;

١ . حٰمٓ

٢ . عٓسٓقٓ

٣ . یونہی وحی فرماتا ہے تمہاری طرف (ف۲) اور تم سے اگلوں کی طرف (ف۳) اللہ عزت و حکمت والا،

٤ . اسی کا ہے جو کچھ آسمان میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور وہی بلندی و عظمت والا ہے،

٥ . قریب ہوتا ہے کہ آسمان اپنے اوپر سے شق ہوجائیں (ف۴) اور فرشتے اپنے رب کی تعریف کے ساتھ اس کی پاکی بولتے اور زمین والوں کے لیے معافی مانگتے ہیں (ف۵) سن لو بیشک اللہ ہی بخشنے والا مہربان ہے،

٦ . اور جنہوں نے اللہ کے سوا اور والی بنارکھے ہیں (ف۶) وہ اللہ کی نگاہ میں ہیں (ف۷) اور تم ان کے ذمہ دار نہیں، (ف۸)

٧ . اور یونہی ہم نے تمہاری طرف عربی قرآن وحی بھیجا کہ تم ڈراؤ سب شہروں کی اصل مکہ والوں کو اور جتنے اس کے گرد ہیں (ف۹) اور تم ڈراؤ اکٹھے ہونے کے دن سے جس میں کچھ شک نہیں (ف۱۰) ایک گروہ جنت میں ہے اور ایک گروہ دوزخ میں،

٨ . اور اللہ چاہتا تو ان سب کو ایک دین پر کردیتا لیکن اللہ اپنی رحمت میں لیتا ہے جسے چاہے (ف۱۱) اور ظالموں کا نہ کوئی دوست نہ مددگار (ف۱۲)

٩ . کیا اللہ کے سوا اور والی ٹھہرالیے ہیں (ف۱۳) تو اللہ ہی والی ہے اور وہ مُردے جِلائے گا، اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے (ف۱۴)

١٠ . تم جس بات میں (ف۱۵) اختلاف کرو تو اس کا فیصلہ اللہ کے سپرد ہے (ف۱۶) یہ ہے اللہ میرا رب میں نے اس پر بھروسہ کیا، اور میں اس کی طرف رجوع لاتا ہوں (ف۱۷)

١١ . آسمانوں اور زمین کا بنانے والا، تمہارے لیے تمہیں میں سے (ف۱۸) جوڑے بنائے اور نر و مادہ چوپائے، اس سے (ف۱۹) تمہاری نسل پھیلاتا ہے، اس جیسا کوئی نہیں، اور وہی سنتا دیکھتا ہے،

١٢ . اسی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کی کنجیاں (ف۲۰) روزی وسیع کرتا ہے جس کے لیے چاہے اور تنگ فرماتا ہے (ف۲۱) بیشک وہ سب کچھ جانتا ہے،

١٣ . تمہارے لیے دین کی وہ راہ ڈالی جس کا حکم اس نے نوح کو دیا (ف۲۲) اور جو ہم نے تمہاری طرف وحی کی (ف۲۳) اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا (ف۲۴) کہ دین ٹھیک رکھو (ف۲۵) اور اس میں پھوٹ نہ ڈالو (ف۲۶) مشرکوں پر بہت ہی گراں ہے وہ (ف۲۷) جس کی طرف تم انہیں بلاتے ہو، اور اللہ اپنے قریب کے لیے چن لیتا ہے جسے چاہے (ف۲۸) اور اپنی طرف راہ دیتا ہے اسے جو رجوع لائے (ف۲۹)

١٤ . اور انہوں نے پھوٹ نہ ڈالی مگر بعد اس کے کہ انہیں علم آچکا تھا (ف۳۰) آپس کے حسد سے (ف۳۱) اور اگر تمہارے رب کی ایک بات گزر نہ چکی ہوتی (ف۳۲) ایک مقرر میعاد تک (ف۳۳) تو کب کا ان میں فیصلہ کردیا ہوتا (ف۳۴) اور بیشک وہ جو ان کے بعد کتاب کے وارث ہوئے (ف۳۵) وہ اس سے ایک دھوکا ڈالنے والے شک میں ہیں (ف۳۶)

