;

١ . اے محبوب! تم سے غنیمتوں کو پوچھتے ہیں (ف۲) تم فرماؤ غنیمتوں کے مالک اللہ اور رسول ہیں (ف۳) تو اللہ ڈرو (ف۴) اور اپنے آ پس میں میل (صلح صفائی) رکھو اور اللہ اور رسول کا حکم مانو اگر ایمان رکھتے ہو،

٢ . ایمان والے وہی ہیں کہ جب اللہ یاد کیا جائے (ف۵) ان کے دل ڈر جائیں اور جب ان پر اس کی آیتیں پڑھی جائیں ان کا ایمان ترقی پائے اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کریں (ف۶)

٣ . وہ جو نماز قائم رکھیں اور ہمارے دیے سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کریں،

٤ . یہی سچے مسلمان ہیں، ان کے لیے درجے ہیں ان کے رب کے پاس (ف۷) اور بخشش ہے اور عزت کی روزی (ف۸)

٥ . جس طرح اے محبوب! تمہیں تمہارے رب نے تمہارے گھر سے حق کے ساتھ برآمد کیا (ف۹) اور بیشک مسلمانوں کا ایک گروہ اس پر ناخوش تھا (ف۱۰)

٦ . سچی بات میں تم سے جھگڑتے تھے (ف۱۱) بعد اس کے کہ ظاہر ہوچکی (ف۱۲) گویا وہ آنکھوں دیکھی موت کی طرف ہانکے جاتے ہیں (ف۱۳)

٧ . اور یاد کرو جب اللہ نے تمہیں وعدہ دیا تھا کہ ان دونوں گروہوں (ف۱۴) میں ایک تمہارے لیے ہے اور تم یہ چاہتے تھے کہ تمہیں وہ ملے جس میں کانٹے کا کھٹکا نہیں (کوئی نقصان نہ ہو) (ف۱۵) اور اللہ یہ چاہتا تھا کہ اپنے کلام سے سچ کو سچ کر دکھائے (ف۱۶) اور کافروں کی جڑ کا ٹ دے(ف۱۷)

٨ . کہ سچ کو سچ کرے اور جھوٹ کو جھوٹا (ف۱۸) پڑے برا مانیں مجرم،

٩ . جب تم اپنے رب سے فریا د کرتے تھے (ف۱۹) تو اس نے تمہاری سن لی کہ میں تمہیں مدد دینے والا ہوں ہزاروں فرشتوں کی قطار سے (ف۲۰)

١٠ . اور یہ تو اللہ نے کیا مگر تمہاری خوشی کو اور اس لیے کہ تمہارے دل چین پائیں، اور مدد نہیں مگر اللہ کی طرف سے (ف۲۱) بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے،

١١ . جب اس نے تمہیں اونگھ سے گھیر دیا تو اس کی طرف سے چین (تسکین) تھی (ف۲۲) اور آسمان سے تم پر پانی اتارا کہ تمہیں اس سے ستھرا کردے اور شیطان کی ناپاکی تم سے دور فرمادے اور تمہارے دلو ں کی ڈھارس بندھائے اور اس سے تمہارے قدم جمادے(ف۲۳)

١٢ . جب اے محبوب! تمہارا رب فرشتوں کو وحی بھیجتا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تم مسلمانوں کو ثابت رکھو (ف۲۴) عنقریب میں کافروں کے دلوں میں ہیبت ڈالوں گا تو کافروں کی گردنوں سے اوپر مارو اور ان کی ایک ایک پور (جوڑ) پر ضرب لگا ؤ (ف۲۵)

١٣ . یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخا لفت کی اور جو اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کرے تو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے،

١٤ . یہ تو چکھو (ف۲۶) اور اس کے ساتھ یہ ہے کہ کافروں کو آ گ کا عذاب ہے (ف۲۷)

١٥ . اے ایمان والو! جب کافروں کے لام (لشکر) سے تمہارا مقابلہ ہو تو انہیں پیٹھ نہ دو (ف۲۸)

١٦ . اور جو اس دن انہیں پیٹھ دے گا مگر لڑائی کا ہنرَ کرنے یا اپنی جماعت میں جاملنے کو، تو وہ اللہ کے غضب میں پلٹا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور کیا بری جگہ ہے پلٹنے کی، (ف۲۹)

١٧ . تو تم نے انہیں قتل نہ کیا بلکہ اللہ نے (ف۳۰) انہیں قتل کیا، اور اے محبوب! وہ خاک جو تم نے پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی اور اس لیے کہ مسلمانوں کو اس سے اچھا انعام عطا فرمائے، بیشک اللہ سنتا جانتا ہے،

١٨ . یہ (ف۳۱) تو لو اور اس کے ساتھ یہ ہے کہ اللہ کافروں کا داؤ سست کرنے والا ہے،

١٩ . اے کافرو! اگر تم فیصلہ مانگتے ہو تو یہ فیصلہ تم پر آچکا (ف۳۲) اور اگر با ز ا ٓ ؤ (ف۳۳) تو تمہارا بھلا ہے اور اگر تم پھر شرارت کرو تو ہم پھر نہ دیں گے اور تمہارا جتھا تمہیں کچھ کام نہ دے گا چاہے کتنا ہی بہت ہو اور اس کے ساتھ یہ ہے کہ اللہ مسلمانوں کے ساتھ ہے،

٢٠ . اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو (ف۳۴) اور سن سنا کہ اسے نہ پھرو،

٢١ . اور ان جیسے نہ ہونا جنہوں نے کہا ہم نے سنا او ر وہ نہیں سنتے (ف۳۵)

٢٢ . بیشک سب جانوروں میں بدتر اللہ کے نزدیک وہ ہیں جو بہرے گونگے ہیں جن کو عقل نہیں(ف۳۶)

٢٣ . اور اگر اللہ ان میں کچھ بھلائی (ف۳۷) جانتا تو انہیں سنادیتا اور اگر (ف۳۸) سنا دیتا جب بھی انجام کا ر منہ پھیر کر پلٹ جاتے (ف۳۹)

٢٤ . اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کے بلانے پر حاضر ہو (ف۴۰) جب رسول تمہیں اس چیز کے لیے بلائیں جو تمہیں زندگی بخشے گی (ف۴۱) اور جان لو کہ اللہ کا حکم آدمی اور اس کے دلی ارادوں میں حائل ہوجا تا ہے اور یہ کہ تمہیں اس کی طرف اٹھنا ہے،

٢٥ . اور اس فتنہ سے ڈرتے رہو جو ہرگز تم میں خاص ظالموں کو ہی نہ پہنچے گا (ف۴۲) اور جان لو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے،

٢٦ . اور یاد کرو (ف۴۳) جب تم تھوڑے تھے ملک میں دبے ہوئے (ف۴۴) ڈرتے تھے کہ کہیں لوگ تمہیں اچک نہ لے جائیں تو اس نے تمہیں (ف۴۵) جگہ دی اور اپنی مدد سے زور دیا اور ستھری چیزیں تمہیں روزی دیں (ف۴۶) کہ کہیں تم احسان مانو،

٢٧ . اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے دغا نہ کرو (ف۴۷) اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت،

٢٨ . اور جان رکھو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد سب فتنہ ہے (ف۴۸) اور اللہ کے پاس بڑا ثواب ہے(ف۴۹)

٢٩ . اے ایمان والو! اگر اللہ سے ڈرو گے (ف۵۰) تو تمہیں وہ دیگا جس سے حق کو باطل سے جدا کرلو اور تمہاری برائیاں اتار دے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بڑے فضل والا ہے،

٣٠ . اور اے محبوب یاد کرو جب کافر تمہارے ساتھ مکر کرتے تھے کہ تمہیں بند کرلیں یا شہید کردیں یا نکا ل دیں (ف۱۵۱) اپنا سا مکر کرتے تھے اور اللہ اپنی خفیہ تدبیر فرماتا تھا اور اللہ کی خفیہ تدبیر سب سے بہتر،

٣١ . اور جب ان پر ہماری آیتیں پڑھی جائیں تو کہتے ہیں ہاں ہم نے سنا ہم چاہتے تو ایسی ہم بھی کہہ دیتے یہ تو نہیں مگر اگلوں کے قصے (ف۵۲)

٣٢ . اور جب بولے (ف۵۳) کہ اے اللہ اگر یہی (قرآن) تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی دردناک عذاب ہم پر لا،

٣٣ . اور اللہ کا کام نہیں کہ انہیں عذاب کرے جب تک اے محبوب! تم ان میں تشریف فرما ہو (ف۵۴) اور اللہ انہیں عذاب کرنے والا نہیں جب تک وہ بخشش مانگ رہے ہیں (ف۵۵)

٣٤ . اور انہیں کیا ہے کہ اللہ انہیں عذاب نہ کرے وہ تو مسجد حرام سے روک رہے ہیں (ف۵۶) اور وہ اس کے اہل نہیں (ف۵۷) اس کے اولیاء تو پرہیزگار ہی ہیں مگر ان میں اکثر کو علم نہیں،

٣٥ . اور کعبہ کے پاس ان کی نماز نہیں مگر سیٹی اور تالی (ف۵۸) تو اب عذاب چکھو (ف۵۹) بدلہ اپنے کفر کا،

٣٦ . بیشک کافر اپنے مال خرچ کرتے ہیں کہ اللہ کی راہ سے روکیں (ف۶۰) تو اب انہیں خرچ کریں گے پھر وہ ان پر پچھتاوا ہوں گے (ف۶۱) پھر مغلوب کردیے جائیں گے اور کافروں کا حشر جہنم کی طرف ہوگا،

٣٧ . اس لیے کہ اللہ گندے کو ستھرے سے جدا فرمادے (ف۶۲) اور نجاستوں کو تلے اوپر رکھ کر سب ایک ڈھیر بناکر جہنم میں ڈال دے وہی نقصان پانے والے ہیں (ف۶۳)

٣٨ . تم کافروں سے فرماؤ اگر وہ باز رہے تو جو ہو گزرا وہ انہیں معاف فرمادیا جائے گا (ف۶۴) اور اگر پھر وہی کریں تو اگلوں کا دستور گزر چکا ہے (ف۶۵)

٣٩ . اور اگر ان سے لڑو یہاں تک کہ کوئی فساد (ف۶۶) باقی نہ رہے اور سارا دین اللہ ہی کا ہوجائے، اگر پھر وہ باز رہیں تو اللہ ان کے کام دیکھ رہا ہے،

٤٠ . اور اگر وہ پھریں (ف۲۷) تو جان لو کہ اللہ تمہارا مولیٰ ہے (ف۶۸) تو کیا ہی اچھا مولیٰ اور کیا ہی اچھا مددگار،

٤١ . اور جان لو کہ جو کچھ غنیمت لو (ف۶۹) تو اس کا پانچواں حصہ خاص اللہ اور رسول و قرابت داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں کا ہے (ف۷۰) اگر تم ایمان لائے ہو اللہ پر اور اس پر جو ہم نے اپنے بندے پر فیصلہ کے دن اتارا جس دن دونوں فوجیں ملیں تھیں (ف۷۱) اور اللہ سب کچھ کرسکتا ہے،

٤٢ . جب تم نالے کے کنا رے تھے (ف۷۲) اور کافر پرلے کنا رے اور قا فلہ (ف۷۳) تم سے ترائی میں (ف۷۴) اور اگر تم آپس میں کوئی وعدہ کرتے تو ضرور وقت پر برابر نہ پہنچتے (ف۷۵) لیکن یہ اس لیے کہ اللہ پورا کرے جو کام ہونا ہے (ف۷۶) کہ جو ہلاک ہو دلیل سے ہلاک ہو (ف۷۷) اور جو جئے دلیل سے جئے (ف۷۸) اور بیشک اللہ ضرور سنتا جانتا ہے،

٤٣ . جب کہ اے محبوب! اللہ ٹمہیں کافروں کو تمہاری خواب میں تھو ڑا دکھاتا تھا (ف۷۹) اور اے مسلمانو! اگر وہ تمہیں بہت کرکے دکھاتا تو ضرور تم بزدلی کرتے اور معاملہ میں جھگڑا ڈالتے (ف۸۰) مگر اللہ نے بچا لیا (ف۸۱) بیشک وہ دلوں کی بات جانتا ہے،

٤٤ . او ر جب لڑتے وقت (ف۸۲) تمہیں کا فر تھو ڑے کرکے دکھائے (ف۸۳) اور تمہیں ان کی نگاہوں میں تھو ڑا کیا (ف۷۴) کہ اللہ پو را کرے جو کام ہونا ہے (ف۸۵) اور اللہ کی طرف سب کاموں کی رجوع ہے،

٤٥ . اے ایمان والو! جب کسی فوج سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کی یاد بہت کرو (ف۸۶) کہ تم مراد کو پہنچو،

٤٦ . اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اور آپس میں جھگڑ و نہیں کہ پھر بز د لی کرو گے اور تمہاری بندھی ہوئی ہوا جاتی رہے گی (ف۸۷) اور صبر کرو، بیشک اللہ صبر والوں کے ساتھ ہے (ف۸۸)

