;

١ . حٰمٓ

٢ . یہ کتاب اتارنا ہے اللہ کی طرف سے جو عزت والا، علم والا،

٣ . گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا (ف۲) سخت عذاب کرنے والا (ف۳) بڑے انعام والا (ف۴) اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کی طرف پھرنا ہے (ف۵)

٤ . اللہ کی آیتوں میں جھگڑا نہیں کرتے مگر کافر (ف۶) تو اے سننے والے تجھے دھوکا نہ دے ان کا شہروں میں اہل گہلے (اِتراتے) پھرنا (ف۷)

٥ . ان سے پہلے نوح کی قوم اور ان کے بعد کے گروہوں (ف۸) نے جھٹلایا، اور ہر امت نے یہ قصد کیا کہ اپنے رسول کو پکڑ لیں (ف۹) اور باطل کے ساتھ جھگڑے کہ اس سے حق کو ٹال دیں (ف۱۰) تو میں نے انہیں پکڑا، پھر کیسا ہوا میرا عذاب (ف۱۱)

٦ . اور یونہی تمہارے رب کی بات کافروں پر ثابت ہوچکی ہے کہ وہ دوزخی ہیں،

٧ . وہ جو عرش اٹھاتے ہیں (ف۱۲) اور جو اس کے گرد ہیں (ف۱۳) اپنے کی تعریف کے ساتھ اس کی پاکی بولتے (ف۱۴) اور اس پر ایمان لاتے (ف۱۵) اور مسلمانوں کی مغفرت مانگتے ہیں (ف۱۶) اے رب ہمارے تیرے رحمت و علم میں ہر چیز کی سمائی ہے (ف۱۷) تو انہیں بخش دے جنہوں نے توبہ کی اور تیری راہ پر چلے (ف۱۸) اور انہیں دوزخ کے عذاب سے بچالے،

٨ . اے ہمارے رب! اور انہیں بسنے کے باغوں میں داخل کر جن کا تو نے ان سے وعدہ فرمایا ہے اور ان کو جو نیک ہوں ان کے باپ دادا اور بیبیوں اور اولاد میں (ف۱۹) بیشک تو ہی عزت و حکمت والا ہے،

٩ . اور انہیں گناہوں کی شامت سے بچالے، اور جسے تو اس دن گناہوں کی شامت سے بچائے تو بیشک تو نے اس پر رحم فرمایا، اور یہی بڑی کامیابی ہے،

١٠ . بیشک جنہوں نے کفر کیا ان کو ندا کی جائے گی (ف۲۰) کہ ضرور تم سے اللہ کی بیزاری اس سے بہت زیادہ ہے جیسے تم آج اپنی جان سے بیزار ہو جب کہ تم (ف۲۱) ایمان کی طرف بلائے جاتے تو تم کفر کرتے،

١١ . کہیں گے اے ہمارے رب تو نے ہمیں دوبارہ مردہ کیا اور دوبارہ زندہ کیا (ف۲۲) اب ہم اپنے گناہوں پر مُقِر ہوئے تو آگ سے نکلنے کی بھی کوئی راہ ہے (ف۲۳)

١٢ . یہ اس پر ہوا کہ جب ایک اللہ پکارا جاتا تو تم کفر کرتے (ف۲۴) اور ان کا شریک ٹھہرایا جاتا تو تم مان لیتے (ف۲۵) تو حکم اللہ کے لیے ہے جو سب سے بلند بڑا،

١٣ . وہی ہے کہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے (ف۲۶) اور تمہارے لیے آسمان سے روزی اتارتا ہے (ف۲۷) اور نصیحت نہیں مانتا (ف۲۸) مگر جو رجوع لائے (ف۲۹)

١٤ . تو اللہ کی بندگی کرو نرے اس کے بندے ہوکر (ف۳۰) پڑے برا مانیں کافر،

١٥ . بلند درجے دینے والا (ف۳۱) عرش کامالک ایمان کی جان وحی ڈالتا ہے اپنے حکم سے اپنے بندوں میں جس پر چاہے (ف۳۲) کہ وہ ملنے کے دن سے ڈرائے (ف۳۳)

