;

١ . جب منافق تمہارے حضور حاضر ہوتے ہیں (ف۲) کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ حضور بیشک یقیناً اللہ کے رسول ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ تم اس کے رسول ہو، اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق ضرور جھوٹے ہیں (ف۳)

٢ . اور انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال ٹھہرالیا (ف۴) تو اللہ کی راہ سے روکا (ف۵) بیشک وہ بہت ہی برے کام کرتے ہیں (ف۶)

٣ . یہ اس لیے کہ وہ زبان سے ایمان لائے پھر دل سے کافر ہوئے تو ان کے دلوں پر مہر کردی گئی تو اب وہ کچھ نہیں سمجھتے،

٤ . اور جب تو انہیں دیکھے (ف۷) ان کے جسم تجھے بھلے معلوم ہوں، اور اگر بات کریں تو تُو ان کی بات غور سے سنے (ف۸) گویا وہ کڑیاں ہیں دیوار سے ٹکائی ہوئی (ف۹) ہر بلند آواز اپنے ہی اوپر لے جاتے ہیں (ف۱۰) وہ دشمن ہیں (ف۱۱) تو ان سے بچتے رہو (ف۱۲) اللہ انہیں مارے کہاں اوندھے جاتے ہیں (ف۱۳)

٥ . اور جب ان سے کہا جائے کہ آؤ (ف۱۴) رسول اللہ تمہارے لیے معافی چاہیں تو اپنے سر گھماتے ہیں اور تم انہیں دیکھو کہ غور کرتے ہوئے منہ پھیر لیتے ہیں (ف۱۵)

٦ . ان پر ایک سا ہے تم ان کی معافی چاہو یا نہ چاہو، اللہ انہیں ہر گز نہ بخشے گا (ف۱۶) بیشک اللہ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا،

٧ . وہی ہیں جو کہتے ہیں کہ ان پر خرچ نہ کرو جو رسول اللہ کے پاس ہیں یہاں تک کہ پریشان ہوجائیں، اور اللہ ہی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کے خزانے (ف۱۷) مگر منافقوں کو سمجھ نہیں،

٨ . کہتے ہیں ہم مدینہ پھر کر گئے (ف۱۸) تو ضرور جو بڑی عزت والا ہے وہ اس میں سے نکال دے گا اسے جو نہایت ذلت والا ہے (ف۱۹) اور عزت تو اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں ہی کے لیے ہے مگر منافقوں کو خبر نہیں (ف۲۰)

٩ . اے ایمان والو تمہارے مال نہ تمہاری اولاد کوئی چیز تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کرے (ف۲۱) اور جو ایسا کرے (ف۲۲) تو وہی لوگ نقصان میں ہیں (ف۲۳)

١٠ . اور ہمارے دیے میں سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرو (ف۲۴) قبل اس کے کہ تم میں کسی کو موت آئے پھر کہنے لگے، اے میرے رب تو نے مجھے تھوڑی مدت تک کیوں مہلت نہ دی کہ میں صدقہ دیتا اور نیکوں میں ہوتا،

١١ . اور ہرگز اللہ کسی جان کو مہلت نہ دے گا جب اس کا وعدہ آجائے (ف۲۵) اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے،