;

١ . بیزاری کا حکم سنانا ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان مشرکوں کو جن سے تمہارا معاہدہ تھا اور وہ قائم نہ رہے (ف۲)

٢ . تو چا ر مہینے زمین پر چلو پھرو اور جان رکھو کہ تم اللہ کو تھکا نہیں سکتے (ف۳) اور یہ کہ اللہ کافروں کو رسوا کرنے والا ہے (ف۴)

٣ . اور منادی پکار دیتا اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے سب لوگوں میں بڑے حج کے دن (ف۵) کہ اللہ بیزار ہے، مشرکوں سے اور اس کا رسول تو اگر تم توبہ کرو (ف۶) تو تمہا را بھلا ہے اور اگر منہ پھیرو (ف۷) تو جان لو کہ اللہ کو نہ تھکا سکو گے (ف۸) اور کافروں کو خوشخبری سناؤ دردناک عذاب کی،

٤ . مگر وہ مشرک جن سے تمہارہ معاہدہ تھا پھر انہوں نے تمہارے عہد میں کچھ کمی نہیں کی (ف۹) اور تمہارے مقابل کسی کو مدد نہ دی تو ان کا عہد ٹھہری ہوئی مدت تک پورا کرو، بیشک اللہ پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے،

٥ . پھر جب حرمت والے مہینے نکل جائیں تو مشرکوں کو مارو (ف۱۰) جہاں پا ؤ (ف۱۱) اور انہیں پکڑو اور قید کرو اور ہر جگہ ان کی تاک میں بیٹھو پھر اگر وہ توبہ کریں (ف۱۲) اور نماز قائم رکھیں اور زکوٰة دیں تو ان کی راہ چھوڑ دو (ف۱۳) بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،

٦ . اور اے محبوب اگر کوئی مشرک تم سے پناہ مانگے (ف۱۴) تو اسے پناہ دو کہ وہ اللہ کا کلام سنے پھر اسے اس کی امن کی جگہ پہنچا دو (ف۱۵) یہ اس لیے کہ وہ نادان لوگ ہیں (ف۱۶)

٧ . مشرکوں کے لیے اللہ اور اس کے رسول کے پاس کوئی عہد کیونکر ہوگا (ف۱۷) مگر وہ جن سے تمہارا معاہدہ مسجد حرام کے پاس ہوا (ف۱۸) تو جب تک وہ تمہارے لیے عہد پر قائم رہیں تم ان کے لیے قائم رہو، بیشک پرہیزگار اللہ کو خوش آتے ہیں،

٨ . بھلا کیونکر (ف۱۹) ان کا حال تو یہ ہے کہ تم پر قابو پائیں تو نہ قرابت کا لحاظ کریں نہ عہد کا، اپنے منہ سے تمہیں راضی کرتے ہیں (ف۲۰) اور ان کے دلوں میں انکار ہے اور ان میں اکثر بے حکم ہیں (ف۲۱)

٩ . اللہ کی آیتوں کے بدلے تھو ڑے دام مول لیے (ف۲۲) تو اس کی راہ سے روکا (ف۲۳) بیشک وہ بہت ہی بڑے کام کرتے ہیں،

١٠ . کسی مسلمان میں نہ قراب کا لحاظ کریں نہ عہد کا (ف۲۴) اور وہی سرکش ہیں،

١١ . پھر اگر وہ (ف۲۵) توبہ کریں اور نماز قائم رکھیں اور زکوٰة دیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں (ف۲۶) اور ہم آیتیں مفصل بیان کرتے ہیں جاننے والوں کے لیے (ف۲۷)

١٢ . اور اگر عہد کرکے اپنی قسمیں توڑیں اور تمہارے دین پر منہ آئیں تو کفر کے سرغنوں سے لڑو (ف۲۸) بیشک ان کی قسمیں کچھ نہیں اس امید پر کہ شاید وہ باز آئیں (ف۲۹)

١٣ . کیا اس قوم سے نہ لڑو گے جنہوں نے اپنی قسمیں توڑیں (ف۳۰) اور رسول کے نکالنے کا ارادہ کیا (ف۳۱) حالانکہ انہیں کی طرف سے پہلی ہوتی ہے، کیا ان سے ڈرتے ہو تو اللہ کا زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو،

١٤ . تو ان سے لڑو اللہ انہیں عذاب دیگا تمہارے ہاتھوں اور انہیں رسوا کرے گا (ف۳۲) اور تمہیں ان پر مدد دے گا (ف۳۳) اور ایمان والوں کا جی ٹھنڈا کرے گا،

١٥ . اور ان کے دلوں کی گھٹن دور فرمائے گا (ف۳۴) اور اللہ جس کی چاہے تو یہ قبول فرمائے (ف۳۵) اور اللہ علم و حکمت والا ہے،

١٦ . کیا اس گمان میں ہو کہ یونہی چھوڑ دیئے جاؤ گے اور ابھی اللہ نے پہچان نہ کرائی ان کی جو تم میں سے جہاد کریں گے (ف۳۶) اور اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں کے سوا کسی کو اپنا محرم راز نہ بنائیں گے (ف۳۷) اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے،

١٧ . مشرکوں کو نہیں پہنچتا کہ اللہ کی مسجدیں آباد کریں (ف۳۸) خود اپنے کفر کی گواہی دے کر (ف۳۹) ان کا تو سب کیا دھرا اِکا رت ہے اور وہ ہمیشہ آگ میں رہیں گے (ف۴۰)

١٨ . اللہ کی مسجدیں وہی آباد کرتے ہیں جو اللہ اور قیامت پر ایمان لاتے اور نما ز قائم کرتے ہیں اور زکوٰة دیتے ہیں (ف۴۱) اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے (ف۴۲) تو قریب ہے کہ یہ لوگ ہدایت والوں میں ہوں،

