;

١ . اس نامور قرآن کی قسم (ف۲)

٢ . بلکہ کافر تکبر اور خلاف میں ہیں (ف۳)

٣ . ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں کھپائیں (ف۴) تو اب وہ پکاریں (ف۵) اور چھوٹنے کا وقت نہ تھا (ف۶)

٤ . اور انہیں اس کا اچنبھا ہوا کہ ان کے پاس انہیں میں کا ایک ڈر سنانے والا تشریف لایا (ف۷) اور کافر بولے یہ جادوگر ہے بڑا جھوٹا،

٥ . کیا اس نے بہت خداؤں کا ایک خدا کردیا (ف۸) بیشک یہ عجیب بات ہے،

٦ . اور ان میں کے سردار چلے (ف۹) کہ اس کے پاس سے چل دو اور اپنے خداؤں پر صابر رہو بیشک اس میں اس کا کوئی مطلب ہے،

٧ . یہ تو ہم نے سب سے پہلے دینِ نصرانیت میں بھی نہ سنی (ف۱۰) یہ تو نری نئی گڑھت ہے،

٨ . کیا ان پر قرآن اتارا گیا ہم سب میں سے (ف۱۱) بلکہ وہ شک میں ہیں میری کتاب سے (ف۱۲) بلکہ ابھی میری مار نہیں چکھی ہے (ف۱۳)

٩ . کیا وہ تمہارے رب کی رحمت کے خزانچی ہیں (ف۱۴) وہ عزت والا بہت عطا فرمانے والا ہے (ف۱۵)

١٠ . کیا ان کے لیے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، تو رسیاں لٹکا کر چڑھ نہ جائیں (ف۱۶)

١١ . یہ ایک ذلیل لشکر ہے انہیں لشکروں میں سے جو وہیں بھگادیا جائے گا (ف۱۷)

١٢ . ان سے پہلے جھٹلا چکے ہیں نوح کی قوم اور عاد اور چومیخا کرنے والے فرعون (ف۱۸)

١٣ . اور ثمود اور لوط کی قوم اور بن والے (ف۱۹) یہ ہیں وہ گروہ (ف۲۰)

١٤ . ان میں کوئی ایسا نہیں جس نے رسولوں کو نہ جھٹلایا ہو تو میرا عذاب لازم ہوا (ف۲۱)

١٥ . اور یہ راہ نہیں دیکھتے مگر ایک چیخ کی (ف۲۲) جسے کوئی پھیر نہیں سکتا،

١٦ . اور بولے اے ہمارے رب ہمارا حصہ ہمیں جلد دے دے حساب کے دن سے پہلے (ف۲۳)

١٧ . تم ان کی باتوں پر صبر کرو اور ہمارے بندے داؤد نعمتوں والے کو یاد کرو (ف۲۴) بیشک وہ بڑا رجوع کرنے والا ہے (ف۲۵)

١٨ . بیشک ہم نے اس کے ساتھ پہاڑ مسخر فرمادیے کہ تسبیح کرتے (ف۲۶) شام کو اور سورج چمکتے (ف۲۷)

١٩ . اور پرندے جمع کیے ہوئے (ف۲۸) سب اس کے فرمانبردار تھے (ف۲۹)

٢٠ . اور ہم نے اس کی سلطنت کو مضبوط کیا (ف۳۰) اور اسے حکمت (ف۳۱) اور قولِ فیصل دیا (ف۳۲)

٢١ . اور کیا تمہیں (ف۳۳) اس دعوے والوں کی بھی خبر آئی جب وہ دیوار کود کر داؤد کی مسجد میں آئے (ف۳۴)

٢٢ . جب وہ داؤد پر داخل ہوئے تو وہ ان سے گھبرا گیا انہوں نے عرض کی ڈریے نہیں ہم دو فریق ہیں کہ ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے (ف۳۵) تو ہم میں سچا فیصلہ فرمادیجئے اور خلافِ حق نہ کیجئے (ف۳۶) اور ہمیں سیدھی راہ بتایے،

٢٣ . بیشک یہ میرا بھائی ہے (ف۳۷) اس کے پاس ننانوے دُنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک دُنبی، اب یہ کہتا ہے وہ بھی مجھے حوالے کردے اور بات میں مجھ پر زور ڈالتا ہے،

٢٤ . داؤد نے فرمایا بیشک یہ تجھ پر زیادتی کرتا ہے کہ تیری دُنبی اپنی دُنبیوں میں ملانے کو مانگتا ہے، اور بیشک اکثر ساجھے والے ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہیں مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور وہ بہت تھوڑے ہیں (ف۳۸) اب داؤد سمجھا کہ ہم نے یہ اس کی جانچ کی تھی (ف۳۹) تو اپنے رب سے معافی مانگی اور سجدے میں گر پڑا (ف۴۰) اور رجوع لایا، (السجدة ۱۰)

٢٥ . تو ہم نے اسے یہ معاف فرمایا، اور بیشک اس کے لیے ہماری بارگاہ میں ضرور قرب اور اچھا ٹھکانا ہے،

