;

١ . قلم (ف۲) اور ان کے لکھے کی قسم (ف۳)

٢ . تم اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں (ف۴)

٣ . اور ضرور تمہارے لیے بے انتہا ثواب ہے (ف۵)

٤ . اور بیشک تمہاری خُو بُو (خُلق) بڑی شان کی ہے (ف۶)

٥ . تو اب کوئی دم جاتا ہے کہ تم بھی دیکھ لو گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے (ف۷)

٦ . کہ تم میں کون مجنون تھا،

٧ . بیشک تمہارا رب خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکے، اور وہ خوب جانتا ہے جو راہ پر ہے،

٨ . تو جھٹلانے والوں کی بات نہ سننا،

٩ . وہ تو اس آرزو میں ہیں کہ کسی طرح تم نرمی کرو (ف۸) تو وہ بھی نرم پڑجائیں،

١٠ . اور ہر ایسے کی بات نہ سننا جو بڑا قسمیں کھانے والا (ف۹) ذلیل

١١ . بہت طعنے دینے والا بہت اِدھر کی اُدھر لگاتا پھرنے والا (ف۱۰)

١٢ . بھلائی سے بڑا روکنے والا (ف۱۱) حد سے بڑھنے والا گنہگار (ف۱۲)

١٣ . درشت خُو (ف۱۳) اس سب پر طرہ یہ کہ اس کی اصل میں خطا (ف۱۴)

١٤ . اس پر کہ کچھ مال اور بیٹے رکھتا ہے،

١٥ . جب اس پر ہماری آیتیں پڑھی جائیں (ف۱۵) کہتا ہے کہ اگلوں کی کہانیاں ہیں (ف۱۶)

١٦ . قریب ہے کہ ہم اس کی سور کی سی تھوتھنی پر داغ دیں گے (ف۱۷)

١٧ . بیشک ہم نے انہیں جانچا (ف۱۸) جیسا اس باغ والوں کو جانچا تھا (ف۱۹) جب انہوں نے قسم کھائی کہ ضرور صبح ہوتے اس کھیت کو کاٹ لیں گے (ف۲۰)

١٨ . اور انشاء اللہ نہ کہا (ف۲۱)

١٩ . تو اس پر (ف۲۲) تیرے رب کی طرف سے ایک پھیری کرنے والا پھیرا کر گیا (ف۲۳) اور وہ سوتے تھے،

٢٠ . تو صبح رہ گیا (ف۲۴) جیسے پھل ٹوٹا ہوا (ف۲۵)

٢١ . پھر انہوں نے صبح ہوتے ایک دوسرے کو پکارا،

٢٢ . کہ تڑکے اپنی کھیتی چلو اگر تمہیں کاٹنی ہے،

٢٣ . تو چلے اور آپس میں آہستہ آہستہ کہتے جاتے تھے کہ

٢٤ . ہرگز آج کوئی مسکین تمہارے باغ میں آنے نہ پائے،

٢٥ . اور تڑکے چلے اپنے اس ارادہ پر قدرت سمجھتے (ف۲۶)

٢٦ . پھر جب اسے (ف۲۷) بولے بیشک ہم راستہ بہک گئے (ف۲۸)

٢٧ . بلکہ ہم بے نصیب ہوئے (ف۲۹)

٢٨ . ان میں جو سب سے غنیمت تھا بولا کیا میں تم سے نہیں کہتا تھا کہ تسبیح کیوں نہیں کرتے (ف۳۰)

٢٩ . بولے پاکی ہے ہمارے رب کو بیشک ہم ظالم تھے،

٣٠ . اب ایک دوسرے کی طرف ملامت کرتا متوجہ ہوا (ف۳۱)

٣١ . بولے ہائے خرابی ہماری بیشک ہم سرکش تھے (ف۳۲)

٣٢ . امید ہے ہمیں ہمارا رب اس سے بہتر بدل دے ہم اپنے رب کی طرف رغبت لاتے ہیں (ف۳۳)

٣٣ . مار ایسی ہوتی ہے (ف۳۴) اور بیشک آخرت کی مار سب سے بڑی، کیا اچھا تھا اگر وہ جانتے (ف۳۵)

٣٤ . بیشک ڈر والوں کے لیے ان کے رب کے پاس (ف۳۶) چین کے باغ ہیں (ف۳۷)

٣٥ . کیا ہم مسلمانوں کو مجرموں کا سا کردیں (ف۳۸)

٣٦ . تمہیں کیا ہوا کیسا حکم لگاتے ہو (ف۳۹)

٣٧ . کیا تمہارے لیے کوئی کتاب ہے اس میں پڑھتے ہو،

٣٨ . کہ تمہارے لیے اس میں جو تم پسند کرو،

٣٩ . یا تمہارے لیے ہم پر کچھ قسمیں ہیں قیامت تک پہنچتی ہوئی (ف۴۰) کہ تمہیں ملے گا جو کچھ دعویٰ کرتے ہو (ف۴۱)

٤٠ . تم ان سے (ف۴۲) پوچھو ان میں کون سا اس کا ضامن ہے (ف۴۳)

٤١ . یا ان کے پاس کچھ شریک ہیں (ف۴۴) تو اپنے شریکوں کو لے کر آئیں اگر سچے ہیں (ف۴۵)

٤٢ . جس دن ایک ساق کھولی جائے گی (جس کے معنی اللہ ہی جانتا ہے) (ف۴۶) اور سجدہ کو بلائے جائیں گے (ف۴۷) تو نہ کرسکیں گے (ف۴۸)

٤٣ . نیچی نگاہیں کیے ہوئے (ف۴۹) ان پر خواری چڑھ رہی ہوگی، اور بیشک دنیا میں سجدہ کے لیے بلائے جاتے تھے (ف۵۰) جب تندرست تھے (ف۵۱)

٤٤ . تو جو اس بات کو (ف۵۲) جھٹلاتا ہے اسے مجھ پر چھوڑ دو (ف۵۳) قریب ہے کہ ہم انہیں آہستہ آہستہ لے جائیں گے (ف۵۴) جہاں سے انہیں خبر نہ ہوگی،

٤٥ . اور میں انہیں ڈھیل دوں گا، بیشک میری خفیہ تدبیر بہت پکی ہے (ف۵۵)

٤٦ . یا تم ان سے اجرت مانگتے ہو (ف۵۶) کہ وہ چٹی کے بوجھ میں دبے ہیں (ف۵۷)

٤٧ . یا ان کے پاس غیب ہے (ف۵۸) کہ وہ لکھ رہے ہیں (ف۵۹)

٤٨ . تو تم اپنے رب کے حکم کا انتظار کر و (ف۶۰) اور اس مچھلی والے کی طرح نہ ہونا (ف۶۱) جب اس حال میں پکارا کہ اس کا دل گھٹ رہا تھا (ف۶۲)

٤٩ . اگر اس کے رب کی نعمت اس کی خبر کو نہ پہنچ جاتی (ف۶۳) تو ضرور میدان پر پھینک دیا جاتا الزام دیا ہوا (ف۶۴)

٥٠ . تو اسے اس کے رب نے چن لیا اور اپنے قربِ خاص کے سزاواروں (حقداروں) میں کرلیا،

٥١ . اور ضرور کافر تو ایسے معلوم ہوتے ہیں کہ گویا اپنی بد نظر لگا کر تمہیں گرادیں گے جب قرآن سنتے ہیں (ف۶۵) اور کہتے ہیں (ف۶۶) یہ ضرور عقل سے دور ہیں،

٥٢ . اور وہ (ف۶۷) تو نہیں مگر نصیحت سارے جہاں کے لیے (ف۶۸)