١٦ . جس دن وہ بالکل ظاہر ہوجائیں گے (ف۳۴) اللہ پر ان کا کچھ حال چھپا نہ ہوگا (ف۳۵) آج کسی کی بادشاہی ہے (ف۳۶) ایک اللہ سب پر غا لب کی، ف۳۷)

١٧ . آج ہر جان اپنے کےٴ کا بدلہ پاےٴ گی (ف ۳۸) آج کسی پر زیادتی نہیں، بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے،

١٨ . اور انہیں ڈراؤ اس نزدیک آنے والی آفت کے دن سے (ف۳۹) جب دل گلوں کے پاس آجائیں گے (ف۴۰) غم میں بھرے، اور ظالموں کا نہ کوئی دوست نہ کوئی سفارشی جس کا کہا مانا جائے (ف۴۱)

١٩ . اللہ جانتا ہے چوری چھپے کی نگاہ (ف۴۲) اور جو کچھ سینوں میں چھپا ہے (ف۴۳)

٢٠ . اور اللہ سچا فیصلہ فرماتا ہے، اور اس کے سوا جن کو (ف۴۴) پوجتے ہیں وہ کچھ فیصلہ نہیں کرتے (ف۴۵) بیشک اللہ ہی سنتا اور دیکھتا ہے (ف۴۶)

٢١ . تو کیا انہوں نے زمین میں سفر نہ کیا کہ دیکھتے کیسا انجام ہوا ان سے اگلوں کا (ف۴۷) ان کی قوت اور زمین میں جو نشانیاں چھوڑ گئے (ف۴۸) ان سے زائد تو اللہ نے انہیں ان کے گناہوں پر پکڑا، اور اللہ سے ان کا کوئی بچانے والا نہ ہوا (ف۴۹)

٢٢ . یہ اس لیے کہ ان کے پاس ان کے رسول روشن نشانیاں لے کر آئے (ف۵۰) پھر وہ کفر کرتے تو اللہ نے انہیں پکڑا، بیشک اللہ زبردست عذاب والا ہے،

٢٣ . اور بیشک ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں اور روشن سند کے ساتھ بھیجا،

٢٤ . فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف تو وہ بولے جادوگر ہے بڑا جھوٹا (ف۵۱)

٢٥ . پھر جب وہ ان پر ہمارے پاس سے حق لایا (ف۵۲) بولے جو اس پر ایمان لائے ان کے بیٹے قتل کرو اور عورتیں زندہ رکھو (ف۵۳) اور کافروں کا داؤ نہیں مگر بھٹکتا پھرتا (ف۵۴)

٢٦ . اور فرعون بولا (ف۵۵) مجھے چھوڑو میں موسیٰ کو قتل کروں (ف۵۶) اور وہ اپنے رب کو پکارے (ف۵۷) میں ڈرتا ہوں کہیں وہ تمہارا دین بدل دے (ف۵۸) یا زمین میں فساد چمکائے (ف۵۹)

٢٧ . اور موسیٰ نے (ف۶۰) کہا میں تمہارے اور اپنے رب کی پناہ لیتا ہوں ہر متکبر سے کہ حساب کے دن پر یقین نہیں لاتا (ف۶۱)

٢٨ . اور بولا فرعون والوں میں سے ایک مرد مسلمان کہ اپنے ایمان کو چھپاتا تھا کیا ایک مرد کو اس پر مارے ڈالتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور بیشک وہ روشن نشانیاں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے لائے (ف۶۲) اور اگر بالفرض وہ غلط کہتے ہیں تو ان کی غلط گوئی کا وبال ان پر، اور اگر وہ سچے ہیں تو تمہیں پہنچ جائے گا کچھ وہ جس کا تمہیں وعدہ دیتے ہیں (ف۶۳) بیشک اللہ راہ نہیں دیتا اسے جو حد سے بڑھنے والا بڑا جھوٹا ہو (ف۶۴)

