;

١ . جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا (ف۲) اللہ نے ان کے عمل برباد کیے (ف۳)

٢ . اور ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور اس پر ایمان لائے جو محمد پر اتارا گیا (ف۴) اور وہی ان کے رب کے پاس سے حق ہے اللہ نے ان کی برائیاں اتار دیں اور ان کی حالتیں سنوار دیں (ف۵)

٣ . یہ اس لیے کہ کافر باطل کے پیرو ہوئے اور ایمان والوں نے حق کی پیروی کی جو ان کے رب کی طرف سے ہے (ف۶) اللہ لوگوں سے ان کے احوال یونہی بیان فرماتا ہے (ف۷)

٤ . تو جب کافروں سے تمہارا سامناہو(ف۸) تو گردنیں مارنا ہے (ف۹) یہاں تک کہ جب انہیں خوب قتل کرلو (ف۱۰) تو مضبوط باندھو، پھر اس کے بعد چاہے احسان کرکے چھوڑ دو چاہے فدیہ لے لو (ف۱۱) یہاں تک کہ لڑائی اپنابوجھ رکھ دے (ف۱۲) بات یہ ہے اوراللہ چاہتا تو آپ ہی اُن سے بدلہ لیتا (ف۱۳) مگر اس لئے (ف۱۴)تم میں ایک کو دوسرے سے جانچے (ف۱۵) اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے اللہ ہرگز ان کے عمل ضائع نہ فرمائے گا (ف۱۶)

٥ . جلد انہیں راہ دے گا (ف۱۷) اور ان کا کام بنادے گا،

٦ . اور انہیں جنت میں لے جائے گا انہیں اس کی پہچان کرادی ہے (ف۱۸)

٧ . اے ایمان والو اگر تم دین خدا کی مدد کرو گے اللہ تمہاری مدد کرے گا (ف۱۹) اور تمہارے قدم جمادے گا (ف۲۰)

٨ . اور جنہوں نے کفر کیا تو ان پر تباہی پڑے اور اللہ ان کے اعمال برباد کرے،

٩ . یہ اس لیے کہ انہیں ناگوار ہوا جو اللہ نے اتارا (ف۲۱) تو اللہ نے ان کا کیا دھرا اِکارت کیا،

١٠ . تو کیا انہوں نے زمین میں سفر نہ کیا کہ دیکھتے ان سے اگلوں کا (ف۲۲) کیسا انجام ہوا، اللہ نے ان پر تباہی ڈالی (ف۲۳) اور ان کافروں کے لیے بھی ویسی کتنی ہی ہیں (ف۲۴)

١١ . یہ (ف۲۵) اس لیے کہ مسلمانوں کا مولیٰ اللہ ہے اور کافروں کا کوئی مولیٰ نہیں،

١٢ . بیشک اللہ داخل فرمائے گا انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے باغوں میں جن کے نیچے نہریں رواں، اور کافر برتتے ہیں اور کھاتے ہیں (ف۲۶) جیسے چوپائے کھائیں (ف۲۷) اور آگ میں ان کا ٹھکانا ہے،

١٣ . اور کتنے ہی شہر کہ اس شہر سے (ف۲۸) قوت میں زیادہ تھے جس نے تمہیں تمہارے شہر سے باہر کیا، ہم نے انہیں ہلاک فرمایا تو ان کا کوئی مددگار نہیں (ف۲۹)

١٤ . تو کیا جو اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہو (ف۳۰) اُس (ف۳۱) جیسا ہوگا جس کے برے عمل اسے بھلے دکھائے گئے اور وہ اپنی خواہشوں کے پیچھے چلے (ف۳۲)

١٥ . احوال اس جنت کا جس کا وعدہ پرہیزگاروں سے ہے، اس میں ایسی پانی کی نہریں ہیں جو کبھی نہ بگڑے (ف۳۳) اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا مزہ نہ بدلا (ف۳۴) اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جس کے پینے میں لذت ہے (ف۳۵) اور ایسی شہد کی نہریں ہیں جو صاف کیا گیا (ف۳۶) اور ان کے لیے اس میں ہر قسم کے پھل ہیں، اور اپنے رب کی مغفرت (ف۳۷) کیا ایسے چین والے ان کی برابر ہوجائیں گے جنہیں ہمیشہ آگ میں رہنا اور انہیں کھولتا پانی پلایا جائے گا کہ آنتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردے،

١٦ . اور ان (ف۳۸) میں سے بعض تمہارے ارشاد سنتے ہیں (ف۳۹) یہاں تک کہ جب تمہارے پاس سے نکل کر جائیں (ف۴۰) علم والوں سے کہتے ہیں (ف۴۱) ابھی انہوں نے کیا فرمایا (ف۴۲) یہ ہیں وہ جن کے دلوں پر اللہ نے مہر کردی (ف۴۳) اور اپنی خواہشوں کے تابع ہوئے (ف۴۲)

١٧ . اور جنہوں نے راہ پائی (ف۴۵) اللہ نے ان کی ہدایت (ف۴۶) اور زیادہ فرمائی اور ان کی پرہیزگاری انہیں عطا فرمائی (ف۴۷)

١٨ . تو کاہے کے انتظار میں ہیں (ف۴۸) مگر قیامت کے کہ ان پر اچانک آجائے، کہ اس کی علامتیں تو آہی چکی ہیں (ف۴۹) پھر جب آجائے گی تو کہاں وہ اور کہاں ان کا سمجھنا،

١٩ . تو جان لو کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہیں اور اے محبوب! اپنے خاصوں اور عام مسلمان مردوں اور عورتوں کے گناہوں کی معافی مانگو (ف۵۰) اور اللہ جانتا ہے دن کو تمہارا پھرنا (ف۵۱) اور رات کو تمہارا آرام لینا (ف۵۲)