٤٧ . اور ان جیسے نہ ہوتا جو اپنے گھر سے نکلے اتراتے اور لوگوں کے دکھانے کو اور اللہ کی راہ سے روکتے (ف۸۹) اور ان کے سب کام اللہ کے قابو میں ہیں،

٤٨ . اور جبکہ شیطان نے ان کی نگاہ میں ان کے کام بھلے کر دکھائے (ف۹۰) اور بولا آج تم پر کوئی شخص غالب آنے والا نہیں اور تم میری پناہ میں ہو تو جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے الٹے پاؤں بھاگا اور بولا میں تم سے الگ ہوں (ف۹۱) میں وہ دیکھتا ہوں جو تمہیں نظر نہیں آتا (ف۹۲) میں اللہ سے ڈرتا ہوں (ف۹۳) اور اللہ کا عذاب سخت ہے،

٤٩ . جب کہتے تھے منافق (ف۹۴) اور وہ جن کے دلوں میں ا ٓزا ر ہے (ف۹۵) کہ یہ مسلمان اپنے دین پر مغرور ہیں (ف۹۶) اور جو اللہ پر بھروسہ کرے (ف۹۷) تو بیشک اللہ (ف۹۸) غالب حکمت والا ہے،

٥٠ . اور کبھی تو دیکھے جب فرشتے کافروں کی جان نکالتے ہیں مار رہے ہیں ان کے منہ پر او ر ان کی پیٹھ پر (ف۹۹) اور چکھو آ گ کا عذاب،

٥١ . یہ (ف۱۰۰) بدلہ ہے اس کا جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجا (ف۱۰۱) اور اللہ بندوں پر ظلم نہیں کرتا (ف۱۰۲)

٥٢ . جیسے فرعون والوں اور ان سے اگلوں کا دستور (ف۱۰۳) وہ اللہ کی آیتوں کے منکر ہوئے تو اللہ نے انہیں ان کے گناہوں پر پکڑا بیشک اللہ قوت والا سخت عذاب و ا لا ہے،

٥٣ . یہ اس لیے کہ اللہ کسی قوم سے جو نعمت انہیں دی تھی بدلتا نہیں جب تک وہ خود نہ بدل جائیں (ف۱۰۴) اور بیشک اللہ سنتا جانتا ہے

٥٤ . جیسے فرعون والوں اور ان سے اگلوں کا دستور، انہوں نے اپنے رب کی آیتیں جھٹلائیں تو ہم نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کیا اور ہم نے فرعون والوں کو ڈبو دیا (ف۱۰۵) اور وہ سب ظالم تھے،

٥٥ . بیشک سب جانوروں (کا فر و ں) میں بدتر اللہ کے نزدیک وہ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور ایمان نہیں لاتے،

٥٦ . وہ جن سے تم نے معاہدہ کیا تھا پھر ہر با ر اپنا عہد توڑ دیتے ہیں (ف۱۰۶) اور ڈرتے نہیں (ف۱۰۷)

٥٧ . تو اگر تم انہیں کہیں لڑائی میں پا ؤ تو انہیں ایسا قتل کرو جس سے ان کے پس ماندوں کو بھگاؤ (ف۱۰۸) اس امید پر کہ شاید انہیں عبرت ہو (ف۱۰۹)

٥٨ . اور اگر تم کسی قوم سے دغا کا اندیشہ کرو (ف۱۱۰) تو ان کا عہد ان کی طرف پھینک دو برابری پر (ف۱۱۱) بیشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں،

٥٩ . اور ہرگز کا فر اس گھمنڈ میں نہ رہیں کہ وہ (ف۱۱۲) ہاتھ سے نکل گئے بیشک وہ عاجز نہیں کرتے (ف۱۱۳)

٦٠ . اور ان کے لیے تیار رکھو جو قوت تمہیں بن پڑے (ف۱۱۴) اور جتنے گھوڑے باندھ سکو کہ ان سے ان کے دلوں میں دھاک بٹھاؤ جو اللہ کے دشمن ہیں (ف۱۱۵) اور ان کے سوا کچھ اوروں کے دلوں میں جنہیں تم نہیں جانتے (ف۱۱۶) اللہ انہیں جانتا ہے اور اللہ کی راہ میں جو کچھ خرچ کرو گے تمہیں پورا دیا جائے گا (ف۱۱۷) اور کسی طرح گھاٹے میں نہ رہو گے،

٦١ . اور اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی جھکو (ف۱۱۸) اور اللہ پر بھروسہ رکھو، بیشک وہی ہے سنتا جانتا،

