;

١ . حٰمٓ

٢ . یہ اتارا ہے بڑے رحم والے مہربان کا،

٣ . ایک کتاب ہے جس کی آیتیں مفصل فرمائی گئیں (ف۲) عربی قرآن عقل والوں کے لیے،

٤ . خوشخبری دیتا (ف۳) اور ڈر سناتا (ف۴) تو ان میں اکثر نے منہ پھیرا تو وہ سنتے ہی نہیں (ف۵)

٥ . اور بولے (ف۶) ہمارے دل غلاف میں ہیں اس بات سے جس کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو (ف۷) اور ہمارے کانوں میں ٹینٹ (روئی) ہے (ف۸) اور ہمارے اور تمہارے درمیان روک ہے (ف۹) تو تم اپنا کام کرو ہم اپنا کام کرتے ہیں (ف۱۰)

٦ . تم فرماؤ (ف۱۱) آدمی ہونے میں تو میں تمہیں جیسا ہوں (ف۱۲) مجھے وحی ہوتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے، تو اس کے حضور سیدھے رہو (ف۱۳) اور اس سے معافی مانگو (ف۱۴) اور خرابی ہے شرک والوں کو،

٧ . وہ جو زکوٰة نہیں دیتے (ف۱۵) اور وہ آخرت کے منکر ہیں (ف۱۶)

٨ . بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کے لیے بے انتہا ثواب ہے (ف۱۷)

٩ . تم فرماؤ کیا تم لوگ اس کا انکار رکھتے ہو جس نے دو دن میں زمین بنائی (ف۱۸) اور اس کے ہمسر ٹھہراتے رہو (ف۱۹) وہ ہے سارے جہان کا رب (ف۲۰)

١٠ . اور اس میں (ف۲۱) اس کے اوپر سے لنگر ڈالے (ف۲۲) (بھاری بوجھ رکھے) اور اس میں برکت رکھی (ف۲۳) اور اس میں اس کے بسنے والوں کی روزیاں مقرر کیں یہ سب ملاکر چار دن میں (ف۲۴) ٹھیک جواب پوچھنے والوں کو،

١١ . پھر آسمان کی طرف قصد فرمایا اور وہ دھواں تھا (ف۲۵) تو اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں حاضر ہو خوشی سے چاہے ناخوشی سے، دونوں نے عرض کی کہ ہم رغبت کے ساتھ حاضر ہوئے،

١٢ . تو انہیں پورے سات آسمان کردیا دو دن میں (ف۲۶) اور ہر آسمان میں اسی کے کام کے احکام بھیجے (ف۲۷) اور ہم نے نیچے کے آسمان کو (ف۲۸) چراغوں سے آراستہ کیا (ف۲۹) اور نگہبانی کے لیے (ف۳۰) یہ اس عزت والے علم والے کا ٹھہرایا ہوا ہے،

١٣ . پھر اگر وہ منہ پھیریں (ف۳۱) تو تم فرماؤ کہ میں تمہیں ڈراتا ہوں ایک کڑ ک سے جیسی کڑ ک عاد اور ثمود پر آئی تھی (ف۳۲)

١٤ . جب رسول ان کے آگے پیچھے پھرتے تھے (ف۳۳) کہ اللہ کے سوا کسی کو نہ پوجو، بولے (ف۳۴) ہمارا رب چاہتا تو فرشتے اتارتا (ف۳۵) تو جو کچھ تم لے کر بھیجے گئے ہم اسے نہیں مانتے (ف۳۶)

١٥ . تو وہ جو عاد تھے انہیں نے زمین میں ناحق تکبر کیا (ف۳۷) اور بولے ہم سے زیادہ کس کا زور، اور کیا انہوں نے نہ جانا کہ اللہ جس نے انہیں بنایا ان سے زیادہ قوی ہے، اور ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے،

