;

١ . بیشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا کہ ان کو ڈرا اس سے پہلے کہ ان پر دردناک عذاب آئے (ف۲)

٢ . اس نے فرمایا اے میری قوم! میں تمہارے لیے صریح ڈر سنانے والا ہوں،

٣ . کہ اللہ کی بندگی کرو (ف۳) اور اس سے ڈرو (ف۴) اور میرا حکم مانو،

٤ . وہ تمہارے کچھ گناہ بخش دے گا (ف۵) اور ایک مقرر میعاد تک (ف۶) تمہیں مہلت دے گا (ف۷) بیشک اللہ کا وعدہ جب آتا ہے ہٹایا نہیں جاتا کسی طرح تم جانتے (ف۸)

٥ . عرض کی (ف۹) اے میرے رب! میں نے اپنی قوم کو رات دن بلایا (ف۱۰)

٦ . تو میرے بلانے سے انہیں بھاگنا ہی بڑھا (ف۱۱)

٧ . اور میں نے جتنی بار انہیں بلایا (ف۱۲) کہ تو ان کو بخشے انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیں (ف۱۳) اور اپنے کپڑے اوڑھ لیے (ف۱۴) اور ہٹ کی (ف۱۵) اور بڑا غرور کیا (ف۱۶)

٨ . پھر میں نے انہیں علانیہ بلایا (ف۱۷)

٩ . پھر میں نے ان سے با علان بھی کہا (ف۱۸) اور آہستہ خفیہ بھی کہا (ف۱۹)

١٠ . تو میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگو (ف۲۰) وہ بڑا معاف فرمانے والا ہے (ف۲۱)

١١ . تم پر شراٹے کا (موسلا دھار) مینھ بھیجے گا،

١٢ . اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد کرے گا (ف۲۲) اور تمہارے لیے باغ بنادے گا اور تمہارے لیے نہریں بنائے گا (ف۲۳)

١٣ . تمہیں کیا ہوا اللہ سے عزت حاصل کرنے کی امید نہیں کرتے (ف۲۴)

١٤ . حالانکہ اس نے تمہیں طرح طرح بنایا (ف۲۵)

١٥ . کیا تم نہیں دیکھتے اللہ نے کیونکر سات آسمان بنائے ایک پر ایک،

١٦ . اور ان میں چاند کو روشن کیا (ف۲۶) اور سورج کو چراغ (ف۲۷)

١٧ . اور اللہ نے تمہیں سبزے کی طرح زمین سے اُگایا (ف۲۸)

١٨ . پھر تمہیں اسی میں لے جائے گا (ف۲۹) اور دبارہ نکالے گا (ف۳۰)

١٩ . اور اللہ نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا،

٢٠ . کہ اس کے وسیع راستوں میں چلو،

٢١ . نوح نے عرض کی، اے میرے رب! انہوں نے میری نافرمانی کی (ف۳۱) اور (ف۳۲) ایسے کے پیچھے ہولیے جیسے اس کے مال اور اولاد نے نقصان ہی بڑھایا (ف۳۳)

٢٢ . اور (ف۳۴) بہت بڑا داؤ ں کھیلے (ف۳۵)

٢٣ . اور بولے (ف۳۶) ہرگز نہ چھوڑنا اپنے خداؤں کو (ف۳۷) اور ہرگز نہ چھوڑنا ودّ اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو (ف۳۸)

٢٤ . اور بیشک انہوں نے بہتوں کو بہکایا (ف۳۹) اور تو ظالموں کو (ف۴۰) زیادہ نہ کرنا مگر گمراہی (ف۴۱)

٢٥ . اپنی کیسی خطاؤں پر ڈبوئے گئے (ف۴۲) پھر آگ میں داخل کیے گئے (ف۴۳) تو انہوں نے اللہ کے مقابل اپنا کوئی مددگار نہ پایا (ف۴۴)

٢٦ . اور نوح نے عرض کی، اے میرے رب! زمین پر کافروں میں سے کوئی بسنے والا نہ چھوڑ،

٢٧ . بیشک اگر تو انہیں رہنے دے گا (ف۴۵) تو تیرے بندوں کو گمراہ کردیں گے اور ان کے اولاد ہوگی تو وہ بھی نہ ہوگی مگر بدکار بڑی ناشکر (ف۴۶)

٢٨ . اے میرے رب مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو (ف۴۷) اور اسے جو ایمان کے ساتھ میرے گھر میں ہے اور سب مسلمان مردوں اور سب مسلمان عورتوں کو، اور کافروں کو نہ بڑھا مگر تباہی (ف۴۸)