;

١ . سب خوبیاں اللہ کو جو آسمانوں اور زمین کا بنانے والا فرشتوں کو رسول کرنے والا (ف۲) جن کے دو دو تین تین چار چار پر ہیں، بڑھاتا ہے آفرینش (پیدائش) میں جو چاہے (ف۳) بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے،

٢ . اللہ جو رحمت لوگوں کے لیے کھولے (ف۴) اس کا کوئی روکنے والا نہیں، اور جو کچھ روک لے تو اس کی روک کے بعد اس کا کوئی چھوڑنے والا نہیں، اور وہی عزت و حکمت والا ہے،

٣ . اے لوگو! اپنے اوپر اللہ کا احسان یاد کرو (ف۵) کیا اللہ کے سوا اور بھی کوئی خالق ہے کہ آسمان اور زمین سے (ف۶) تمہیں روزی دے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو تم کہاں اوندھے جاتے ہو (ف۷)

٤ . اور اگر یہ تمہیں جھٹلائیں (ف۸) تو بیشک تم سے پہلے کتنے ہی رسول جھٹلائے گئے (ف۹) اور سب کام اللہ ہی کی طرف سے پھرتے ہیں (ف۱۰)

٥ . اے لوگو! بیشک اللہ کا وعدہ سچ ہے (ف۱۱) تو ہرگز تمہیں دھوکا نہ دے دنیا کی زندگی، (ف۱۲) اور ہرگز تمہیں اللہ کے حکم پر فریب نہ دے وہ بڑا فریبی (ف۱۳)

٦ . بیشک شیطان تمہارا دشمن ہے تو تم بھی اسے دشمن سمجھو (ف۱۴) وہ تو اپنے گروہ کو (ف۱۵) اسی لیے بلاتا ہے کہ دوزخیوں میں ہوں (ف۱۶)

٧ . کافروں کے لیے (ف۱۷) سخت عذاب ہے، اور جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے (ف۱۸) ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے،

٨ . تو کیا وہ جس کی نگاہ میں اس کا برا کام آراستہ کیا گیا کہ اس نے اسے بھلا سمجھا ہدایت والے کی طرح ہوجائے گا (ف۱۹) اس لیے اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہے اور راہ دیتا ہے جسے چاہے، تو تمہاری جان ان پر حسرتوں میں نہ جائے (ف۲۰) اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں،

٩ . اور اللہ ہے جس نے بھیجیں ہوائیں کہ بادل ابھارتی ہیں، پھر ہم اسے کسی مردہ شہر کی طرف رواں کرتے ہیں (ف۲۱) تو اس کے سبب ہم زمین کو زندہ فرماتے ہیں اس کے مرے پیچھے (ف۲۲) یونہی حشر میں اٹھنا ہے (ف۲۳)

١٠ . جسے عزت کی چاہ ہو تو عزت تو سب اللہ کے ہاتھ ہے (ف۲۴) اسی کی طرف چڑھتا ہے پاکیزہ کلام (ف۲۵) اور جو نیک کام سے وہ اسے بلند کرتا ہے (ف۲۶) اور وہ جو برے داؤں (فریب) کرتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے (ف۲۷) اور انہیں کا مکر برباد ہوگا (ف۲۸

١١ . اور اللہ نے تمہیں بنایا (ف۲۹) مٹی سے پھر (ف۳۰) پانی کی بوند سے پھر تمہیں کیا جوڑے جوڑے (ف۳۱) اور کسی مادہ کو پیٹ نہیں رہتا اور نہ وہ جتنی ہے مگر اس کے علم سے، اور جس بڑی عمر والے کو عمر دی جائے یا جس کسی کی عمر کم رکھی جائے یہ سب ایک کتاب میں ہے (ف۳۲) بیشک یہ اللہ کو آسان ہے (ف۳۳)

١٢ . اور دونوں سمندر ایک سے نہیں (ف۳۴) یہ میٹھا ہے خوب میٹھا پانی خوشگوار اور یہ کھاری ہے تلخ اور ہر ایک میں سے تم کھاتے ہو تازہ گوشت (ف۳۵) اور نکالتے ہو پہننے کا ایک گہنا (زیور) (ف۳۶) اور تو کشتیوں کو اس میں دیکھے کہ پانی چیرتی ہیں (ف۳۷) تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو (ف۳۸) اور کسی طرح حق مانو (ف۳۹)

١٣ . رات لاتا ہے دن کے حصہ میں (ف۴۰) اور دن لاتا ہے رات کے حصہ میں (ف۴۱) اور اس نے کام میں لگائے سورج اور چاند ہر ایک ایک مقرر میعاد تک چلتا ہے (ف۴۲) یہ ہے اللہ تمہارا رب اسی کی بادشاہی ہے، اور اس کے سوا جنہیں تم پوجتے ہو (ف۴۳) دانہ خُرما کے چھلکے تک کے مالک نہیں،

١٤ . تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری پکار نہ سنیں، (ف۴۴) اور بالفرض سن بھی لیں تو تمہاری حاجت روانہ کرسکیں (ف۴۵) اور قیامت کے دن وہ تمہارے شرک سے منکر ہوں گے (ف۴۶) اور تجھے کوئی نہ بتائے گا اس بتانے والے کی طرح (ف۴۷)

١٥ . اے لوگو! تم سب اللہ کے محتاج (ف۴۸) اور اللہ ہی بے نیاز ہے سب خوبیوں سراہا،

١٦ . وہ چاہے تو تمہیں لے جائے (ف۴۹) اور نئی مخلوق لے آئے (ف۵۰)

١٧ . اور یہ اللہ پر کچھ دشوار نہیں،

١٨ . اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی (ف۵۱) اور اگر کوئی بوجھ والی اپنا بوجھ بٹانے کو کسی کو بلائے تو اس کے بوجھ میں سے کوئی کچھ نہ اٹھائے گا اگرچہ قریب رشتہ دار ہو (ف۵۲) اے محبوب! تمہارا ڈر سناتا انہیں کو کام دیتا ہے جو بے دیکھے اپنے رب! سے ڈرتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں، اور جو ستھرا ہوا (ف۵۳) تو اپنے ہی بھلے کو ستھرا ہوا (ف۵۴) اور اللہ ہی کی طرف پھرنا ہے،

١٩ . اور برابر نہیں اندھا اور انکھیارا (ف۵۵)

٢٠ . اور نہ اندھیریاں (ف۵۶) اور اجالا (ف۵۷)

٢١ . اور نہ سایہ (ف۵۸) اور نہ تیز دھوپ (ف۵۹)

٢٢ . اور برابر نہیں زندے اور مردے (ف۶۰) بیشک اللہ سنا تا ہے جسے چاہے (ف۶۱) اور تم نہیں سنانے والے انہیں جو قبروں میں پڑے ہیں (ف۶۲)

٢٣ . تم تو یہی ڈر سنانے والے ہو (ف۶۳)

٢٤ . اے محبوب! بیشک ہم نے تمہیں حق کے ساتھ بھیجا خوشخبری دیتا (ف۶۴) اور ڈر سنا تا (ف۶۵) اور جو کوئی گروہ تھا سب میں ایک ڈر سنانے والا گزر چکا (ف۶۶)

٢٥ . اور اگر یہ (ف۶۷) تمہیں جھٹلائیں تو ان سے اگلے بھی جھٹلاچکے ہیں (ف۶۸) ان کے پاس ان کے رسول آئے روشن دلیلیں (ف۶۹) اور صحیفے اور چمکتی کتاب (ف۷۰) لے کر،

٢٦ . پھر میں نے کافروں کو پکڑا (ف۷۱) تو کیسا ہوا میرا انکار (ف۷۲)

٢٧ . کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا (ف۷۳) تو ہم نے اس سے پھل نکالے رنگ برنگ (ف۷۴) اور پہاڑوں میں راستے ہیں سفید اور سرخ رنگ رنگ کے او رکچھ کالے بھوچنگ (سیاہ کالے)

٢٨ . اور آدمیوں اور جانوروں اور چوپایوں کے رنگ یونہی طرح طرح کے ہیں (ف۷۵) اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں (ف۷۶) بیشک اللہ بخشنے والا عزت والا ہے،

٢٩ . بیشک وہ جو اللہ کی کتاب پڑھتے ہیں اور نماز قائم رکھتے اور ہمارے دیے سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں پوشیدہ اور ظاہر وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں (ف۷۷) جس میں ہرگز ٹوُٹا (نقصان) نہیں،

٣٠ . تاکہ ان کے ثواب انہیں بھرپور دے اور اپنے فضل سے اور زیادہ عطا کرے، بیشک وہ بخشنے والا قدر فرمانے والا ہے،

٣١ . اور ہو کتاب جو ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی (ف۷۸) وہی حق ہے اپنے سے اگلی کتابوں کی تصدیق فرماتی ہوئی، بیشک اللہ اپنے بندوں سے خبردار دیکھنے والا ہے (ف۷۹)

٣٢ . پھر ہم نے کتاب کا وارث کیا اپنے چُنے ہوئے بندوں کو (ف۸۰) تو ان میں کوئی اپنی جان پر ظلم کرتا ہے اور ان میں کوئی میانہ چال پر ہے، اور ان میں کوئی وہ ہے جو اللہ کے حکم سے بھلائیوں میں سبقت لے گیا (ف۸۱) یہی بڑا فضل ہے،

٣٣ . بسنے کے باغوں میں داخل ہوں گے وہ (ف۸۲) ان میں سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے اور وہاں ان کی پوشاک ریشمی ہے،