٢٠ . اور مسلمان کہتے ہیں کوئی سورت کیوں نہ اتاری گئی (ف۵۳) پھر جب کوئی پختہ سورت اتاری گئی (ف۵۴) اور اس میں جہاد کا حکم فرمایا گیا تو تم دیکھو گے انہیں جن کے دلوں میں بیماری ہے (ف۵۵) کہ تمہاری طرف (ف۵۶) اس کا دیکھنا دیکھتے ہیں جس پر مُرونی چھائی ہو، تو ان کے حق میں بہتر یہ تھا کہ فرمانبرداری کرتے (ف۵۷)

٢١ . اور اچھی بات کہتے پھر جب حکم ناطق ہوچکا (ف۵۸) تو اگر اللہ سے سچے رہتے (ف۵۹) تو ان کا بھلا تھا،

٢٢ . تو کیا تمہارے یہ لچھن نظر آتے ہیں کہ اگر تمہیں حکومت ملے تو زمین میں فساد پھیلاؤ (ف۶۰) اور اپنے رشتے کاٹ دو،

٢٣ . یہ ہیں وہ (ف۶۱) لوگ جن پر اللہ نے لعنت کی اور انہیں حق سے بہرا کردیا اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں (ف۶۲)

٢٤ . تو کیا وہ قرآن کو سوچتے نہیں (ف۶۳) یا بعضے دلوں پر ان کے قفل لگے ہیں (ف۶۴)

٢٥ . بیشک وہ جو اپنے پیچھے پلٹ گئے (ف۶۵) بعد اس کے کہ ہدایت ان پر کھل چکی تھی (ف۶۶) شیطان نے انہیں فریب دیا (ف۶۷) اور انہیں دنیا میں مدتوں رہنے کی امید دلائی (ف۶۸)

٢٦ . یہ اس لیے کہ انہوں نے (ف۶۹) کہا ان لوگوں سے (ف۷۰) جنہیں اللہ کا اتارا ہوا (ف۷۱) ناگوار ہے ایک کام میں ہم تمہاری مانیں گے (ف۷۲) اور اللہ ان کی چھپی ہوئی جانتا ہے،

٢٧ . تو کیسا ہوگا جب فرشتے ان کی روح قبض کریں گے ان کے منہ اور ان کی پیٹھیں مارتے ہوئے (ف۷۳)

٢٨ . یہ اس لیے کہ وہ ایسی بات کے تابع ہوئے جس میں اللہ کی ناراضی ہے (ف۷۴) اور اس کی خوشی (ف۷۵) انہیں گوارا نہ ہوئی تو اس نے ان کے اعمال اَکارت کردیے،

٢٩ . کیا جن کے دلوں میں بیماری ہے (ف۷۶) اس گھمنڈ میں ہیں کہ اللہ ان کے چھپے بَیر ظاہر نہ فرمائے گا (ف۷۷)

٣٠ . اور اگر ہم چاہیں تو تمہیں ان کو دکھادیں کہ تم ان کی صورت سے پہچان لو (ف۷۸) اور ضرور تم انہیں بات کے اسلوب میں پہچان لو گے (ف۷۹) اور اللہ تمہارے عمل جانتا ہے (ف۸۰)

٣١ . اور ضرور ہم تمہیں جانچیں گے (ف۸۱) یہاں تک کہ دیکھ لیں (ف۸۲) تمہارے جہاد کرنے والوں اور صابروں کو اور تمہاری خبریں آزمالیں (ف۸۳)

٣٢ . بیشک وہ جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے (ف۸۴) روکا اور رسول کی مخالفت کی بعد اس کے کہ ہدایت ان پر ظاہر ہوچکی تھی وہ ہرگز اللہ کو کچھ نقصان نہ پہچائیں گے، اور بہت جلد اللہ ان کا کیا دھرا اَکارت کردے گا (ف۸۵)

٣٣ . اے ایمان والو اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو (ف۸۶) اور اپنے عمل باطل نہ کرو (ف۸۷)

٣٤ . بیشک جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا پھر کافر ہی مرگئے تو اللہ ہر گز انہیں نہ بخشے گا (ف۸۸)

٣٥ . تو تم سستی نہ کرو (ف۸۹) اور آپ صلح کی طرف نہ بلاؤ (ف۹۰) اور تم ہی غالب آؤ گے، اور اللہ تمہارے ساتھ ہے اور وہ ہرگز تمہارے اعمال میں تمہیں نقصان نہ دے گا (ف۹۱)

٣٦ . دنیا کی زندگی تو یہی کھیل کود ہے (ف۹۲) اور اگر تم ایمان لاؤ اور پرہیزگاری کرو تو وہ تم کو تمہارے ثواب عطا فرمائے گا اور کچھ تم سے تمہارے مال نہ مانگے گا (ف۹۳)

٣٧ . اگر انہیں (ف۹۴) تم سے طلب کرے اور زیادہ طلب کرے تم بخل کرو گے اور وہ بخل تمہارے دلوں کے میل ظاہر کردے گا،

٣٨ . ہاں ہاں یہ جو تم ہو بلائے جاتے ہو کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو (ف۹۵) تو تم میں کوئی بخل کرتا ہے اور جو بخل کرے (ف۹۶) وہ اپنی ہی جان پر بخل کرتا ہے اور اللہ بے نیاز ہے (ف۹۷) اور تم سب محتاج (ف۹۸) اور اگر تم منہ پھیرو (ف۹۸) تو وہ تمہارے سوا اور لوگ بدل لے گا پھر وہ تم جیسے نہ ہوں گے (ف۱۰۰)