;

١ . قسم ان کی (ف۲) کہ سختی سے جان کھینچیں (ف۳)

٢ . اور نرمی سے بند کھولیں) (ف۴)

٣ . اور آسانی سے پیریں (ف۵)

٤ . پھر آگے بڑھ کر جلد پہنچیں (ف۶)

٥ . پھر کام کی تدبیر کریں (ف۷)

٦ . کہ کافروں پر ضرور عذاب ہوگا جس دن تھر تھرائے گی تھرتھرانے والی (ف۸)

٧ . اس کے پیچھے آئے گی پیچھے آنے والی (ف۹)

٨ . کتنے دل اس دن دھڑکتے ہوں گے،

٩ . آنکھ اوپر نہ اٹھا سکیں گے (ف۱۰)

١٠ . کافر (ف۱۱) کہتے ہیں کیا ہم پھر الٹے پاؤں پلٹیں گے (ف۱۲)

١١ . کیا ہم جب گلی ہڈیاں ہوجائیں گے (ف۱۳)

١٢ . بولے یوں تو یہ پلٹنا تو نرا نقصان ہے (ف۱۴)

١٣ . تو وہ (ف۱۵) نہیں مگر ایک جھڑکی (ف۱۶)

١٤ . جبھی وہ کھلے میدان میں آپڑے ہوں گے (ف۱۷)

١٥ . کیا تمہیں موسیٰ کی خبر آئی (ف۱۸)

١٦ . جب اسے اس کے رب نے پاک جنگل طویٰ میں (ف۱۹) ندا فرمائی،

١٧ . کہ فرعون کے پاس جا اس نے سر اٹھایا (ف۲۰)

١٨ . اس سے کہہ کیا تجھے رغبت اس طرف ہے کہ ستھرا ہو (ف۲۱)

١٩ . اور تجھے تیرے رب کی طرف (ف۲۲) راہ بتاؤں کہ تو ڈرے (ف۲۳)

٢٠ . پھر موسیٰ نے اسے بہت بڑی نشانی دکھائی (ف۲۴)

٢١ . اس پر اس نے جھٹلایا (ف۲۵) اور نافرمانی کی،

٢٢ . پھر پیٹھ دی (ف۲۶) اپنی کوشش میں لگا (ف۲۷)

٢٣ . تو لوگوں کو جمع کیا (ف۲۸) پھر پکارا،

٢٤ . پھر بولا میں تمہارا سب سے اونچا رب ہوں (ف۲۹)

٢٥ . تو اللہ نے اسے دنیا و آخرت دونوں کے عذاب میں پکڑا (ف۳۰)

٢٦ . بیشک اس میں سیکھ ملتا ہے اسے جو ڈرے (ف۳۱)

٢٧ . کیا تمہاری سمجھ کے مطابق تمہارا بنانا (ف۳۲) مشکل یا آسمان کا اللہ نے اسے بنایا،

٢٨ . اس کی چھت اونچی کی (ف۳۳) پھر اسے ٹھیک کیا (ف۳۴)

٢٩ . اس کی رات اندھیری کی اور اس کی روشنی چمکائی (ف۳۵)

٣٠ . اور اس کے بعد زمین پھیلائی (ف۳۶)

٣١ . اس میں سے (ف۳۷) اس کا پانی اور چارہ نکا لا (ف۳۸)

٣٢ . اور پہاڑوں کو جمایا (ف۳۹)

٣٣ . تمہارے اور تمہارے چوپایوں کے فائدہ کو،

٣٤ . پھر جب آئے گی وہ عام مصیبت سب سے بڑی (ف۴۰)

٣٥ . اس دن آدمی یاد کرے گا جو کوشش کی تھی (ف۴۱)

٣٦ . اور جہنم ہر دیکھنے والے پر ظاہر کی جائے گی (ف۴۲)

٣٧ . تو وہ جس نے سرکشی کی (ف۴۳)

٣٨ . اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی (ف۴۴)

٣٩ . تو بیشک جہنم ہی اس کا ٹھکانا ہے،

٤٠ . اور وہ جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرا (ف۴۵) اور نفس کو خواہش سے روکا (ف۴۶)

٤١ . تو بیشک جنت ہی ٹھکانا ہے (ف۴۷)

٤٢ . تم سے قیامت کو پوچھتے ہیں کہ وہ کب کے لیے ٹھہری ہوئی ہے،

٤٣ . تمہیں اس کے بیان سے کیا تعلق (ف۴۸)

٤٤ . تمہارے رب ہی تک اس کی انتہا ہے،

٤٥ . تم تو فقط اسے ڈرا نے والے ہو جو اس سے ڈرے،

٤٦ . گویا جس دن وہ اسے دیکھیں گے (ف۴۹) دنیا میں نہ رہے تھے مگر ایک شام یا اس کے دن چڑھے،