;

١ . اے ایمان والو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ (ف۲) تم انہیں خبریں پہنچاتے ہو دوستی سے حالانکہ وہ منکر ہیں اس حق کے جو تمہارے پاس آیا (ف۳) گھر سے جدا کرتے ہیں (ف۴) رسول کو اور تمہیں اس پر کہ تم اپنے رب پر ایمان لائے، اگر تم نکلے ہو میری راہ میں جہاد کرنے اور میری رضا چاہنے کو تو ان سے دوستی نہ کرو تم انہیں خفیہ پیامِ محبت بھیجتے ہو، اور میں خوب جانتا ہوں جو تم چھپاؤ اور جو ظاہر کرو، اور تم میں جو ایسا کرے بیشک وہ سیدھی راہ سے بہکا،

٢ . اگر تمہیں پائیں (ف۵) تو تمہارے دشمن ہوں گے اور تمہاری طرف اپنے ہاتھ (ف۶) اور اپنی زبانیں (ف۷) برائی کے ساتھ دراز کریں گے اور ان کی تمنا ہے کہ کسی طرح تم کافر ہوجاؤ (ف۸)

٣ . ہرگز کام نہ آئیں گے تمہیں تمہارے رشتے اور نہ تمہاری اولاد (ف۹) قیامت کے دن، تمہیں ان سے الگ کردے گا (ف۱۰) اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے،

٤ . بیشک تمہارے لیے اچھی پیروی تھی (ف۱۱) ابراہیم اور اس کے ساتھ والوں میں (ف۱۲) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا (ف۱۳) بیشک ہم بیزار ہیں تم سے اور ان سے جنہیں اللہ کے سوا پوجتے ہو، ہم تمہارے منکر ہوئے (ف۱۴) اور ہم میں اور تم میں دشمنی اور عداوت ظاہر ہوگئی ہمیشہ کے لیے جب تک تم ایک اللہ پر ایمان نہ لاؤ مگر ابراہیم کا اپنے باپ سے کہنا کہ میں ضرور تیری مغفرت چاہوں گا (ف۱۵) اور میں اللہ کے سامنے تیر ے کسی نفع کا مالک نہیں (ف۱۶) اے ہمارے رب ہم نے تجھی پر بھروسہ کیا اور تیری ہی طرف رجوع لائے اور تیری ہی طرف پھرنا ہے (ف۱۷)

٥ . اے ہمارے رب ہمیں کافروں کی آزمائش میں نہ ڈال (ف۱۸) اور ہمیں بخش دے، اے ہمارے رب بیشک تو ہی عزت و حکمت والا ہے،

٦ . بیشک تمہارے لیے (ف۱۹) ان میں اچھی پیروی تھی (ف۲۰) اسے جو اللہ اور پچھلے دن کا امیدوار ہو (ف۲۱) اور جو منہ پھیرے (ف۲۲) تو بیشک اللہ ہی بے نیاز ہے سب خوبیوں سراہا،

٧ . قریب ہے کہ اللہ تم میں اور ان میں جو ان میں سے (ف۲۳) تمہارے دشمن ہیں دوستی کردے (ف۲۴) اور اللہ قادر ہے (ف۲۵) اور بخشنے والا مہربان ہے،

٨ . اللہ تمہیں ان سے (ف۲۶) منع نہیں کرتا جو تم سے دین میں نہ لڑے اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہ نکالا کہ ان کے ساتھ احسان کرو اور ان سے انصاف کا برتاؤ برتو، بیشک انصاف والے اللہ کو محبوب ہیں،

٩ . اللہ تمہیں انہی سے منع کرتا ہے جو تم سے دین میں لڑے یا تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا یا تمہارے نکالنے پر مدد کی کہ ان سے دوستی کرو (ف۲۷) اور جو ان سے دوستی کرے تو وہی ستمگار ہیں،

١٠ . اے ایمان والو جب تمہارے پاس مسلمان عورتیں کفرستان سے اپنے گھر چھوڑ کر آئیں تو ان کا امتحان کرو (ف۲۸) اللہ ان کے ایمان کا حال بہتر جانتا ہے، پھر اگر تمہیں ایمان والیاں معلوم ہوں تو انہیں کافروں کو واپس نہ دو، نہ یہ (ف۲۹) انہیں حلال (ف۳۰) نہ وہ انہیں حلال (ف۳۱) اور ان کے کافر شوہروں کو دے دو جو ان کا خرچ ہوا (ف۳۲) اور تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ان سے نکاح کرلو (ف۳۳) جب ان کے مہر انہیں دو (ف۳۴) اور کافرنیوں کے نکاح پر جمے نہ رہو (ف۳۵) اور مانگ لو جو تمہارا خرچ ہوا (ف۳۶) اور کافر مانگ لیں جو انہوں نے خرچ کیا (ف۳۷) یہ اللہ کا حکم ہے، وہ تم میں فیصلہ فرماتا ہے، اور اللہ علم و حکمت والا ہے،

١١ . اور اگر مسلمانوں کے ہاتھ سے کچھ عورتیں کافروں کی طرف نکل جائیں (ف۳۸) پھر تم کافروں کو سزا دو (ف۳۹) تو جن کی عورتیں جاتی رہی تھیں (ف۴۰) غنیمت میں سے انہیں اتنا دیدو جو ان کا خرچ ہوا تھا (ف۴۱) اور اللہ سے ڈرو جس پر تمہیں ایمان ہے،

١٢ . اے نبی جب تمہارے حضور مسلمان عورتیں حاضر ہوں اس پر بیعت کرنے کو کہ اللہ کا کچھ شریک نہ ٹھہرائیں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ بدکاری اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی (ف۴۲) اور نہ وہ بہتان لائیں گی جسے اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان یعنی موضع ولادت میں اٹھائیں (ف۴۳) اور کسی نیک بات میں تمہاری نافرانی نہ کریں گی (ف۴۴) تو ان سے بیعت لو اور اللہ سے ان کی مغفرت چاہو (ف۴۵) بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،

١٣ . اے ایمان والو ان لوگوں سے دوستی نہ کرو جن پر اللہ کا غضب ہے (ف۴۶) وہ آخرت سے آس توڑ بیٹھے ہیں (ف۴۷) جیسے کافر آس توڑ بیٹھے قبر والوں سے (ف۴۸)