;

١ . اللہ کی پاکی بولتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور وہی عزت و حکمت والا ہے،

٢ . اے ایمان والو کیوں کہتے ہو وہ جو نہیں کرتے (ف۲)

٣ . کیسی سخت ناپسند ہے اللہ کو وہ بات کہ وہ کہو جو نہ کرو،

٤ . بیشک اللہ دوست رکھتا ہے انہیں جو اس کی راہ میں لڑتے ہیں پرا (صف) باندھ کر گویا وہ عمارت ہیں رانگا پلائی (سیسہ پلائی دیوار) (ف۳)

٥ . اور یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا، اے میری قوم مجھے کیوں ستاتے ہو (ف۴) حالانکہ تم جانتے ہو (ف۵) کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں (ف۶) پھر جب وہ (ف۷) ٹیڑھے ہوئے اللہ نے ان کے دل ٹیڑھے کردیے (ف۸) اور اللہ فاسق لوگوں کو راہ نہیں دیتا (ف۹)

٦ . اور یاد کرو جب عیسیٰ بن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اپنے سے پہلی کتاب توریت کی تصدیق کرتا ہوا (ف۱۰) اور ان رسول کی بشارت سناتا ہوا جو میرے بعد تشریف لائیں گے ان کا نام احمد ہے (ف۱۱) پھر جب احمد ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر تشریف لائے بولے یہ کھلا جادو،

٧ . اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے (ف۱۲) حالانکہ اسے اسلام کی طرف بلایا جاتا ہو (ف۱۳) اور ظالم لوگوں کو اللہ راہ نہیں دیتا،

٨ . چاہتے ہیں کہ اللہ کا نور (ف۱۴) اپنے مونھوں سے بجھادیں (ف۱۵) اور اللہ کو اپنا نور پورا کرنا پڑے برا مانیں کافر،

٩ . وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا کہ اسے سب دینوں پر غالب کرے (ف۱۶) پڑے برا مانیں مشرک،

١٠ . اے ایمان والو (ف۱۷) کیا میں بتادوں وہ تجارت جو تمہیں دردناک عذاب سے بچالے (ف۱۸)

١١ . ایمان رکھو اللہ اور اس کے رسول پر اور اللہ کی راہ میں اپنے مال و جان سے جہاد کرو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے (ف۱۹) اگر تم جانو (ف۲۰)

١٢ . وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں رواں اور پاکیزہ محلوں میں جو بسنے کے باغوں میں ہیں، یہی بڑی کامیابی ہے،

١٣ . اور ایک نعمت تمہیں اور دے گا (ف۲۱) جو تمہیں پیاری ہے اللہ کی مدد اور جلد آنے والی فتح (ف۲۲) اور اے محبوب مسلمانوں کو خوشی سنادو (ف۲۳)

١٤ . اے ایمان والو دین خدا کے مددگار ہو جیسے (ف۲۴) عیسیٰ بن مریم نے حواریوں سے کہا تھا کون ہے جو اللہ کی طرف ہو کر میری مدد کریں حواری بولے (ف۲۵) ہم دینِ خدا کے مددگار ہیں تو بنی اسرائیل سے ایک گروہ ایمان لایا (ف۲۶) اور ایک گروہ نے کفر کیا (ف۲۷) تو ہم نے ایمان والوں کو ان کے دشمنوں پر مدد دی تو غالب ہوگئے (ف۲۸)