;

١ . یہ (ف۲) آپس میں کاہے کی پوچھ گچھ کررہے ہیں (ف۳)

٢ . بڑی خبر کی (ف۴)

٣ . جس میں وہ کئی راہ ہیں (ف۵)

٤ . ہاں ہاں اب جائیں گے،

٥ . پھر ہاں ہاں جان جائیں گے (ف۶)

٦ . کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہ کیا (ف۷)

٧ . اور پہاڑوں کو میخیں (ف۸)

٨ . اور تمہیں جوڑے بنایا (ف۹)

٩ . اور تمہاری نیند کو آرام کیا (ف۱۰)

١٠ . اور رات کو پردہ پوش کیا (ف۱۱)

١١ . اور دن کو روزگار کے لیے بنایا (ف۱۲)

١٢ . اور تمہارے اوپر سات مضبوط چنائیاں چنیں (تعمیر کیں) (ف۱۳)

١٣ . اور ان میں ایک نہایت چمکتا چراغ رکھا (ف۱۴)

١٤ . اور پھر بدلیوں سے زور کا پانی اتارا،

١٥ . کہ اس سے پیدا فرمائیں اناج اور سبزہ،

١٦ . اور گھنے باغ (ف۱۵)

١٧ . بیشک فیصلہ کا دن (ف۱۶) ٹھہرا ہوا وقت ہے،

١٨ . جس دن صور پھونکا جائے گا (ف۱۷) تو تم چلے آؤ گے (ف۱۸) فوجوں کی فوجیں،

١٩ . اور آسمان کھولا جائے گا کہ دروازے ہوجائے گا (ف۱۹)

٢٠ . اور پہاڑ چلائے جائیں گے کہ ہوجائیں گے جیسے چمکتا ریتا دور سے پانی کا دھوکا دیتا،

٢١ . بیشک جہنم تاک میں ہے،

٢٢ . سرکشوں کا ٹھکانا،

٢٣ . اس میں قرنوں (مدتوں) رہیں گے (ف۲۰)

٢٤ . اس میں کسی طرح کی ٹھنڈک کا مزہ نہ پائیں گے اور نہ کچھ پینے کو،

٢٥ . مگر کھولتا پانی اور دوزخیوں کا جلتا پیپ،

٢٦ . جیسے کو تیسا بدلہ (ف۲۱)

٢٧ . بیشک انہیں حساب کا خوف نہ تھا (ف۲۲)

٢٨ . اور انہوں نے ہماری آیتیں حد بھر جھٹلائیں،

٢٩ . اور ہم نے (ف۲۳) ہر چیز لکھ کر شمار کر رکھی ہے (ف۲۴)

٣٠ . اب چکھو کہ ہم تمہیں نہ بڑھائیں گے مگر عذاب،

٣١ . بیشک ڈر والوں کو کامیابی کی جگہ ہے (ف۲۵)

٣٢ . باغ ہیں (ف۲۶) اور انگور،

٣٣ . اور اٹھتے جوبن والیاں ایک عمر کی،

٣٤ . اور چھلکتا جام (ف۲۷)

٣٥ . جس میں نہ کوئی بیہودہ بات سنیں نہ جھٹلانا (ف۲۸)

٣٦ . صلہ تمہارے رب کی طرف سے (ف۲۹) نہایت کافی عطا،

٣٧ . وہ جو رب ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے رحمن کہ اس سے بات کرنے کا اختیار نہ رکھیں گے (ف۳۰)

٣٨ . جس دن جبریل کھڑا ہوگا اور سب فرشتے پرا باندھے (صفیں بنائے) کوئی نہ بول سکے گا (ف۳۱) مگر جسے رحمن نے اذن دیا (ف۳۲) اور اس نے ٹھیک بات کہی (ف۳۳)

٣٩ . وہ سچا دن ہے اب جو چاہے اپنے رب کی طرف راہ بنالے (ف۳۴)

٤٠ . ہم تمہیں (ف۳۵) ایک عذاب سے ڈراتے ہیں کہ نزدیک آگیا (ف۳۶) جس دن آدمی دیکھے گا جو کچھ اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا (ف۳۷) اور کافر کہے گا ہائے میں کسی طرح خاک ہوجاتا (ف۳۸)