٢٩ . اے میری قوم! آج بادشاہی تمہاری ہے اس زمین میں غلبہ رکھتے ہو (ف۶۵) تو اللہ کے عذاب سے ہمیں کون بچالے گا اگر ہم پر آئے فرعون بولا میں تو تمہیں وہی سمجھاتا ہوں جو میری سوجھ ہے (ف۶۶) اور میں تمہیں وہی بتاتا ہوں جو بھلائی کی راہ ہے،

٣٠ . اور وہ ایمان والا بولا اے میری قوم! مجھے تم پر (ف۶۷) اگلے گروہوں کے دن کا سا خوف ہے (ف۶۸)

٣١ . جیسا دستور گزرا نوح کی قوم اور عاد اور ثمود اور ان کے بعد اوروں کا (ف۶۹) اور اللہ بندوں پر ظلم نہیں چاہتا (ف۷۰)

٣٢ . اور اے میری قوم میں تم پر اس دن سے ڈراتا ہوں جس دن پکار مچے گی (ف۷۱)

٣٣ . جس دن پیٹھ دے کر بھاگو گے (ف۷۲) اللہ سے (ف۷۳) تمہیں کوئی بچانے والا نہیں، اور جسے اللہ گمراہ کرے اس کا کوئی راہ دکھانے والا نہیں،

٣٤ . اور بیشک اس سے پہلے (ف۷۴) تمہارے پاس یوسف روشن نشانیاں لے کر آئے تو تم ان کے لائے ہوئے سے شک ہی میں رہے، یہاں تک کہ جب انہوں نے انتقال فرمایا تم بولے ہرگز اب اللہ کوئی رسول نہ بھیجے گا (ف۷۵) اللہ یونہی گمراہ کرتا ہے اسے جو حد سے بڑھنے والا شک لانے والا ہے (ف۷۶)

٣٥ . وہ جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑا کرتے ہیں (ف۷۷) بغیر کسی سند کے، کہ انہیں ملی ہو، کس قدر سخت بیزاری کی بات ہے اللہ کے نزدیک اور ایمان لانے والوں کے نزدیک، اللہ یوں ہی مہر کردیتا ہے متکبر سرکش کے سارے دل پر (ف۷۸)

٣٦ . اور فرعون بولا (ف۷۹) اے ہامان! میرے لیے اونچا محل بنا شاید میں پہنچ جاؤں راستوں تک،

٣٧ . کا ہے کے راستے آسمان کے تو موسیٰ کے خدا کو جھانک کر دیکھوں اور بیشک میرے گمان میں تو وہ جھوٹا ہے (ف۸۰) اور یونہی فرعون کی نگاہ میں اس کا برا کام (ف۸۱) بھلا کر دکھا گیا (ف۸۲) اور وہ راستے میں روکا گیا، اور فرعون کا داؤ (ف۸۳) ہلاک ہونے ہی کو تھا،

٣٨ . اور وہ ایمان والا بولا، اے میری قوم! میرے پیچھے چلو میں تمہیں بھلائی کی راہ بتاؤں،

٣٩ . اے میری قوم! یہ دنیا کا جینا تو کچھ برتنا ہی ہے (ف۸۴) اور بیشک وه پچھلا ہمیشہ رہنے کا گھر ہے، (ف۸۵)

٤٠ . جو برُا کام کرے تو اسے بدلہ نہ ملے گا مگر اتنا ہی اور جو اچھا کام کرے مرد خواه عورت اور جو مسلمان تو وہ جنت میں داخل کیے جائیں گے وہاں بے گنتی رزق پائیں گے (ف۸۷)

٤١ . اور اے میری قوم مجھے کیا ہوا میں تمہیں بلاتا ہوں نجات کی طرف (ف۸۸) اور تم مجھے بلاتے ہو دوزخ کی طرف (ف۸۹)

