;

١ . عزت والے قرآن کی قسم (ف۲)

٢ . بلکہ انھیں اس کا اچنبھا ہوا کہ ان کے پاس انہی میں کا ایک ڈر سنانے والا تشریف لایا (ف۳) تو کافر بولے یہ تو عجیب بات ہے،

٣ . کیا جب ہم مرجائیں اور مٹی ہوجائیں گے پھر جیئں گے یہ پلٹنا دور ہے (ف۴)

٤ . ہم جانتے ہیں جو کچھ زمین ان میں سے گھٹاتی ہے (ف۵) اور ہمارے پاس ایک یاد رکھنے والی کتاب ہے (ف۶)

٥ . بلکہ انہوں نے حق کو جھٹلایا (ف۷) جب وہ ان کے پاس آیا تو وہ ایک مضطرب بے ثبات بات میں ہیں (ف۸)

٦ . تو کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کو نہ دیکھا (ف۹) ہم نے اسے کیسے بنایا (ف۱۰) اور سنوارا (ف۱۱) اور اس میں کہیں رخنہ نہیں (ف۱۲)

٧ . اور زمین کو ہم نے پھیلایا (ف۱۳) اور اس میں لنگر ڈالے (بھاری وزن رکھے) (ف۹۱۴ اور اس میں ہر بارونق جوڑا اُگایا،

٨ . سوجھ اور سمجھ (ف۱۵) ہر رجوع والے بندے کے لیے (ف۱۶)

٩ . اور ہم نے آسمان سے برکت والا پانی اتارا (ف۱۷) تو اس سے باغ اُگائے اور اناج کہ کاٹا جاتا ہے (ف۱۸)

١٠ . اور کھجور کے لمبے درخت جن کا پکا گابھا،

١١ . بندووں کی روزی کے لیے اور ہم نے اس (ف۱۹) سے مردہ شہر جِلایا (ف۲۰) یونہی قبروں سے تمہارا نکلنا ہے (ف۲۱)

١٢ . ان سے پہلے جھٹلایا (ف۲۲) نوح کی قوم اور رس والوں (ف۲۳) اور ثمود

١٣ . اور عاد اور فرعون اور لوط کے ہم قوموں

١٤ . اور بَن والوں اور تبع کی قوم نے (ف۲۴) ان میں ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا تو میرے عذاب کا وعدہ ثابت ہوگیا (ف۲۵)

١٥ . تو کیا ہم پہلی بار بناکر تھک گئے (ف۲۶) بلکہ وہ نئے بننے سے (ف۲۷) شبہ میں ہیں،

١٦ . اور بیشک ہم نے آدمی کو پیدا کیا اور ہم جانتے ہیں جو وسوسہ اس کا نفس ڈالتا ہے (ف۲۸) اور ہم دل کی رگ سے بھی اس سے زیادہ نزدیک ہیں (ف۲۹)

١٧ . اور جب اس سے لیتے ہیں دو لینے والے (ف۳۰) ایک داہنے بیٹھا اور ایک بائیں (ف۳۱)

١٨ . کوئی بات وہ زبان سے نہیں نکالتا کہ اس کے پاس ایک محافظ تیار نہ بیٹھا ہو (ف۳۲)

١٩ . اور آئی موت کی سختی (ف۳۳) حق کے ساتھ (ف۳۴) یہ ہے جس سے تو بھاگتا تھا،

٢٠ . اور صُور پھونکا گیا (ف۳۵) یہ ہے وعدہٴ عذاب کا دن (ف۳۶)

٢١ . اور ہر جان یوں حاضر ہوئی کہ اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا (ف۳۷) اور ایک گواہ (ف۳۸)

٢٢ . بیشک تو اس سے غفلت میں تھا (ف۳۹) تو ہم نے تجھ پر سے پردہ اٹھایا (ف۴۰) تو آج تیری نگاہ تیز ہے (ف۴۱)

