;

١ . الم

٢ . رومی مغلوب ہوئے، (ف۲)

٣ . پاس کی زمین میں (ف۳) اور اپنی مغلوبی کے عنقریب غالب ہوں گے (ف۴)

٤ . چند برس میں (ف۵) حکم اللہ ہی کا ہے آگے اور پیچھے (ف۶) اور اس دن ایمان والے خوش ہوں گے،

٥ . اللہ کی مدد سے (ف۷) مدد کرتا ہے جس کی چاہے، اور وہی عزت والا مہربان،

٦ . اللہ کا وعدہ (ف۸) اللہ اپنا وعدہ خلاف نہیں کرتا لیکن بہت لوگ نہیں جانتے (ف۹)

٧ . جانتے ہیں آنکھوں کے سامنے کی دنیوی زندگی (ف۱۰) اور وہ آخرت سے پورے بے خبر ہیں،

٨ . کیا انہوں نے اپنے جی میں نہ سوچا کہ، اللہ نے پیدا نہ کیے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے مگر حق (ف۱۱)اور ایک مقرر میعاد سے (ف۱۲) اور بیشک بہت سے لوگ اپنے رب سے ملنے کا انکار رکھتے ہیں (ف۱۳)

٩ . اور کیا انہوں نے زمین میں سفر نہ کیا کہ دیکھتے کہ ان سے اگلوں کا انجام کیسا ہوا (ف۱۴) وہ ان سے زیادہ زور آور تھے اور زمین جوتی اور آباد کی ان (ف۱۵) کی آبادی سے زیادہ اور ان کے رسول ان کے پاس روشن نشانیاں لائے (ف۱۶) تو اللہ کی شان نہ تھی کہ ان پر ظلم کرتا (ف۱۷) ہاں وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے (ف۱۸)

١٠ . پھر جنہوں نے حد بھر کی برائی کی ان کا انجام یہ ہوا کہ اللہ کی آیتیں جھٹلانے لگے اور ان کے ساتھ تمسخر کرتے،

١١ . اللہ پہلے بناتا ہے پھر دوبارہ بنائے گا (ف۱۹) پھر اس کی طرف پھروگے (ف۲۰)

١٢ . اور جس دن قیامت قائم ہوگی مجرموں کی آس ٹوٹ جائے گی (ف۲۱)

١٣ . اور ان کے شریک (ف۲۲) ان کے سفارشی نہ ہوں گے اور وہ اپنے شریکوں سے منکر ہوجائیں گے،

١٤ . اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن الگ ہوجائیں گے (ف۲۳)

١٥ . تو وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے باغ کی کیاری میں ان کی خاطرداری ہوگی (ف۲۴)

١٦ . اور جو کافر ہوئے اور ہماری آیتیں اور آخرت کا ملنا جھٹلایا (ف۲۵) وہ عذاب میں لادھرے (ڈال دیے) جائیں گے (ف۲۶)

١٧ . تو اللہ کی پاکی بولو (ف۲۷) جب شام کرو (ف۲۸) اور جب صبح ہو (ف۲۹)

١٨ . اور اسی کی تعریف ہے آسمانوں اور زمین میں (ف۳۰) اور کچھ دن رہے (ف۳۱) اور جب تمہیں دوپہر ہو (ف۳۲)

١٩ . وہ زندہ کو نکالتا ہے مردے سے (ف۳۳) اور مردے کو نکالتا ہے زندہ سے (ف۳۴) اور زمین کو جٕلا تا ہے اس کے مرے پیچھے (ف۳۵) اور یوں ہی تم نکالے جاؤ گے (ف۳۶)

٢٠ . اور اس کی نشانیوں سے ہے یہ کہ تمہیں پیدا کیا مٹی سے (ف۳۷) پھر جبھی تو انسان ہو دنیا میں پھیلے ہوئے،

٢١ . اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے کہ ان سے آرام پاؤ اور تمہارے آپس میں محبت اور رحمت رکھی (ف۳۸) بیشک اس میں نشانیاں ہیں دھیان کرنے والوں کے لیے،

٢٢ . اور اس کی نشانیوں سے ہے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگتوں کا اختلاف (ف۳۹) بیشک اس میں نشانیاں ہیتں جاننے والوں کے لیے،

٢٣ . اور اس کی نشانیوں میں ہے رات اور دن میں تمہارا سونا (ف۴۰) اور اس کا فضل تلاش کرنا (ف۴۱) بیشک اس میں نشانیاں ہیں سننے والوں کے لیے (ف۴۲)

٢٤ . اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ تمہیں بجلی دکھاتا ہے ڈراتی (ف۴۳) اور امید دلاتی (ف۴۴) اور آسمان سے پانی اتارتا ہے، تو اس سے زمین کو زندہ کرتا ہے اس کے مرے پیچھے، بیشک اس میں نشانیاں ہیں عقل والوں کے لیے (ف۴۵)