٦٢ . اور اگر وہ تمہیں فریب دیا چاہیں (ف۱۱۹) تو بیشک اللہ تمہیں کافی ہے، وہی ہے جس نے تمہیں زور دیا اپنی مدد کا اور مسلمانوں کا،

٦٣ . اور ان کے دلوں میں میل کردیا (ف۱۲۰) اگر تم زمین میں جو کچھ ہے سب خرچ کردیتے ان کے دل نہ ملا سکتے (ف۱۲۱) لیکن اللہ نے ان کے دل ملادیئے، بیشک وہی ہے غالب حکمت والا،

٦٤ . اے غیب کی خبریں بتانے والے (نبی) اللہ تمہیں کافی ہے اور یہ جتنے مسلمان تمہارے پیرو ہوئے، (ف۱۲۲)

٦٥ . اے غیب کی خبریں بتانے والے! مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دو اگر تم میں کے بیس صبر والے ہوں گے دو سو پر غالب ہوں گے اور اگر تم میں کے سو ہوں تو کافروں کے ہزا ر پر غالب آئیں گے اس لیے کہ وہ سمجھ نہیں رکھتے، (ف۱۲۳)

٦٦ . اب اللہ نے تم پر سے تخفیف فرمائی اور اسے علم کہ تم کمزو ر ہو تو اگر تم میں سو صبر والے ہوں د و سو پر غالب آئیں گے اور اگر تم میں کے ہزار ہوں تو دو ہزار پر غالب ہوں گے اللہ کے حکم سے اور اللہ صبر والوں کے ساتھ ہے،

٦٧ . کسی نبی کو لائئق نہیں کہ کافروں کو زندہ قید کرلے جب تک زمین میں ان کا خون خوب نہ بہائے (ف۱۲۴) تم لوگ دنیا کا مال چا ہتے ہو (ف۱۲۵) او ر اللہ آخرت چاہتا ہے (ف۱۲۶) اور اللہ غالب حکمت والا ہے

٦٨ . اگراللہ پہلے ایک بات لکھ نہ چکا ہوتا (ف۱۲۷) تو اے مسلمانو! تم نے جو کافروں سے بدلے کا مال لے لیا اس میں تم پر بڑا عذاب آتا،

٦٩ . تو کھاؤ جو غنیمت تمہیں ملی حلال پاکیزہ (ف۱۲۸) اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،

٧٠ . اے غیب کی خبریں بتانے والے جو قیدی تمہارے ہاتھ میں ہیں ان سے فرماؤ (ف۱۲۹) اگر اللہ نے تمہارے دل میں بھلائی جانی (ف۱۳۰) تو جو تم سے لیا گیا (ف۱۳۱) اس سے بہتر تمہیں عطا فرمائے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے (ف۱۳۲)

٧١ . اور اے محبوب اگر وہ (ف۱۳۳) تم سے دغا چاہیں گے (ف۱۳۴) تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت کرچکے ہیں جس پر اس نے اتنے تمہارے قابو میں دے دیے (ف۱۳۵) اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے،

٧٢ . بیشک جو ایمان لائے اور اللہ کے لیے (ف۱۳۶) گھر بار چھوڑے اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے لڑے (ف۱۳۷) اور وہ جنہوں نے جگہ دی اور مدد کی (ف۱۳۸) وہ ایک دوسرے کے وارث ہیں (ف۱۳۹) اور وہ جو ایمان لائے (ف۱۴۰) اور ہجرت نہ کی انہیں ان کا ترکہ کچھ نہیں پہنچتا جب تک ہجرت نہ کریں اور اگر وہ دین میں تم سے مدد چاہیں تو تم پر مدد دینا واجب ہے مگر ایسی قوم پر کہ تم میں ان میں معاہدہ ہے، اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے،

٧٣ . اور کافر ا ٓ پس میں ایک دوسرے کے وارث ہیں (ف۱۴۱) ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد ہوگا (ف۱۴۲)

٧٤ . اور وہ جو ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں لڑے اور جنہوں نے جگہ دی اور مدد کی وہی سچے ایمان والے ہیں، ان کے لیے بخشش ہے اور عزت کی روزی (ف۱۴۳)

٧٥ . اور جو بعد کو ایمان لائے اور ہجرت کی اور تمہارے ساتھ جہاد کیا وہ بھی تمہیں میں سے ہیں (ف۴۴) اور رشتہ والے ایک دوسرے سے زیادہ نزدیک ہیں اللہ کی کتاب میں (ف۱۴۵) بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے،