;

١ . اے جھرمٹ مارنے والے (ف۲)

٢ . رات میں قیام فرما (ف۳) سوا کچھ رات کے (ف۴)

٣ . آدھی رات یا اس سے کچھ تم کرو،

٤ . یا اس پر کچھ بڑھاؤ (ف۵) اور قرآن خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو (ف۶)

٥ . بیشک عنقریب ہم تم پر ایک بھاری بات ڈالیں گے (ف۷)

٦ . بیشک رات کا اٹھنا (ف۸) وہ زیادہ دباؤ ڈالتا ہے (ف۹) اور بات خوب سیدھی نکلتی ہے (ف۱۰)

٧ . بیشک دن میں تو تم کو بہت سے کام ہیں (ف۱۱)

٨ . اور اپنے رب کا نام یاد کرو (ف۱۲) اور سب سے ٹوٹ کر اسی کے ہو رہو (ف۱۳)

٩ . وہ پورب کا رب اور پچھم کا رب اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو تم اسی کو اپنا کارساز بناؤ (ف۱۴)

١٠ . اور کافروں کی باتوں پر صبر فرماؤ اور انہیں اچھی طرح چھوڑ دو (ف۱۵)

١١ . اور مجھ پر چھوڑو ان جھٹلانے والے مالداروں کو اور انہیں تھوڑی مہلت دو (ف۱۶)

١٢ . بیشک ہمارے پاس (ف۱۷) بھاری بیڑیاں ہیں اور بھڑکتی آگ،

١٣ . اور گلے میں پھنستا کھانا اور دردناک عذاب (ف۱۸)

١٤ . جس دن تھرتھرائیں گے زمین اور پہاڑ (ف۱۹) اور پہاڑ ہوجائیں گے ریتے کا ٹیلہ بہتا ہوا،

١٥ . بیشک ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجے (ف۲۰) کہ تم پر حاضر ناظر ہیں (ف۲۱) جیسے ہم نے فرعون کی طرف رسول بھیجے (ف۲۲)

١٦ . تو فرعون نے اس رسول کا حکم نہ مانا تو ہم نے اسے سخت گرفت سے پکڑا،

١٧ . پھر کیسے بچو گے (ف۲۳) اگر (ف۲۴) کفر کرو اس دن (ف۲۵) جو بچوں کو بوڑھا کردے گا (ف۲۴)

١٨ . آسمان اس کے صدمے سے پھٹ جائے گا، اللہ کا وعدہ ہوکر رہنا،

١٩ . بیشک یہ نصیحت ہے، تو جو چاہے اپنے رب کی طرف راہ لے (ف۲۷)

٢٠ . بیشک تمہارا رب جانتا ہے کہ تم قیام کرتے ہو کبھی دو تہائی رات کے قریب، کبھی آدمی رات، کبھی تہائی اور ایک جماعت تمہارے ساتھ والی (ف۲۸) اور اللہ رات اور دن کا اندازہ فرماتا ہے، اسے معلوم ہے کہ اے مسلمانو! تم سے رات کا شمار نہ ہوسکے گا (ف۲۹) تو اس نے اپنی مہر سے تم پر رجوع فرمائی اب قرآن میں سے جتنا تم پر آسان ہو اتنا پڑھو (ف۳۰) اسے معلوم ہے کہ عنقریب کچھ تم میں سے بیمار ہوں گے اور کچھ زمین میں سفر کریں گے اللہ کا فضل تلاش کرنے (ف۳۱) اور کچھ اللہ کی راہ میں لڑتے ہوں گے (ف۳۲) تو جتنا قرآن میسر ہو پڑھو (ف۳۳) اور نماز قائم رکھو (ف۳۴) اور زکوٰة دو اور اللہ کو اچھا قرض دو (ف۳۵) اور اپنے لیے جو بھلائی آگے بھیجو گے اسے اللہ کے پاس بہتر اور بڑے ثواب کی پاؤ گے، اور اللہ سے بخشش مانگو، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،