٢٣ . اور اس کا ہمنشین فرشتہ (ف۴۲) بولا یہ ہے (ف۴۳) جو میرے پاس حاضر ہے،

٢٤ . حکم ہوگا تم دونوں جہنم میں ڈال دو ہر بڑے ناشکرے ہٹ دھرم کو،

٢٥ . جو بھلائی سے بہت روکنے والا حد سے بڑھنے والا شک کرنے والا (ف۴۴)

٢٦ . جس نے اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ٹھہرایا تم دونوں اسے سخت عذاب میں ڈالو،

٢٧ . اس کے ساتھی شیطان نے کہا (ف۴۵) ہمارے رب میں نے اسے سرکش نہ کیا (ف۴۶) ہاں یہ آپ ہی دور کی گمراہی میں تھا (ف۴۷)

٢٨ . فرمائے گا میرے پاس نہ جھگڑو (ف۴۸) میں تمہیں پہلے ہی عذاب کا ڈر سنا چکا تھا (ف۴۹)

٢٩ . میرے یہاں بات بدلتی نہیں اور نہ میں بندوں پر ظلم کروں،

٣٠ . جس دن ہم جہنم سے فرمائیں گے کیا تو بھر گئی (ف۵۰) وہ عرض کرے گی کچھ اور زیادہ ہے (ف۵۱)

٣١ . اور پاس لائی جائے گی جنت پرہیزگاروں کے کہ ان سے دور نہ ہوگی (ف۵۲)

٣٢ . یہ ہے وہ جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو (ف۵۳) ہر رجوع لانے والے نگہداشت والے کے لیے (ف۵۴)

٣٣ . جو رحمن سے بے دیکھے ڈرتا ہے اور رجوع کرتا ہوا دل لایا (ف۵۵)

٣٤ . ان سے فرمایا جائے گا جنت میں جاؤ سلامتی کے ساتھ (ف۵۶) یہ ہمیشگی کا دن ہے (ف۵۷)

٣٥ . ان کے لیے ہے اس میں جو چاہیں اور ہمارے پاس اس سے بھی زیادہ ہے (ف۵۸)

٣٦ . اور ان سے پہلے (ف۵۹) ہم نے کتنی سنگتیں (قومیں) ہلاک فرمادیں کہ گرفت میں ان سے سخت تھیں (ف۶۰) تو شہروں میں کاوشیں کیں (ف۶۱) ہے کہیں بھاگنے کی جگہ (ف۶۲)

٣٧ . بیشک اس میں نصیحت ہے اس کے لیے جو دِل رکھتا ہو (ف۶۳) یا کان لگائے (ف۶۴) اور متوجہ ہو،

٣٨ . اور بیشک ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں بنایا، اور تکان ہمارے پاس نہ آئی (ف۶۵)

٣٩ . تو ان کی باتوں پر صبر کرو اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے اس کی پاکی بولو سورج چمکنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے (ف۶۶)

٤٠ . اور کچھ رات گئے اس کی تسبیح کرو (ف۶۷) اور نمازوں کے بعد (ف۶۸)

٤١ . اور کان لگا کر سنو جس دن پکارنے والا پکارے گا (ف۶۹) ایک پاس جگہ سے (ف۷۰)

٤٢ . جس دن چنگھاڑ سنیں گے (ف۷۱) حق کے ساتھ، یہ دن ہے قبروں سے باہر آنے کا،

٤٣ . بیشک ہم جِلائیں اور ہم ماریں اور ہماری طرف پھرنا ہے (ف۷۲)

٤٤ . جس دن زمین ان سے پھٹے گی تو جلدی کرتے ہوئے نکلیں گے (ف۷۳) یہ حشر ہے ہم کو آسان،

٤٥ . ہم خوب جان رہے ہیں جو وہ کہہ رہے ہیں (ف۷۴) اور کچھ تم ان پر جبر کرنے والے نہیں (ف۷۵) تو قرآن سے نصیحت کرو اسے جو میری دھمکی سے ڈرے،