;

١ . حٰمٓ

٢ . یہ کتاب (ف۲) اتارنا ہے اللہ عزت و حکمت والے کی طرف سے،

٣ . ہم نے نہ بنائے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے مگر حق کے ساتھ (ف۳) اور ایک مقرر میعاد پر (ف۴) اور کافر اس چیز سے کہ ڈرائے گئے (ف۵) منہ پھیرے ہیں (ف۶)

٤ . تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو وہ جو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو (ف۷) مجھے دکھاؤ انہوں نے زمین کا کون سا ذرہ بنایا یا آسمان میں ان کا کوئی حصہ ہے، میرے پاس لاؤ اس سے پہلی کوئی کتاب (ف۸) یا کچھ بچا کھچا علم (ف۹) اگر تم سچے ہو (ف۱۰)

٥ . اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون جو اللہ کے سوا ایسوں کو پوجے (ف۱۱) جو قیامت تک اس کی نہ سنیں اور انہیں ان کی پوجا کی خبر تک نہیں (ف۱۲)

٦ . اور جب لوگوں کا حشر ہوگا وہ ان کے دشمن ہوں گے (ف۱۳) اور ان سے منکر ہوجائیں گے (ف۱۴)

٧ . اور جب ان پر (ف۱۵) پڑھی جائیں ہماری روشن آیتیں تو کافر اپنے پاس آئے ہوئے حق کو (ف۱۶) کہتے ہیں یہ کھلا جادو ہے (ف۱۷)

٨ . کیا کہتے ہیں انہوں نے اسے جی سے بنایا (ف۱۸) تم فرماؤ اگر میں نے اسے جی سے بنالیا ہوگا تو تم اللہ کے سامنے میرا کچھ اختیار نہیں رکھتے (ف۱۹) وہ خوب جانتا ہے جن باتوں میں تم مشغول ہو (ف۲۰) اور وہ کافی ہے میرے اور تمہارے درمیان گواہ، اور وہی بخشنے والا مہربان ہے (ف۲۱)

٩ . تم فرماؤ میں کوئی انوکھا رسول نہیں (ف۲۲) اور میں نہیں جانتا میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا (ف۲۳) میں تو اسی کا تابع ہوں جو مجھے وحی ہوتی ہے (ف۲۴) اور میں نہیں مگر صاف ڈر سنانے والا،

١٠ . تم فرماؤ بھلا دیکھو تو اگر وہ قرآن اللہ کے پاس سے ہو اور تم نے اس کا انکار کیا اور بنی اسرائیل کا ایک گواہ (ف۲۵) اس پر گواہی دے چکا (ف۲۶) تو وہ ایمان لایا اور تم نے تکبر کیا (ف۲۷) بیشک اللہ راہ نہیں دیتا ظالموں کو،

١١ . اور کافروں نے مسلمانوں کو کہا اگر اس میں (ف۲۸) کچھ بھلائی ہو تو یہ (ف۲۹) ہم سے آگے اس تک نہ پہنچ جاتے (ف۳۰) اور جب انہیں اس کی ہدایت نہ ہوئی تو اب (ف۳۱) کہیں گے کہ یہ پرانا بہتان ہے،

١٢ . اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب (ف۳۲) سے پیشوا اور مہربانی، اور یہ کتاب ہے تصدیق فرماتی (ف۳۳) عربی زبان میں کہ ظالموں کو ڈر سنائے، اور نیکوں کو بشارت،

١٣ . بیشک وہ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے (ف۳۴) نہ ان پر خوف (ف۳۵) نہ ان کو غم (ف۳۶)

١٤ . وہ جنت والے ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے ان کے اعمال کا انعام،

