;

١ . اے نبی (ف۲) جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کے وقت پر انہیں طلاق دو اور عدت کا شمار رکھو (ف۳) اور اپنے رب اللہ سے ڈرو، عدت میں انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ آپ نکلیں (ف۴) مگر یہ کہ کوئی صریح بے حیائی کی بات لائیں (ف۵) اور یہ اللہ کی حدیں ہیں، اور جو اللہ کی حدوں سے آگے بڑھا بیشک اس نے اپنی جان پر ظلم کیا، تمہیں نہیں معلوم شاید اللہ اس کے بعد کوئی نیا حکم بھیجے (ف۶)

٢ . تو جب وہ اپنی میعاد تک پہنچنے کو ہوں (ف۷) تو انہیں بھلائی کے ساتھ روک لو یا بھلائی کے ساتھ جدا کرو (ف۸) اور اپنے میں دو ثقہ کو گواہ کرلو اور اللہ کے لیے گواہی قائم کرو (ف۹) اس سے نصیحت فرمائی جاتی ہے اسے جو اللہ اور پچھلے دن پر ایمان رکھتا ہو (ف۱۰) اور جو اللہ سے ڈرے (ف۱۱) اللہ اس کے لیے نجات کی راہ نکال دے گا (ف۱۲)

٣ . اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں اس کا گمان نہ ہو، اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اسے کافی ہے (ف۱۳) بیشک اللہ اپنا کام پورا کرنے والا ہے، بیشک اللہ نے ہر چیز کا ایک اندازہ رکھا ہے،

٤ . اور تمہاری عورتوں میں جنہیں حیض کی امید نہ رہی (ف۱۴) اگر تمہیں کچھ شک ہو (ف۱۵) تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور ان کی جنہیں ابھی حیض نہ آیا (ف۱۶) اور حمل والیوں کی میعاد یہ ہے کہ وہ اپنا حمل جَن لیں (ف۱۷) اور جو اللہ سے ڈرے اللہ اس کے کام میں آسانی فرمادے گا،

٥ . یہ (ف۱۸) اللہ کا حکم ہے کہ اس نے تمہاری طرف اتارا، اور جو اللہ سے ڈرے (ف۱۹) اللہ اس کی برائیاں اتار دے گا اور اسے بڑا ثواب دے گا،

٦ . عورتوں کو وہاں رکھو جہاں خود رہتے ہو اپنی طاقت بھر (ف۲۰) اور انہیں ضرر نہ دو کہ ان پر تنگی کرو (ف۲۱) اور اگر (ف۲۲) حمل والیاں ہوں تو انہیں نان و نفقہ دو یہاں تک کہ ان کے بچہ پیدا ہو (ف۲۳) پھر اگر وہ تمہارے لیے بچہ کو دودھ پلائیں تو انہیں اس کی اجرت دو (ف۲۴) اور آپس میں معقول طور پر مشورہ کرو (ف۲۵) پھر اگر باہم مضائقہ کرو (دشوار سمجھو) (ف۲۶) تو قریب ہے کہ اسے اور دودھ پلانے والی مل جائے گی،

٧ . مقدور والا (ف۲۷) اپنے مقدور کے قابل نفقہ دے، اور جس پر اس کا رزق تنگ کیا گیا وہ اس میں سے نفقہ دے جو اسے اللہ نے دیا، اللہ کسی جان پر بوجھ نہیں رکھتا مگر اسی قابل جتنا اسے دیا ہے، قریب ہے اللہ دشواری کے بعد آسانی فرمادے گا (ف۲۸)

٨ . اور کتنے ہی شہر تھے جنہوں نے اپنے رب کے حکم اور اس کے رسولوں سے سرکشی کی تو ہم نے ان سے سخت حسا ب لیا (ف۲۹) اور انہیں بری مار دی (ف۳۰)

٩ . تو انہوں نے اپنے کیے کا وبال چکھا اور ان کے کام انجام گھاٹا ہوا،

١٠ . اللہ نے ان کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے تو اللہ سے ڈرو اے عقل والو! وہ جو ایمان لائے ہو، بیشک اللہ نے تمہارے لیے عزت اتاری ہے،

١١ . وہ رسول (ف۳۱) کہ تم پر اللہ کی روشن آیتیں پڑھتا ہے تاکہ انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے (ف۳۲) اندھیریوں سے (ف۳۳) اجالے کی طرف لے جائے، اور جو اللہ پر ایمان لائے اور اچھا کام کرے وہ اسے باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہیں جن میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں، بیشک اللہ نے اس کے لیے اچھی روزی رکھی (ف۳۴)

١٢ . اللہ ہے جس نے سات آسمان بنائے (ف۳۵) اور انہی کی برابر زمینیں (ف۳۶) حکم ان کے درمیان اترتا ہے (ف۳۷) تاکہ تم جان لو کہ اللہ سب کچھ کرسکتا ہے، اللہ کا علم ہر چیز کو محیط ہے،