;

١ . حٰمٓ

٢ . کتاب کا اتارنا ہے اللہ عزت و حکمت والے کی طرف سے،

٣ . بیشک آسمانوں اور زمین میں نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لیے (ف۲)

٤ . اور تمہاری پیدائش میں (ف۳) اور جو جو جانور وہ پھیلاتا ہے ان میں نشانیاں ہیں یقین والوں کے لیے،

٥ . اور رات اور دن کی تبدیلیوں میں (ف۴) اور اس میں کہ اللہ نے آسمان سے روزی کا سبب مینہ اتارا تو اس سے زمین کو اس کے مَرے پیچھے زندہ کیا اور ہواؤں کی گردش میں (ف۵) نشانیاں ہیں عقل مندوں کے لیے،

٦ . یہ اللہ کی آیتیں ہیں کہ ہم تم پر حق کے ساتھ پڑھتے ہیں، پھر اللہ اور اس کی آیتوں کو چھوڑ کر کونسی بات پر ایمان لائیں گے،

٧ . خرابی ہے ہر بڑے بہتان ہائے گنہگار کے لیے (ف۶)

٨ . اللہ کی آیتوں کو سنتا ہے کہ اس پر پڑھی جاتی ہیں پھر ہٹ پر جمتا ہے (ف۷) غرور کرتا (ف۸) گویا انہیں سنا ہی نہیں تو اسے خوشخبری سناؤ درد ناک عذاب کی،

٩ . اور جب ہماری آیتوں میں سے کسی پر اطلاع پائے اس کی ہنسی بناتا ہے ان کے لیے خواری کا عذاب،

١٠ . ان کے پیچھے جہنم ہے (ف۹) اور انہیں کچھ کام نہ دے گا ان کا کمایا ہوا (ف۱۰) اور نہ وہ جو اللہ کے سوا حمایتی ٹھہرا رکھے تھے (ف۱۱) اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے،

١١ . یہ (ف۱۲) راہ دکھانا ہے اور جنہوں نے اپنے رب کی آیتوں کو نہ مانا ان کے لیے دردناک عذاب میں سے سخت تر عذاب ہے،

١٢ . اللہ ہے جس نے تمہارے بس میں دریا کردیا کہ اس میں اس کے حکم سے کشتیاں چلیں اور اس لیے کہ اس کا فضل تلاش کرو (ف۱۳) اور اس لیے کہ حق مانو (ف۱۴)

١٣ . اور تمہارے لیے کام میں لگائے جو کچھ آسمان میں ہیں (ف۱۵) اور جو کچھ زمین میں (ف۱۶) اپنے حکم سے بے شک اس میں نشا نیاں ہیں سوچنے والوں کے لئے،

١٤ . ایمان وا لوں سے فرماؤ درگزریں ان سے جو اللہ کے دنوں کی امید نہیں رکھتے (ف۱۷) تاکہ اللہ ایک قوم کو اس کی کمائی کا بدلہ دے (ف۱۸)

١٥ . جو بھلا کام کرے تو اپنے لیے اور برا کرے تو اپنے برے کو (ف۱۹) پھر اپنے رب کی طرف پھیرے جاؤ گے (ف۲۰)

١٦ . اور بیشک ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب (ف۲۱) اور حکومت اور نبوت عطا فرمائی (ف۲۲) اور ہم نے انہیں ستھری روزیاں دیں (ف۲۳) اور انہیں ان کے زمانے والوں پر فضیلت بخشی،

١٧ . اور ہم نے انہیں اس کام کی (ف۲۴) روشن دلیلیں دیں تو انہوں نے اختلاف نہ کیا (ف۲۵) مگر بعد اس کے کہ علم ان کے پاس آچکا (ف۲۶) آپس کے حسد سے (ف۲۷) بیشک تمہارا رب قیامت کے دن ان میں فیصلہ کردے گا جس بات میں اختلاف کرتے یں،

١٨ . پھر ہم نے اس کام کے (ف۲۸) عمدہ راستہ پر تمہیں کیا (ف۲۹) تو اسی راہ پر چلو اور نادانوں کی خواہشوں کا ساتھ نہ دو (ف۳۰)

١٩ . بیشک وہ اللہ کے مقابل تمہیں کچھ کام نہ دیں گے، اور بیشک ظالم ایک دوسرے کے دوست ہیں (ف۳۱) اور ڈر والوں کا دوست اللہ (ف۳۲)

