;

١ . اللہ کی پاکی بولتا ہے جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے (ف۲) اور وہی عزت و حکمت والا ہے،

٢ . اسی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت، جِلاتا ہے (ف۳) اور مارتا (ف۴) اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے،

٣ . وہی اول (ف۵) وہی آخر (ف۶) وہی ظاہر (ف۷) وہی باطن (ف۸) اور وہی سب کچھ جانتا ہے،

٤ . وہی ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں پیدا کیے (ف۹) پھر عرش پر استوا فرمایا جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے، جانتا ہے جو زمین کے اندر جا تا ہے (ف۱۰) اور جو اس سے باہر نکلتا ہے (ف۱۱) اور جو آسمان سے اترتا ہے (ف۱۲) اور جو اس میں چڑھتا ہے (ف۱۳) اور وہ تمہارے ساتھ ہے (ف۱۴) تم کہیں ہو، اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے (ف۱۵)

٥ . اسی کی ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت، اور اللہ ہی کی طرف، سب کاموں کی رجوع،

٦ . رات کو دن کے حصے میں لاتا ہے (ف۱۶) اور دن کو رات کے حصے میں لاتا ہے (ف۱۷) اور وہ دلوں کی بات جانتا ہے (ف۱۸)

٧ . اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کی راہ میں کچھ وہ خرچ کرو جس میں تمہیں اَوروں کا جانشین کیا (ف۱۹) تو جو تم میں ایمان لائے اور اس کی راہ میں خرچ کیا ان کے لیے بڑا ثواب ہے،

٨ . اور تمہیں کیا ہے کہ اللہ پر ایمان نہ لاؤ، حالانکہ یہ رسول تمہیں بلارہے ہیں کہ اپنے ر ب پر ایمان لاؤ (ف۲۰) اور بیشک وہ (ف۲۱) تم سے پہلے سے عہد لے چکا ہے (ف۲۲) اگر تمہیں یقین ہو،

٩ . وہی ہے کہ اپنے بندہ پر (ف۲۳) روشن آیتیں اتارتا ہے تاکہ تمہیں اندھیریوں سے (ف۲۴) اجالے کی طرف لے جائے (ف۲۵) اور بیشک ا لله تم پر ضرور مہربان رحم والا،

١٠ . اور تمہیں کیا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو حالانکہ آسمانوں اور زمین میں سب کا وارث اللہ ہی ہے (ف۲۶) تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتحِ مکہ سے قبل خرچ اور جہاد کیا (ف۲۷) وہ مرتبہ میں ان سے بڑے ہیں جنہوں نے بعد فتح کے خرچ اور جہاد کیا، اور ان سب سے (ف۲۸) اللہ جنت کا وعدہ فرماچکا (ف۲۹) اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے،

١١ . کون ہے جو اللہ کو قرض دے اچھا قرض (ف۳۰) تو وہ اس کے لیے دونے کرے اور اللہ کو عزت کا ثواب دے،

١٢ . جس دن تم ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو (ف۳۱) دیکھو گے کہ ان کا نور ہے (ف۳۲) ان کے آگے اور ان کے دہنے دوڑتا ہے (ف۳۳) ان سے فرمایا جارہا ہے کہ آج تمہاری سب سے زیادہ خوشی کی بات وہ جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہیں تم ان میں ہمیشہ رہو، یہی بڑی کامیابی ہے،

١٣ . جس دن منافق مرد اور منافق عورتیں مسلمانوں سے کہیں گے کہ ہمیں یک نگاہ دیکھو کہ ہم تمہارے نور سے کچھ حصہ لیں، کہا جائے گا اپنے پیچھے لوٹو (ُ۳۴) وہاں نور ڈھونڈو وہ لوٹیں گے، جبھی ان کے (ف۳۵) درمیان ایک دیوار کھڑی کردی جائے گی (ف۳۶) جس میں ایک دروازہ ہے (ف۳۷) اس کے اندر کی طرف رحمت (ف۳۸) اور اس کے باہر کی طرف عذاب،

١٤ . منافق (ف۳۹) مسلمانوں کو پکاریں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے (ف۴۰) وہ کہیں گے کیوں نہیں مگر تم نے تو اپنی جانیں فتنہ میں ڈالیں (ف۴۱) اور مسلمانوں کی برائی تکتے اور شک رکھتے (ف۴۲) اور جھوٹی طمع نے تمھیں فریب دیا (ف۴۳) یہاں تک کہ اللہ کا حکم آگیا (ف۴۴) اور تمہیں اللہ کے حکم پر اس بڑے فریبی نے مغرور رکھا (ف۴۵)

١٥ . تو آج نہ تم سے کوئی فدیہ لیا جائے (ف۴۶) اور نہ کھلے کافروں سے، تمہارا ٹھکانا آگ ہے، وہ تمہاری رفیق ہے، اور کیا ہی برا انجام،

١٦ . کیا ایمان والوں کو ابھی وہ وقت نہ آیا کہ ان کے دل جھک جائیں اللہ کی یاد اور اس حق کے لیے جو اترا (ف۴۷) اور ان جیسے نہ ہوں جن کو پہلے کتاب دی گئی (ف۴۸) پھر ان پر مدت دراز ہوئی (ف۴۹) تو ان کے دل سخت ہوگئے (ف۵۰) اور ان میں بہت فاسق ہیں (ف۵۱)