١٩ . تو کیا تم نے حا جیوں کی سبیل اور مسجد حرام کی خدمت اس کے برابر ٹھہرا لی جو اللہ اور قیامت پر ایمان لایا اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا، وہ اللہ کے نزدیک برابر نہیں، اور اللہ ظالموں کو راہ نہیں دیتا (ف۴۳)

٢٠ . وہ جو ایمان لائے اور ہجرت کی اور اپنے مال و جان سے اللہ کی راہ میں لڑے، اللہ کے یہاں ان کا درجہ بڑا ہے (ف۴۴) اور وہی مراد کو پہنچے (ف۴۵)

٢١ . ان کا رب انہیں خوشی سنا تا ہے اپنی رحمت اور اپنی رضا کی (ف۴۶) اور ان باغوں کی جن میں انہیں دائمی نعمت ہے

٢٢ . ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں گے، بیشک اللہ کے پاس بڑا ثواب ہے،

٢٣ . اے ایمان والو! اپنے باپ اور اپنے بھائیوں کو دوست نہ سمجھو اگر وہ ایمان پر کفر پسند کریں، اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی کرے گا تو وہی ظالم ہیں (ف۴۷)

٢٤ . تم فرماؤ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری عورتیں اور تمہارا کنبہ اور تمہاری کمائی کے مال او ر وہ سودا جس کے نقصان کا تمہیں ڈر ہے اور تمہارے پسند کا مکان یہ چیزیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں لڑے سے زیاد ہ پیاری ہوں تو راستہ دیکھو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے (ف۴۸) اور اللہ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا،

٢٥ . بیشک اللہ نے بہت جگہ تمہاری مدد کی (ف۴۹) اور حنین کے دن جب تم اپنی کثرت پر اترا گئے تھے تو وہ تمہارے کچھ کام نہ ا ٓئی (ف۵۰) اور زمین اتنی وسیع ہوکر تم پر تنگ ہوگئی (ف۵۱) پھر تم پیٹھ دے کر پھرگئے،

٢٦ . پھر اللہ نے اپنی تسکین اتا ری اپنے رسول پر (ف۵۲) اور مسلمانوں پر (ف۵۳) اور وہ لشکر اتارے جو تم نے نہ دیکھے (ف۵۴) اور کافروں کو عذاب دیا (ف۵۵) اور منکروں کی یہی سزا ہے،

٢٧ . پھر اس کے بعد اللہ جسے چاہے گا توبہ دے گا (ف۵۶) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،

٢٨ . اے ایمان والو! مشرک نرے ناپاک ہیں (ف۵۷) تو اس برس کے بعد وہ مسجد حرام کے پاس نہ آنے پائیں (ف۵۸) اور اگر تمہاری محتاجی کا ڈر ہے (ف۵۹) تو عنقریب اللہ تمہیں دولت مند کردے گا اپنے فضل سے اگر چاہے (ف۶۰) بیشک اللہ علم و حکمت والا ہے،

٢٩ . لڑو ان سے جو ایمان نہیں لاتے اللہ پر اور قیامت پر (ف۶۱) اور حرام نہیں مانتے اس چیز کو جس کو حرام کیا اللہ اور اس کے رسول نے (ف۶۲) اور سچے دین (ف۶۳) کے تابع نہیں ہوتے یعنی وہ جو کتاب دیے گئے جب تک اپنے ہاتھ سے جزیہ نہ دیں ذلیل ہوکر (ف۶۴)

٣٠ . اور یہودی بولے عزیر اللہ کا بیٹا ہے (ف۶۵) اور نصرانی بولے مسیح اللہ کا بیٹا ہے، یہ باتیں وہ اپنے منہ سے بکتے ہیں (ف۶۶) اگلے کافرو ں کی سی بات بناتے ہیں، اللہ انہیں مارے، کہاں اوندھے جاتے ہیں (ف۶۷)

٣١ . انہوں نے اپنے پادریوں اور جوگیوں کو اللہ کے سوا خدا بنالیا (ف۶۸) اور مسیح بن مریم کو (ف۶۹) اور انہیں حکم نہ تھا (ف۷۰) مگر یہ کہ ایک اللہ کو پوجیں اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں، اسے پاکی ہے ان کے شرک سے،

٣٢ . چاہتے ہیں کہ اللہ کا نور (ف۷۱) اپنے منہ سے بُجھا دیں اور اللہ نہ مانے گا مگر اپنے نور کا پورا کرنا (ف۷۲) پڑے برا مانیں کافر،

٣٣ . وہی ہے جس نے اپنا رسول (ف۷۳) ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا کہ اسے سب دینوں پر غالب کرے (ف۷۴) پڑے برا مانیں مشرک،

٣٤ . اے ایمان والو! بیشک بہت پادری اور جوگی لوگوں کا مال ناحق کھا جاتے ہیں (ف۷۵) اور اللہ کی راہ سے (ف۷۶) روکتے ہیں، اور وہ کہ جوڑ کر رکھتے ہیں سونا اور چاندی اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے (ف۷۷) انہیں خوشخبری سناؤ دردناک عذاب کی،

٣٥ . جس دن تپایا جائے گا جہنم کی آ گ میں (ف۷۸) پھر اس سے داغیں گے ان کی پیشانیاں اور کروٹیں اور پیٹھیں (ف۷۹) یہ ہے وہ جو تم نے اپنے لیے جوڑ کر رکھا تھا اب چکھو مزا اس جوڑنے کا،

٣٦ . بیشک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہے (ف۸۰) اللہ کی کتاب میں (ف۸۱) جب سے اس نے آسمان اور زمین بنائے ان میں سے چار حرمت والے ہیں (ف۸۲) یہ سیدھا دین ہے، تو ان مہینوں میں (ف۸۳) اپنی جان پر ظلم نہ کرو اور مشرکوں سے ہر وقت لڑو جیسا وہ تم سے ہر وقت لڑتے ہیں، اور جان لو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے (ف۸۴)

٣٧ . ان کا مہینے پیچھے ہٹانا نہیں مگر اور کفر میں بڑھنا (ف۸۵) اس سے کافر بہکائے جاتے ہیں ایک برس اسے حلال (ف۸۶) ٹھہراتے ہیں اور دوسرے برس اسے حرام مانتے ہیں کہ اس گنتی کے برابر ہوجائیں جو اللہ نے حرام فرمائی (ف۸۷) اور اللہ کے حرام کیے ہوئے حلال کرلیں، ان کے برے کا م ان کی آنکھوں میں بھلے لگتے ہیں، اور اللہ کافروں کو راہ نہیں دیتا،

٣٨ . اے ایمان والو! تمہیں کیا ہوا جب تم سے کہا جائے کہ خدا کی راہ میں کوچ کرو تو بوجھ کے مارے زمین پر بیٹھ جاتے ہو (ف۸۸) کیا تم نے دنیا کی زندگی آخرت کے بدلے پسند کرلی اور جیتی دنیا کا اسباب آخرت کے سامنے نہیں مگر تھوڑا (ف۸۹)

٣٩ . اگر نہ کوچ کرو گے (ف۹۰) انہیں سخت سزا دے گا اور تمہاری جگہ اور تمہاری جگہ اور لوگ لے آئے گا (ف۹۱) اور تم اس کا کچھ نہ بگا ڑ سکوگے، اور اللہ سب کچھ کرسکتا ہے،

٤٠ . اگر تم محبوب کی مدد نہ کرو تو بیشک اللہ نے ان کی مدد فرمائی جب کافروں کی شرارت سے انہیں باہر تشریف لے جانا ہوا (ف۹۲) صرف دو جان سے جب وہ دونوں (ف۹۳) غار میں تھے جب اپنے یار سے (ف۹۴) فرماتے تھے غم نہ کھا بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے تو اللہ نے اس پر اپنا سکینہ اتارا (ف۹۵) اور ان فوجوں سے اس کی مدد کی جو تم نے نہ دیکھیں (ف۹۶) اور کافروں کی بات نیچے ڈالی (ف۹۷) اللہ ہی کا بول بالا ہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے،

٤١ . کوچ کرو ہلکی جان سے چاہے بھاری دل سے (ف۹۸) اور اللہ کی راہ میں لڑو اپنے مال اور جان سے، یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر جانو (ف۹۹)

٤٢ . اگر کوئی قریب مال یا متوسط سفر ہوتا (ف۱۰۰) تو ضرور تمہارے ساتھ جاتے (ف۱۰۱) مگر ان پر تو مشقت کا راستہ دور پڑ گیا، اور اب اللہ کی قسم کھائیں گے (ف۱۰۲) کہ ہم سے بن پڑتا تو ضرور تمہارے ساتھ چلتے (ف۱۰۳) اپنی جانو کو ہلاک کرتے ہیں (ف۱۰۴) اور اللہ جانتا ہے کہ وہ بیشک ضرور جھوٹے ہیں،

٤٣ . اللہ تمہیں معاف کرے (ف۱۰۵) تم نے انہیں کیوں اِذن دے دیا جب تک نہ کھلے تھے تم پر سچے اور ظاہر نہ ہوئے تھے جھوٹے،

٤٤ . اور وہ جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں تم سے چھٹی نہ مانگیں گے اس سے کہ اپنے مال اور جان سے جہاد کریں، اور اللہ خوب جا نتا ہے پرہیزگا روں کو،

٤٥ . تم سے یہ چھٹی وہی مانگتے ہیں جو اللہ اور قیامت پر ایمان نہیں رکھتے (ف۱۰۶) اور ان کے دل شک میں پڑے ہیں تو وہ اپنے شک میں ڈانواں ڈول ہیں (ف۱۰۷)

٤٦ . انہیں نکلنا منظور ہوتا (ف۱۰۸) تو اس کا سامان کرتے مگر خدا ہی کو ان کا اٹھنا پسند ہوا تو ان میں کاہلی بھردی اور (ف۱۰۹) فرمایا گیا کہ بیٹھ رہو بیٹھ رہنے والے کے ساتھ (ف۱۱۰)

٤٧ . اگر وہ تم میں نکلتے تو ان سے سوا نقصان کے تمہیں کچھ نہ بڑھتنا اور تم میں فتنہ ڈالنے کو تمہارے بیچ یں غرابیں دوڑاتے (فساد ڈالتے) (ف۱۱۱) اور تم میں ان کے جاسوس موجود ہیں (ف۱۱۲) اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو،

٤٨ . بیشک انہوں نے پہلے ہی فتنہ چا ہا تھا (ف۱۱۳) اور اے محبوب! تمہارے لیے تدبیریں الٹی پلٹیں (ف۱۱۴) یہاں تک کہ حق آیا (ف۱۱۵) اور اللہ کا حکم ظاہر ہوا (ف۱۱۶) اور انہیں ناگوار تھا،

٤٩ . اور ان میں کوئی تم سے یوں عرض کرتا ہے کہ مجھے رخصت دیجیے اور فتنہ میں نہ ڈالیے (ف۱۱۷) سن لو وہ فتنہ ہی میں پڑے (ف۱۱۸) اور بیشک جہنم گھیرے ہوئے ہے کافروں کو،

٥٠ . اگر تمہیں بھلائی پہنچے (ف۱۱۹) تو انہیں برا لگے اور اگر تمہیں کوئی مصیبت پہنچے (ف۱۲۰) تو کہیں (ف۱۲۱) ہم نے اپنا کام پہلے ہی ٹھیک کرلیا تھا اور خوشیاں مناتے پھر جائیں،