٤٢ . مجھے اس طرف بلاتے ہو کہ اللہ کا انکا کروں اور ایسے کو اس کا شریک کروں جو میرے علم میں نہیں، اور میں تمہیں اس عزت والے بہت بخشنے والے کی طرف بلاتا ہوں،

٤٣ . آپ ہی ثابت ہوا کہ جس کی طرف مجھے بلاتے ہو (ف۹۰) اسے بلانا کہیں کام کا نہیں دنیا میں نہ آخرت میں (ف۹۱) اور یہ ہمارا پھرنا اللہ کی طرف ہے (ف۹۲) اور یہ کہ حد سے گزرنے والے (ف۹۳) ہی دوزخی ہیں،

٤٤ . تو جلد وہ وقت آتا ہے کہ جو میں تم سے کہہ رہا ہوں، اسے یاد کرو گے (ف۹۴) اور میں اپنے کام اللہ کو سونپتا ہوں، بیشک اللہ بندوں کو دیکھتا ہے (ف۹۵)

٤٥ . تو اللہ نے اسے بچالیا ان کے مکر کی برائیوں سے (ف۹۶) اور فرعون والوں کو برے عذاب نے آ گھیرا، (ف۹۷)

٤٦ . آ گ جس پر صبح و شام پیش کیے جاتے ہیں (ف۹۸) اور جس دن قیامت قائم ہوگی، حکم ہوگا فرعون والوں کو سخت تر عذاب میں داخل کرو،

٤٧ . اور (ف۹۹) جب وہ آگ میں باہم جھگڑیں گے تو کمزور ان سے کہیں گے جو بڑے بنتے تھے ہم تمہارے تابع تھے (ف۱۰۰) تو کیا تم ہم سے آگ کا کوئی حصہ گھٹا لوگے،

٤٨ . وہ تکبر والے بولے (ف۱۰۱) ہم سب آگ میں ہیں (ف۱۰۲) بیشک اللہ بندوں میں فیصلہ فرماچکا (ف۱۰۳)

٤٩ . اور جو آگ میں ہیں اس کے داروغوں سے بولے اپنے رب سے دعا کرو ہم پر عذاب کا ایک دن ہلکا کردے، (ف۱۰۴)

٥٠ . انہوں نے کہا کیا تمہارے پاس تمہارے رسول نشانیاں نہ لاتے تھے (ف۱۰۵) بولے کیوں نہیں (ف۱۰۶) بولے تو تمہیں دعا کرو (ف۱۰۷) اور کافروں کی دعا نہیں، مگر بھٹکتے پھرنے کو،

٥١ . بیشک ضرور ہم اپنے رسولوں کی مدد کریں گے اور ایمان والوں کی (ف۱۰۸) دنیا کی زندگی میں اور جس دن گواہ کھڑے ہوں گے (ف۱۰۹)

٥٢ . جس دن ظالموں کو ان کے بہانے کچھ کام نہ دیں گے (ف۱۱۰) اور ان کے لیے لعنت ہے اور ان کے لیے بُرا گھر (ف۱۱۱)

٥٣ . اور بیشک ہم نے موسیٰ کو رہنمائی عطا فرمائی (ف۱۱۲) اور بنی اسرائیل کو کتاب کا وارث کیا (ف۱۱۳)

٥٤ . عقلمندوں کی ہدایت اور نصیحت کو تو اے محبوب،

٥٥ . تم صبر کرو (ف۱۱۴) بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے (ف۱۱۵) اور اپنوں کے گناہوں کی معافی چاہو (ف۱۱۶) اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے صبح اور شام اس کی پاکی بولو (ف۱۱۷)

٥٦ . وہ جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑا کرتے ہیں بغیر کسی سند کے جو انہیں ملی ہو (ف۱۱۸) ان کے دلوں میں نہیں مگر ایک بڑائی کی ہوس (ف۱۱۹) جسے نہ پہنچیں گے (ف۱۲۰) تو تم اللہ کی پناہ مانگو (ف۱۲۱) بیشک وہی سنتا دیکھتا ہے،