١٥ . اور ہم نے آدمی کو حکم کیا اپنے ماں باپ سے بھلائی کرے، ا س کی ماں نے اسے پیٹ میں رکھا تکلیف سے اور جنا اس کو تکلیف سے، اور اسے اٹھائے پھرنا اور اس کا دودھ چھڑانا تیس مہینے میں ہے (ف۳۷) یہاں تک کہ جب اپنے زور کو پہنچا (ف۳۸) اور چالیس برس کا ہوا (ف۳۹) عرض کی اے میرے رب! میرے دل میں ڈال کہ میں تیری نعمت کا شکر کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کی (ف۴۰) اور میں وہ کام کروں جو تجھے پسند آئے (ف۴۱) اور میرے لیے میری اولاد میں صلاح (نیکی) رکھ (ف۴۲) میں تیری طرف رجوع لایا (ف۴۳) اور میں مسلمان ہوں (ف۴۴)

١٦ . یہ ہیں وہ جن کی نیکیاں ہم قبول فرمائیں گے (ف۴۵) اور ان کی تقصیروں سے درگزر فرمائیں گے جنت والوں میں، سچا وعدہ جو انہیں دیا جاتا تھا (ف۴۶)

١٧ . اور وہ جس نے اپنے ماں باپ سے کہا (ف۴۷) اُف تم سے دل پک گیا (بیزار ہے) کیا مجھے یہ وعدہ دیتے ہو کہ پھر زندہ کیا جاؤں گا حالانکہ مجھ پر سے پہلے سنگتیں گزر چکیں (ف۴۸) اور وہ دونوں (ف۴۹) اللہ سے فریاد کرتے ہیں تیری خرابی ہو ایمان لا، بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے (ف۵۰) تو کہتا ہے یہ تو نہیں مگر اگلوں کی کہانیاں

١٨ . یہ وہ ہیں جن پر بات ثابت ہوچکی (ف۵۱) ان گروہوں میں جو ان سے پلے گزرے جن اور آدمی، بیشک وہ زیاں کار تھے،

١٩ . اور ہر ایک کے لیے (ف۵۲) اپنے اپنے عمل کے درجے ہیں (ف۵۳) اور تاکہ اللہ ان کے کام انہیں پورے بھردے (ف۵۴)

٢٠ . اور ان پر ظلم نہ ہوگا، اور جس دن کافر آگ پر پیش کیے جائیں گے، ان سے فرمایا جائے گا تم اپنے حصہ کی پاک چیزیں اپنی دنیا ہی کی زندگی میں فنا کرچکے اور انہیں برت چکے (ف۵۵) تو آج تمہیں ذلت کا عذاب بدلہ دیا جائے گا سزا اس کی کہ تم زمین میں ناحق تکبر کرتے تھے اور سزا اس کی کہ حکم عدولی کرتے تھے (ف۵۶)

٢١ . اور یاد کرو عاد کے ہم قوم (ف۵۷) کو جب اس نے ان کو سرزمینِ احقاف میں ڈرایا (ف۵۸) اور بیشک اس سے پہلے ڈر سنانے والے گزر چکے اور اس کے بعد آئے کہ اللہ کے سوا کسی کو نہ پُوجو، بیشک مجھے تم پر ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے،

٢٢ . بولے کیا تم اس لیے آئے کہ ہمیں ہمارے معبودوں سے پھیر دو، تو ہم پر لاؤ (ف۵۹) جس کا ہمیں وعدہ دیتے ہو اگر تم سچے ہو، (ف۶۰)

٢٣ . اس نے فرمایا (ف۶۱) اس کی خبر تو اللہ ہی کے پاس ہے (ف۶۲) میں تو تمہیں اپنے رب کے پیام پہنچاتا ہوں ہاں میری دانست میں تم نرے جاہل لوگ ہو (ف۶۳)

٢٤ . پھر جب انہوں نے عذاب کو دیکھا بادل کی طرح آسمان کے کنارے میں پھیلا ہوا ان کی وادیوں کی طرف آتا (ف۶۴) بولے یہ بادل ہے کہ ہم پر برسے گا (ف۶۵) بلکہ یہ تو وہ ہے جس کی تم جلدی مچاتے تھے، ایک آندھی ہے جس میں دردناک عذاب،

