;

١ . اس پیارے چمکتے تارے محمد کی قسم! جب یہ معراج سے اترے (ف۲)

٢ . تمہارے صاحب نہ بہکے نہ بے راہ چلے (ف۳)

٣ . اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے،

٤ . وہ تو نہیں مگر وحی جو انہیں کی جاتی ہے (ف۴)

٥ . انہیں (ف۵) سکھایا (ف۶) سخت قوتوں والے طاقتور نے (ف۷)

٦ . پھر اس جلوہ نے قصد فرمایا (ف۸)

٧ . اور وہ آسمان بریں کے سب سے بلند کنارہ پر تھا (ف۹)

٨ . پھر وہ جلوہ نزدیک ہوا (ف۱۰) پھر خوب اتر آیا (ف۱۱)

٩ . تو اس جلوے اور اس محبوب میں دو ہاتھ کا فاصلہ رہا بلکہ اس سے بھی کم (ف۱۲)

١٠ . اب وحی فرمائی اپنے بندے کو جو وحی فرمائی (ف۱۳)

١١ . دل نے جھوٹ نہ کہا جو دیکھا (ف۱۴)

١٢ . تو کیا تم ان سے ان کے دیکھے ہوئے پر جھگڑ تے ہو (ف۱۵)

١٣ . اور انہوں نے تو وہ جلوہ دوبار دیکھا (ف۱۶)

١٤ . سدرة المنتہیٰ کے پاس (ف۱۷)

١٥ . اس کے پاس جنت الماویٰ ہے،

١٦ . جب سدرہ پر چھا رہا تھا جو چھا رہا تھا (ف۱۸)

١٧ . آنکھ نہ کسی طرف پھر نہ حد سے بڑھی (ف۱۹)

١٨ . بیشک اپنے رب کی بہت بڑی نشانیاں دیکھیں (ف۲۰)

١٩ . تو کیا تم نے دیکھ ا لات اور عزیٰ

٢٠ . اور اس تیسری منات کو (ف۲۱)

٢١ . کیا تم کو بیٹا اور اس کو بیٹی (ف۲۲)

٢٢ . جب تو یہ سخت بھونڈی تقسیم ہے (ف۲۳)

٢٣ . وہ تو نہیں مگر کچھ نام کہ تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں (ف۲۴) اللہ نے ان کی کوئی سند نہیں اتاری، وہ تو نرے گمان اور نفس کی خواہشوں کے پیچھے ہیں (ف۲۵) حالانکہ بیشک ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے ہدایت آئی (ف۲۶)

٢٤ . کیا آدمی کو مل جائے گا جو کچھ وہ خیال باندھے (ف۲۷)

٢٥ . تو آخرت اور دنیا سب کا مالک اللہ ہی ہے (ف۲۸)

٢٦ . اور کتنے ہی فرشتے ہیں آسمانوں میں کہ ان کی سفارش کچھ کام نہیں آتی مگر جبکہ اللہ اجازت دے دے جس کے لیے چاہے اور پسند فرمائے (ف۲۹)

٢٧ . بیشک وہ جو آخرت پر ایمان رکھتے نہیں (ف۳۰) ملائکہ کا نام عورتوں کا سا رکھتے ہیں (ف۳۱)

٢٨ . اور انہیں اس کی کچھ خبر نہیں، وہ تو نرے گمان کے پیچھے ہیں، اور بیشک گمان یقین کی جگہ کچھ کام نہیں دیتا (ف۳۲)

٢٩ . تو تم اس سے منہ پھیر لو، جو ہماری یاد سے پھرا (ف۳۳) اور اس نے نہ چاہی مگر دنیا کی زندگی (ف۳۴)

٣٠ . یہاں تک ان کے علم کی پہنچ ہے (ف۳۵) بیشک تمہارا خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکا اور وہ خوب جانتا ہے جس نے راہ پائی،

٣١ . اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں تاکہ برائی کرنے والوں کو ان کے کیے کا بدلہ دے اور نیکی کرنے والوں کو نہایت اچھا صلہ عطا فرمائے،

٣٢ . وہ جو بڑے گناہوں اور بے حیائیوں سے بچتے ہیں (ف۳۶) مگر اتنا کہ گناہ کے پاس گئے اور رک گئے (ف۳۷) بیشک تمہارے رب کی مغفرت وسیع ہے، وہ تمہیں خوب جانتا ہے (ف۳۸) تمہیں مٹی سے پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں حمل تھے، تو آپ اپنی جانوں کو ستھرا نہ بتاؤ (ف۳۹) وہ خوب جانتا ہے جو پرہیزگار ہیں (ف۴۰)

٣٣ . تو کیا تم نے دیکھا جو پھر گیا (ف۴۱)

٣٤ . اور کچھ تھوڑا سا دیا اور روک رکھا (ف۴۲)

٣٥ . کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے تو وہ دیکھ رہا ہے (ف۴۳)

٣٦ . کیا اسے اس کی خبر نہ آئی جو صحیفوں میں ہے موسیٰ کے (ف۴۴)

٣٧ . اور ابراہیم کے جو پورے احکام بجالایا (ف۴۵)

٣٨ . کہ کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسری کا بوجھ نہیں اٹھاتی (ف۴۶)

٣٩ . اور یہ کہ آدمی نہ پاے گا مگر اپنی کوشش (ف۴۷)

٤٠ . اور یہ کہ اس کی کو شش عنقر یب دیکھی جاے گی (ف۴۸)

٤١ . پھر اس کا بھرپور بدلا دیا جائے گا

٤٢ . اور یہ کہ بیشک تمہارے رب ہی کی طرف انتہا ہے (ف۴۹)

٤٣ . اور یہ کہ وہی ہے جس نے ہنسایا اور رلایا (ف۵۰)

٤٤ . اور یہ کہ وہی ہے جس نے مارا اور جِلایا (ف۵۱)

٤٥ . اور یہ کہ اسی نے دو جوڑے بنائے نر اور مادہ

٤٦ . نطفہ سے جب ڈالا جائے (ف۵۲)

٤٧ . اور یہ کہ اسی کے ذمہ ہے پچھلا اٹھانا (دوبارہ زندہ کرنا) (ف۵۳)

٤٨ . اور یہ کہ اسی نے غنیٰ دی اور قناعت دی

٤٩ . او ریہ کہ وہی ستارہ شِعریٰ کا رب ہے (ف۵۴)

٥٠ . اور یہ کہ اسی نے پہلی عاد کو ہلاک فرمایا (ف۵۵)

٥١ . اور ثمود کو (ف۵۶) تو کوئی باقی نہ چھوڑا

٥٢ . اور ان سے پہلے نوح کی قوم کو (ف۵۷) بیشک وہ ان سے بھی ظالم اور سرکش تھے (ف۵۸)

٥٣ . اور اس نے الٹنے والی بستی کو نیچے گرایا (ف۵۹)

٥٤ . تو اس پر چھایا جو کچھ چھایا (ف۶۰)

٥٥ . تو اے سننے والے اپنے رب کی کون سی نعمتوں میں شک کرے گا،

٥٦ . یہ (ف۶۱) ایک ڈر سنانے والے ہیں اگلے ڈرانے والوں کی طرح (ف۶۲)

٥٧ . پاس آئی پاس آنے والی (ف۶۳)

٥٨ . اللہ کے سوا اس کا کوئی کھولنے والا نہیں (ف۶۴)

٥٩ . تو کیا اس بات سے تم تعجب کرتے ہو (ف۶۵)

٦٠ . اور ہنستے ہو اور روتے نہیں (ف۶۶)

٦١ . اور تم کھیل میں پڑے ہو،

٦٢ . تو اللہ کے لیے سجدہ اور اس کی بندگی کرو (ف۶۷)