;

١ . تیوری چڑھائی اور منہ پھیرا (ف۲)

٢ . اس پر کہ اس کے پاس وہ نابینا حاضر ہوا (ف۳)

٣ . اور تمہیں کیا معلوم شاید وہ ستھرا ہو (ف۴)

٤ . یا نصیحت لے تو اسے نصیحت فائدہ دے،

٥ . وہ جو بے پرواہ بنتا ہے (ف۵)

٦ . تم اس کے تو پیچھے پڑتے ہو (ف۶)

٧ . اور تمہارا کچھ زیاں نہیں اس میں کہ وہ ستھرا نہ ہو (ف۷)

٨ . اور وہ جو تمہارے حضور ملکتا (ناز سے دوڑتا ہوا) آتا (ف۸)

٩ . اور وہ ڈر رہا ہے (ف۹)

١٠ . تو اسے چھوڑ کر اور طرف مشغول ہوتے ہو،

١١ . یوں نہیں (ف۱۰) یہ تو سمجھانا ہے (ف۱۱)

١٢ . تو جو چاہے اسے یا د کرے (ف۱۲)

١٣ . ان صحیفوں میں کہ عزت والے ہیں (ف۱۳)

١٤ . بلندی والے (ف۱۴) پاکی والے (ف۱۵)

١٥ . ایسوں کے ہاتھ لکھے ہوئے،

١٦ . جو کرم والے نکوئی والے (ف۱۶)

١٧ . آدمی مارا جائیو کیا ناشکر ہے (ف۱۷)

١٨ . اسے کاہے سے بنایا،

١٩ . پانی کی بوند سے اسے پیدا فرمایا، پھر اسے طرح طرح کے اندازوں پر رکھا (ف۱۸)

٢٠ . پھر اسے راستہ آسان کیا (ف۱۹)

٢١ . پھر اسے موت دی پھر قبر میں رکھوایا (ف۲۰)

٢٢ . پھر جب چاہا اسے باہر نکالا (ف۲۱)

٢٣ . کوئی نہیں، اس نے اب تک پورا نہ کیا جو اسے حکم ہوا تھا (ف۲۲)

٢٤ . تو آدمی کو چاہیے اپنے کھانوں کو دیکھے (ف۲۳)

٢٥ . کہ ہم نے اچھی طرح پانی ڈالا (ف۲۴)

٢٦ . پھر زمین کو خوب چیرا،

٢٧ . تو اس میں اُگایا اناج،

٢٨ . اور انگور اور چارہ،

٢٩ . اور زیتون اور کھجور،

٣٠ . اور گھنے باغیچے،

٣١ . اور میوے اور دُوب (گھاس)

٣٢ . تمہارے فائدے کو اور تمہارے چوپایوں کے،

٣٣ . پھر جب آئے گی وہ کان پھاڑنے والی چنگھاڑ (ف۲۵)

٣٤ . اس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھائی،

٣٥ . اور ماں اور باپ،

٣٦ . اور جُورو اور بیٹوں سے (ف۲۶)

٣٧ . ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایک فکر ہے کہ وہی اسے بس ہے (ف۲۷)

٣٨ . کتنے منہ اس دن روشن ہوں گے (ف۲۸)

٣٩ . ہنستے خوشیاں مناتے (ف۲۹)

٤٠ . اور کتنے مونہوں پر اس دن گرد پڑی ہوگی،

٤١ . ان پر سیاہی چڑھ رہی ہے (ف۳۰)

٤٢ . یہ وہی ہیں کافر بدکار،