٢٠ . یہ لوگوں کی آنکھیں کھولنا ہے (ف۳۳) اور ایمان والوں کے لیے ہدایت و رحمت،

٢١ . کیا جنہوں نے برائیوں کا ارتکاب کیا (ف۳۴) یہ سمجھتے ہیں کہ ہم انہیں ان جیسا کردیں گے جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے کہ ان کی ان کی زندگی اور موت برابر ہوجائے (ف۳۵) کیا ہی برا حکم لگاتے ہیں،

٢٢ . اور اللہ نے آسمان اور (ف۳۶) زمین کو حق کے ساتھ بنایا (ف۳۷) اور اس لیے کہ ہر جان اپنے کیے کا بدلہ پائے (ف۳۸) اور ان پر ظلم نہ ہوگا،

٢٣ . بھلا دیکھو تو وہ جس نے اپنی خواہش کو اپنا خدا ٹھہرالیا (ف۳۹) اور اللہ نے اسے با وصف علم کے گمراہ کیا (ف۴۰) اور اس کے کان اور دل پر مہر لگادی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈالا (ف۴۱) تو اللہ کے بعد اسے کون راہ دکھائے، تو کیا تم دھیان نہیں کرتے،

٢٤ . اور بولے (ف۴۲) وہ تو نہیں مگر یہی ہماری دنیا کی زندگی (ف۴۳) مرتے ہیں اور جیتے ہیں (ف۴۴) اور ہمیں ہلاک نہیں کرتا مگر زمانہ (ف۴۵) اور انہیں اس کا علم نہیں (ف۴۶) وہ تو نرے گمان دوڑاتے ہیں (ف۴۷)

٢٥ . اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں پڑھی جائیں (ف۴۸) تو بس ان کی حجت یہی ہوتی ہے کہ کہتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا کو لے آؤ (ف۴۹) اگر تم سچے ہو (ف۵۰)

٢٦ . تم فرماؤ اللہ تمہیں جِلاتا ہے (ف۵۱) پھر تم کو مارے گا (ف۵۲) پھر تم سب کو اکٹھا کریگا (ف۵۳) قیامت کے دن جس میں کوئی شک نہیں لیکن بہت آدمی نہیں جانتے (ف۵۴)

٢٧ . اور اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت، اور جس دن قیامت قائم ہوگی باطل والوں کی اس دن ہار ہے (ف۵۵)

٢٨ . اور تم ہر گرو ه (ف۵۶) کو دیکھو گے زانو کے بل گرے ہوئے ہر گروہ اپنے نامہٴ اعمال کی طرف بلایا جائے گا (ف۵۷) آج تمہیں تمہارے کیے کا بدلہ دیا جائے گا،

٢٩ . ہمارا یہ نوشتہ تم پر حق بولتا ہے، ہم لکھتے رہے تھے (ف۵۸) جو تم نے کیا،

٣٠ . تو وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کا رب انہیں اپنی رحمت میں لے گا (ف۵۹) یہی کھلی کامیابی ہے،

٣١ . اور جو کافر ہوئے ان سے فرمایا جائے گا، کیا نہ تھا کہ میری آیتیں تم پر پڑھی جاتی تھیں تو تم تکبر کرتے تھے (ف۶۰) اور تم مجرم لوگ تھے،

٣٢ . اور جب کہا جاتا بیشک اللہ کا وعدہ (ف۶۱) سچا ہے اور قیامت میں شک نہیں (ف۶۲) تم کہتے ہم نہیں جانتے قیامت کیا چیز ہے ہمیں تو یونہی کچھ گمان سا ہوتا ہے اور ہمیں (ف۶۳) یقین نہیں،

٣٣ . اور ان پر کھل گئیں (ف۶۴) ان کے کاموں کی برائیاں (ف۶۵) اور انہیں گھیرلیا اس عذاب نے جس کی ہنسی بناتے تھے،

٣٤ . اور فرمایا جائے گا آج ہم تمہیں چھوڑدیں گے (ف۶۶) جیسے تم اپنے اس دن کے ملنے کو بھولے ہوئے تھے (ف۶۷) اور تمہارا ٹھکانا آ گ ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں (ف۶۸)

٣٥ . یہ اس لیے کہ تم نے اللہ کی آیتوں کا ٹھٹھا (مذاق) بنایا اور دنیا کی زندگی نے تمہیں فریب دیا (ف۶۹) تو آج نہ وہ آگ سے نکالے جائیں اور نہ ان سے کوئی منانا چاہے (ف۷۰)

٣٦ . تو اللہ ہی کے لیے سب خوبیاں ہیں آسمانوں کا رب اور زمین کا رب اور سارے جہاں کا رب،

٣٧ . اور اسی کے لیے بڑائی ہے آسمانوں اور زمین میں، اور وہی عزت و حکمت والا ہے،