٥٧ . بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش آدمیوں کی پیدائش سے بہت بڑی (ف۱۲۲) لیکن بہت لوگ نہیں جانتے (ف۱۲۳)

٥٨ . اور اندھا اور انکھیارا برابر نہیں (ف۱۲۴) اور نہ وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور بدکار (ف۱۲۵) کتنا کم دھیان کرتے ہو،

٥٩ . بیشک قیامت ضرور آنے والی ہے اس میں کچھ شک نہیں لیکن بہت لوگ ایمان نہیں لاتے (ف۱۲۶)

٦٠ . اور تمہارے رب نے فرمایا مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا (ف۱۲۷) بیشک وہ جو میری عبادت سے اونچے کھینچتے (تکبر کرتے) ہیں عنقریب جہنم میں جائیں گے ذلیل ہوکر،

٦١ . اللہ ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی کہ اس میں آرام پاؤ اور دن بنایا آنکھیں کھولتا (ف۱۲۸) بیشک اللہ لوگوں پر فضل والا ہے لیکن بہت آدمی شکر نہیں کرتے،

٦٢ . وہ ہے اللہ تمہارا رب ہر چیز کا بنانے والا اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں تو کہاں اوندھے جاتے ہو (ف۱۲۹)

٦٣ . یونہی اوندھے ہوتے ہیں (ف۱۳۰) وہ جو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں (ف۱۳۱)

٦٤ . اللہ ہے جس نے تمہارے لیے زمین ٹھہراؤ بنائی (ف۱۳۲) اور آسمان چھت (ف۱۳۳) اور تمہاری تصویر کی تو تمہاری صورتیں اچھی بنائیں (ف۱۳۴) اور تمہیں ستھری چیزیں (ف۱۳۵) روزی دیں یہ ہے اللہ تمہارا رب، تو بڑی برکت والا ہے اللہ رب سارے جہان کا،

٦٥ . وہی زندہ ہے (ف۱۳۶) اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں تو اسے پوجو نرے اسی کے بندے ہوکر، سب خوبیاں اللہ کو جو سارے جہاں کا رب،

٦٦ . تم فرماؤ میں منع کیا گیا ہوں کہ انہیں پوجوں جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو (ف۱۳۷) جبکہ میرے پاس روشن دلیلیں (ف۱۳۸) میرے رب کی طرف سے آئیں اور مجھے حکم ہوا ہے کہ رب العالمین کے حضور گردن رکھوں،

٦٧ . وہی ہے جس نے تمہیں (ف۱۳۹) مٹی سے بنایا پھر (ف۱۴۰) پانی کی بوند سے (ف۱۴۱) پھر خون کی پھٹک سے پھرتمہیں نکالتا ہے بچہ پھرتمہیں باقی رکھتا ہے کہ اپنی جوانی کو پہنچو (ف۱۴۲) پھر اس لیے کہ بوڑھے ہو اور تم میں کوئی پہلے ہی اٹھالیا جاتا ہے (ف۱۴۳) اور اس لیے کہ تم ایک مقرر وعدہ تک پہنچو (ف۱۴۴) اور اس لیے کہ سمجھو (ف۱۴۵)

٦٨ . وہی ہے کہ جِلاتا ہے اور مارتا ہے پھر جب کوئی حکم فرماتا ہے تو اس سے یہی کہتا ہے کہ ہو جا جبھی وہ ہوجاتا ہے (ف۱۴۶)

٦٩ . کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑے ہیں (ف۱۴۷) کہاں پھیرے جاتے ہیں (ف۱۴۸)

٧٠ . وہ جنہوں نے جھٹلائی کتاب (ف۱۴۹) اور جو ہم نے اپنے رسولوں کے ساتھ بھیجا، ف۱۵۰) وہ عنقریب جان جائیں گے (ف۱۵۱)

٧١ . جب ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور زنجیریں (ف۱۵۲) گھسیٹے جائیں گے،

٧٢ . کھولتے پانی میں، پھر آگ میں دہکائے جائیں گے (ف۱۵۳)

٧٣ . پھر ان سے فرمایا جائے گا کہاں گئے وہ جو تم شریک بناتے تھے (ف۱۵۴)

٧٤ . اللہ کے مقابل، کہیں گے وہ تو ہم سے گم گئے (ف۱۵۵) بلکہ ہم پہلے کچھ پوجتے ہی نہ تھے (ف۱۵۶) اللہ یونہی گمراہ کرتا ہے کافروں کو،

٧٥ . یہ (ف۱۵۷) اس کا بدلہ ہے جو تم زمین میں باطل پر خوش ہوتے تھے (ف۱۵۸) اور اس کا بدلہ ہے جو تم اتراتے تھے،

٧٦ . جاؤ جہنم کے دروازوں میں اس میں ہمیشہ رہنے، تو کیا ہی برا ٹھکانا مغروروں کا (ف۱۵۹)

٧٧ . تو تم صبر کرو بیشک اللہ کا وعدہ (ف۱۶۰) سچا ہے، تو اگر ہم تمہیں دکھادیں (ف۱۶۱) کچھ وہ چیز جس کا انہیں وعدہ دیا جاتا ہے (ف۱۶۲) یا تمہیں پہلے ہی وفات دیں بہرحال انہیں ہماری ہی طرف پھرنا (ف۱۶۳)

٧٨ . اور بیشک ہم نے تم سے پہلے کتنے رسول بھیجے کہ جن میں کسی کا احوال تم سے بیان فرمایا (ف۱۶۴) اور کسی کا احوال نہ بیان فرمایا (ف۱۶۵) اور کسی رسول کو نہیں پہنچتا کہ کوئی نشانی لے آئے بے حکم خدا کے، پھر جب اللہ کا حکم آئے گا (ف۱۶۶) سچا فیصلہ فرمادیا جائے گا (ف۱۶۷) اور باطل والوں کا وہاں خسارہ،

٧٩ . اللہ ہے جس نے تمہارے لیے چوپائے بنائے کہ کسی پر سوار ہو اور کسی کا گوشت کھاؤ،

٨٠ . اور تمہارے لیے ان میں کتنے ہی فائدے ہیں (ف۱۶۸) اور اس لیے کہ تم ان کی پیٹھ پر اپنے دل کی مرادوں کو پہنچو (ف۱۶۹) اور ان پر (ف۱۷۰) اور کشتیوں پر (ف۱۷۱) سوار ہوتے ہو،

٨١ . اور وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے (ف۱۷۲) تو اللہ کی کونسی نشانی کا انکار کرو گے (ف۱۷۳)

٨٢ . کیا انہوں نے زمین میں سفر نہ کیا کہ دیکھتے ان سے اگلوں کا کیسا انجام ہوا، وہ ان سے بہت تھے (ف۱۷۴) اور ان کی قوت (ف۱۷۵) اور زمین میں نشانیاں ان سے زیادہ (ف۱۷۶) تو ان کے کیا کام آیا جو انہوں نے کمایا، (ف۱۷۷)

٨٣ . تو جب ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں لائے، تو وہ اسی پر خوش رہے جو ان کے پاس دنیا کا علم تھا (ف۱۷۸) اور انہیں پر الٹ پڑا جس کی ہنسی بناتے تھے (ف۱۷۹)

٨٤ . پھر جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھا بولے ہم ایک اللہ پر ایمان لائے اور جو اس کے شریک کرتے تھے ان کے منکر ہوئے (ف۱۸۰)

٨٥ . تو ان کے ایمان نے انہیں کام نہ دیا جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا، اللہ کا دستور جو اس کے بندوں میں گزر چکا (ف۱۸۱) اور وہاں کافر گھاٹے میں رہے (ف۱۸۲)