;

١ . اللہ کی پاکی بولتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے (ف۲) بادشاہ کمال پاکی والا عزت والا حکمت والا،

٢ . وہی ہے جس نے اَن پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا (ف۳) کہ ان پر اس کی آیتیں پڑھتے ہیں (ف۴) اور انہیں پاک کرتے ہیں (ف۵) اور انہیں کتاب و حکمت کا علم عطا فرماتے ہیں (ف۶) اور بیشک وہ اس سے پہلے (ف۷) ضرور کھلی گمراہی میں تھے (ف۸)

٣ . اور ان میں سے (ف۹) اوروں کو (ف۱۰) پاک کرتے اور علم عطا فرماتے ہیں، جو ان اگلوں سے نہ ملے (ف۱۱) اور وہی عزت و حکمت والا ہے،

٤ . یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے (ف۱۲)

٥ . ان کی مثال جن پر توریت رکھی گئی تھی (ف۱۳) پھر انہوں نے اس کی حکم برداری نہ کی (ف۱۴) گدھے کی مثال ہے جو پیٹھ پر کتابیں اٹھائے (ف۱۵) کیا ہی بری مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے اللہ کی آیتیں جھٹلائیں، اور اللہ ظالموں کو راہ نہیں دیتا،

٦ . تم فرماؤ اے یہودیو! اگر تمہیں یہ گمان ہے کہ تم اللہ کے دوست ہو اور لوگ نہیں (ف۱۶) تو مرنے کی آرزو کرو (ف۱۷) اگر تم سچے ہو (ف۱۸)

٧ . اور وہ کبھی اس کی آرزو نہ کریں گے ان کوتکوں کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں (ف۱۹) اور اللہ ظالموں کو جانتا ہے،

٨ . تم فرماؤ وہ موت جس سے تم بھاگتے ہو وہ تو ضرور تمہیں ملنی ہے (ف۲۰) پھر اس کی طرف پھیرے جاؤ گے جو چھپا اور ظاہر سب کچھ جانتا ہے پھر وہ تمہیں بتادے گا جو تم نے کیا تھا،

٩ . اے ایمان والو جب نماز کی اذان ہو جمعہ کے دن (ف۲۱) تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو (ف۲۲) اور خرید و فروخت چھوڑ دو (ف۲۳) یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو،

١٠ . پھر جب نماز ہوچکے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو (ف۲۴) اور اللہ کو بہت یاد کرو اس امید پر کہ فلاح پاؤ،

١١ . اور جب انہوں نے کوئی تجارت یا کھیل دیکھا اس کی طرف چل دیے (ف۲۵) اور تمہیں خطبے میں کھڑا چھوڑ گئے (ف۲۶) تم فرماؤ وہ جو اللہ کے پاس ہے (ف۲۷) کھیل سے اور تجارت سے بہتر ہے، اور اللہ کا رزق سب سے اچھا،