٥١ . تم فرماؤ ہمیں نہ پہنچے گا مگر جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دیا وہ ہمارا مولیٰ ہے اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہیے،

٥٢ . تم فرماؤ تم ہم پر کس چیز کا انتظار کرتے ہو مگر دو خوبیوں میں سے ایک کا (ف۱۲۲) اور ہم تم پر اس انتظار میں ہیں کہ اللہ تم پر عذاب ڈالے اپنے پاس سے (ف۱۲۳) یا ہمارے ہاتھوں (ف۱۲۴) تو اب راہ دیکھو ہم بھی تمہارے ساتھ راہ دیکھ رہے ہیں (ف۱۲۵)

٥٣ . تم فرماؤ کہ دل سے خرچ کرو یا ناگواری سے تم سے ہر گز قبول نہ ہوگا (ف۱۲۶) بیشک تم بے حکم لوگ ہو،

٥٤ . اور وہ جو خرچ کرتے ہیں اس کا قبول ہونا بند نہ ہوا مگر اسی لیے کہ وہ اللہ اور رسول سے منکر ہوئے اور نماز کو نہیں آتے مگر جی ہارے اور خرچ نہیں کرتے مگر ناگواری سے (ف۱۲۷)

٥٥ . تو تمہیں ان کے مال اور ان کی اولاد کا تعجب نہ آئے، اللہ ہی چاہتا ہے کہ دنیا کی زندگی میں ان چیزوں سے ان پر وبال ڈالے اور اگر کفر ہی پر ان کا دم نکل جائے (ف۱۲۸)

٥٦ . اور اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں (ف۱۲۹) کہ وہ تم میں سے ہیں (ف۱۳۰) اور تم میں سے ہیں نہیں (ف۱۳۱) ہاں وہ لوگ ڈرتے ہیں (ف۱۳۲)

٥٧ . اگر پائیں کوئی پناہ یا غار یا سما جانے کی جگہ تو رسیاں تڑاتے ادھر پھر جائیں گے (ف۱۳۳)

٥٨ . اور ان میں کوئی وہ ہے کہ صدقے بانٹنے میں تم پر طعن کرتا ہے (ف۱۳۴) تو اگر ان (ف۱۳۵) میں سے کچھ ملے تو راضی ہوجائیں اور نہ ملے تو جبھی وہ ناراض ہیں،

٥٩ . اور کیا اچھا ہوتا اگر وہ اس پر راضی ہوتے جو اللہ و رسول نے ان کو دیا اور کہتے ہمیں اللہ کافی ہے اب دیتا ہے ہمیں اللہ اپنے فضل سے اور اللہ کا رسول، ہمیں اللہ ہی کی طرف رغبت ہے (ف۱۳۶)

٦٠ . زکوٰة تو انہیں لوگوں کے لیے ہے (ف۱۳۷) محتاج اور نرے نادار اور جو اسے تحصیل کرکے لائیں اور جن کے دلوں کو اسلام سے الفت دی جائے اور گردنیں چھڑانے میں اور قرضداروں کو اور اللہ کی راہ میں اور مسافر کو، یہ ٹھہرایا ہوا ہے اللہ کا، اور اللہ علم و حکمت والا ہے

٦١ . اور ان میں کوئی وہ ہیں کہ ان غیب کی خبریں دینے والے کو ستاتے ہیں (ف۱۳۸) اور کہتے ہیں وہ تو کان ہیں، تم فرماؤ تمہارے بھلے کے لیے کا ن ہیں اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور مسلمانوں کی بات پر یقین کرتے ہیں (ف۱۳۹) اور جو تم میں مسلمان ہیں ان کے واسطے رحمت ہیں، اور جو رسول اللہ کو ایذا دیتے ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے،

٦٢ . تمہارے سامنے اللہ کی قسم کھاتے ہیں (ف۱۴۰) کہ تمہیں راضی کرلیں (ف۱۴۱) اور اللہ و رسول کا حق زائد تھا کہ اسے راضی کرتے اگر ایمان رکھتے تھے،

٦٣ . کیا انہیں خبر نہیں کہ جو خلاف کرے اللہ اور اس کے رسول کا تو اس کے لیے جہنم کی آ گ ہے کہ ہمیشہ اس میں رہے گا، یہی بڑی رسوائی ہے،

٦٤ . منافق ڈرتے ہیں کہ ان (ف۱۴۲) پر کوئی سورة ایسی اترے جو ان (ف۱۴۳) کے دلوں کی چھپی (ف۱۴۴) جتادے تم فرماؤ ہنسے جاؤ اللہ کو ضرور ظاہر کرنا ہے جس کا تمہیں ڈر ہے،

٦٥ . اور اے محبوب اگر تم ان سے پوچھو تو کہیں گے کہ ہم تو یونہی ہنسی کھیل میں تھے (ف۱۴۵) تم فرماؤ کیا اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنستے ہو،

٦٦ . بہانے نہ بنا ؤ تم کافر ہوچکے مسلمان ہوکر (ف۱۴۶) اگر ہم تم میں سے کسی کو معاف کریں (ف۱۴۵)تو اوروں کو عذاب دیں گے اس لیے کہ وہ مجرم تھے (ف۱۴۸)

٦٧ . منافق مرد اور منافق عورتیں ایک تھیلی کے چٹے بٹے ہیں (ف۱۴۹) برائی کا حکم دیں (ف۱۵۰) اور بھلائی سے منع کریں (ف۱۵۱) اور اپنی مٹھی بند رکھیں (ف۱۵۲) وہ اللہ کو چھوڑ بیٹھے (ف۱۵۳) تو اللہ نے انہیں چھوڑدیا (ف۱۵۴) بیشک منافق وہی پکے بے حکم ہیں،

٦٨ . اللہ نے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کافروں کو جہنم کی آگ کا وعدہ دیا ہے جس میں ہمیشہ رہیں گے، وہ انہیں بس ہے اور اللہ کی ان پر لعنت ہے اور ان کے لیے قائم رہنے والا عذاب ہے

٦٩ . جیسے وہ جو تم سے پہلے تھے تم سے زور میں بڑھ کر تھے اور ان کے مال اور اولاد سے زیادہ، تو وہ اپنا حصہ (ف۱۵۵) برت گئے تو تم نے اپنا حصہ برتا جیسے اگلے اپنا حصہ برت گئے اور تم بیہودگی میں پڑے جیسے وہ پڑے تھے (ف۱۵۶) ان کے عمل اکارت گئے دنیا اور آخرت میں اور وہی لوگ گھاٹے میں ہیں (ف۱۵۷)

٧٠ . کیا انہیں (ف۱۵۸) اپنے سے اگلوں کی خبر نہ آئی (ف۱۵۹) نوح کی قوم (ف۱۶۰) اور عاد (ف۱۶۱) اور ثمود (ف۱۶۲) اور ابراہیم کی قوم (ف۱۶۳) اور مدین والے (ف۱۶۴) اور وہ بستیاں کہ الٹ دی گئیں (ف۱۶۵) ان کے رسول روشن دلیلیں ان کے پاس لائے تھے (ف۱۶۶) تو اللہ کی شان نہ تھی کہ ان پر ظلم کرتا (ف۱۶۷) بلکہ وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظالم تھے (ف۱۶۸)

٧١ . اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں (ف۱۶۹) بھلائی کا حکم دیں (ف۱۷۰) اور برائی سے منع کریں اور نماز قائم رکھیں اور زکوٰة دیں اور اللہ و رسول کا حکم مانیں، یہ ہیں جن پر عنقریب اللہ رحم کرے گا، بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے،

٧٢ . اللہ نے مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو باغوں کا وعدہ دیا ہے جن کے نیچے نہریں رواں ان میں ہمیشہ رہیں گے اور پاکیزہ مکانوں کا (ف۱۷۱) بسنے کے باغوں میں، اور اللہ کی رضا سب سے بڑی (ف۱۷۲) یہی ہے بڑی مراد پانی،

٧٣ . اے غیب کی خبریں دینے والے (نبی) جہاد فرماؤ کافروں اور منافقوں پر (ف۱۷۳) اور ان پر سختی کرو، اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور کیا ہی بری جگہ پلٹنے کی،

٧٤ . اللہ کی قسم کھاتے ہیں کہ انہوں نے نہ کہا (ف۱۷۴) اور بیشک ضرور انہوں نے کفر کی بات کہی اور اسلام میں آکر کافر ہوگئے اور وہ چاہا تھا جو انہیں نہ ملا (ف۱۷۵) اور انہیں کیا برا لگا یہی نہ کہ اللہ و رسول نے انہیں اپنے فضل سے غنی کردیا (ف۱۷۶) تو اگر وہ توبہ کریں تو ان کا بھلا ہے، اور اگر منہ پھیریں (ف۱۷۷) تو اللہ انہیں سخت عذاب کرے گا دنیا اور آخرت میں، اور زمین میں کوئی نہ ان کا حمایتی ہوگا اور نہ مددگار (ف۱۷۸)

٧٥ . اور ان میں کوئی وہ ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر ہمیں اپنے فضل سے دے تو ہم ضرور خیرات کریں گے اور ہم ضرور بھلے آدمی ہوجائیں گے (ف۱۷۹)

٧٦ . تو جب اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا اس میں بخل کرنے لگے اور منہ پھیر کر پلٹ گئے،

٧٧ . تو اس کے پیچھے اللہ نے ان کے دلوں میں نفاق رکھ دیا اس دن تک کہ اس سے ملیں گے بدلہ اس کا کہ انہوں نے اللہ سے وعدہ جھوٹا کیا اور بدلہ اس کا کہ جھوٹ بولتے تھے (ف۱۸۰)

٧٨ . کیا انہیں خبر نہیں کہ اللہ ان کے دل کی چھپی اور ان کی سرگوشی کو جانتا ہے اور یہ کہ اللہ سب غیبوں کا بہت جاننے والا ہے (ف۱۸۱)

٧٩ . اور جو عیب لگاتے ہیں ان مسلمانوں کو کہ دل سے خیرات کرتے ہیں (ف۱۸۲) اور ان کو جو نہیں پاتے مگر اپنی محنت سے (ف۱۸۳) تو ان سے ہنستے ہیں (ف۱۸۴) اللہ ان کی ہنسی کی سزا دے گا، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے،

٨٠ . تم ان کی معافی چاہو یا نہ چاہو، اگر تم ستر بار ان کی معافی چاہو گے تو اللہ ہرگز انھیں نہیں بخشے گا (ف۱۸۵) یہ اس لیے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے منکر ہوئے، اور اللہ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا (ف۱۸۶)

٨١ . پیچھے رہ جانے والے اس پر خوش ہوئے کہ وہ رسول کے پیچھے بیٹھ رہے (ف۱۸۷) اور انہیں گوارا نہ ہوا کہ اپنے مال اور جان سے اللہ کی راہ میں لڑیں اور بولے اس گرمی میں نہ نکلو، تم فرماؤ جہنم کی آگ سب سے سخت گرم ہے، کسی طرح انہیں سمجھ ہو تی (ف۱۸۸)

٨٢ . تو انہیں چاہیے تھوڑا ہنسیں اور بہت روئیں (ف۱۸۹) بدلہ اس کا جو کماتے تھے (ف۱۹۰)

٨٣ . پھر اے محبوب! (ف۱۹۱) اگر اللہ تمہیں ان (ف۱۹۲) میں سے کسی گروہ کی طرف واپس لے جائے اور وہ (ف۱۹۳) تم سے جہاد کو نکلنے کی اجازت مانگے تو تم فرمانا کہ تم کبھی میرے ساتھ نہ چلو اور ہرگز میرے ساتھ کسی دشمن سے نہ لڑو، تم نے پہلی دفعہ بیٹھ رہنا پسند کیا تو بیٹھ رہو پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ (ف۱۹۴)

٨٤ . اور ان میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا، بیشک اللہ اور رسول سے منکر ہوئے اور فسق ہی میں مر گئے (ف۱۹۵)

٨٥ . اور ان کے مال یا اولاد پر تعجب نہ کرنا، اللہ یہی چاہتا ہے کہ اسے دنیا م یں ان پر وبال کرے اور کفر ہی پر ان کا دم نکل جائے،

٨٦ . اور جب کوئی سورت اترے کہ اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول کے ہمراہ جہاد کرو تو ان کے مقدور والے تم سے رخصت مانگتے ہیں اور کہتے ہیں ہمیں چھوڑ دیجیے کہ بیٹھ رہنے والوں کے ساتھ ہولیں،

٨٧ . انہیں پسند آیا کہ پیچھے رہنے والی عورتوں کے ساتھ ہوجائیں اور ان کے دلوں پر مہُر کردی گئیں (ف۱۹۶) تو وہ کچھ نہیں سمجھتے (ف۱۹۷)

٨٨ . لیکن رسول اور جو ان کے ساتھ ایمان لائے انہوں نے اپنے مالوں جانوں سے جہاد کیا، اور انہیں کے لیے بھلائیاں ہیں (ف۱۹۸) اور یہی مراد کو پہنچے،

٨٩ . اللہ نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں بہشتیں جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں گے، یہی بڑی مراد ملنی ہے،

٩٠ . اور بہانے بنانے والے گنوار آئے (ف۱۹۹) کہ انہیں رخصت دی جائے اور بیٹھ رہے وہ جنہوں نے اللہ و رسول سے جھوٹ بولا تھا (ف۲۰۰) جلد ان میں کے کافروں کو دردناک عذاب پہنچے گا (ف۲۰۱)

٩١ . ضعیفوں پر کچھ حرج نہیں (ف۲۰۲) اور نہ بیماروں پر (ف۲۰۳) اور نہ ان پر جنہیں خرچ کا مقدور نہ ہو (ف۲۰۴) جب کہ اللہ اور رسول کے خیر خواہ رہیں (ف۲۰۵) نیکی والوں پر کوئی راہ نہیں (ف۲۰۶) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،

٩٢ . اور نہ ان پر جو تمہارے حضور حاضر ہوں کہ تم انہیں سواری عطا فرماؤ (ف۲۰۷) تم سے یہ جواب پائیں کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں جس پر تمہیں سوار کروں اس پر یوں واپس جائیں کہ ان کی آنکھوں سے آنسو ابلتے ہوں اس غم سے کہ خرچ کا مقدور نہ پایا،

٩٣ . مؤاخذہ تو ان سے ہے جو تم سے رخصت مانگتے ہیں اور وہ دولت مند ہیں (ف۲۰۸) انہیں پسند آیا کہ عورتوں کے ساتھ پیچھے بیٹھ رہیں اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کردی تو وہ کچھ نہیں جانتے (ف۲۰۹)

٩٤ . تم سے بہانے بنائیں گے (ف۲۱۰) جب تم ان کی طرف لوٹ کر جاؤ گے تم فرمانا، بہانے نہ بناؤ ہم ہرگز تمہارا یقین نہ کریں گے اللہ نے ہمیں تمہاری خبریں دے دی ہیں، اور اب اللہ و رسول تمہارے کام دیکھیں گے (ف۲۱۱) پھر اس کی طرف پلٹ کر جاؤ گے جو چھپے اور ظاہر سب کو جانتا ہے وہ تمہیں جتادے گا جو کچھ تم کرتے تھے،

٩٥ . اب تمہارے آگے اللہ کی قسمیں کھائیں گے جب (ف۲۱۲) تم ان کی طرف پلٹ کر جاؤ گے اس لیے کہ تم ان کے خیال میں نہ پڑو (ف۲۱۳) تو ہاں تم ان کا خیال چھوڑو (ف۲۱۴) وہ تو نرے پلید ہیں (ف۲۱۵) اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے بدلہ اس کا جو کماتے تھے (ف۲۱۶)

٩٦ . تمہارے آگے قسمیں کھاتے ہیں کہ تم ان سے راضی ہوجاؤ تو اگر تم ان سے راضی ہوجاؤ (ف۲۱۷) تو بیشک اللہ تو فاسق لوگوں سے راضی نہ ہوگا (ف۲۱۸)

٩٧ . گنوار (ف۲۱۹) کفر اور نفاق میں زیادہ سخت ہیں (ف۲۲۰) اور اسی قابل ہیں کہ اللہ نے جو حکم اپنے رسول پر اتارے اس سے جاہل رہیں، اور اللہ علم و حکمت والا ہے،

٩٨ . اور کچھ گنوار وہ ہیں کہ جو اللہ کی راہ میں خرچ کریں تو اسے تاوان سمجھیں (ف۲۲۱) اور تم پر گردشیں آنے کے انتظار میں رہیں (ف۲۲۲) انہیں پر ہے بری گردش (ف۲۲۳) اور اللہ سنتا جانتا ہے،