١٥ . تو اسی لیے بلاؤ (ف۳۷) اور ثابت قدم رہو (ف۳۸) جیسا تمہیں حکم ہوا ہے اور ان کی خواہشوں پر نہ چلو اور کہو کہ میں ایمان لایا اس پر جو کوئی کتاب اللہ نے اتاری (ف۳۹) اور مجھے حکم ہے کہ میں تم میں انصاف کروں (ف۴۰) اللہ ہمارا اور تمہارا سب کا رب ہے (ف۴۱) ہمارے لیے ہمارا عمل اور تمہارے لیے تمہارا کیا (ف۴۲) کوئی حجت نہیں ہم میں اور تم میں (ف۴۳) اللہ ہم سب کو جمع کرے گا (ف۴۴) اور اسی کی طرف پھرنا ہے،

١٦ . اور وہ جو اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں بعد اس کے کہ مسلمان اس کی دعوت قبول کرچکے ہیں (ف۴۵) ان کی دلیل محض بے ثبات ہے ان کے رب کے پاس اور ان پر غضب ہے (ف۴۶) اور ان کے لیے سخت عذاب ہے (ف۴۷)

١٧ . اللہ ہے جس نے حق کے ساتھ کتاب اتاری (ف۴۸) اور انصاف کی ترازو (ف۴۹) اور تم کیا جانو شاید قیامت قریب ہی ہو (ف۵۰)

١٨ . اس کی جلدی مچارہے ہیں وہ جو اس پر ایمان نہیں رکھتے (ف۵۱) اور جنہیں اس پر ایمان ہے وہ اس سے ڈر رہے ہیں اورجانتے ہیں کہ بیشک وہ حق ہے، سنتے ہو بیشک جو قیامت میں شک کرتے ہیں ضرور دُور کی گمراہی میں ہیں،

١٩ . اللہ اپنے بندوں پر لطف فرماتا ہے (ف۵۲) جسے چاہے روزی دیتا ہے (ف۵۳) اور وہی قوت و عزت والا ہے،

٢٠ . جو آخرت کی کھیتی چاہے (ف۵۴) ہم اس کے لیے اس کی کھیتی بڑھائیں (ف۵۵) اور جو دنیا کی کھیتی چاہے (ف۵۶) ہم اسے اس میں سے کچھ دیں گے (ف۵۷) اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں (ف۵۸)

٢١ . یا ان کے لیے کچھ شریک ہیں (ف۵۹) جنہوں نے ان کے لیے (ف۶۰) وہ دین نکال دیا ہے (ف۶۱) کہ اللہ نے اس کی اجازت نہ دی (ف۶۲) اور اگر ایک فیصلہ کا وعدہ نہ ہوتا (ف۶۳) تو یہیں ان میں فیصلہ کردیا جاتا (ف۶۴) اور بیشک ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے (ف۶۵)

٢٢ . تم ظالموں کو دیکھو گے کہ اپنی کمائیوں سے سہمے ہوئے ہوں گے (ف۶۶) اور وہ ان پر پڑ کر رہیں گی (ف۶۷) اور جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے وہ جنت کی پھلواریوں میں ہیں، ان کے لیے ان کے رب کے پاس ہے جو چاہیں، یہی بڑا فضل ہے،

٢٣ . یہ ہے وہ جس کی خوشخبری دیتا ہے اللہ اپنے بندوں کو جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے، تم فرماؤ میں اس (ف۶۸) پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا (ف۶۹) مگر قرابت کی محبت (ف۷۰) اور جو نیک کام کرے (ف۷۱) ہم اس کے لیے اس میں اور خوبی بڑھائیں، بیشک اللہ بخشنے والا قدر فرمانے والا ہے،