٣٤ . اور کہیں گے سب خوبیاں اللہ کو جس نے ہمارا غم دور کیا (ف۸۳) بیشک ہمارا رب بخشنے والا قدر فرمانے والا ہے (ف۸۴)

٣٥ . وہ جس نے ہمیں آرام کی جگہ اتارا اپنے فضل سے، ہمیں اس میں نہ کوئی تکلیف پہنچے نہ ہمیں اس میں کوئی تکان لاحق ہو،

٣٦ . اور جنہوں نے کفر کیا ان کے لیے جہنم کی آگ ہے نہ ان کی قضا آئے کہ مرجائیں (ف۸۵) اور نہ ان پر اس کا (ف۸۶) عذاب کچھ ہلکا کیاجائے، ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں ہر بڑے ناشکرے کو،

٣٧ . اور وہ اس میں چلاتے ہوں گے (ف۸۷) اے ہمارے رب! ہمیں نکال (ف۸۸) کہ ہم اچھا کام کریں اس کے خلاف جو پہلے کرتے تھے (ف۸۹) اور کیا ہم نے تمہیں وہ عمر نہ دی تھی جس میں سمجھ لیتا جسے سمجھنا ہوتا اور ڈر سنانے والا (ف۹۰) تمہارے پاس تشریف لایا تھا (ف۹۱) تو اب چکھو (ف۹۲) کہ ظالموں کا کوئی مددگار نہیں،

٣٨ . بیشک اللہ جاننے والا ہے آسمانوں اور زمین کی ہر چھپی بات کا، بیشک وہ دلوں کی بات جانتا ہے،

٣٩ . وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں اگلوں کا جانشین کیا (ف۹۳) تو جو کفر کرے (ف۹۴) اس کا کفر اسی پر پڑے (ف۹۵) اور کافروں کو ان کا کفر ان کے رب کے یہاں نہیں بڑھائے گا مگر بیزاری (ف۹۶) اور کافروں کو ان کا کفر نہ بڑھائے گا مگر نقصان (ف۹۷)

٤٠ . تم فرماؤ بھلا بتلاؤ تو اپنے وہ شریک (ف۹۸) جنہیں اللہ کے سوا پوجتے ہو مجھے دکھاؤ انہوں نے زمین میں سے کونسا حصہ بنایا یا آسمانوں میں کچھ ان کا ساجھا ہے (ف۹۹) یا ہم نے انہیں کوئی کتاب دی ہے کہ وہ اس کی روشن دلیلوں پر ہیں (ف۱۰۰) بلکہ ظالم آپس میں ایک دوسرے کو وعدہ نہیں دیتے مگر فریب کا (ف۱۰۱)

٤١ . بیشک اللہ روکے ہوئے ہے آسمانوں اور زمین کو کہ جنبش نہ کریں (ف۱۰۲) اور اگر وہ ہٹ جائیں تو انہیں کون روکے اللہ کے سوا، بیشک وہ علم بخشنے والا ہے،

٤٢ . اور انہوں نے اللہ کی قسم کھائی اپنی قسموں میں حد کی کوشش سے کہ اگر ان کے پاس کوئی ڈر سنانے والا آیا تو وہ ضرور کسی نہ کسی گروہ سے زیادہ راہ پر ہوں گے (ف۱۰۳) پھر جب ان کے پاس ڈر سنانے والا تشریف لایا (ف۱۰۴) تو اس نے انہیں نہ بڑھا مگر نفرت کرنا (ف۱۰۵)

٤٣ . اپنی جان کو زمین میں اونچا کھینچنا اور برا داؤں (ف۱۰۶) اور برا داؤں (فریب) اپنے چلنے والے ہی پر پڑتا ہے (ف۱۰۷) تو کا ہے کے انتظار میں ہیں مگر اسی کے جو اگلوں کا دستور ہوا (ف۱۰۸) تو تم ہرگز اللہ کے دستور کو بدلتا نہ پاؤ گے اور ہرگز اللہ کے قانون کو ٹلتا نہ پاؤ گے،

٤٤ . اور کیا انہوں نے زمین میں سفر نہ کیا کہ دیکھتے ان سے اگلوں کا کیسا انجام ہوا (ف۱۰۹) اور وہ ان سے زور میں سخت تھے (ف۱۱۰) اور اللہ وہ نہیں جس کے قابو سے نکل سکے کوئی شئے آسمانوں اور نہ زمین میں، بیشک وہ علم و قدرت والا ہے،

٤٥ . اور اگر اللہ لوگوں کو ان کے کیے پر پکڑتا (ف۱۱۱) تو زمین کی پیٹھ پر کوئی چلنے والا نہ چھوڑتا لیکن ایک مقرر میعاد (ف۱۱۲) تک انہیں ڈھیل دیتا ہے پھر جب ان کا وعدہ آئے گا تو بیشک اللہ کے سب بندے اس کی نگاہ میں ہیں (ف۱۱۳)