٩٩ . اور کچھ گاؤں والے وہ ہیں جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں (ف۲۲۴) اور جو خرچ کریں اسے اللہ کی نزدیکیوں اور رسول سے دعائیں لینے کا ذریعہ سمجھیں (ف۲۲۵) ہاں ہاں وہ ان کے لیے باعث قرب ہے اللہ جلد انہیں اپنی رحمت میں داخل کرے گا، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،

١٠٠ . اور سب میں اگلے پہلے مہاجر (ف۲۲۶) اور انصار (ف۲۲۷) اور جو بھلائی کے ساتھ ان کے پیرو ہوئے (ف۲۲۸) اللہ ان سے راضی (ف۲۲۹) اور وہ اللہ سے راضی اور ان کے لیے تیار کر رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں، یہی بڑی کامیابی ہے،

١٠١ . اور تمہارے آس پاس (ف۲۳۱) کے کچھ گنوار منافق ہیں، اور کچھ مدینہ والے، ان کی خو ہوگئی ہے نفاق، تم انہیں نہیں جانتے، ہم انھیں جانتے ہیں (ف۲۳۲) جلد ہم انہیں دوبارہ (ف۲۳۳) عذاب کریں گے پھر بڑے عذاب کی طرف پھیرے جائیں گے (ف۲۳۴)

١٠٢ . اور کچھ اور ہیں جو اپنے گناہوں کے مقر ہوئے (ف۲۳۵) اور ملایا ایک کام اچھا (ف۲۳۶) اور دوسرا بڑا (ف۲۳۷) قریب ہے کہ اللہ ان کی توبہ قبول کرے، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،

١٠٣ . اے محبوب! ان کے مال میں سے زکوٰة تحصیل کرو جس سے تم انھیں ستھرا اور پاکیزہ کردو اور ان کے حق میں دعائے خیر کرو (ف۲۳۸) بیشک تمہاری دعا ان کے دلوں کا چین ہے، اور اللہ سنتا جانتا ہے،

١٠٤ . کیا انہیں خبر نہیں کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور صدقے خود اپنی دست قدرت میں لیتا ہے اور یہ کہ اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے (ف۲۳۹)

١٠٥ . اور تم فرما ؤ کام کرو اب تمہارے کام دیکھے گا اللہ اور اس کے رسول اور مسلمان، اور جلد اس کی طرف پلٹوگے جو چھپا اور کھلا سب جانتا ہے تو وہ تمہارے کام تمہیں جتاوے گا،

١٠٦ . اور کچھ (ف۲۴۰) موقوف رکھے گئے اللہ کے حکم پر، یا ان پر عذاب کرے یا ان کی توبہ قبول کرے (ف۲۴۱) اور اللہ علم و حکمت والا ہے،

١٠٧ . اور وہ جنہوں نے مسجد بنائی (ف۲۴۲) نقصان پہنچانے کو (ف۲۴۳) اور کفر کے سبب (ف۲۴۴) اور مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کو (ف۲۴۵) اور اس کے انتظار میں جو پہلے سے اللہ اور اس کے رسول کا مخالف ہے (ف۲۴۶) اور وہ ضرور قسمیں کھائیں گے ہم نے تو بھلائی چاہی، اور اللہ گواہ ہے کہ وہ بیشک جھوٹے ہیں،

١٠٨ . اس مسجد میں تم کبھی کھڑے نہ ہونا، (ف۲۴۷) بیشک وہ مسجد کہ پہلے ہی دن سے جس کی بنیاد پرہیزگاری پر رکھی گئی ہے (ف۲۴۸) وہ اس قابل ہے کہ تم اس میں کھڑے ہو، اس میں وہ لوگ ہیں کہ خوب ستھرا ہونا چاہتے ہیں (ف۲۴۹) اور ستھرے اللہ کو پیارے ہیں،

١٠٩ . تو کیا جس نے اپنی بنیاد رکھی اللہ سے ڈر اور اس کی رضا پر (ف۲۵۰) وہ بھلا یا وہ جس نے اپنی نیو چنی ایک گراؤ (ٹوٹے ہوئے کناروں والے) گڑھے کے کنارے (ف۲۵۱) تو وہ اسے لے کر جہنم کی آ گ میں ڈھے پڑا (ف۲۵۲) اور اللہ ظالموں کو راہ نہیں دیتا،

١١٠ . وہ تعمیر جو چنی (کی) ہمیشہ ان کے دلوں میں کھٹکتی رہے گی (ف۲۵۳) مگر یہ کہ ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں (ف۲۵۴) اور اللہ علم و حکمت والا ہے،

١١١ . بیشک اللہ نے مسلمانوں سے ان کے مال اور جان خریدلیے ہیں اس بدلے پر کہ ان کے لیے جنت ہے (ف۲۵۵) اللہ کی راہ میں لڑیں تو ماریں (ف۲۵۶) اور مریں (ف۲۵۷) اس کے ذمہ کرم پر سچا وعدہ توریت اور انجیل اور قرآن میں (ف۲۵۸) اور اللہ سے زیادہ قول کا پورا کون تو خوشیاں مناؤ اپنے سودے کی جو تم نے اس سے کیا ہے، اور یہی بڑی کامیابی ہے،

١١٢ . توبہ والے (ف۲۵۹) عبادت والے (ف۲۶۰) سراہنے والے (ف۲۶۱) روزے والے رکوع والے سجدہ والے (ف۲۶۲) بھلائی کے بتانے والے اور برائی سے روکنے والے اور اللہ کی حدیں نگاہ رکھنے والے (ف۲۶۳) اور خوشی سناؤ مسلمانوں (ف۲۶۴)

١١٣ . نبی اور ایمان والوں کو لائق نہیں کہ مشرکوں کی بخشش چاہیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہوں (ف۲۶۵) جبکہ انہیں کھل چکا کہ وہ دوزخی ہیں (ف۲۶۶)

