولا ہے اور وہ سب سے بہتر مددگار،

١٥١ . کوئی دم جاتا ہے کہ ہم کافروں کے دلوں میں رعب ڈالیں گے (ف۲۷۲) کہ انہوں نے اللہ کا شریک ٹھہرایا جس پر اس نے کوئی سمجھ نہ اتاری اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور کیا برا ٹھکانا ناانصافوں کا،

١٥٢ . اور بیشک اللہ نے تمہیں سچ کر دکھایا اپنا وعدہ جب کہ تم اس کے حکم سے کافروں کو قتل کرتے تھے (ف۲۷۳) یہاں تک کہ جب تم نے بزدلی کی اور حکم میں جھگڑا ڈالا (ف۲۷۴) اور نافرمانی کی (ف۲۷۵) بعد اس کے کہ اللہ تمہیں دکھا چکا تمہاری خوشی کی بات (ف۲۷۶) تم میں کوئی دنیا چاہتا تھا (ف۲۷۷) اور تم میں کوئی آخرت چاہتا تھا (ف۲۷۸) پھر تمہارا منہ ان سے پھیردیا کہ تمہیں آزمائے (ف۲۷۹) اور بیشک اس نے تمہیں معاف کردیا، اور اللہ مسلمانوں پر فضل کرتا ہے،

١٥٣ . جب تم منہ اٹھائے چلے جاتے تھے اور پیٹھ پھیر کر کسی کو نہ دیکھتے اور دوسری جماعت میں ہمارے رسول تمہیں پکار رہے تھے (ف۲۸۰) تو تمہیں غم کا بدلہ غم دیا (ف۲۸۱) اور معافی اس لئے سنائی کہ جو ہاتھ سے گیا اور جو افتاد پڑی اس کا رنج نہ کرو اور اللہ کوتمہارے کاموں کی خبر ہے،

١٥٤ . پھر تم پر غم کے بعد چین کی نیند اتاری (ف۲۸۲) کہ تمہاری ایک جماعت کو گھیرے تھی (ف۲۸۳) اور ایک گروہ کو (ف۲۸۴) اپنی جان کی پڑی تھی (ف۲۸۵) اللہ پر بے جا گمان کرتے تھے (ف۲۸۶) جاہلیت کے سے گمان، کہتے کیا اس کام میں کچھ ہمارا بھی اختیار ہے تم فرمادو کہ اختیار تو سارا اللہ کا ہے (ف۲۸۷) اپنے دلوں میں چھپاتے ہیں (ف۲۸۸) جو تم پر ظاہر نہیں کرتے کہتے ہیں، ہمارا کچھ بس ہوتا (ف۲۸۹) تو ہم یہاں نہ مارے جاتے، تم فرمادو کہ اگر تم اپنے گھروں میں ہوتے جب بھی جن کا مارا جانا لکھا جاچکا تھا اپنی قتل گاہوں تک نکل آتے (ف۲۹۰) اور اس لئے کہ اللہ تمہارے سینوں کی بات آزمائے اور جو کچھ تمہارے دلو ں میں ہے (ف۲۹۱) اسے کھول دے اور اللہ دلوں کی بات جانتا ہے(ف۲۹۲)

١٥٥ . بیشک وہ جو تم میں سے پھرگئے (ف۲۹۳) جس دن دونوں فوجیں ملی تھیں انہیں شیطان ہی نے لغزش دی ان کے بعض اعمال کے باعث (ف۲۹۴) اور بیشک اللہ نے انہیں معاف فرمادیا، بیشک اللہ بخشنے والا حلم والا ہے،

١٥٦ . اے ایمان والو! ان کافروں (ف۲۹۵) کی طرح نہ ہونا جنہوں نے اپنے بھائیوں کی نسبت کہا کہ جب وہ سفر یا جہاد کو گئے (ف۲۹۶) کہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے اور نہ مارے اتے اس لئے اللہ ان کے دلوں میں اس کا افسوس رکھے، اور اللہ جِلاتا اور مارتا ہے (ف۲۹۷) اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے،

١٥٧ . اور بیشک اگر تم اللہ کی راہ میں مارے جاؤ یا مرجاؤ تو اللہ کی بخشش اور رحمت (ف۲۹۹) ان کے سارے دھن دولت سے بہتر ہے،

١٥٨ . اور اگر تم مرو یا مارے جاؤ تو اللہ کی طرف اٹھنا ہے (ف۳۰۰)