١٧ . جان لو کہ اللہ زمین کو زندہ کرتا ہے اس کے مرے پیچھے (ف۵۲) بیشک ہم نے تمہارے لیے نشانیاں بیان فرمادیں کہ تمہیں سمجھ ہو،

١٨ . بیشک صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور وہ جنہوں نے اللہ کو اچھا قرض دیا (ف۵۳) ان کے دونے ہیں اور ان کے لیے عزت کا ثواب ہے (ف۵۴)

١٩ . اور وہ جو اللہ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائیں وہی ہیں کامل سچے، اور اَوروں پر (ف۵۵) گواہ اپنے رب کے یہاں، ان کے لیے ان کا ثواب (ف۵۶) اور ان کا نور ہے (ف۵۷) اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتیں جھٹلائیں وہ دوزخی ہیں،

٢٠ . جان لو کہ دنیا کی زندگی تو نہیں مگر کھیل کود (ف۵۸) اور آرائش اور تمہارا آپس میں بڑائی مارنا اور مال اور اولاد میں ایک دوسرے پر زیادتی چاہنا (ف۵۹) اس مینھ کی طرح جس کا اُگایاسبزہ کسانوں کو بھایا پھر سوکھا (ف۶۰) کہ تو اسے زرد دیکھے پھر روندن (پامال کیا ہوا) ہوگیا (ف۶۱) اور آخرت میں سخت عذاب ہے (ف۶۲) اور اللہ کی طرف سے بخشش اور اس کی رضا (ف۶۳) اور دنیا کا جینا تو نہیں مگر دھوکے کا مال (ف۶۴)

٢١ . بڑھ کر چلو اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف (ف۶۵) جس کی چوڑائی جیسے آسمان اور زمین کا پھیلاؤ (ف۶۶) تیار ہوئی ہے ان کے لیے جو اللہ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائے، یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے، اور اللہ بڑا فضل والا ہے،

٢٢ . نہیں پہنچتی کوئی مصیبت زمین میں (ف۶۷) اور نہ تمہاری جانوں میں (ف۶۸) مگر وہ ایک کتاب میں ہے (ف۶۹) قبل اس کے کہ ہم اسے پیدا کریں (ف۷۰) بیشک یہ (ف۷۱) اللہ کو آسان ہے،

٢٣ . اس لیے کہ غم نہ کھاؤ اس (ف۷۲) پر جو ہاتھ سے جائے اور خوش نہ ہو (ف۷۳) اس پر جو تم کو دیا (ف۷۴) اور اللہ کو نہیں کوئی اترونا (شیخی بگھارنے والا) بڑائی مارنے والا،

٢٤ . وہ جو آپ بخل کریں (ف۷۵) اور اوروں سے بخل کو کہیں (ف۷۶) اور جو منہ پھیرے (ف۷۷) تو بیشک اللہ ہی بے نیاز ہے سب خوبیوں سراہا،

٢٥ . بیشک ہم نے اپنے رسولوں کو دلیلوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب (ف۷۸) اور عدل کی ترازو اتاری (ف۷۹) کہ لوگ انصاف پر قائم ہوں (ف۸۰) اور ہم نے لوہا اتارا (ف۸۱) اس میں سخت آنچ (نقصان) (ف۸۲) اور لوگوں کے فائدے (ف۸۳) اور اس لیے کہ اللہ دیکھے اس کو جو بے دیکھے اس کی (ف۸۴) اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے، بیشک اللہ قورت والا غالب ہے (ف۸۵)

٢٦ . اور بیشک ہم نے نوح اور ابراہیم کو بھیجا اور ان کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھی (ف۸۶) تو ان میں (ف۸۷) کوئی راہ پر آیا اور ان میں بہتیرے فاسق ہیں،

٢٧ . پھر ہم نے ان کے پیچھے (ف۸۸) اسی راہ پر اپنے اور رسول بھیجے اور ان کے پیچھے عیسیٰ بن مریم کو بھیجا اور اسے انجیل عطا فرمائی اور اس کے پیروں کے دل میں نرمی اور رحمت رکھی (ف۸۹) اور راہب بننا (ف۹۰) تو یہ بات انہوں نے دین میں اپنی طرف سے نکالی ہم نے ان پر مقرر نہ کی تھی ہاں یہ بدعت انہوں نے ا لله کی رضا چاہنے کو پیدا کی پھر اسے نہ نباہا جیسا اس کے نباہنے کا حق تھا (ف۹۱) تو ان کے ایمان والوں کو (ف۹۲) ہم نے ان کا ثواب عطا کیا، اور ان میں سے بہتیرے (ف۹۳) فاسق ہیں،

٢٨ . اے ایمان والو! (ف۹۴) اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول (ف۹۵) پر ایمان لاؤ وہ اپنی رحمت کے دو حصے تمہیں عطا فرمائے گا (ف۹۶) اور تمہارے لیے نور کردے گا (ف۹۷) جس میں چلو اور تمہیں بخش دے گا، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،

٢٩ . یہ اس لیے کہ کتاب والے کافر جان جائیں کہ اللہ کے فضل پر ان کا کچھ قابو نہیں (ف۹۸) اور یہ کہ فضل اللہ کے ہاتھ ہے دیتا ہے جسے چاہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے،