;

١ . کتاب (ف۲) اتارنا ہے اللہ عزت و حکمت والے کی طرف سے،

٢ . بیشک ہم نے تمہاری طرف (ف۳) یہ کتاب حق کے ساتھ اتاری تو اللہ کو کو پوجو نرے اس کے بندے ہوکر،

٣ . ہاں خالص اللہ ہی کی بندگی ہے (ف۴) اور وہ جنہوں نے اس کے سوا اور والی بنالیے (ف۵) کہتے ہیں ہم تو انہیں (ف۶) صرف اتنی بات کے لیے پوجتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کے پاس نزدیک کردیں، اللہ ان پر فیصلہ کردے گا اس بات کا جس میں اختلاف کررہے ہیں (ف۷) بیشک اللہ راہ نہیں دیتا اسے جو جھوٹا بڑا ناشکرا ہو (ف۸)

٤ . اللہ اپنے لیے بچہ بناتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا (ف۹) پاکی ہے اسے (ف۱۰) وہی ہے ایک اللہ (ف۱۱) سب پر غالب،

٥ . اس نے آسمان اور زمین حق بنائے رات کو دن پر لپیٹتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے (ف۱۲) اور اس نے سورج اور چاند کو کام میں لگایا ہر ایک، ایک ٹھہرائی میعاد کے لیے چلتا ہے (ف۱۳) سنتا ہے وہی صاحب عزت بخشنے والا ہے،

٦ . اس نے تمہیں ایک جان سے بنایا (ف۱۴) پھر اسی سے اس کا جوڑ پیدا کیا (ف۱۵) اور تمہارے لیے چوپایوں میں سے (ف۱۶) آٹھ جوڑے تھے (ف۱۷) تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹ میں بناتا ہے ایک طرح کے بعد اور طرح (ف۱۸) تین اندھیریوں میں (ف۱۹) یہ ہے اللہ تمہارا رب اسی کی بادشاہی ہے، اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں، پھر کہیں پھیرے جاتے ہو (ف۲۰)

٧ . اگر تم ناشکری کرو تو بیشک اللہ بے نیاز ہے تم سے (ف۲۱) اور اپنے بندوں کی ناشکری اسے پسند نہیں، اور اگر شکر کرو تو اسے تمہارے لیے پسند فرماتا ہے (ف۲۲) اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گی (ف۲۳) پھر تمہیں اپنے رب ہی کی طرف پھرنا ہے (ف۲۴) تو وہ تمہیں بتادے گا جو تم کرتے تھے (ف۲۵) بیشک وہ دلوں کی بات جانتا ہے،

٨ . اور جب آدمی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے (ف۲۶) اپنے رب کو پکارتا ہے اسی طرف جھکا ہوا (ف۲۷) پھر جب اللہ نے اسے اپنے پاس سے کوئی نعمت دی تو بھول جاتا ہے جس لیے پہلے پکارا تھا (ف۲۸) اور اللہ کے برابر والے ٹھہرانے لگتا ہے (ف۲۹) تاکہ اس کی راہ سے بہکادے تم فرماؤ (ف۳۰) تھوڑے دن اپنے کفر کے ساتھ برت لے (ف۳۱) بیشک تو دوزخیوں میں ہے،

٩ . کیا وہ جسے فرمانبرداری میں رات کی گھڑیاں گزریں سجود میں اور قیام میں (ف۳۲) آخرت سے ڈرتا اور اپنے رب کی رحمت کی آس لگائے (ف۳۳) کیا وہ نافرمانوں جیسا ہو جائے گا تم فرماؤ کیا برابر ہیں جاننے والے اور انجان، نصیحت تو وہی مانتے ہیں جو عقل والے ہیں،

١٠ . تم فرماؤ اے میرے بندو! جو ایمان لائے اپنے سے ڈرو، جنہوں نے بھلائی کی (ف۳۴) ان کے لیے اس دنیا میں بھلائی ہے (ف۳۵) اور اللہ کی زمین وسیع ہے (ف۳۶) صابروں ہی کو ان کا ثواب بھرپور دیا جائے گا بے گنتی (ف۳۷)

١١ . تم فرماؤ (ف۳۸) مجھے حکم ہے کہ اللہ کو پوجوں نرا اس کا بندہ ہوکر،

١٢ . اور مجھے حکم ہے کہ میں سب سے پہلے گردن رکھوں (ف۳۹)

١٣ . تم فرماؤ بالفرض اگر مجھ سے نافرمانی ہوجائے تو مجھے اپنے رب سے ایک بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے (ف۴۰)

١٤ . تم فرماؤ میں اللہ ہی کو پوجتا ہوں نرا اس کا بندہ ہوکر،

١٥ . تو تم اس کے سوا جسے چاہو پوجو(ف۴۱) تم فرماؤ پوری ہار انہیں جو اپنی جان اور اپنے گھر والے قیامت کے دن ہار بیٹھے (ف۴۲) ہاں ہاں یہی کھلی ہار ہے،

١٦ . ان کے اوپر آگ کے پہاڑ ہیں اور ان کے نیچے پہاڑ (ف۴۳) اس سے اللہ ڈراتا ہے اپنے بندوں (ف۴۴) اے میرے بندو! تم مجھ سے ڈرو (ف۴۵)

١٧ . اور وہ جو بتوں کی پوجا سے بچے اور اللہ کی طرف رجوع ہوئے انہیں کے لیے خوشخبری ہے تو خوشی سناؤ میرے ان بندوں کو،

١٨ . جو کان لگا کر بات سنیں پھر اس کے بہتر پر چلیں (ف۴۶) یہ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت فرمائی اور یہ ہیں جن کو عقل ہیں (ف۴۷)

١٩ . تو کیا وہ جس پر عذاب کی بات ثابت ہوچکی نجات والوں کے برابر ہوجائے گا تو کیا تم ہدایت دے کر آگ کے مستحق کو بچالو گے (ف۴۸)

٢٠ . لیکن جو اپنے رب سے ڈرے (ف۴۹) ان کے لیے بالا خانے ہیں ان پر بالا خانے بنے (ف۵۰) ان کے نیچے نہریں بہیں، اللہ کا وعدہ، اللہ وعدہ خلاف نہیں کرتا،

٢١ . کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا پھر اس سے زمین میں چشمے بنائے پھر اس سے کھیتی نکالتا ہے کئی رنگت کی (ف۵۱) پھر سوکھ جاتی ہے تو تُو دیکھے کہ وہ (ف۵۲) پیلی پڑ گئی پھر اسے ریزہ ریزہ کردیتا ہے، بیشک اس میں دھیان کی بات ہے عقل مندوں کو (ف۵۳)

٢٢ . تو کیا وہ جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا (ف۵۴) تو وہ اپنے رب کی طرف سے نور پر ہے (ف۵۵) اس جیسا ہوجائے گا جو سنگدل ہے تو خرابی ہے ان کی جن کے دل یادِ خدا کی طرف سے سخت ہوگئے ہیں (ف۵۶) وہ کھلی گمراہی میں ہیں،

٢٣ . اللہ نے اتاری سب سے اچھی کتاب (ف۵۷) کہ اول سے آخر تک ایک سی ہے (ف۵۸) دوہرے بیان والی (ف۵۹) اس سے بال کھڑے ہوتے ہیں ان کے بدن پر جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں، پھر ان کی کھالیں اور دل نرم پڑتے ہیں یادِ خدا کی طرف رغبت میں (ف۶۰) یہ اللہ کی ہدایت ہے راہ دکھائے اس سے جسے چاہے، اور جسے اللہ گمراہ کرے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں،

٢٤ . تو کیا وہ جو قیامت کے دن برے عذاب کی ڈھال نہ پائے گا اپنے چہرے کے سوا (ف۶۱) نجات والے کی طرح ہوجائے گا (ف۶۲) اور ظالموں سے فرمایا جائے گا اپنا کمایا چکھو (ف۶۳)

٢٥ . ان سے اگلوں نے جھٹلایا (ف۶۴) تو انہیں عذاب آیا جہاں سے انہیں خبر نہ تھی (ف۶۵)

٢٦ . اور اللہ نے انہیں دنیا کی زندگی میں رسوائی کا مز ہ چکھایا (ف۶۶) اور بیشک آخرت کا عذاب سب سے بڑا، کیا اچھا تھا اگر وہ جانتے (ف۶۷)

٢٧ . اور بیشک ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی کہاوت بیان فرمائی کہ کسی طرح انہیں دھیان ہو (ف۶۸)

٢٨ . عربی زبان کا قرآن (ف۶۹) جس میں اصلاً کجی نہیں (ف۷۰) کہ کہیں وہ ڈریں (ف۷۱)

٢٩ . اللہ ایک مثال بیان فرماتا ہے (ف۷۲) ایک غلام میں کئی بدخو آقا شریک اور ایک نرے ایک مولیٰ کا، کیا ان دونوں کا حال ایک سا ہے (ف۷۳) سب خوبیاں اللہ کو (ف۷۴) بلکہ ان کے اکثر نہیں جانتے (ف۷۵)

٣٠ . بیشک تمہیں انتقال فرمانا ہے اور ان کو بھی مرنا ہے (ف۷۶)

٣١ . پھر تم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس جھگڑو گے (ف۷۷)

٣٢ . تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے (ف۷۸) اور حق کو جھٹلائے (ف۷۹) جب اس کے پاس آئے، کیا جہنم میں کافروں کا ٹھکانہ نہیں،

٣٣ . اور وہ جو یہ سچ لے کر تشریف لائے (ف۸۰) اور وہ جنہوں نے ان کی تصدیق کی (ف۸۱)

٣٤ . یہی ڈر والے ہیں، ان کے لےیے ہے، جو وہ چاہیں اپنے رب کے پاس، نیکوں کا یہی صلہ ہے،

٣٥ . تاکہ اللہ ان سے اتار دے برے سے برا کام جو انہوں نے کیا اور انہیں ان کے ثواب کا صلہ دے اچھے سے اچھے کام پر (ف۸۲) جو وہ کرتے تھے،

٣٦ . کیا اللہ اپنے بندے کو کافی نہیں (ف۸۳) اور تمہیں ڈراتے ہیں اس کے سوا اوروں سے (ف۸۴) اور جسے اللہ گمراہ کرے اس کی کوئی ہدایت کرنے والا نہیں،

٣٧ . اور جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی بہکانے والا نہیں، کیا اللہ عزت والا بدلہ لینے والا نہیں (ف۸۵)

٣٨ . اور اگر تم ان سے پوچھو آسمان اور زمین کس نے بنائے تو ضرور کہیں گے اللہ نے (ف۸۶) تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو وہ جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو (ف۸۷) اگر اللہ مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہے (ف۸۸) تو کیا وہ اس کی بھیجی تکلیف ٹال دیں گے یا وہ مجھ پر مہر (رحم) فرمانا چاہے تو کیا وہ اس کی مہر کو روک رکھیں گے (ف۸۹) تم فرماؤ اللہ مجھے بس ہے (ف۹۰) بھروسے والے اس پر بھروسہ کریں،

٣٩ . تم فرماؤ، اے میری قوم! اپنی جگہ کام کیے جاؤ (ف۹۱) میں اپنا کام کرتا ہوں (ف۹۲) تو آگے جان جاؤ گے،

٤٠ . کس پر آتا ہے وہ عذاب کہ اسے رسوا کرے گا (ف۹۳) اور کس پر اترتا ہے عذاب کہ رہ پڑے گا (ف۹۴)

٤١ . بیشک ہم نے تم پر یہ کتاب لوگوں کی ہدایت کو حق کے ساتھ اتاری (ف۹۵) تو جس نے راہ پائی تو اپنے بھلے کو (ف۹۶) اور جو بہکا وہ اپنے ہی برے کو بہکا (ف۹۷) اور تم کچھ ان کے ذمہ دار نہیں (ف۹۸)

٤٢ . اللہ جانوں کو وفات دیتا ہے ان کی موت کے وقت اور جو نہ مریں انہیں ان کے سوتے میں پھر جس پر موت کا حکم فرمادیا اسے روک رکھتا ہے (ف۹۹) اور دوسری (ف۱۰۰) ایک میعاد مقرر تک چھوڑ دیتا ہے (ف۱۰۱) بیشک اس میں ضرور نشانیاں ہیں سوچنے والوں کے لیے (ف۱۰۲)

٤٣ . کیا انہوں نے اللہ کے مقابل کچھ سفارشی بنا رکھے ہیں (ف۱۰۳) تم فرماؤ کیا اگرچہ وہ کسی چیز کے مالک نہ ہوں (ف۱۰۴) اور نہ عقل رکھیں،

٤٤ . تم فرماؤ شفاعت تو سب اللہ کے ہاتھ میں ہے (ف۱۰۵) اسی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی، پھر تمہیں اسی کی طرف پلٹنا ہے (ف۱۰۶)