٢٦ . اے داؤد بیشک ہم نے تجھے زمین میں نائب کیا (ف۴۱) تو لوگوں میں سچا حکم کر اور خواہش کے پیچھے نہ جانا کہ تجھے اللہ کی راہ سے بہکادے گی، بیشک وہ جو اللہ کی راہ سے بہکتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے اس پر کہ وہ حساب کے دن کو بھول بیٹھے (ف۴۲)

٢٧ . اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے بیکار نہ بنائے، یہ کافروں کا گمان ہے (ف۴۳) تو کافروں کی خرابی ہے آگ سے،

٢٨ . کیا ہم انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان جیسا کردیں جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، یا ہم پرہیزگاروں کو شریر بے حکموں کے برابر ٹھہرادیں (ف۴۴)

٢٩ . یہ ایک کتاب ہے کہ ہم نے تمہاری طرف اتاری (ف۴۵) برکت والی تاکہ اس کی آیتوں کو سوچیں اور عقلمند نصیحت مانیں،

٣٠ . اور ہم نے داؤد کو (ف۴۶) سلیمان عطا فرمایا، کیا اچھا بندہ بیشک وہ بہت رجوع لانے والا (ف۴۷)

٣١ . جبکہ اس پر پیش کیے گئے تیسرے پہر کو (ف۴۸) کہ روکئے تو تین پاؤں پر کھڑے ہوں چوتھے سم کا کنارہ زمین پر لگائے ہوئے اور چلائے تو ہوا ہوجائیں (ف۴۹)

٣٢ . تو سلیمان نے کہا مجھے ان گھوڑوں کی محبت پسند آئی ہے اپنے رب کی یاد کے لیے (ف۵۰) پھر انہیں چلانے کا حکم دیا یہاں تک کہ نگاہ سے پردے میں چھپ گئے (ف۵۱)

٣٣ . پھر حکم دیا کہ انہیں میرے پاس واپس لاؤ تو ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگا (ف۵۲)

٣٤ . اور بیشک ہم نے سلیمان کو جانچا (ف۵۳) اور اس کے تخت پر ایک بے جان بدن ڈال دیا (ف۵۴) پھر رجوع لایا (ف۵۵)

٣٥ . عرض کی اے میرے رب مجھے بخش دے اور مجھے ایسی سلطنت عطا کر کہ میرے بعد کسی کو لائق نہ ہو (ف۵۶) بیشک تو ہی بڑی دین والا،

٣٦ . تو ہم نے ہوا اس کے بس میں کردی کہ اس کے حکم سے نرم نرم چلتی (ف۵۷) جہاں وہ چاہتا،

٣٧ . اور دیو بس میں کردیے ہر معمار (ف۵۸) اور غوطہ خور (ف۵۹)

٣٨ . اور دوسرے اور بیڑیوں میں جکڑے ہوئے (ف۶۰)

٣٩ . یہ ہماری عطا ہے اب تو چاہے تو احسان کر (ف۶۱) یا روک رکھ (ف۶۲) تجھ پر کچھ حساب نہیں،

٤٠ . اور بیشک اس کے لیے ہماری بارگاہ میں ضرور قرب اور اچھا ٹھکانا ہے،

٤١ . اور یاد کرو ہمارے بندہ ایوب کو جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے شیطان نے تکلیف اور ایذا لگادی، (ف۶۳)

٤٢ . ہم نے فرمایا زمین پر اپنا پاؤں مار (ف۶۴) یہ ہے ٹھنڈا چشمہ نہانے اور پینے کو (ف۶۵)

٤٣ . اور ہم نے اسے اس کے گھر والے اور ان کے برابر اور عطا فرمادیے اپنی رحمت کرنے (ف۶۶) اور عقلمندوں کی نصیحت کو،

٤٤ . اور فرمایا کہ اپنے ہاتھ میں ایک جھاڑو لے کر اس سے مار دے (ف۶۷) اور قسم نہ توڑ بے ہم نے اسے صابر پایا کیا اچھا بندہ (ف۶۸) بیشک وہ بہت رجوع لانے والا ہے،

٤٥ . اور یاد کرو ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب قدرت اور علم والوں کو (ف۶۹)

٤٦ . بیشک ہم نے انہیں ایک کھری بات سے امتیاز بخشا کہ وہ اس گھر کی یاد ہے (ف۷۰)

٤٧ . اور بیشک وہ ہمارے نزدیک چُنے ہوئے پسندیدہ ہیں،

٤٨ . اور یاد کرو اسماعیل اور یسع اور ذو الکفل کو (ف۷۱) اورسب اچھے ہیں،

٤٩ . یہ نصیحت ہے اور بیشک (ف۷۲) پرہیزگاروں کا ٹھکانا،

٥٠ . بھلا بسنے کے باغ ان کے لیے سب دروازے کھلے ہوئے،

٥١ . ان میں تکیہ لگائے (ف۷۳) ان میں بہت سے میوے اور شراب مانگتے ہیں،

٥٢ . اور ان کے پاس وہ بیبیاں ہیں کہ اپنے شوہر کے سوا اور کی طرف آنکھ نہیں اٹھاتیں، ایک عمر کی (ف۷۴)

