;

١ . اے بالا پوش اوڑھنے والے! (ف۲)

٢ . کھڑے ہوجاؤ (ف۳) پھر ڈر سناؤ (ف۴)

٣ . اور اپنے رب ہی کی بڑائی بولو (ف۵)

٤ . اور اپنے کپڑے پاک رکھو (ف۶)

٥ . اور بتوں سے دور رہو،

٦ . اور زیادہ لینے کی نیت سے کسی پر احسان نہ کرو (ف۷)

٧ . اور اپنے رب کے لیے صبر کیے رہو (ف۸)

٨ . پھر جب صور پھونکا جائے گا (ف۹)

٩ . تو وہ دن کڑا (سخت) دن ہے،

١٠ . کافروں پر آسان نہیں (ف۱۰)

١١ . اسے مجھ پر چھوڑ جسے میں نے اکیلا پیدا کیا (ف۱۱)

١٢ . اور اسے وسیع مال دیا (ف۱۲)

١٣ . اور بیٹے دیے سامنے حاضر رہتے (ف۱۳)

١٤ . اور میں نے اس کے لیے طرح طرح کی تیاریاں کیں (ف۱۴)

١٥ . پھر یہ طمع کرتا ہے کہ میں اور زیادہ دوں (ف۱۵)

١٦ . ہرگز نہیں (ف۱۶) وہ تو میری آیتوں سے عناد رکھتا ہے،

١٧ . قریب ہے کہ میں اسے آگ کے پہاڑ صعود پر چڑھاؤں،

١٨ . بیشک وہ سوچا اور دل میں کچھ بات ٹھہرائی

١٩ . تو اس پر لعنت ہو کیسی ٹھہرائی،

٢٠ . پھر اس پر لعنت ہو کیسی ٹھہرائی،

٢١ . پھر نظر اٹھا کر دیکھا،

٢٢ . پھر تیوری چڑھائی اور منہ بگاڑا،

٢٣ . پھر پیٹھ پھیری اور تکبر کیا،

٢٤ . پھر بولا یہ تو وہی جادو ہے اگلوں سے سیکھا،

٢٥ . یہ نہیں مگر آدمی کا کلام (ف۱۷)

٢٦ . کوئی دم جاتا ہے کہ میں اسے دوزخ میں دھنساتا ہوں،

٢٧ . اور تم نے کیا جانا دوزخ کیا ہے،

٢٨ . نہ چھوڑے نہ لگی رکھے (ف۱۸)

٢٩ . آدمی کی کھال اتار لیتی ہے (ف۱۹)

٣٠ . اس پر اُنیس داروغہ ہیں (ف۲۰)

٣١ . اور ہم نے دوزخ کے داروغہ نہ کیے مگر فرشتے، اور ہم نے ان کی یہ گنتی نہ رکھی مگر کافروں کی جانچ کو (ف۲۱) اس لیے کہ کتاب والوں کو یقین آئے (ف۲۲) اور ایمان والوں کا ایمان بڑھے (ف۲۳) اور کتاب والوں اور مسلمانوں کو کوئی شک نہ رہے اور دل کے روگی (مریض) (ف۲۴) اور کافر کہیں اس اچنبھے کی بات میں اللہ کا کیا مطلب ہے، یونہی اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہے اور ہدایت فرماتا ہے جسے چاہے، اور تمہارے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور وہ (ف۲۵) تو نہیں مگر آدمی کے لیے نصیحت،

٣٢ . ہاں ہاں چاند کی قسم،

٣٣ . اور رات کی جب پیٹھ پھیرے،

٣٤ . اور صبح کی جب اجا لا ڈالے (ف۲۶)

٣٥ . بیشک دوزخ بہت بڑی چیزوں میں کی ایک ہے،

٣٦ . آدمیوں کو ڈراؤ،

٣٧ . اسے جو تم میں چاہے، کہ آگے آئے (ف۲۷) یا پیچھے رہے (ف۲۸)

٣٨ . ہر جان اپنی کرنی (اعمال) میں گروی ہے،

٣٩ . مگر دہنی طرف والے (ف۲۹)

٤٠ . باغوں میں پوچھتے ہیں،

٤١ . مجرموں سے،

٤٢ . تمہیں کیا بات دوزخ میں لے گئی،

٤٣ . وہ بولے ہم (ف۳۰) نماز نہ پڑھتے تھے،

٤٤ . اور مسکین کو کھانا نہ دیتے تھے (ف۳۱)

٤٥ . اور بیہودہ فکر والوں کے ساتھ بیہودہ فکریں کرتے تھے،

٤٦ . اور ہم انصاف کے دن کو (ف۳۲) جھٹلاتے رہے،

٤٧ . یہاں تک کہ ہمیں موت آئی،

٤٨ . تو انہیں سفارشیوں کی سفارش کام نہ دے گی (ف۳۳)

٤٩ . تو انہیں کیا ہوا نصیحت سے منہ پھیرتے ہیں (ف۳۴)

٥٠ . گویا وہ بھڑکے ہوئے گدھے ہوں،

٥١ . کہ شیر سے بھاگے ہوں (ف۳۵)

٥٢ . بلکہ ان میں کا ہر شخص چاہتا ہے کہ کھلے صحیفے اس کے ہاتھ میں دے دیے جائیں (ف۳۶)

٥٣ . ہرگز نہیں بلکہ ان کو آخرت کا ڈر نہیں (ف۳۷)

٥٤ . ہاں ہاں بیشک وہ (ف۳۸) نصیحت ہے،

٥٥ . تو جو چاہے اس سے نصیحت لے،

٥٦ . اور وہ کیا نصیحت مانیں مگر جب اللہ چاہے، وہی ہے ڈرنے کے لائق اور اسی کی شان ہے مغفرت فرمانا،