١٥٩ . تو کیسی کچھ اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب! تم ان کے لئے نرم دل ہوئے (ف۳۰۱) اور اگر تند مزاج سخت دل ہوتے (ف۳۰۲) تو وہ ضرور تمہارے گرد سے پریشان ہوجاتے تو تم انہیں معاف فرماؤ او ر ان کی شفاعت کرو (ف۳۰۳) اور کاموں میں ان سے مشورہ لو (ف۳۰۴) اور جو کسی بات کا ارادہ پکا کرلو تو اللہ پر بھروسہ کرو (ف۳۰۵) بیشک توکل والے اللہ کو پیارے ہیں،

١٦٠ . اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا (ف۳۰۶) اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو ایسا کون ہے جو پھر تمہاری مدد کرے اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہئے،

١٦١ . اور کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ وہ کچھ چھپا رکھے (ف۳۰۷) اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا پھر ہر جان کو ان کی کمائی بھرپور دی جائے گی اور ان پر ظلم نہ ہوگا،

١٦٢ . تو کیا جو اللہ کی مرضی پر چلا (ف۳۰۸) وہ اس جیسا ہوگا جس نے اللہ کا غضب اوڑھا (ف۳۰۹) اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے، اور کیا بری جگہ پلٹنے کی،

١٦٣ . وہ اللہ کے یہاں درجہ درجہ ہیں (ف۳۱۰) اور اللہ ان کے کام دیکھتا ہے،

١٦٤ . بیشک اللہ کا بڑا احسان ہوا (ف۳۱۱) مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے (ف۳۱۲) ایک رسول (ف۳۱۳) بھیجا جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے (ف۳۱۴) اور انہیں پاک کرتا ہے (ف۳۱۵) اور انہیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے (ف۳۱۶) اور وہ ضرور اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے(ف۳۱۷)

١٦٥ . کیا جب تمہیں کوئی مصیبت پہنچے (ف۳۱۸) کہ اس سے دونی تم پہنچا چکے ہو (ف۳۱۹) تو کہنے لگو کہ یہ کہاں سے آئی (ف۳۲۰) تم فرمادو کہ وہ تمہاری ہی طرف سے آئی (ف۳۲۱) بیشک اللہ سب کچھ کرسکتا ہے،

١٦٦ . اور وہ مصیبت جو تم پر آئی (ف۳۲۲) جس دن دونوں فوجیں (ف۳۲۳) ملی تھیں وہ اللہ کے حکم سے تھی اور اس لئے کہ پہچان کرادے ایمان والوں کی،

١٦٧ . اور اس لئے کہ پہچان کرادے، ان کی جو منافق ہوئے (ف۳۲۴) اور ان سے کہا گیا کہ ا ٓؤ (ف۳۲۶) اللہ کی راہ میں لڑو یا دشمن کو ہٹاؤ (ف۳۲۷) بولے اگر ہم لڑائی ہوتی جانتے تو ضرو ر تمہارا ساتھ دیتے، اور اس دن ظاہری ایمان کی بہ نسبت کھلے کفر سے زیادہ قریب ہیں، اپنے منہ سے کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں اور اللہ کو معلوم ہے جو چھپارہے ہیں (ف۳۲۸)

١٦٨ . وہ جنہوں نے اپنے بھائیوں کے بارے میں (ف۳۲۹) کہا اور آپ بیٹھ رہے کہ وہ ہمارا کہا مانتے (ف۳۳۰) تو نہ مارے جاتے تم فرمادو تو اپنی ہی موت ٹال دو اگر سچے ہو(ف۳۳۱)

١٦٩ . اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے (ف۳۳۲) ہر گز انہیں مردہ نہ خیال کرنا، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں روزی پاتے ہیں (ف۳۳۳)

١٧٠ . شاد ہیں اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا (ف۳۳۴) اور خوشیاں منارہے ہیں اپنے پچھلوں کی جو ابھی ان سے نہ ملے (ف۳۳۵) کہ ان پر نہ کچھ اندیشہ ہے اور نہ کچھ غم،

١٧١ . خوشیاں مناتے ہیں اللہ کی نعمت اور فضل کی اور یہ کہ اللہ ضائع نہیں کرتا اجر مسلمانوں کا(ف۳۳۶)

١٧٢ . وہ جو اللہ و رسول کے بلانے پر حاضر ہوئے بعد اس کے کہ انہیں زخم پہنچ چکا تھا (ف۳۳۷) ان کے نکوکاروں اور پرہیزگاروں کے لئے بڑا ثواب ہے،

١٧٣ . وہ جن سے لوگوں نے کہا (ف۳۳۸) کہ لوگوں نے (ف۳۳۹) تمہارے لئے جتھا جوڑا تو ان س ے ڈرو تو ان کا ایمان اور زائد ہوا اور بولے اللہ ہم کو بس ہے اور کیا اچھا کارساز (ف۳۴۰)

١٧٤ . تو پلٹے اللہ کے احسان اور فضل سے (ف۳۴۱) کہ انہیں کوئی برائی نہ پہنچی اور اللہ کی خوشی پر چلے (ف۳۴۲) اور اللہ بڑے فضل والا ہے (ف۳۴۳)

١٧٥ . وہ تو شیطان ہی ہے کہ اپنے دوستوں سے دھمکاتا ہے (ف۳۴۴) تو ان سے نہ ڈرو (ف۳۴۵) اور مجھ سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو (ف ۳۴۶)

١٧٦ . اور اے محبوب! تم ان کا کچھ غم نہ کرو جو کفر پر دوڑتے ہیں (ف۳۴۷) وہ اللہ کا کچھ بگاڑیں گے اور اللہ چاہتا ہے کہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہ رکھے (ف۳۴۸) اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے،

١٧٧ . وہ جنہوں نے ایمان کے بدلے کفر مول لیا (ف۳۴۹) اللہ کا کچھ نہ بگاڑیں گے اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے،

١٧٨ . اور ہرگز کافر اس گمان میں نہ رہیں کہ وہ جو ہم انہیں ڈھیل دیتے ہیں کچھ ان کے لئے بھلا ہے، ہم تو اسی لئے انہیں ڈھیل دیتے ہیں کہ اور گناہ میں بڑھیں (ف۳۵۰) اور ان کے لئے ذلت کا عذاب ہے،

١٧٩ . اللہ مسلمانوں کو اس حال پر چھوڑنے کا نہیں جس پر تم ہو (ف۳۵۱) جب تک جدا نہ کردے گندے کو (ف۳۵۲) ستھرے سے (ف۳۵۳) اور اللہ کی شان یہ نہیں کہ اے عام لوگو! تمہیں غیب کا علم دے دے ہاں اللہ چن لیتا ہے اپنے رسولوں سے جسے چاہے (ف۳۵۴) تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسولوں پر اور اگر ایمان لاؤ (ف۳۵۵) اور پرہیزگاری کرو تو تمہارے لئے بڑا ثواب ہے،

١٨٠ . اور جو بخل کرتے ہیں (ف۳۵۶) اس چیز میں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دی ہرگز اسے اپنے لئے اچھا نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لئے برا ہے، عنقریب وہ جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہوگا (ف۳۵۷) اور اللہ ہی وارث ہے آسمانوں اور زمین کا (ف۳۵۸) اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے،

١٨١ . بیشک اللہ نے سنا جنہوں نے کہا کہ اللہ محتاج ہے اور ہم غنی (ف۳۵۹) اور ہم غنی (ف۳۵۹) اب ہم لکھ رکھیں گے ان کا کہا (ف۳۶۰) اور انبیاء کو ان کا ناحق شہید کرنا (ف۳۶۱) اور فرمائیں گے کہ چکھو آگ کا عذاب،

١٨٢ . یہ بدلا ہے اس کا جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجا اور اللہ بندوں پر ظلم نہیں کرتا،

١٨٣ . وہ جو کہتے ہیں اللہ نے ہم سے اقرار کر لیا ہے کہ ہم کسی رسول پر ایمان نہ لائیں جب تک ایسی قربانی کا حکم نہ لائے جس آ گ کھائے (ف۳۶۲) تم فرمادو مجھ سے پہلے بہت رسول تمہارے پاس کھلی نشانیاں اور یہ حکم لے کر آئے جو تم کہتے ہو پھر تم نے انہیں کیوں شہید کیا اگر سچے ہو(ف۳۶۳)

١٨٤ . تو اے محبوب! اگر وہ تمہاری تکذیب کرتے ہیں تو تم سے اگلے رسولوں کی بھی تکذیب کی گئی ہے جو صاف نشانیاں (ف۳۶۴) اور صحیفے اور چمکتی کتاب (ف۳۶۵) لے کر آئے تھے

