;

١ . کتابی کافر (ف۲) اور مشرک (ف۳) اپنا دین چھوڑنے کو نہ تھے جب تک ان کے پاس روشن دلیل نہ آئے (ف۴)

٢ . وہ کون وہ اللہ کا رسول (ف۵) کہ پاک صحیفے پڑھتا ہے (ف۶)

٣ . ان میں سیدھی باتیں لکھی ہیں (ف۷)

٤ . اور پھوٹ نہ پڑی کتاب والوں میں مگر بعد اس کے کہ وہ روشن دلیل (ف۸) ان کے پاس تشریف لائے (ف۹)

٥ . اور ان لوگوں کو تو (ف۱۰) یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نرے اسی پر عقیدہ لاتے (ف۱۱) ایک طرف کے ہوکر (ف۱۲) اور نماز قائم کریں اور زکوٰة دیں اور یہ سیدھا دین ہے،

٦ . بیشک جتنے کافر ہیں کتابی اور مشرک سب جہنم کی آگ میں ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے، وہی تمام مخلوق میں بدتر ہیں،

٧ . بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے وہی تمام مخلوق ہیں بہتر ہیں،

٨ . ان کا صلہ ان کے رب کے پاس بسنے کے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہیں ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں، اللہ ان سے راضی (ف۱۳) اور وہ اس سے راضی (ف۱۴) یہ اس کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈرے (ف۱۵)