;

١ . بیشک ہم نے تمہارے لیے روشن فتح دی (ف۲)

٢ . تاکہ اللہ تمہارے سبب سے گناہ بخشے تمہارے اگلوں کے اور تمہارے پچھلوں کے (ف۳) اور اپنی نعمتیں تم پر تمام کردے (ف۴) اور تمہیں سیدھی راہ دکھادے (ف۵)

٣ . اور اللہ تمہاری زبردست مدد فرمائے (ف۶)

٤ . وہی ہے جس نے ایمان والوں کے دلوں میں اطمینان اتارا تاکہ انہیں یقین پر یقین بڑھے (ف۷) اور اللہ ہی کی ملک ہیں تمام لشکر آسمانوں اور زمین کے (ف۸) اور اللہ علم و حکمت والا ہے (ف۹)

٥ . تاکہ ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو باغوں میں لے جائے جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں اور انکی برائیاں ان سے اتار دے، اور یہ اللہ کے یہاں بڑی کامیابی ہے،

٦ . اور عذاب دے منافق مَردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مَردوں اور مشرک عورتوں کو جو اللہ پر گمان رکھتے ہیں (ف۱۰) انہیں پر ہے بری گردش (ف۱۱) اور اللہ نے اُن پر غضب فرمایا اور انہیں لعنت کی اور ان کے لیے جہنم تیار فرمایا، اور وہ کیا ہی برا انجام ہے،

٧ . اور اللہ ہی کی ملک ہیں آسمانوں اور زمین کے سب لشکر، اور اللہ عزت و حکمت والا ہے،

٨ . بیشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر (ف۱۲) اور خوشی اور ڈر سناتا(ف۱۳)

٩ . تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اللہ کی پاکی بولو (ف۱۴)

١٠ . وہ جو تمہاری بیعت کرتے ہیں (ف۱۵) وہ تو اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں (ف۱۶) ان کے ہاتھوں پر (ف۱۷) اللہ کا ہاتھ ہے، تو جس نے عہد توڑا اس نے اپنے بڑے عہد کو توڑا (ف۱۸) اور جس نے پورا کیا وہ عہد جو اس نے اللہ سے کیا تھا تو بہت جلد اللہ اسے بڑا ثواب دے گا (ف۱۹)

١١ . اب تم سے کہیں گے جو گنوار (اعرابی) پیچھے رہ گئے تھے (ف۲۰) کہ ہمیں ہمارے مال اور ہمارے گھر والوں نے مشغول رکھا (ف۲۱) اب حضور ہماری مغفرت چاہیں (ف۲۲) اپنی زبانوں سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں (ف۲۳) تم فرماؤ تو اللہ کے سامنے کسے تمہارا کچھ اختیار ہے اگر وہ تمہارا برا چاہے یا تمہاری بھلائی کا ارادہ فرمائے، بلکہ اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے،

١٢ . بلکہ تم تو یہ سمجھے ہوئے تھے کہ رسول اور مسلمان ہرگز گھروں کو واپس نہ آئیں گے (ف۲۴) اور اسی کو اپنے دلوں میں بھلا سمجھیں ہوئے تھے اور تم نے برا گمان کیا (ف۲۵) اور تم ہلاک ہونے والے لوگ تھے (ف۲۶)

١٣ . اور جو ایمان نہ لائے اللہ اور اس کے رسول پر (ف۲۷) تو بیشک ہم نے کافروں کے لیے بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے،

١٤ . اور اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت، جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے عذاب کرے (ف۲۸) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،

١٥ . اب کہیں گے پیچھے بیٹھ رہنے والے (ف۲۹) جب تم غنیمتیں لینے چلو (ف۳۰) تو ہمیں بھی اپنے پیچھے آنے دو (ف۳۱) وہ چاہتے ہیں اللہ کا کلام بدل دیں (ف۳۲) تم فرماؤ ہرگز ہمارے ساتھ نہ آؤ اللہ نے پہلے سے یونہی فرمادیا (ف۳۳) تو اب کہیں گے بلکہ تم ہم سے جلتے ہو (ف۳۴) بلکہ وہ بات نہ سمجھتے تھے (ف۳۵) مگر تھوڑی (ف۳۶)

١٦ . ان پیچھے رہ گئے ہوئے گنواروں سے فرماؤ (ف۳۷) عنقریب تم ایک سخت لڑائی والی قوم کی طرف بلائے جاؤ گے (ف۳۸) کہ ان سے لڑو یا وہ مسلمان ہوجائیں، پھر اگر تم فرمان مانو گے اللہ تمہیں اچھا ثواب دے گا، ور اگر پھر گے جیسے پہلے پھر گئے تو تمھیں درد ناک عذاب دے گا،

١٧ . اندھے پر تنگی نہیں (ف۴۱) اور نہ لنگڑے پر مضائقہ اور نہ بیمار پر مواخذہ (ف۴۲) اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے اللہ اسے باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں رواں اور جو پھر جائے گا (ف۴۳) اسے دردناک عذاب فرمائے گا،

١٨ . بیشک اللہ راضی ہوا ایمان والوں سے جب وہ اس پیڑ کے نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے (ف۴۴) تو اللہ نے جانا جو ان کے دلوں میں ہے (ف۴۵) تو ان پر اطمینان اتارا اور انہیں جلد آنے والی فتح کا انعام دیا (ف۴۶)

١٩ . اور بہت سی غنیمتیں (ف۴۷) جن کو لیں، اور اللہ عزت و حکمت والا ہے،

٢٠ . اور اللہ نے تم سے وعدہ کیا ہے بہت سی غنیمتوں کا کہ تم لو گے (ف۴۸) تو تمہیں یہ جلد عطا فرمادی اور لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دیے (ف۴۹) اور اس لیے کہ ایمان والوں کے لیے نشانی ہو (ف۵۰) اور تمہیں سیدھی راہ دکھائے (ف۵۱)

٢١ . اور ایک اور (ف۵۲) جو تمہارے بل (بس) کی نہ تھی (ف۵۳) وہ اللہ کے قبضہ میں ہے، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے،

٢٢ . اور اگر کافر تم سے لڑیں (ف۵۴) تو ضرور تمہارے مقابلہ سے پیٹھ پھیردیں گے (ف۵۵) پھر کوئی حمایتی نہ پائیں گے نہ مددگار،

٢٣ . اللہ کا دستور ہے کہ پہلے سے چلا آتا ہے (ف۵۶) اور ہرگز تم اللہ کا دستور بدلتا نہ پاؤ گے،

٢٤ . اور وہی ہے جس نے ان کے ہاتھ (ف۵۷) تم سے روک دیے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیے وادی مکہ میں (ف۵۸) بعد اس کے کہ تمہیں ان پر قابو دے دیا تھا، اور اللہ تمہارے کام دیکھتا ہے،

٢٥ . وہ (ف۵۹) وہ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تمہیں مسجدِ حرام سے (ف۶۰) روکا اور قربانی کے جانور رُکے پڑے اپنی جگہ پہنچنے سے (ف۶۱) اور اگر یہ نہ ہوتا کچھ مسلمان مرد اور کچھ مسلمان عورتیں (ف۶۲) جن کی تمہیں خبر نہیں (ف۶۳) کہیں تم انہیں روند ڈالو (ف۶۴) تو تمہیں ان کی طرف سے انجانی میں کوئی مکروہ پہنچے تو ہم تمہیں ان کی قتال کی اجازت دیتے ان کا یہ بچاؤ اس لیے ہے کہ اللہ اپنی رحمت میں داخل کرے جسے چاہے، اگر وہ جدا ہوجاتے (ف۶۵) تو ہم ضرور ان میں کے کافروں کو دردناک عذاب دیتے (ف۶۶)

٢٦ . جبکہ کافروں نے اپنے دلوں میں اَڑ رکھی وہی زمانہٴ جاہلیت کی اَڑ (ضد) (ف۶۷) تو اللہ نے اپنا اطمینان اپنے رسول اور ایمان والوں پر اتارا (ف۶۸) اور پرہیزگاری کا کلمہ ان پر لازم فرمایا (ف۶۹) اور وہ اس کے زیادہ سزاوار اور اس کے اہل تھے (ف۷۰) اور اللہ سب کچھ جانتا ہے (ف۷۱)

٢٧ . بیشک اللہ نے سچ کردیا اپنے رسول کا سچا خواب (ف۷۲) بیشک تم ضرور مسجد حرام میں داخل ہوگے اگر اللہ چاہے امن و امان سے اپنے سروں کے (ف۷۳) بال منڈاتے یا (ف۷۴) ترشواتے بے خوف، تو اس نے جانا جو تمہیں معلوم نیں (ف۷۵) تو اس سے پہلے (ف۷۶) ایک نزدیک آنے والی فتح رکھی (ف۷۷)

٢٨ . وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا کہ اسے سب دینوں پر غالب کرے (ف۷۸) اور اللہ کافی ہے گواہ (ف۷۹)

٢٩ . محمد اللہ کے رسول ہیں، اور ان کے ساتھ والے (ف۸۰) کافروں پر سخت ہیں (ف۸۱) اور آپس میں نرم دل (ف۸۲) تو انہیں دیکھے گا رکوع کرتے سجدے میں گرتے (ف۸۳) اللہ کا فضل و رضا چاہتے، ان کی علامت ان کے چہروں میں ہے سجدوں کے نشان سے (ف۸۴) یہ ان کی صفت توریت میں ہے، اور ان کی صفت انجیل میں (ف۸۵) جیسے ایک کھیتی اس نے اپنا پٹھا نکالا پھر اسے طاقت دی پھر دبیز ہوئی پھر اپنی ساق پر سیدھی کھڑی ہوئی کسانوں کو بھلی لگتی ہے (ف۸۶) تاکہ ان سے کافروں کے دل جلیں، اللہ نے وعدہ کیا ان سے جو ان میں ایمان اور اچھے کاموں والے ہیں (ف۸۷) بخشش اور بڑے ثواب کا،