٢٥ . اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ اس کے حکم سے آسمان اور زمین قائم ہیں (ف۴۶) پھر جب تمہیں زمین سے ایک ندا فرمائے گا (ف۴۷) جبھی تم نکل پڑو گے (ف۴۸)

٢٦ . اور اسی کے ہیں جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں، سب اس کے زیر حکم ہیں،

٢٧ . اور وہی ہے کہ اول بنا تا ہے پھر اسے دوبارہ بنائے گا (ف۴۹) اور یہ تمہاری سمجھ میں اس پر زیا دہ آسان ہونا چاہیے (ف۵۰) اور اسی کے لیے ہے سب سے برتر شان آسمانوں اور زمین میں (ف۵۱) اور وہی عزت و حکمت والا ہے،

٢٨ . تمہارے لیے (ف۵۲) ایک کہاوت بیان فرماتا ہے خود تمہارے اپنے حال سے (ف۵۳) کیا تمہارے لیے تمہارے ہاتھ کے غلاموں میں سے کچھ شریک ہیں (ف۵۴) اس میں جو ہم نے تمہیں روزی دی (ف۵۵) تو تم سب اس میں برابر ہو (ف۵۶) تم ان سے ڈرو (ف۵۷) جیسے آپس میں ایک دوسرے سے ڈرتے ہو (ف۵۸) ہم ایسی مفصل نشانیاں بیان فرماتے ہیں عقل والوں کے لیے،

٢٩ . بلکہ ظالم (ف۵۹) اپنی خواہشوں کے پیچھے ہولیے بے جانے (ف۶۰) تو اسے کون ہدایت کرے جسے خدا نے گمراہ کیا (ف۶۱) اور ان کا کوئی مددگار نہیں (ف۶۲)

٣٠ . تو اپنا منہ سیدھا کرو اللہ کی اطاعت کے لیے ایک اکیلے اسی کے ہوکر (ف۶۳) اللہ کی ڈالی ہوئی بنا جس پر لوگوں کو پیدا کیا (ف۶۴) اللہ کی بنائی چیز نہ بدلنا (ف۶۵) یہی سیدھا دین ہے، مگر بہت لوگ نہیں جانتے (ف۶۶)

٣١ . اس کی طرف رجوع لاتے ہوئے (ف۶۷) اور اس سے ڈرو اور نماز قائم رکھو اور مشرکوں سے نہ ہو،

٣٢ . ان میں سے جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا (ف۶۸) اور ہوگئے گروہ گروہ، ہر گروہ جو اس کے پاس ہے اسی پر خوش ہے (ف۶۹)

٣٣ . اور جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے (ف۷۰) تو اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی طرف رجوع لاتے ہوئے پھر جب وہ انہیں اپنے پاس سے رحمت کا مزہ دیتا ہے (ف۷۱) جبھی ان میں سے ایک گروہ اپنے رب کا شریک ٹھہرانے لگتا ہے،

٣٤ . کہ ہمارے دیے کی ناشکری کریں، تو برت لو (ف۷۲) اب قریب جاننا چاہتے ہو (ف۷۳)

٣٥ . یا ہم نے ان پر کوئی سند اتاری (ف۷۴) کہ ہو انہیں ہمارے شریک بتارہی ہے (ف۷۵)

٣٦ . اور جب ہم لوگوں کو رحمت کا مزہ دیتے ہیں (ف۷۶) اس پر خوش ہوجاتے ہیں (ف۷۷) اور اگر انہیں کوئی برائی پہنچے (ف۷۸) بدلہ اس کا جو ان کے ہاتھوں نے بھیجا (ف۷۹) جبھی وہ ناامید ہوجاتے ہیں (ف۸۰)

٣٧ . اور کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ اللہ رزق وسیع فرماتا ہے جس کے لیے چاہے اور تنگی فرماتا ہے جس کے لیے چاہے بیشک اس میں نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لیے،

٣٨ . تو رشتہ دار کو اس کا حق دو (ف۸۱) اور مسکین اور مسافر کو (ف۸۲) یہ بہتر ہے ان کے لیے جو اللہ کی رضا چاہتے ہیں (ف۸۳) اور انہیں کا کام بنا،

٣٩ . اور تم جو چیز زیادہ لینے کو دو کہ دینے والے کے مال بڑھیں تو وہ اللہ کے یہاں نہ بڑھے گی (ف۸۴) اور جو تم خیرات دو اللہ کی رضا چاہتے ہوئے (ف۸۵) تو انہیں کے دُونے ہیں (ف۸۶)

٤٠ . اللہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہیں روزی دی پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں جِلائے گا (ف۸۷) کیا تمہارے شریکوں میں (ف۸۸) بھی کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کچھ کرے (ف۸۹) پاکی اور برتری ہے اسے ان کے شرک سے،

٤١ . چمکی خرابی خشکی اور تری میں (ف۹۰) ان برائیوں سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائیں تاکہ انہیں ان کے بعض کوتکوں (برے کاموں) کا مزہ چکھائے کہیں وہ باز آئیں (ف۹۱)