٤٥ . اور جب ایک اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے دل سمٹ جاتے ہیں ان کے جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے (ف۱۰۷) اور جب اس کے سوا اوروں کا ذکر ہوتا ہے (ف۱۰۸) جبھی وہ خوشیاں مناتے ہیں،

٤٦ . تم عرض کرو اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے نہاں اور عیاں کے جاننے والے تو اپنے بندوں میں فیصلہ فرمائے گا جس میں وہ اختلاف رکھتے تھے (ف۱۰۹)

٤٧ . اور اگر ظالموں کے لیے ہوتا جو کچھ زمین میں ہے سب اور اس کے ساتھ اس جیسا (ف۱۱۰) تو یہ سب چھڑائی (چھڑانے) میں دیتے روز ِ قیامت کے بڑے عذاب سے (ف۱۱۱) اور انہیں اللہ کی طرف سے وہ بات ظاہر ہوئی جو ان کے خیال میں نہ تھی (ف۱۱۲)

٤٨ . اور ان پر اپنی کمائی ہوئی برائیاں کھل گئیں (ف۱۱۳) اور ان پر آپڑا وہ جس کی ہنسی بناتے تھے (ف۱۱۴)

٤٩ . پھر جب آدمی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں بلاتا ہے پھر جب اسے ہم اپنے پاس سے کوئی نعمت عطا فرمائیں کہتا ہے یہ تو مجھے ایک علم کی بدولت ملی ہے (ف۱۱۵) بلکہ وہ تو آزمائش ہے (ف۱۱۶) مگر ان میں بہتوں کو علم نہیں (ف۱۱۷)

٥٠ . ان سے اگلے بھی ایسے ہی کہہ چکے (ف۱۱۸) تو ان کا کمایا ان کے کچھ کام نہ آیا،

٥١ . تو ان پر پڑ گئیں ان کی کمائیوں کی برائیاں (ف۱۱۹) اور وہ جو ان میں ظالم عنقریب ان پر پڑیں گی ان کی کمائیوں کی برائیاں اور وہ قابو سے نہیں نکل سکتے (ف۱۲۰)

٥٢ . کیا انہیں معلوم نہیں کہ اللہ روزی کشادہ کرتا ہے جس کے لیے چاہے اور تنگ فرماتا ہے، بیشک اس میں ضرور نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لیے،

٥٣ . تم فرماؤ اے میرے وہ بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی (ف۱۲۱) اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو، بیشک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے (ف۱۲۲) بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے،

٥٤ . اور اپنے رب کی طرف رجوع لاؤ (ف۱۲۳) اور اس کے حضور گردن رکھو (ف۱۲۴) قبل اس کے کہ تم پر عذاب آئے پھر تمہاری مدد نہ ہو،

٥٥ . اور اس کی پیروی کرو جو اچھی سے اچھی تمہارے رب سے تمہاری طرف اتاری گئی (ف۱۲۵) قبل اس کے کہ عذاب تم پر اچانک آجائے اور تمہیں خبر نہ ہو (ف۱۲۶)

٥٦ . کہ کہیں کوئی جان یہ نہ کہے کہ ہائے افسوس! ان تقصیروں پر جو میں نے اللہ کے بارے میں کیں (ف۱۲۷) اور بیشک میں ہنسی بنایا کرتا تھا (ف۱۲۸)

٥٧ . یا کہے اگر اللہ مجھے راہ دکھاتا تو میں ڈر والوں میں ہوتا،

٥٨ . یا کہے جب عذاب دیکھے کسی طرح مجھے واپسی ملے (ف۱۲۹) کہ میں نیکیاں کروں (ف۱۳۰)

٥٩ . ہاں کیوں نہیں بیشک تیرے پاس میری آیتیں آئیں تو تُو نے انہیں جھٹلایا اور تکبر کیا اور تو کافر تھا (ف۱۳۱)

٦٠ . اور قیامت کے دن تم دیکھو گے انہیں جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا (ف۱۳۲) کہ ان کے منہ کالے ہیں کیا مغرور ٹھکانا جہنم میں نہیں (ف۱۳۳)

٦١ . اور اللہ بچائے گا پرہیزگاروں کو ان کی نجات کی جگہ (ف۱۳۴) نہ انہیں عذاب چھوئے اور نہ انہیں غم ہو،

