;

١ . رحمٰن

٢ . نے اپنے محبوب کو قرآن سکھایا (ف۲)

٣ . انسانیت کی جان محمد کو پیدا کیا،

٤ . ما کان وما یکون کا بیان انہیں سکھایا (ف۳)

٥ . سورج اور چاند حساب سے ہیں (ف۴)

٦ . اور سبزے اور پیڑ سجدہ کرتے ہیں (ف۵)

٧ . اور آسمان کو اللہ نے بلند کیا (ف۶) اور ترازو رکھی (ف۷)

٨ . کہ ترازو میں بے اعتدالی نہ کرو (ف۸)

٩ . اور انصاف کے ساتھ تول قائم کرو اور وزن نہ گھٹاؤ،

١٠ . اور زمین رکھی مخلوق کے لیے (ف۹)

١١ . اس میں میوے اور غلاف والی کھجوریں (ف۱۰)

١٢ . اور بھُس کے ساتھ اناج (ف۱۱) اور خوشبو کے پھول،

١٣ . تو اے جن و انس! تم دونوں اپنے رب کی کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے (ف۱۲)

١٤ . اس نے آدمی کو بنا یا بجتی مٹی سے جیسے ٹھیکری (ف۱۳)

١٥ . اور جن کو پیدا فرمایا آگ کے لُوکے (لپیٹ) سے (ف۱۴)

١٦ . تو تم دونوں اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،

١٧ . دونوں پورب کا رب اور دونوں پچھم کا رب (ف۱۵)

١٨ . تو تم دونوں اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،

١٩ . اس نے دو سمندر بہائے (ف۱۶) کہ دیکھنے میں معلوم ہوں ملے ہوئے (ف۱۷)

٢٠ . اور ہے ان میں روک (ف۱۸) کہ ایک دوسرے پر بڑھ نہیں سکتا (ف۱۹)

٢١ . تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،

٢٢ . ان میں سے موتی اور مونگا نکلتا ہے،

٢٣ . تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،

٢٤ . اور اسی کی ہیں وہ چلنے والیاں کہ دریا میں اٹھی ہوئی ہیں جیسے پہاڑ (ف۲۰)

٢٥ . تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،

٢٦ . زمین پر جتنے ہیں سب کو فنا ہے (ف۲۱)

٢٧ . اور باقی ہے تمہارے رب کی ذات عظمت اور بزرگی والا (ف۲۲)

٢٨ . تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،

٢٩ . اسی کے منگتا ہیں جتنے آسمانوں اور زمین میں ہیں (ف۲۳) اسے ہر دن ایک کام ہے (ف۲۴)

٣٠ . تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،

٣١ . جلد سب کام نبٹا کر ہم تمہارے حساب کا قصد فرماتے ہیں اے دونوں بھاری گروہ (ف۲۵)

٣٢ . تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،

٣٣ . اے جن و انسان کے گروہ اگر تم سے ہوسکے کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ، جہاں نکل کر جاؤ گے اسی کی سلطنت ہے (ف۲۶)

٣٤ . تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،

٣٥ . تم پر (ف۲۷) چھوڑی جائے گی بے دھویں کی آگ کی لپٹ اور بے لپٹ کا کالا دھواں (ف۲۸) تو پھر بدلا نہ لے سکو گے (ف۲۹)

٣٦ . تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،

٣٧ . پھر جب آسمان پھٹ ائے گا تو گلاب کے پھول کا سا ہوجائے گا (ف۳۰) جیسے سرخ نری (بکرے کی رنگی ہوئی کھال)

٣٨ . تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،

٣٩ . تو اس دن (ف۳۱) گنہگار کے گناہ کی پوچھ نہ ہوگی کسی آدمی اور جِن سے (ف۳۲)

٤٠ . تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،

٤١ . مجرم اپنے چہرے سے پہچانے جائیں گے (ف۳۳) تو ماتھا اور پاؤں پکڑ کر جہنم میں ڈالے جائیں گے (ف۳۴)

٤٢ . تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے (ف۳۵)

٤٣ . یہ ہے وہ جہنم جسے مجرم جھٹلاتے ہیں،

٤٤ . پھیرے کریں گے اس میں اور انتہا کے جلتے کھولتے پانی میں (ف۳۶)

٤٥ . تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،

٤٦ . اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے (ف۳۷) اس کے لیے دو جنتیں ہیں (ف۳۸)

٤٧ . تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،

٤٨ . بہت سی ڈالوں والیاں (ف۳۹)

٤٩ . تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،

٥٠ . ان میں دو چشمے بہتے ہیں (ف۴۰)

٥١ . تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،

٥٢ . ان میں ہر میوہ دو دو قسم کا،

٥٣ . تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،

٥٤ . اور ایسے بچھونوں پر تکیہ لگائے جن کا اَستر قناویز کا (ف۴۱) اور دونوں کے میوے اتنے جھکے ہوئے کہ نیچے سے چن لو (ف۴۲)

٥٥ . تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،

٥٦ . ان بچھونوں پر وہ عورتیں ہیں کہ شوہر کے سوا کسی کو آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتیں (ف۴۳) ان سے پہلے انہیں نہ چھوا کسی آدمی اور نہ جِن نے،

٥٧ . تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،

٥٨ . گویا وہ لعل اور یاقوت اور مونگا ہیں (ف۴۴)

٥٩ . تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،

٦٠ . نیکی کا بدلہ کیا ہے مگر نیکی (ف۴۵)

٦١ . تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،

٦٢ . اور ان کے سوا دو جنتیں اور ہیں (ف۴۶)

٦٣ . تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،

٦٤ . نہایت سبزی سے سیاہی کی جھلک دے رہی ہیں،

٦٥ . تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،

٦٦ . ان میں دو چشمے ہیں چھلکتے ہوئے،

٦٧ . تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،

٦٨ . ان میں میوے اور کھجوریں اور انار ہیں،

٦٩ . تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،

٧٠ . ان میں عورتیں ہیں عادت کی نیک صورت کی اچھی

٧١ . تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،

٧٢ . حوریں ہیں خیموں میں پردہ نشین (ف۴۷)

٧٣ . تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،

٧٤ . ان سے پہلے انہیں ہاتھ نہ لگایا کسی آدمی اور نہ کسی جِن نے،

٧٥ . تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے (ف۴۸)

٧٦ . تکیہ لگائے ہوئے سبز بچھونوں اور منقش خوبصورت چاندنیوں پر،

٧٧ . تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،

٧٨ . بڑی برکت والا ہے تمہارے رب کا نام جو عظمت اور بزرگی والا،