;

١ . اس صبح کی قسم (ف۲)

٢ . اور دس راتوں کی (ف۳)

٣ . اور جفت اور طاق کی (ف۴)

٤ . اور رات کی جب چل دے (ف۵)

٥ . کیوں اس میں عقلمند کے لیے قسم ہوئی (ف۶)

٦ . کیا تم نے نہ دیکھا (ف۷) تمہارے رب نے عاد کے ساتھ کیسا کیا،

٧ . وہ اِرم حد سے زیادہ طول والے (ف۸)

٨ . کہ اس جیسا شہروں میں پیدا نہ ہوا (ف۹)

٩ . اور ثمود جنہوں نے وادی میں (ف۱۰) پتھر کی چٹانیں کاٹیں (ف۱۱)

١٠ . اور فرعون کہ چومیخا کرتا (سخت سزائیں دیتا) (ف۱۲)

١١ . جنہوں نے شہروں میں سرکشی کی (ف۱۳)

١٢ . پھر ان میں بہت فساد پھیلایا (ف۱۴)

١٣ . تو ان پر تمہارے رب نے عذاب کا کوڑا بقوت مارا،

١٤ . بیشک تمہارے رب کی نظر سے کچھ غائب نہیں،

١٥ . لیکن آدمی تو جب اسے اس کا رب آزمائے کہ اس کو جاہ اور نعمت دے، جب تو کہتا ہے میرے رب نے مجھے عزت دی،

١٦ . اور اگر آزمائے اور اس کا رزق اس پر تنگ کرے، تو کہتا ہے میرے رب نے مجھے خوار کیا،

١٧ . یوں نہیں (ف۱۵) بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے (ف۱۶)

١٨ . اور آپس میں ایک دوسرے کو مسکین کے کھلانے کی رغبت نہیں دیتے،

١٩ . اور میراث کا مال ہپ ہپ کھاتے ہو (ف۱۷)

٢٠ . اور مال کی نہایت محبت رکھتے ہو (ف۱۸)

٢١ . ہاں ہاں جب زمین ٹکرا کر پاش پاش کردی جائے (ف۱۹)

٢٢ . اور تمہارے رب کا حکم آئے اور فرشتے قطار قطار،

٢٣ . اور اس دن جہنم لائے جائے (ف۲۰) اس دن آدمی سوچے گا (ف۲۱) اور اب اسے سوچنے کا وقت کہاں (ف۲۲)

٢٤ . کہے گا ہائے کسی طرح میں نے جیتے جی نیکی آگے بھیجی ہوتی،

٢٥ . تو اس دن اس کا سا عذاب (ف۲۳) کوئی نہیں کرتا،

٢٦ . اور اس کا سا باندھنا کوئی نہیں باندھتا،

٢٧ . اے اطمینان والی جان (ف۲۴)

٢٨ . اپنے رب کی طرف واپس ہو یوں کہ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی،

٢٩ . پھر میرے خاص بندوں میں داخل ہو،

٣٠ . اور میری جنت میں آ،