;

١ . مجھے اس شہر کی قسم (ف۲)

٢ . کہ اے محبوب! تم اس شہر میں تشریف فرما ہو (ف۳)

٣ . اور تمہارے باپ ابراہیم کی قسم اور اس کی اولاد کی کہ تم ہو (ف۴)

٤ . بیشک ہم نے آدمی کو مشقت میں رہتا پیدا کیا (ف۵)

٥ . کیا آدمی یہ سمجھتا ہے کہ ہرگز اس پر کوئی قدرت نہیں پائے گا (ف۶)

٦ . کہتا ہے میں نے ڈھیروں مال فنا کردیا (ف۷)

٧ . کیا آدمی یہ سمجھتا ہے کہ اسے کسی نے نہ دیکھا (ف۸)

٨ . کیا ہم نے اس کی دو آنکھیں نہ بنائیں (ف۹)

٩ . اور زبان (ف۱۰) اور دو ہونٹ (ف۱۱)

١٠ . اور اسے دو ابھری چیزوں کی راہ بتائی (ف۱۲)

١١ . پھر بے تامل گھاٹی میں نہ کودا (ف۱۳)

١٢ . اور تو نے کیا جانا وہ گھاٹی کیا ہے (ف۱۴)

١٣ . کسی بندے کی گردن چھڑانا (ف۱۵)

١٤ . یا بھوک کے دن کھانا دینا (ف۱۶)

١٥ . رشتہ دار یتیم کو،

١٦ . یا خاک نشین مسکین کو (ف۱۷)

١٧ . پھر ہو ان سے جو ایمان لائے (ف۱۸) اور انہوں نے آپس میں صبر کی وصیتیں کیں (ف۱۹) اور آپس میں مہربانی کی وصیتیں کیں(ف۲۰)

١٨ . یہ دہنی طرف والے ہیں (ف۲۱)

١٩ . اور جنہوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا وہ بائیں طرف والے (ف۲۲)

٢٠ . ان پر آگ ہے کہ اس میں ڈال کر اوپر سے بند کردی گئی (ف۲۳)