١٨٥ . ہر جان کو موت چکھنی ہے، اور تمہارے بدلے تو قیامت ہی کو پورے ملیں گے، جو آگ سے بچا کر جنت میں داخل کیا گیا وہ مراد کو پہنچا، اور دنیا کی زندگی تو یہی دھوکے کا مال ہے(ف۳۶۶)

١٨٦ . بیشک ضرور تمہاری آزمائش ہوگی تمہارے مال اور تمہاری جانوں میں (ف۳۶۷) اور بیشک ضرور تم اگلے کتاب والوں (ف۳۶۸) اور مشرکوں سے بہت کچھ برا سنو گے اور اگر تم صبر کرو اور بچتے رہو (ف۳۶۹) تو یہ بڑی ہمت کا کام ہے،

١٨٧ . اور یاد کرو جب اللہ نے عہد لیا ان سے جنہیں کتاب عطا فرمائی کہ تم ضرور اسے لوگوں سے بیان کردینا اور نہ چھپانا (ف۳۷۰) تو انہوں نے اسے اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا اور اس کے بدلے ذلیل دام حاصل کیے (ف۳۷۱) تو کتنی بری خریداری ہے (ف۳۷۲)

١٨٨ . ہر گز نہ سمجھنا انہیں جو خوش ہوتے ہیں اپنے کیے پر اور چاہتے ہیں کہ بے کیے ان کی تعریف ہو (ف۳۷۳) ایسوں کو ہرگز عذاب سے دور نہ جاننا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے

١٨٩ . اور اللہ ہی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی (ف۳۷۴) اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے،

١٩٠ . بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کی باہم بدلیوں میں نشانیاں ہیں (ف۳۷۵) عقلمندوں کے لئے (ف۳۷۶)

١٩١ . جو اللہ کی یاد کرت ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے (ف۳۷۷) اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں (ف۳۷۸) اے رب ہمارے! تو نے یہ بیکار نہ بنایا (ف۳۷۹) پاکی ہے تجھے تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے،

١٩٢ . اے رب ہمارے! بیشک جسے تو دوزخ میں لے جائے اسے ضرور تو نے رسوائی دی اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں،

١٩٣ . اے رب ہمارے ہم نے ایک منادی کو سنا (ف۳۸۰) کہ ایمان کے لئے ندا فرماتا ہے کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لائے اے رب ہمارے تو ہمارے گنا بخش دے اور ہماری برائیاں محو فرمادے اور ہماری موت اچھوں کے ساتھ کر (ف۳۸۱)

١٩٤ . اے رب ہمارے! اور ہمیں دے وہ (ف۳۸۲) جس کا تو نے ہم سے وعدہ کیا ہے اپنے رسولوں کی معرفت اور ہمیں قیامت کے دن رسوانہ کر، بیشک تو وعدہ خلاف نہیں کرتا،

١٩٥ . تو ان کی دعا سن لی ان کے رب نے کہ میں تم میں کام والے کی محنت اکارت نہیں کرتا مرد ہو یا عورت تم آپس میں ایک ہو (ف۳۸۳) تو وہ جنہوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں ستائے گئے اور لڑے اور مارے گء ے میں ضرور ان کے سب گناہ اتار دوں گا اور ضرور انہیں باغوں میں لے جاؤں گا جن کے نیچے نہریں رواں (ف۳۸۴) اللہ کے پاس کا ثواب، اور اللہ ہی کے پاس اچھا ثواب ہے،

١٩٦ . اے سننے والے! کافروں کا شہروں میں اہلے گہلے پھرنا ہرگز تجھے دھوکا نہ دے (ف۳۱۵)

١٩٧ . تھوڑا برتنا، ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور کیا ہی برا بچھونا،

١٩٨ . لیکن وہ جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لئے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ان میں رہیں اللہ کی طرف کی، مہمانی اور جو اللہ پاس ہے وہ نیکوں کے لئے سب سے بھلا (ف۳۸۶)

١٩٩ . اور بیشک کچھ کتابیں ایسے ہیں کہ اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور اس پر جو تمہاری طرف اترا اور جو ان کی طرف اترا (ف۳۸۷) ان کے دل اللہ کے حضور جھکے ہوئے (ف۳۸۸) اللہ کی آیتوں کے بدلے ذلیل دام نہیں لیتے (ف۳۸۹) یہ وہ ہیں، جن کا ثواب ان کے رب کے پاس ہے اور اللہ جلد حساب کرنے والا ہے،

٢٠٠ . اے ایمان والو! صبر کرو (ف۳۹۰) اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہو اور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو اس امید پر کہ کامیاب ہو،