٢٤ . یا (ف۷۲) یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھ لیا (ف۷۳) اور اللہ چاہے تو تمہارے اوپر اپنی رحمت و حفاظت کی مہر فرمادے (ف۷۴) اور مٹا تا ہے باطل کو (ف۷۵) اور حق کو ثابت فرماتا ہے اپنی باتوں سے (ف۷۶) بیشک وہ دلوں کی باتیں جانتا ہے،

٢٥ . اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا اور گناہوں سے درگزر فرماتا ہے (ف۷۷) اور جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو،

٢٦ . اور دعا قبول فرماتا ہے ان کی جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور انہیں اپنے فضل سے اور انعام دیتا ہے، (ف۷۸) اور کافروں کے لیے سخت عذاب ہے،

٢٧ . اور اگر اللہ اپنے سب بندوں کا رزق وسیع کردیتا تو ضرور زمین میں فساد پھیلاتے (ف۷۹) لیکن وہ اندازہ سے اتارتا ہے جتنا چاہے، بیشک وہ بندوں سے خبردار ہے (ف۸۰) انہیں دیکھتا ہے،

٢٨ . اور وہی ہے کہ مینہ اتارتا ہے ان کے نا امید ہونے پر اور اپنی رحمت پھیلاتا ہے (ف۸۱) اور وہی کام بنانے والا ہے سب خوبیوں سراہا،

٢٩ . اور اس کی نشانیوں سے ہے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور جو چلنے والے ان میں پھیلائے، اور وہ ان کے اکٹھا کرنے پر (ف۸۲) جب چاہے قادر ہے،

٣٠ . اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ اس کے سبب سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایا (ف۸۳) اور بہت کچھ تو معاف فرمادیتا ہے،

٣١ . اور تم زمین میں قابو سے نہیں نکل سکتے (ف۸۴) اور نہ اللہ کے مقابل تمہارا کوئی دوست نہ مددگار (ف۸۵)

٣٢ . اور اس کی نشانیوں سے ہیں (ف۸۶) دریا میں چلنے والیاں جیسے پہاڑیاں،

٣٣ . وہ چاہے تو ہوا تھما دے (ف۸۷) اس کی پیٹھ پر (ف۸۸) ٹھہری رہ جائیں (ف۸۶) بیشک اس میں ضرور نشانیاں ہیں ہر بڑے صابر شاکر کو (ف۹۰)

٣٤ . یا انہیں تباہ کردے (ف۹۱) لوگوں کے گناہوں کے سبب (ف۹۲) اور بہت معاف فرمادے (ف۹۳)

٣٥ . اور جان جائیں وہ جو ہماری آیتوں میں جھگڑتے ہیں، کہ انہیں (ف۹۴) کہیں بھا گنے کی جگہ نہیں،

٣٦ . تمہیں جو کچھ ملا ہے (ف۹۵) وہ جیتی دنیا میں برتنےکا ہے اور وہ جو اللہ کے پاس ہے (ف۹۷) بہتر ہے اور زیادہ باقی رہنے والا ان کے لیے جو ایمان لائے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں (ف۹۸)

٣٧ . اور وہ جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائیوں سے بچتے ہیں اور جب غصہ آئے معاف کردیتے ہیں،

٣٨ . اور وہ جنہوں نے اپنے رب کا حکم مانا (ف۹۹) اور نماز قائم رکھی (ف۱۰۰) اور ان کا کام ان کے آپس کے مشورے سے ہے (ف۱۰۱) اور ہمارے دیے سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں،

٣٩ . اور وہ کہ جب انہیں بغاوت پہنچے بدلہ لیتے ہیں (ف۱۰۲)

٤٠ . اور برائی کا بدلہ اسی کی برابر برائی ہے (ف۱۰۳) تو جس نے معاف کیا اور کام سنوارا تو اس کا اجر اللہ پر ہے، بیشک وہ دوست نہیں رکھتا ظالموں کو (ف۱۰۴)

٤١ . اور بے شک جس نے اپنی مظلو می پر بدلہ لیا ان پر کچھ مواخذہ کی راه نہیں،

٤٢ . مواخذہ تو انہیں پر ہے جو (ف۱۰۵) لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق سرکشی پھیلاتے ہیں (ف۱۰۶) ان کے لیے دردناک عذاب ہے،