٤٢ . تم فرماؤ زمین میں چل کر دیکھو کیا انجام ہوا اگلوں کا، ان میں بہت مشرک تھے (ف۹۲)

٤٣ . تو اپنا منہ سیدھا کر عبادت کے لیے (ف۹۳) قبل اس کے کہ وہ دن آئے جسے اللہ کی طرف ٹلنا نہیں (ف۹۴) اس دن الگ پھٹ جائیں گے (ف۹۵)

٤٤ . جو کفر کرے اس کے کفر کا وبال اسی پر اور جو اچھا کام کریں وہ اپنے ہی لیے تیاری کررہے ہیں (ف۹۶)

٤٥ . تاکہ صلہ دے (ف۹۷) انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اپنے فضل سے، بیشک وہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا،

٤٦ . اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ ہوائیں بھیجتا ہے مژدہ سناتی (ف۹۸) اور اس لیے کہ تمہیں اپنی رحمت کا ذائقہ دے اور اس لیے کہ کشتی (ف۹۹) اس کے حکم سے چلے اور اس لیے کہ اس کا فضل تلاش کرو (ف۱۰۰) اور اس لیے کہ تم حق مانو (ف۱۰۱)

٤٧ . اور بیشک ہم نے تم سے پہلے کتنے رسول ان کی قوم کی طرف بھیجے تو وہ ان کے پاس کھلی نشانیاں لائے (ف۱۰۲) پھر ہم نے مجرموں سے بدلہ لیا (ف۱۰۳) اور ہمارے ذمہٴ کرم پر ہے مسلمانوں کی مدد فرمانا (ف۱۰۴)

٤٨ . اللہ ہے کہ بھیجتا ہے ہوائیں کہ ابھارتی ہیں بادل پھر اسے پھیلادیتا ہے آسمان میں جیسا چاہے (ف۱۰۵) اور اسے پارہ پارہ کرتا ہے (ف۱۰۶) تو تُو دیکھے کہ اس کے یبچ میں مینھ نکل رہا ہے پھر جب اسے پہنچاتا ہے (ف۱۰۷) اپنے بندوں میں جس کی طرف چاہے جبھی وہ خوشیاں مناتے ہیں،

٤٩ . اگرچہ اس کے اتارنے سے پہلے آس توڑے ہوئے تھے،

٥٠ . تو اللہ کی رحمت کے اثر دیکھو (ف۱۰۸) کیونکر زمین کو جِلاتا ہے اس کے مَرے پیچھے (ف۱۰۹) بیشک مردوں کو زندہ کرے گا اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے،

٥١ . اور اگر ہم کوئی ہوا بھیجیں (ف۱۱۰) جس سے وہ کھیتی کو زرد دیکھیں (ف۱۱۱) تو ضرور اس کے بعد ناشکری کرنے لگے (ف۱۱۲)

٥٢ . اس لیے کہ تم مُردوں کو نہیں سناتے (ف۱۱۳) اور نہ بہروں کو پکارنا سناؤ جب وہ پیٹھ دے کر پھیریں (ف۱۱۴)

٥٣ . اور نہ تم اندھوں کو (ف۱۱۵) ان کی گمراہی سے راہ پر لاؤ، تو تم اسی کو سناتے ہو جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے تو وہ گردن رکھے ہوئے ہیں،

٥٤ . اللہ ہے جس نے تمہیں ابتداء میں کمزور بنایا (ف۱۱۶) پھر تمہیں ناتوانی سے طاقت بخشی (ف۱۱۷) پھر قوت کے بعد (ف۱۱۸) کمزوری اور بڑھاپا دیا، بناتا ہے جو چاہے (ف۱۱۹) اور وہی علم و قدرت والا ہے،

٥٥ . اور جس دن قیامت قائم ہوگی مجرم قسم کھائیں گے کہ نہ رہے تھے مگر ایک گھڑی (ف۱۲۰) وہ ایسے ہی اوندھے جاتے تھے (ف۱۲۱)

٥٦ . اور بولے وہ جن کو علم اور ایمان مِلا (ف۱۲۲) بیشک تم رہے اللہ کے لکھے ہوئے میں (ف۱۲۳) اٹھنے کے دن تک تو یہ ہے وہ دن اٹھنے کا (ف۱۲۴) لیکن تم نہ جانتے تھے (ف۱۲۵)

٥٧ . تو اس دن ظالموں کو نفع نہ دے گی ان کی معذرت اور نہ ان سے کوئی راضی کرنا مانگے (ف۱۲۶)

٥٨ . اور بیشک ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثال بیان فرمائی (ف۱۲۷) اور اگر تم ان کے پاس کوئی نشانی لاؤ تو ضرور کافر کہیں گے تم تو نہیں مگر باطل پر،

٥٩ . یوں ہی مہر کردیتا ہے اللہ جاہلوں کے دلوں پر (ف۱۲۸)

٦٠ . تو صبرکرو (ف۱۲۹) بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے (ف۱۳۰) اور تمہیں سبک نہ کردیں وہ جو یقین نہیں رکھتے (ف۱۳۱)