٢٥ . ہر چیز کو تباہ کر ڈالتی ہے اپنے رب کے حکم سے (ف۶۶) تو صبح رہ گئے کہ نظر نہ آتے تھے مگر ان کے سُونے مکان، ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں مجرموں کو،

٢٦ . اور بیشک ہم نے انہیں وہ مقدور دیے تھے جو تم کو نہ دیے (ف۶۷) اور ان کے لیے کان اور آنکھ اور دل بنائے (ف۶۸) تو ان کے کام کان اور آنکھیں اور دل کچھ کام نہ آئے جبکہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اور انہیں گھیرلیا اس عذاب نے جس کی ہنسی بناتے تھے،

٢٧ . اور بیشک ہم نے ہلاک کردیں (ف۶۹) تمہارے آس پاس کی بستیاں (ف۷۰) اور طرح طرح کی نشانیاں لائے کہ وہ باز آئیں (ف۷۱)

٢٨ . تو کیوں نہ مدد کی ان کی (ف۷۲) جن کو انہوں نے اللہ کے سوا قرب حاصل کرنے کو خدا ٹھہرا رکھا تھا (ف۷۳) بلکہ وہ ان سے گم گئے (ف۷۴) اور یہ ان کا بہتان و افتراء ہے (ف۷۵)

٢٩ . اور جبکہ ہم نے تمہاری طرف کتنے جن پھیرے (ف۷۶) کان لگا کر قرآن سنتے، پھر جب وہاں حاضر ہوئے آپس میں بولے خاموش رہو (ف۷۷) پھر جب پڑھنا ہوچکا اپنی قوم کی طرف ڈر سناتے پلٹے (ف۷۸)

٣٠ . بولے اے ہماری قوم ہم نے ایک کتاب سنی (ف۷۹) کہ موسیٰ کے بعد اتاری گئی (ف۸۰) اگلی کتابوں کی تصدیق فرمائی حق اور سیدھی راہ دکھائی،

٣١ . اے ہماری قوم! اللہ کے منادی (ف۸۱) کی بات مانو اور اس پر ایمان لاؤ کہ وہ تمہارے کچھ گناہ بخش دے (ف۸۲) اور تمہیں دردناک عذاب سے بچالے،

٣٢ . اور جو اللہ کے منادی کی بات نہ مانے وہ زمین میں قابو سے نکل کر جانے والا نہیں (ف۸۳) اور اللہ کے سامنے اس کا کوئی مددگار نہیں (ف۸۴) وہ (ف۸۵) کھلی گمراہی میں ہیں،

٣٣ . کیا انہوں نے (ف۸۶) نہ جانا کہ وہ اللہ جس نے آسمان اور زمین بنائے اور ان کے بنانے میں نہ تھکا قادر ہے کہ مردے جِلائے، کیوں نہیں بیشک وہ سب کچھ کرسکتا ہے،

٣٤ . اور جس دن کافر آگ پر پیش کیے جائیں گے، ان سے فرمایا جائے گا کیا یہ حق نہیں کہیں گے کیوں نہیں ہمارے رب کی قسم، فرمایا جائے گا تو عذاب چکھو بدلہ اپنے کفر کا (ف۸۷)

٣٥ . تو تم صبر کرو جیسا ہمت والے رسولوں نے صبر کیا (ف۸۸) اور ان کے لیے جلدی نہ کرو (ف۸۹) گویا وہ جس دن دیکھیں گے (ف۹۰) جو انہیں وعدہ دیا جاتا ہے (ف۹۱) دنیا میں نہ ٹھہرے تھے مگر دن کی ایک گھڑی بھر یہ پہنچانا ہے (ف۹۲) تو کون ہلاک کیے جائیں گے مگر بے حکم لوگ (ف۹۳)