٥٣ . یہ ہے وہ جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے حساب کے دن،

٥٤ . بیشک یہ ہمارا رزق ہے کہ کبھی ختم نہ ہوگا (ف۷۵)

٥٥ . ان کو تو یہ ہے (ف۷۶) اور بیشک سرکشوں کا برا ٹھکانا،

٥٦ . جہنم کہ اس میں جائیں گے تو کیا ہی برا بچھونا (ف۷۷)

٥٧ . ان کو یہ ہے تو اسے چکھیں کھولتا پانی اور پیپ (ف۷۸)

٥٨ . اور اسی شکل کے اور جوڑے (ف۷۹)

٥٩ . ان سے کہا جائے گا یہ ایک اور فوج تمہارے ساتھ دھنسی پڑتی ہے جو تمہاری تھی (ف۸۰) وہ کہیں گے ان کو کھلی جگہ نہ ملیو آگ میں تو ان کو جانا ہی ہے،

٦٠ . وہاں بھی تنگ جگہ میں رہیں تابع بولے بلکہ تمہیں کھلی جگہ نہ ملیو، یہ مصیبت تم ہمارے آگے لائے (ف۸۱) تو کیا ہی برا ٹھکانا (ف۸۲)

٦١ . وہ بولے اے ہمارے رب جو یہ مصیبت ہمارے آگے لایا اسے آگ میں دُونا عذاب بڑھا،

٦٢ . اور (ف۸۳) بولے ہمیں کیا ہوا ہم ان مردوں کو نہیں دیکھتے جنہیں برا سمجھتے تھے (ف۸۴)

٦٣ . کیا ہم نے انہیں ہنسی بنالیا (ف۸۵) یا آنکھیں ان کی طرف سے پھر گئیں (ف۸۶)

٦٤ . بیشک یہ ضرور حق ہے دوزخیوں کا باہم جھگڑ،

٦٥ . تم فرماؤ (ف۸۷) میں ڈر سنانے والا ہی ہوں (ف۸۸) اور معبود کوئی نہیں مگر ایک اللہ سب پر غالب،

٦٦ . مالک آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے صاحب عزت بڑا بخشنے والا،

٦٧ . تم فرماؤ وہ (ف۸۹) بڑی خبر ہے،

٦٨ . تم اس سے غفلت میں ہو (ف۹۰)

٦٩ . مجھے عالم بالا کی کیا خبر تھی جب وہ جھگڑتے تھے (ف۹۱)

٧٠ . مجھے تو یہی وحی ہوتی ہے کہ میں نہیں مگر روشن ڈر سنانے والا (ف۹۲)

٧١ . جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں مٹی سے انسان بناؤں گا (ف۹۳)

٧٢ . پھر جب میں اسے ٹھیک بنالوں (ف۹۴) اور اس میں اپنی طرف کی روح پھونکوں (ف۹۵) تو تم اس کے لیے سجدے میں گرنا،

٧٣ . تو سب فرشتو ں نے سجدہ کیا ایک ایک نے کہ کوئی باقی نہ رہا،

٧٤ . مگر ابلیس نے (ف۹۶) اس نے غرور کیا اور وہ تھا ہی کافروں میں (ف۹۷)

٧٥ . فرمایا اے ابلیس تجھے کس چیز نے روکا کہ تو اس کے لیے سجدہ کرے جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تجھے غرور آگیا یا تو تھا ہی مغروروں میں (ف۹۸)

٧٦ . بولا میں اس سے بہتر ہوں (ف۹۹) تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اسے مٹی سے پیدا کیا،

٧٧ . فرمایا تو جنت سے نکل جا کہ تو راندھا (لعنت کیا) گیا (ف۱۰۰)

٧٨ . اور بیشک تجھ پر میری لعنت ہے قیامت تک (ف۱۰۱)

٧٩ . بولا اے میرے رب ایسا ہے تو مجھے مہلت دے اس دن تک کہ اٹھائے جائیں (ف۱۰۲)

٨٠ . فرمایا تو تُو مہلت والوں میں ہے،

٨١ . اس جانے ہوئے وقت کے دن تک (ف۱۰۳)

٨٢ . بولا تیری عزت کی قسم ضرور میں ان سب کو گمراہ کردوں گا،

٨٣ . مگر جو ان میں تیرے چنے ہوئے بندے ہیں،

٨٤ . فرمایا تو سچ یہ ہے اور میں سچ ہی فرماتا ہوں،

٨٥ . بیشک میں ضرور جہنم بھردوں گا تجھ سے (ف۱۰۴) اور ان میں سے (ف۱۰۵) جتنے تیری پیروی کریں گے سب سے،

٨٦ . تم فرماؤ میں اس قرآن پر تم سے کچھ اجر نہیں مانگتا اور میں بناوٹ والوں سے نہیں،

٨٧ . وہ تو نہیں مگر نصیحت سارے جہان کے لیے،

٨٨ . اور ضرور ایک وقت کے بعد تم اس کی خبر جانو گے (ف۱۰۶)