١٦ . تو ہم نے ان پر ایک آندھی بھیجی سخت گرج کی (ف۳۸) ان کی شامت کے دنوں میں کہ ہم انہیں رسوائی کا عذاب چکھائیں دنیا کی زندگی میں اور بیشک آخرت کے عذاب میں سب سے بڑی رسوائی ہے اور ان کی مدد نہ ہوگی،

١٧ . اور رہے ثمود انہیں ہم نے راہ دکھائی (ف۳۹) تو انہوں نے سوجھنے پر اندھے ہونے کو پسند کیا (ف۴۰) تو انہیں ذلت کے عذاب کی کڑ ک نے آ لیا (ف۴۱) سزا ان کے کیے کی (ف۴۲)

١٨ . اور ہم نے (ف۴۳) انہیں بچالیا جو ایمان لائے (ف۴۴) اور ڈرتے تھے (ف۴۵)

١٩ . اور جس دن اللہ کے دشمن (ف۴۶) آگ کی طرف ہانکے جائیں گے تو ان کے اگلوں کو روکیں گے،

٢٠ . یہاں تک کہ پچھلے آ ملیں (ف۴۷) یہاں تک کہ جب وہاں پہنچیں گے ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے چمڑے سب ان پر ان کے کیے کی گواہی دیں گے (ف۴۸)

٢١ . اور وه اپنی کھالوں سے کہیں گے تم نے ہم پر کیوں گواہی دی، وہ کہیں گی ہمیں اللہ نے بلوایا جس نے ہر چیز کو گویائی بخشی اور اس نے تمہیں پہلی بار بنایا اور اسی کی طرف تمہیں پھرنا ہے،

٢٢ . اور تم (ف۴۹) اس سے کہاں چھپ کر جاتے کہ تم پر گواہی دیں تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں (ف۵۰) لیکن تم تو یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ اللہ تمہارے بہت سے کام نہیں جانتا (ف۵۱)

٢٣ . اور یہ ہے تمہارا وہ گمان جو تم نے اپنے رب کے ساتھ کیا اور اس نے تمہیں ہلاک کردیا (ف۵۲) تو اب رہ گئے ہارے ہوؤں میں،

٢٤ . پھر اگر وہ صبر کریں (ف۵۳) تو آگ ان کا ٹھکانا ہے (ف۵۴) اور اگر وہ منانا چاہیں تو کوئی ان کا منانا نہ مانے، (ف۵۵)

٢٥ . اور ہم نے ان پر کچھ ساتھی تعینات کیے (ف۵۶) انہوں نے انہیں بھلا کردیا جو ان کے آگے ہے (ف۵۷) اور جو ان کے پیچھے (ف۵۸) اور ان پر بات پوری ہوئی (ف۵۹) ان گروہوں کے ساتھ جو ان سے پہلے گزر چکے جن اور آدمیوں کے، بیشک وہ زیاں کار تھے،

٢٦ . اور کافر بولے (ف۶۰) یہ قرآن نہ سنو اور اس میں بیہودہ غل کرو (ف۶۱) شاید یونہی تم غالب آؤ (ف۶۲)

٢٧ . تو بیشک ضرور ہم کافروں کو سخت عذاب چکھائیں گے اور بیشک ہم ان کے بُرے سے بُرے کام کا انہیں بدلہ دیں گے (ف۶۳)

٢٨ . یہ ہے اللہ کے دشمنوں کا بدلہ آ گ، اس میں انہیں ہمیشہ رہنا ہے، سزا اس کی کہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے،

٢٩ . اور کافر بولے (ف۶۴) اے ہمارے رب ہمیں دکھا وہ دونوں جن اور آدمی جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا (ف۶۵) کہ ہم انہیں اپنے پاؤں تلے ڈالیں (ف۶۶) کہ وہ ہر نیچے سے نیچے رہیں (ف۶۷)

٣٠ . بیشک وہ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر قائم رہے (ف۶۸) ان پر فرشتے اترتے ہیں (ف۶۹) کہ نہ ڈرو (ف۷۰) اور نہ غم کرو (ف۷۱) اور خوش ہو اس جنت پر جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا (ف۷۲)

