;

١ . الم

٢ . کتاب کا اتارنا (ف۲) بیشک پروردگار عالم کی طرف سے ہے،

٣ . کیا کہتے ہیں (ف۳) ان کی بنائی ہوئی ہے (ف۴) بلکہ وہی حق ہے تمہارے رب کی طرف سے کہ تم ڈراؤ ایسے لوگوں کو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی ڈر سنانے والا نہ آیا (ف۵) اس امید پر کہ وہ راہ پائیں،

٤ . اللہ ہے جس نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے چھ دن میں بنائے پھر عرش پر استوا فرمایا (ف۶) اس سے چھوٹ کر (لا تعلق ہوکر) تمہارا کوئی حمایتی اور نہ سفارشی (ف۷) تو کیا تم دھیان نہیں کرتے،

٥ . کام کی تدبیر فرماتا ہے آسمان سے زمین تک (ف۸) پھر اسی کی طرف رجوع کرے گا (ف۹) اس دن کہ جس کی مقدار ہزار برس ہے تمہاری گنتی میں (ف۱۰)

٦ . یہ (ف۱۱) ہے ہر نہاں اور عیاں کا جاننے والا عزت و رحمت والا،

٧ . وہ جس نے جو چیز بتائی خوب بنائی (ف۲۱) اور پیدائش انسان کی ابتدا مٹی سے فرمائی (ف۱۳)

٨ . پھر اس کی نسل رکھی ایک بے قدر پانی کے خلاصہ سے (ف۱۴)

٩ . پھر اسے ٹھیک کیا اور اس میں اپنی طرف کی روح پھونکی (ف۱۵) اور تمہیں کان اور آنکھیں اور دل عطا فرمائے (ف۱۶) کیا ہی تھوڑا حق مانتے ہو،

١٠ . اور بولے (ف۱۷) کیا جب ہم مٹی میں مل جائیں گے (ف۱۸) کیا پھر نئے بنیں گے، بلکہ وہ اپنے رب کے حضور حاضری سے منکر ہیں (ف۱۹)

١١ . تم فرماؤ تمہیں وفات دیتا ہے موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر ہے (ف۲۰) پھر اپنے رب کی طرف واپس جاؤ گے (ف۲۱)

١٢ . اور کہیں تم دیکھو جب مجرم (ف۲۲) اپنے رب کے پاس سر نیچے ڈالے ہوں گے (ف۲۳) اے ہمارے رب اب ہم نے دیکھا (ف۲۴) اور سنا (ف۲۵) ہمیں پھر بھیج کہ نیک کام کریں ہم کو یقین آگیا (ف۲۶)

١٣ . اور اگر ہم چاہتے ہر جان کو اس کی ہدایت فرماتے (ف۲۷) مگر میری بات قرار پاچکی کہ ضرور جہنم کو بھردوں گا ان جِنوں اور آدمیوں سب سے (ف۲۸)

١٤ . اب چکھو بدلہ اس کا کہ تم اپنے اس دن کی حاضری بھولے تھے (ف۲۹) ہم نے تمہیں چھوڑ دیا (ف۳۰) اب ہمیشہ کا عذاب چکھو اپنے کیے کا بدلہ،

١٥ . ہماری آیتوں پر وہی ایمان لاتے ہیں کہ جب وہ انہیں یاد دلائی جاتی ہیں سجدہ میں گر جاتے ہیں (ف۳۱) اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے اس کی پاکی بولتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے، السجدة۔۹

١٦ . ان کی کروٹیں جدا ہوتی ہیں خوابگاہوں ہسے (ف۳۲) اور اپنے رب کو پکارتے ہیں ڈرتے اور امید کرتے (ف۳۳) اور ہمارے دیے ہوئے سے کچھ خیرات کرتے ہیں،

١٧ . تو کسی جی کو نہیں معلوم جو آنکھ کی ٹھنڈک ان کے لیے چھپا رکھی ہے (ف۳۴) صلہ ان کے کاموں کا (ف۳۵)

١٨ . تو کیا جو ایمان والا ہے وہ اس جیسا ہوجائے گا جو بے حکم ہے (ف۳۶) یہ برابر نہیں،

١٩ . جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کے لیے بسنے کے باغ ہیں، ان کے کاموں کے صلہ میں مہمانداری (ف۳۷)

٢٠ . رہے وہ جو بے حکم ہیں (ف۳۸) ان کا ٹھکانا آ گ ہے، جب کبھی اس میں سے نکلنا چاہیں گے پھر اسی میں پھیر دیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا چکھو اس آگ کا عذاب جسے تم جھٹلاتے تھے،

٢١ . اور ضرور ہم انہیں چکھائیں گے کچھ نزدیک کا عذاب (ف۱۳۹) اس بڑے عذاب سے پہلے (ف۴۰) جسے دیکھنے والا امید کرے کہ ابھی باز آئیں گے،

٢٢ . اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جسے اس کے رب کی آیتوں سے نصیحت کی گئی پھر اس نے ان سے منہ پھیر لیا (ف۴۱) بیشک ہم مجرموں سے بدلہ لینے والے ہیں،

٢٣ . اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب (ف۴۲) عطا فرمائی تو تم اس کے ملنے میں شک نہ کرو (ف۴۳) اور ہم نے اسے (ف۴۴) بنی اسرائیل کے لیے ہدایت کیا،

٢٤ . اور ہم نے ان میں سے (ف۴۵) کچھ امام بنائے کہ ہمارے حکم سے بناتے (ف۴۶) جبکہ انہوں نے صبر کیا (ف۴۷) اور وہ ہماری آیتوں پر یقین لاتے تھے،

٢٥ . بیشک تمہارا رب ان میں فیصلہ کردے گا (ف۴۸) قیامت کے دن جس بات میں اختلاف کرتے تھے (ف۴۹)

٢٦ . اور کیا انہیں (ف۵۰) اس پر ہدایت نہ ہوئی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں (قومیں) (ف۵۱) ہلاک کردیں کہ آج یہ ان کے گھروں میں چل پھر رہے ہیں (ف۵۲) بیشک اس میں ضرور نشانیاں ہیں تو کیا سنتے نہیں (ف۵۳)

٢٧ . اور کیا نہیں دیکھتے کہ ہم پانی بھیجتے ہیں خشک زمین کی طرف (ف۵۴) پھر اس سے کھیتی نکالتے ہیں کہ اس میں سے ان کے چوپائے اور وہ خود کھاتے ہیں (ف۵۵) تو کیا انہیں سوجھتانہیں (ف۵۶)

٢٨ . اور کہتے ہیں یہ فیصلہ کب ہوگا اگر تم سچے ہو (ف۵۷)

٢٩ . تم فرماؤ فیصلہ کے دن (ف۵۸) کافروں کو ان کا ایمان لانا نفع نہ دے گا اور نہ انہیں مہلت ملے (ف۵۹)

٣٠ . تو ان سے منہ پھیرلو اور انتظار کرو (ف۶۰) بیشک انہیں بھی انتظار کرنا ہے (ف۶۱)