٤٣ . اور بیشک جس نے صبر کیا (ف۱۰۷) اور بخش دیا تو یہ ضرور ہمت کے کام ہیں،

٤٤ . اور جسے اللہ گمراہ کرے اس کا کوئی رفیق نہیں اللہ کے مقابل (ف۱۰۸) اور تم ظالموں کو دیکھو گے کہ جب عذاب دیکھیں گے (ف۱۰۹) کہیں گے کیا واپس جانے کا کوئی راستہ ہے (ف۱۱۰)

٤٥ . اور تم انہیں دیکھو گے کہ آگ پر پیش کیے جاتے ہیں ذلت سے دبے لچے چھپی نگاہوں دیکھتے ہیں (ف۱۱۱) اور ایمان والے کہیں گے بیشک ہار (نقصان) میں وہ ہیں جو اپنی جانیں اور اپنے گھر والے ہار بیٹھے قیامت کے دن (ف۱۱۲) سنتے ہو بیشک ظالم (ف۱۱۳) ہمیشہ کے عذاب میں ہیں،

٤٦ . اور ان کے کوئی دوست نہ ہوئے کہ اللہ کے مقابل ان کی مدد کرتے (ف۱۱۴) اور جسے اللہ گمراہ کرے اس کے لیے کہیں راستہ نہیں (ف۱۱۵)

٤٧ . اپنے رب کا حکم مانو (ف۱۱۶) اس دن کے آنے سے پہلے جو اللہ کی طرف سے ٹلنے والا نہیں (ف۱۱۷) اس دن تمہیں کوئی پناہ نہ ہوگی اور نہ تمہیں انکار کرتے بنے (ف۱۱۸)

٤٨ . تو اگر وہ منہ پھیریں (ف۱۱۹) تو ہم نے تمہیں ان پر نگہبان بناکر نہیں بھیجا (ف۱۲۰) تم پر تو نہیں مگر پہنچادینا (ف۱۲۱) اور جب ہم آدمی کو اپنی طرف سے کسی رحمت کا مزہ دیتے ہیں (ف۱۲۲) اور اس پر خوش ہوجاتا ہے اور اگر انہیں کوئی برائی پہنچے (ف۱۲۳) بدلہ اس کا جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا (ف۱۲۴) تو انسان بڑا ناشکرا ہے (ف۱۲۵)

٤٩ . اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت (ف۱۲۶) پیدا کرتا ہے جو چاہے جسے چاہے بیٹیاں عطا فرمائے (ف۱۲۷) اور جسے چاہے بیٹے دے (ف۱۲۸)

٥٠ . یا دونوں ملا دے بیٹے اور بیٹیاں اور جسے چاہے بانجھ کردے (ف۱۲۹) بیشک وہ علم و قدرت والا ہے،

٥١ . اور کسی آدمی کو نہیں پہنچتا کہ اللہ اس سے کلام فرمائے مگر وحی کے طور پر (ف۱۳۰) یا یوں کہ وہ بشر پر وہ عظمت کے ادھر ہو (ف۱۳۱) یا کوئی فرشتہ بھیجے کہ وہ اس کے حکم سے وحی کرے جو وہ چاہے (ف۱۳۲) بیشک وہ بلندی و حکمت والا ہے،

٥٢ . اور یونہی ہم نے تمہیں وحی بھیجی (ف۱۳۳) ایک جان فزا چیز (ف۱۳۴) اپنے حکم سے، اس سے پہلے نہ تم کتاب جانتے تھے نہ احکام شرع کی تفصیل ہاں ہم نے اسے (ف۱۳۵) نور کیا جس سے ہم راہ دکھاتے ہیں اپنے بندوں سے جسے چاہتے ہیں، اور بیشک تم ضرور سیدھی راہ بتاتے ہو (ف۱۳۶)

٥٣ . اللہ کی راہ (ف۱۳۷) کہ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں، سنتے ہو سب کام اللہ ہی کی طرف پھیرتے ہیں،