٣١ . ہم تمہارے دوست ہیں دنیا کی زندگی میں (ف۷۳) اور آخرت میں (ف۷۴) اور تمہارے لیے ہے اس میں (ف۷۵) جو تمہارا جی چاہے اور تمہارے لیے اس میں جو مانگو،

٣٢ . مہمانی بخشنے والے مہربان کی طرف سے،

٣٣ . اور اس سے زیادہ کس کی بات اچھی جو اللہ کی طرف بلائے (ف۷۶) اور نیکی کرے (ف۷۷) اور کہے میں مسلمان ہوں (ف۷۸)

٣٤ . اور نیکی اور بدی برابر نہ ہوجائیں گی، اے سننے والے برائی کو بھلائی سے ٹال (ف۷۹) جبھی وہ کہ تجھ میں اور اس میں دشمنی تھی ایسا ہوجائے گا جیسا کہ گہرا دوست (ف۸۰)

٣٥ . اور یہ دولت (ف۸۱) نہیں ملتی مگر صابروں کو، اور اسے نہیں پاتا مگر بڑے نصیب والا،

٣٦ . اور اگر تجھے شیطان کا کوئی کونچا (تکلیف) پہنچے (ف۸۲) تو اللہ کی پناہ مانگ (ف۸۳) بیشک وہی سنتا جانتا ہے،

٣٧ . اور اس کی نشانیوں میں سے ہیں رات اور دن اور سورج اور چاند (ف۸۴) سجدہ نہ کرو سورج کو اور نہ چاند کو (ف۸۵) اور اللہ کو سجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیا (ف۸۶) اگر تم اس کے بندے ہو،

٣٨ . تو اگر یہ تکبر کریں (ف۸۷) تو وہ جو تمہارے رب کے پاس ہیں (ف۸۸) رات دن اس کی پاکی بولتے ہیں اور اکتاتے نہیں، السجدة ۔۱۱)

٣٩ . اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ تو زمین کو دیکھے بے قدر پڑی (ف۸۹) پھر جب ہم نے اس پر پانی اتارا (ف۹۰) تر و تازہ ہوئی اور بڑھ چلی، بیشک جس نے اسے جِلایا ضرور مردے جِلائے گا، بیشک وہ سب کچھ کرسکتا ہے،

٤٠ . بیشک وہ جو ہماری آیتوں میں ٹیڑھے چلتے ہیں (ف۹۱) ہم سے چھپے نہیں (ف۹۲) تو کیا جو آ گ میں ڈالا جائے گا (ف۹۳) وہ بھلا، یا جو قیامت میں امان سے آئے گا (ف۹۴) جو جی میں آئے کرو بیشک وہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے،

٤١ . بیشک جو ذکر سے منکر ہوئے (ف۹۵) جب وہ ان کے پاس آیا ان کی خرابی کا کچھ حال نہ پوچھ، اور بیشک وہ عزت والی کتاب ہے (ف۹۶)

٤٢ . باطل کو اس کی طرف راہ نہیں نہ اس کے آگے سے نہ اس کے پیچھے سے (ف۹۷) اتارا ہوا ہے حکمت والے سب خوبیوں سراہے کا،

٤٣ . تم سے نہ فرمایا جائے (ف۹۸) مگر وہی جو تم سے اگلے رسولوں کو فرمایا، کہ بیشک تمہارا رب بخشش والا (ف۹۹) اور دردناک عذاب والا ہے (ف۱۰۰)

٤٤ . اور اگر ہم اسے عجمی زبان کا قرآن کرتے (ف۱۰۱) تو ضرور کہتے کہ اس کی آیتیں کیوں نہ کھولی گئیں (ف۱۰۲) کیا کتاب عجمی اور نبی عربی (ف۱۰۳) تم فرماؤ وہ (ف۱۰۴) ایمان والوں کے لیے ہدایت اور شفا ہے (ف۱۰۵) اور وہ جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں ٹینٹ (روئی) ہے (ف۱۰۶) اور وہ ان پر اندھا پن ہے (ف۱۰۷) گویا وہ دور جگہ سے پکارے جاتے ہیں (ف۱۰۸)

