;

١ . کم تولنے والوں کی خرابی ہے،

٢ . وہ کہ جب اوروں سے ناپ لیں پورا لیں،

٣ . اور جب انہیں ناپ تول کردی کم کردیں،

٤ . کیا ان لوگوں کو گمان نہیں کہ انہیں اٹھنا ہے،

٥ . ایک عظمت والے دن کے لیے (ف۲)

٦ . جس دن سب لوگ (ف۳) رب العالمین کے حضور کھڑے ہوں گے،

٧ . بیشک کافروں کی لکھت (ف۴) سب سے نیچی جگہ سجین میں ہے (ف۵)

٨ . اور تو کیا جانے سجین کیسی ہے (ف۶)

٩ . وہ لکھت ایک مہر کیا نوشتہ ہے (ف۷)

١٠ . اس دن (ف۸) جھٹلانے والوں کی خرابی ہے،

١١ . جو انصاف کے دن کو جھٹلاتے ہیں (ف۹)

١٢ . اور اسے نہ جھٹلائے گا مگر ہر سرکش (ف۱۰)

١٣ . جب اس پر ہماری آیتیں پڑھی جائیں کہے (ف۱۱) اگلوں کی کہانیاں ہیں،

١٤ . کوئی نہیں (ف۱۲) بلکہ ان کے دلوں پر زنگ چڑھادیا ہے ان کی کمائیوں نے (ف۱۳)

١٥ . ہاں ہاں بیشک وہ اس دن (ف۱۴) اپنے رب کے دیدار سے محروم ہیں (ف۱۵)

١٦ . پھر بیشک انہیں جہنم میں داخل ہونا،

١٧ . پھر کہا جائے گا، یہ ہے وہ (ف۱۶) جسے تم جھٹلاتے تھے (ف۱۷)

١٨ . ہاں ہاں بیشک نیکوں کی لکھت (ف۱۸) سب سے اونچا محل علیین میں ہے (ف۱۹)

١٩ . اور تو کیا جانے علیین کیسی ہے (ف۲۰)

٢٠ . وہ لکھت ایک مہر کیا نوشتہ ہے (ف۲۱)

٢١ . کہ مقرب (ف۲۲) جس کی زیارت کرتے ہیں،

٢٢ . بیشک نیکوکار ضرور چین میں ہیں،

٢٣ . تختوں پر دیکھتے ہیں (ف۲۳)

٢٤ . تو ان کے چہروں میں چین کی تازگی پہنچانے (ف۲۴)

٢٥ . نتھری شراب پلائے جائیں گے جو مہُر کی ہوئی رکھی ہے (ف۲۵)

٢٦ . اس کی مہُر مشک پر ہے، اور اسی پر چاہیے کہ للچائیں للچانے والے (ف۲۶)

٢٧ . اور اس کی ملونی تسنیم سے ہے (ف۲۷)

٢٨ . وہ چشمہ جس سے مقربانِ بارگاہ پیتے ہیں (ف۲۸)

٢٩ . بیشک مجرم لوگ (ف۲۹) ایمان والوں سے (ف۳۰) ہنسا کرتے تھے،

٣٠ . اور جب وہ (ف۳۱) ان پر گزرتے تو یہ آپس میں ان پر آنکھوں سے اشارے کرتے (ف۳۲)

٣١ . اور جب (ف۹۳۳ اپنے گھر پلٹتے خوشیاں کرتے پلٹتے (ف۳۴)

٣٢ . اور جب مسلمانوں کو دیکھتے کہتے بیشک یہ لوگ بہکے ہوئے ہیں (ف۳۵)

٣٣ . اور یہ (ف۳۶) کچھ ان پر نگہبان بناکر نہ بھیجے گئے (ف۳۷)

٣٤ . تو آج (ف۳۸) ایمان والے کافروں سے ہنستے ہیں (ف۳۹)

٣٥ . تختوں پر بیٹھے دیکھتے ہیں (ف۴۰)

٣٦ . کیوں کچھ بدلا ملا کافروں کو اپنے کیے کا (ف۴۱)