٦٢ . اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے، اور وہ ہرچیز کا مختار ہے،

٦٣ . اسی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کی کنجیاں (ف۱۳۵) اور جنہوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا وہی نقصان میں ہیں،

٦٤ . تم فرماؤ (ف۱۳۶) تو کیا اللہ کے سوا دوسرے کے پوجنے کو مجھ سے کہتے ہو، اے جاہلو! (ف۱۳۷)

٦٥ . اور بیشک وحی کی گئی تمہاری طرف اور تم سے اگلوں کی طرف کہ اسے سننے والے اگر تو نے اللہ کا شریک کیا تو ضرور تیرا سب کیا دھرا اَکارت جائے گا اور ضرور تو ہار میں رہے گا،

٦٦ . بلکہ اللہ ہی کی بندگی کر اور شکر والوں سے ہو (ف۱۳۸)

٦٧ . اور انہوں نے اللہ کی قدر نہ کی جیسا کہ اس کا حق تھا (ف۱۳۹) اور وہ قیامت کے دن سب زمینوں کو سمیٹ دے گا اور اس کی قدرت سے سب آسمان لپیٹ دیے جائیں گے (ف۱۴۰) اور ان کے شرک سے پاک اور برتر ہے،

٦٨ . اور صُور پھونکا جائے گا تو بے ہوش ہوجائیں گے (ف۱۴۱) جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں مگر جسے اللہ چاہے (ف۱۴۲) پھر وہ دوبارہ پھونکا جائے گا (ف۱۴۳) جبھی وہ دیکھتے ہوئے کھڑے ہوجائیں گے (ف۱۴۴)

٦٩ . اور زمین جگمگا اٹھے گی (ف۱۴۵) اپنے رب کے نور سے (ف۱۴۶) اور رکھی جائے گی کتاب (ف۱۴۷) اور لائے جائیں گے انبیاء اور یہ نبی اور اس کی امت کے ان پر گواہ ہونگے (ف۱۴۸) اور لوگوں میں سچا فیصلہ فرمادیا جائے گا اور ان پر ظلم نہ ہوگا،

٧٠ . اور ہر جان کو اس کا کیا بھرپور دیا جائے گا اور اسے خوب معلوم جو وہ کرتے تھے (ف۱۴۹)

٧١ . اور کافر جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے (ف۱۵۰) گروہ گروہ (ف۱۵۱) یہاں تک کہ جب وہاں پہنچیں گے اس کے دروازے کھولے جائیں گے (ف۱۵۲) اور اس کے داروغہ ان سے کہیں گے کیا تمہارے پاس تمہیں میں سے وہ رسول نہ آئے تھے جو تم پر تمہارے رب کی آیتیں پڑھتے تھے اور تمہیں اس دن سے ملنے سے ڈراتے تھے، کہیں گے کیوں نہیں (ف۱۵۳) مگر عذاب کا قول کافروں پر ٹھیک اترا (ف۱۵۴)

٧٢ . فرمایا جائے گا جاؤ جہنم کے دروازوں میں اس میں ہمیشہ رہنے، تو کیا ہی برا ٹھکانا متکبروں کا،

٧٣ . اور جو اپنے رب سے ڈرتے تھے ان کی سواریاں (ف۱۵۵) گروہ گروہ جنت کی طرف چلائی جائیں گی، یہاں تک کہ جب وہاں پہنچیں گے اور اس کے دروازے کھلے ہوئے ہوں گے (ف۱۵۶) اور اس کے داروغہ ان سے کہیں گے سلام تم پر تم خوب رہے تو جنت میں جاؤ ہمیشہ رہنے،

٧٤ . اور وہ کہیں گے سب خوبیاں اللہ کو جس نے اپنا وعدہ ہم سے سچا کیا اور ہمیں اس زمین کا وارث کیا کہ ہم جنت میں رہیں جہاں چاہیں، تو کیا ہی اچھا ثواب کامیوں (اچھے کام کرنیوالوں) کا (ف۱۵۷)

٧٥ . اور تم فرشتوں کو دیکھو گے عرش کے آس پاس حلقہ کیے اپنے رب کی تعریف کے ساتھ ا س کی پاکی بولتے اور لوگوں میں سچا فیصلہ فرمادیا جائے گا (ف۱۵۸) اور کہا جائے گا کہ سب خوبیاں اللہ کو جو سارے جہاں کا رب (ف۱۵۹)