٤٥ . اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی (ف۱۰۹) تو اس میں اختلاف کیا گیا (ف۱۱۰) اور اگر ایک بات تمہارے رب کی طرف سے گزر نہ چکی ہوتی (ف۱۱۱) تو جبھی ان کا فیصلہ ہوجاتا (ف۱۱۲) اور بیشک وہ (ف۱۱۳) ضرور اس کی طرف سے ایک دھوکا ڈالنے والے شک میں ہیں،

٤٦ . جو نیکی کرے وہ اپنے بھلے کو اور جو برائی کرے اپنے بُرے کو، اور تمہارا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا،

٤٧ . قیامت کے علم کا اسی پر حوالہ ہے (ف۱۱۴) اور کوئی پھل اپنے غلاف سے نہیں نکلتا اور نہ کسی مادہ کو پیٹ رہے اور نہ جنے مگر اس کے علم سے (ف۱۱۵) اور جس دن انہیں ندا فرمائے گا (ف۱۱۶) کہاں ہیں میرے شریک (ف۱۱۷) کہیں گے ہم تجھ سے کہہ چکے ہیں کہ ہم میں کوئی گواہ نہیں (ف۱۱۸)

٤٨ . اور گم گیا ان سے جسے پہلے پوجتے تھے (ف۱۱۹) اور سمجھ لیے کہ انہیں کہیں (ف۱۲۰) بھاگنے کی جگہ نہیں،

٤٩ . آدمی بھلائی مانگنے سے نہیں اُکتاتا (ف۱۲۱) اور کوئی برائی پہنچے (ف۱۲۲) تو ناامید آس ٹوٹا (ف۱۲۳)

٥٠ . اور اگر ہم اسے کچھ اپنی رحمت کا مزہ دیں (ف۱۲۴) اس تکلیف کے بعد جو اسے پہنچی تھی تو کہے گا یہ تو میری ہے (ف۱۲۵) اور میرے گمان میں قیامت قائم نہ ہوگی اور اگر (ف۱۲۶) میں رب کی طرف لوٹایا بھی گیا تو ضرور میرے لیے اس کے پاس بھی خوبی ہی ہے (ف۱۲۷) تو ضرور ہم بتادیں گے کافروں کو جو انہوں نے کیا (ف۱۲۸) اور ضرور انہیں گاڑھا عذاب چکھائیں گے (ف۱۲۹)

٥١ . اورجب ہم آدمی پر احسان کرتے ہیں تو منہ پھیر لیتا ہے (ف۱۳۰) اور اپنی طرف دور ہٹ جاتا ہے (ف۱۳۱) اور جب اسے تکلیف پہنچتی ہے (ف۱۳۲) تو چوڑی دعا والا ہے (ف۱۳۳)

٥٢ . تم فرماؤ (ف۱۳۴) بھلا بتاؤ اگر یہ قرآن اللہکے پاس سے ہے (ف۱۳۵) پھر تم اس کے منکر ہوئے تو اس سے بڑھ کر گمراہ کون جو دور کی ضد میں ہے (ف۱۳۶)

٥٣ . ابھی ہم انہیں دکھائیں گے اپنی آیتیں دنیا بھر میں (ف۱۳۷) اور خود ان کے آپے میں (ف۱۳۸) یہاں تک کہ ان پر کھل جائے کہ بیشک وہ حق ہے (ف۱۳۹) کیا تمہارے رب کا ہر چیز پر گواہ ہونا کافی نہیں،

٥٤ . سنو انہیں ضرور اپنے رب سے ملنے میں شک ہے (ف۱۴۰) سنو ! وہ ہر چیز کو محیط ہے (ف۱۴۱)