١١٤ . اور ابراہیم کا اپنے باپ (ف۲۶۷) کی بخشش چاہنا وہ تو نہ تھا مگر ایک وعدے کے سبب جو اس سے کرچکا تھا (ف۲۶۸) پھر جب ابراہیم کو کھل گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے اس سے تنکا توڑ دیا (لاتعلق ہوگیا) (ف۲۶۹) بیشک ابراہیم بہت آہیں کرنے والا (ف۲۷۰) متحمل ہے،

١١٥ . اور اللہ کی شان نہیں کہ کسی قوم کو ہدایت کرکے گمراہ فرمائے (ف۲۷۱) جب تک انہیں صاف نہ بتادے کہ کسی چیز سے انہیں بچنا ہے (ف۲۷۲) بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے،

١١٦ . بیشک اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت، جِلاتا ہے اور مارتا ہے، اور اللہ کے سوا نہ تمہارا کوئی والی اور نہ مددگار،

١١٧ . بیشک اللہ کی رحمتیں متوجہ ہوئیں ان غیب کی خبریں بتانے والے اور ان مہاجرین اور انصار پر جنہوں نے مشکل کی گھڑی میں ان کا ساتھ دیا (ف۲۷۳) بعد اس کے کہ قریب تھا کہ ان میں کچھ لوگوں کے دل پھر جائیں (ف۲۷۴) پھر ان پر رحمت سے متوجہ ہوا (ف۲۷۵) بیشک وہ ان پر نہایت مہربان رحم والا ہے

١١٨ . اور ان تین پر جو موقوف رکھے گئے تھے (ف۲۷۶) یہاں تک کہ جب زمین اتنی وسیع ہوکر ان پر تنگ ہوگئی (ف۲۷۷) اور ہو اپنی جان سے تنگ آئے (ف۲۷۸) اور انہیں یقین ہوا کہ اللہ سے پناہ نہیں مگر اسی کے پاس، پھر (ف۲۷۹) ان کی توبہ قبول کی کہ تائب رہیں، بیشک اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے،

١١٩ . اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو (ف۲۸۰) اور سچوں کے ساتھ ہو (ف۲۸۱)

١٢٠ . مدینہ والوں (ف۲۸۲) اور ان کے گرد دیہات والوں کو لائق نہ تھا کہ رسول اللہ سے پیچھے بیٹھ رہیں (ف۲۸۳) اور نہ یہ کہ ان کی جان سے اپنی جان پیاری سمجھیں (ف۲۸۴) یہ اس لیے کہ انہیں جو پیاس یا تکلیف یا بھوک اللہ کی راہ میں پہنچتی ہے اور جہاں ایسی جگہ قدم رکھتے ہیں (ف۲۸۵) جس سے کافروں کو غیظ آئے اور جو کچھ کسی دشمن کا بگاڑتے ہیں (ف۲۸۶) اس سب کے بدلے ان کے لیے نیک عمل لکھا جاتا ہے (ف۲۸۷) بیشک اللہ نیکوں کا نیگ (اجر) ضائع نہیں کرتا،

١٢١ . اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں چھوٹا (ف۲۸۸) یا بڑا (ف۲۸۹) اور جو نالا طے کرتے ہیں سب ان کے لیے لکھا جاتا ہے تاکہ اللہ ان کے سب سے بہتر کاموں کا انہیں صلہ دے (ف۲۹۰)

١٢٢ . اور مسلمانوں سے یہ تو ہو نہیں سکتا کہ سب کے سب نکلیں (ف۲۹۱) تو کیوں نہ ہو کہ ان کے ہر گروہ میں سے (ف۲۹۲) ایک جماعت نکلے کہ دین کی سمجھ حاصل کریں اور واپس آکر اپنی قوم کو ڈر سنائیں (ف۲۹۳) اس امید پر کہ وہ بچیں (ف۲۹۴)

١٢٣ . اے ايما ن والوں جہاد کرو ان کافروں سے جو تمہارے قريب ہيں(ف۲۹۵) اور چاہیئے کہ وہ تم میں سختی پائیں، اور جان رکھو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے (ف۲۹۶)

١٢٤ . اور جب کوئی سورت اترتی ہے تو ان میں کوئی کہنے لگتا ہے کہ اس نے تم میں کس کے ایمان کو ترقی دی (ف۲۹۷) تو وہ جو ایمان والے ہیں ان کے ایمان کو ترقی دی اور وہ خوشیاں منارہے ہیں،

١٢٥ . اور جن کے دلوں میں آزار ہے (ف۲۹۸) انہیں اور پلیدی پر پلیدی بڑھائی (ف۲۹۹) اور وہ کفر ہی پر مر گئے،

١٢٦ . کیا انہیں (ف۳۰۰) نہیں سوجھتا ک ہ ہر سال ایک یا دو بار آزمائے جاتے ہیں (ف۳۰۱) پھر نہ تو توبہ کرتے ہیں نہ نصیحت مانتے ہیں،

١٢٧ . اور جب کوئی سورت اترتی ہے ان میں ایک دوسرے کو دیکھنے لگتا ہے (ف۳۰۲) کہ کوئی تمہیں دیکھتا تو نہیں (ف۳۰۳) پھر پلٹ جاتے ہیں (ف۳۰۴) اللہ نے ان کے دل پلٹ دیئے ہیں(ف۳۰۵) کہ وہ ناسمجھ لوگ ہیں (ف۳۰۶)

١٢٨ . بیشک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول (ف۳۹۷) جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گِراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان مہربان (ف۳۰۸)

١٢٩ . پھر اگر وہ منہ پھیریں (ف۳۰۹) تو تم فرمادو کہ مجھے اللہ کافی ہے اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں، میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وہ بڑے عرش کا مالک ہے (ف۳۱۰)